Altaf Hussain's banner
Altaf Hussain's profile picture

Altaf Hussain

@AltafHussain_90115,335 subscribers

Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist

Shorts

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

10,720 просмотров

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

32,163 просмотров

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

42,337 просмотров

سندھ دھرتی …صوبہ …یا…ریاستی کالونی افسوس …صد…افسوس 29ستمبر 2023 فوج ، رینجرز اورپولیس کی جانب سے گزشتہ 75سالوں سے معصوم عوام کے خلاف اختیارکئے جانے والے غیرآئینی، غیرقانونی، ظالمانہ، ظلم وبربریت اور سفاکیت کے ہتھکنڈوں کے استعمال کی وجہ سے ملک کے 98فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اوران تحفظات میں ہرگزرتےدن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ '' مرتا کیا نہ کرتا '' کے مصداق آج ملک کاکونسا چھوٹا یابڑا علاقہ ایسا ہےکہ جہاں کے عوام اپنے غم وغصے کااظہار فی الحال یہ نعرے لگا کر نہ کرلیتے ہوں کہ، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے انہی قسم کے مظالم کاایک واقعہ صوبہ سندھ کے شہرسکرنڈ میں 28ستمبر 2023ء کوپیش آیا۔ سکرنڈ کےعلاقے ''ماڑ ی جلبانی ''میں کل فوج، رینجرزاورپولیس کی بھاری نفری داخل ہوئی اورگھروں میں گھسنے لگی تو علاقےکے عوام بشمول خواتین، بزرگ اوربچے چلاتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور ریاستی اہلکاروں سے التجائیہ اورفریادی لہجے میں سوال کرنے لگے کہ آپ لوگ ہمارے گھروں میں کیوں داخل ہورہے ہیں تو اس پر ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کے نہتے عوام پر بے دریغ گولیاں برسانا شروع کردیں جس کی وجہ سے ماڑی جلبانی گوٹھ کے متعدد افراد ہلاک وزخمی ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد غریب ہاری،کسان اورمزدور تھےجبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئےجن میں چھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سانحہ پر علاقےکے عوام کاہجوم بڑھنے کے بعد فوج، رینجرز اورپولیس کے اہلکاروہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں اورمیری جماعت متحدہ قومی موومنٹ کاایک ایک کارکن اس ریاستی دہشت گردی کی سخت مذمت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ودیگرججز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی دہشت گردی کافی الفورنوٹس لیں اوراس دہشت گردی میں ملوث ریاستی اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کریں۔ ریاستی دہشت گردی کے اس تازہ ترین واقعہ پر جتناافسوس کیاجائے کم ہے۔ جوکچھ ظلم ماڑی جلبانی کے عوام پر ڈھایاگیاہے اس پر آج وہاں کے عوام بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ سندھ دھرتی ایک خودمختارصوبہ ہے یاپھر ریاست کی کالونی ہے ؟ آج جلبانی گوٹھ کے عوام اس سانحہ پر آہ وبکا کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہائے افسوس،صدافسوس۔ ملک کاہر مظلوم بھی اس المناک واقعہ پر افسوس ، صدافسوس کی صدائیں لگارہاہے۔ میں #Sakrand #SakrandBleeds

سندھ دھرتی …صوبہ …یا…ریاستی کالونی افسوس …صد…افسوس 29ستمبر 2023 فوج ، رینجرز اورپولیس کی جانب سے گزشتہ 75سالوں سے معصوم عوام کے خلاف اختیارکئے جانے والے غیرآئینی، غیرقانونی، ظالمانہ، ظلم وبربریت اور سفاکیت کے ہتھکنڈوں کے استعمال کی وجہ سے ملک کے 98فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اوران تحفظات میں ہرگزرتےدن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ '' مرتا کیا نہ کرتا '' کے مصداق آج ملک کاکونسا چھوٹا یابڑا علاقہ ایسا ہےکہ جہاں کے عوام اپنے غم وغصے کااظہار فی الحال یہ نعرے لگا کر نہ کرلیتے ہوں کہ، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے انہی قسم کے مظالم کاایک واقعہ صوبہ سندھ کے شہرسکرنڈ میں 28ستمبر 2023ء کوپیش آیا۔ سکرنڈ کےعلاقے ''ماڑ ی جلبانی ''میں کل فوج، رینجرزاورپولیس کی بھاری نفری داخل ہوئی اورگھروں میں گھسنے لگی تو علاقےکے عوام بشمول خواتین، بزرگ اوربچے چلاتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور ریاستی اہلکاروں سے التجائیہ اورفریادی لہجے میں سوال کرنے لگے کہ آپ لوگ ہمارے گھروں میں کیوں داخل ہورہے ہیں تو اس پر ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کے نہتے عوام پر بے دریغ گولیاں برسانا شروع کردیں جس کی وجہ سے ماڑی جلبانی گوٹھ کے متعدد افراد ہلاک وزخمی ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد غریب ہاری،کسان اورمزدور تھےجبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئےجن میں چھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سانحہ پر علاقےکے عوام کاہجوم بڑھنے کے بعد فوج، رینجرز اورپولیس کے اہلکاروہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں اورمیری جماعت متحدہ قومی موومنٹ کاایک ایک کارکن اس ریاستی دہشت گردی کی سخت مذمت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ودیگرججز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی دہشت گردی کافی الفورنوٹس لیں اوراس دہشت گردی میں ملوث ریاستی اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کریں۔ ریاستی دہشت گردی کے اس تازہ ترین واقعہ پر جتناافسوس کیاجائے کم ہے۔ جوکچھ ظلم ماڑی جلبانی کے عوام پر ڈھایاگیاہے اس پر آج وہاں کے عوام بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ سندھ دھرتی ایک خودمختارصوبہ ہے یاپھر ریاست کی کالونی ہے ؟ آج جلبانی گوٹھ کے عوام اس سانحہ پر آہ وبکا کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہائے افسوس،صدافسوس۔ ملک کاہر مظلوم بھی اس المناک واقعہ پر افسوس ، صدافسوس کی صدائیں لگارہاہے۔ میں #Sakrand #SakrandBleeds

52,967 просмотров

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

28,558 просмотров

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

33,047 просмотров

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

28,335 просмотров

Videos

AltafHussain_90's profile picture

کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ جذباتی نعرے کسی بھوکے کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیر ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی۔ گلگت اور بلتستان کے علاقے ریاست کشمیرکاحصہ تھے اور ریاست کشمیرپر ڈوگرہ راج قائم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد27، اکتوبر1947ء کو ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستان نے قبائلی اورافغانی عوام کے فوجی دستے تشکیل دیکر کشمیرپر حملہ کردیا۔ انڈیا کے ردعمل کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اورانڈین فوج نے پیش قدمی کرتے کرتے آدھے سے زائد کشمیرواپس اپنے کنٹرول میں لے لیا جبکہ دیگرکشمیر پر پاکستان کا کنٹرول قائم ہوگیاجسے ختم کرنے کیلئے انڈین فوج کی پیش قدمی جاری تھی کہ اسی دوران انگریزوں نے جنگ بندی کرادی اور لائن آف کنٹرول بنادی کہ جب تک اقوام متحدہ یہ فیصلہ نہیں کردیتی کہ پورا کشمیر کس کے ساتھ جائے گا اس وقت تک کشمیر کا جوحصہ انڈیاکے کنٹرول میں وہ انڈیاکے پاس رہے گااورجوحصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس طرح ریاست کشمیرIndian Occupied Kashmir اورPakistan Occupied Kashmir بن گئی۔ اقوام متحدہ نے حکم دیا کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد خودمختار کشمیر چاہتے ہیں۔ 78 برس گزر گئے لیکن آج تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کاحل نہیں نکال سکی اورکشمیرکا مسئلہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان فٹبال بن گیا۔ میں 48 برس سے یہ کہتاآرہا ہوں کہ کشمیر صرف کشمیری عوام کا ہے اور کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے مگر انڈیا اور پاکستان کشمیرکو فٹبال کی طرح کھیلتے رہے، اس کھیل میں دونوں طرف کے کشمیریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوتا رہا، ہجرتیں ہوتی رہیں اور خاندان تقسیم ہوتے رہے۔ اگست2019میں انڈیا نے اپنے آئین کی شق 370 کوختم کرکے اپنے زیرکنٹرول کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنالیالیکن پاکستان کی جانب سے اس پرکچھ نہیں کیا گیا اورانڈیا کے زیرانتظام کشمیرانڈیا کا حصہ بن گیا۔ گزشتہ 78برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کشمیری عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے دیئے، جہادی تنظیمیں بنائیں اور کشمیری نوجوانوں کو کشمیر جہاد کی آگ میں جھونک دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کواستعمال کیا، جماعت اسلامی نے فوج کی بی ٹیم کاکردار ادا کیا، وہ ہمیشہ فوج کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی، کشمیرکے نام پر جگہ جگہ کیمپ اور اسٹال لگاکرنہ صرف عطیات جمع کرتی رہی بلکہ کشمیرکی آزادی کے لئے جہاد کے نام پر نوجوانوں کی بھرتی کرتی رہی۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو جہاد کا درس دیکر ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑدیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی لیڈرنے اپنے بچوں کو کشمیرکے جہاد پر نہیں بھیجا بلکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ کشمیری عوام کی تمام ترہمدردیاں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں، پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوتے رہے، وہاں صدر اوروزیراعظم بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہ سب پاکستان کی فوج، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے تحت کنٹرول کیے جاتے رہے۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کشمیر کےنظام حکومت پرجس طرح اثرانداز ہوتی رہیں اس حساب سے کشمیرمیں بہت ترقی وخوشحالی ہونی چاہیے تھی اورکشمیر کو گل وگلزار بن جانا چاہیے تھا مگرپاکستان آزادکشمیرکے وسائل، پانی، بجلی، گیس اور دیگر معدنیات کو تو استعمال کرتا رہا لیکن کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ کشمیری بزرگ مذہبی جنون اورخوشنما نعروں میں اتنے غرق تھے کہ وہ بنیادی وسائل سے محرومی اوربھوک وافلاس کے باوجود جذباتی نعرے لگاتے رہےلیکن جذباتی نعرے کبھی کسی بھوکےکاپیٹ نہیں بھر سکتے۔ میرا سوال ہے کہ اگرپاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں عوام کو یہ ٹاسک دیں کہ ملک کے 25 کروڑ عوام 40 دن تک اللہ اکبر کاوظیفہ پڑھتے رہیں تو کیا اس سے کشمیر آزاد ہوجائے گا اورپاکستان کا حصہ بن جائے گا؟ اگرصرف نعرے لگانے سے فتوحات مل سکتیں تونبیوں کے نبی،حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کبھی تلوار ہاتھ میں لیکر جنگوں میں میں شریک نہیں ہوتے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6، جون 2026ء (مکمل خطاب سنئیے 👇)

Altaf Hussain

11,314 просмотров • 2 дней назад

AltafHussain_90's profile picture

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

Altaf Hussain

10,720 просмотров • 3 дней назад

AltafHussain_90's profile picture

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

Altaf Hussain

32,163 просмотров • 3 месяцев назад

AltafHussain_90's profile picture

ڈرامے بازیاں کرنے کے بجائے پاکستان سیدھا سیدھا اعلان کردے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں #ہمارا_مقدر_17ستمبر فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میں نے پہلے ہی کہاتھا کہ دوریاستی حل کومان لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے لیکن سپر طاقتوں کے دباؤ پر خاموشی اختیارکرلی گئی لیکن آج ٹرمپ سے گلے مل کے، جھپیاں ڈال کے اورسعودی عرب سے معاہدہ کرکے وہی کام کیا جارہا ہے۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں اور عوام کو سبزباغ دکھائے جارہے ہیں کہ جیسے اس معاہدے سے ملک میں دودھ کی نہریں بہنےلگیں گی۔اتنی ڈرامے بازیوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھاسیدھا اعلان کردیں کہ ہم فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے دوریاستی حل کے حامی ہیں، ہم ایٹمی طاقت ہیں اور اسرائیل کوبھی تسلیم کررہے ہیں۔ عوام خودغورکریں کہ کیا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی کے بغیرہوسکتاہے؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد آج کل صدرٹرمپ سے معاشقہ چل رہا ہے ،صدرٹرمپ سے بغل گیر ہواجارہا ہے اوریہ وہی معاشقہ ہے کہ جیسے کوئی نیانیاجوان اپنی محبوبہ کو خوش کرنے کےلئے چاند تارے توڑ کرلانے کا یقین دلاتا ہے اوردونوں ایک دوسرے سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ آج بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں اوربڑے فخر سے کہاجا رہا ہے کہ ہماری فوج تو پہلے سے ہی سعودی عرب میں موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ کی فوج نے 78برسوں میں سوائے کرائے کی فوج کے کیا کوئی ایک کام ایسا کیا ہے جس پر آپ فخر محسوس کرسکیں؟ البتہ ایک ایسا کام ضرور کیا ہے کہ جوتاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ 93ہزار کی تعداد میں فوج نے سرینڈر کیا۔ آپ نے سینہ تان کر ہمیشہ اپنے ہی ملک کے نہتے لوگوں پر چڑھائی کی ہے، آپ اپنے ہی شہریوں کے گھروں میں گھس کرمظلوم لوگوں کوغائب کردیتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم فرعون، نمرود، شداد، ہامان کو ظالم سمجھتے ہیں لیکن ہماراعمل یہ ہے کہ گزشتہ دوسال سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ہورہا ہے اور 57 اسلامی ممالک اس ظلم وبربریت پر خاموش ہیں اور زبانی کلامی مذمت تک محدود ہیں ۔ ہماراحال یہ ہے کہ ہم غزنوی اورغوری نام کے میزائل توبناتے ہیں لیکن غزنوی اورغوری کے افغانستان کودشمن کہتے ہیں اور اس پر حملہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہماری فوج ان کی باقیات ہے جنہوں نے1757ء سے 1857ء تک یعنی 200سال تک انگریزوں کی خدمت گاری کی ہے،جن کی رگ رگ میں یہ خدمت گاری سمائی ہوئی ہے۔ اردن میں ضیاالحق کی سربراہی میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں فلسطینی نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں اوربچوں کا قتل کیا،اس قتل عام کو ”بلیک ستمبر“ کےنام سے یاد کیا جاتا ہے۔ صومالیہ میں انہوں نے قتل کیا،یمن میں یہ موجود ہیں۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ کو کفرو اسلام کی جنگ بنادیااوریہ دلیلیں دیں کہ روسی اللہ کونہیں مانتے ، وہ کافر ہیں اور امریکی اہلِ کتاب ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ آج بھی ''ابراہیم اکارڈ '' کی بات ہورہی ہے۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ میں جہاد کے نام پر پشتونوں کواستعمال کیا، جہادی مدرسے قائم کئے، مجاہدین اور طالبان بنائے۔ میں نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ آپ جو طالبان بنارہے ہیں یہ مونسٹر بن جائیں گے اور ایک دن آپ ہی کو کھائیں گے۔آج وہی طالبان، فوج پر ہی حملے کررہے ہیں اوردوسری طرف فوج طالبان کو'' خوارج '' قرار دے کرمارہی ہے۔ یہ طالبا ن فوج نے ہی تیار کئے تھے تو اب فوج انہی طالبان کو کس لئے ماررہی ہے؟ ان کی سرپرستی کس نے کی تھی؟ آرمی پبلک اسکول میں 150سے زائد بچوں اوراساتذہ کے سفاکانہ قتل میں ملوث طالبان کا دہشتگرد احسان اللہ احسان فوج کی کسٹڈی میں تھا وہ فوج کی حراست سے کیسے فرار ہوگیا؟ الخوارج کوبعد میں ماریں ، پہلے آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سوسے زائد بچوں اوراساتذہ کوقتل کرنے والے طالبان اوران کی سرپرستی کرنے والے فوجیوں کوسرعام لٹکایاجائے۔ الطاف حسین لندن میں 72ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 27،ستمبر 2025

Altaf Hussain

62,399 просмотров • 8 месяцев назад