Altaf Hussain's banner
Altaf Hussain's profile picture

Altaf Hussain

@AltafHussain_90115,412 subscribers

Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist

Shorts

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

32,224 次观看

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

42,342 次观看

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

84,230 次观看

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

11,172 次观看

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

28,609 次观看

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

33,060 次观看

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

28,338 次观看

Videos

AltafHussain_90's profile picture

اسٹیبلشمنٹ اورصدرآصف زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے سندھ کےامن پسند اورباشعور عوام پیپلزپارٹی کی ان گھناؤنی کوششوں کا حصہ نہ بنیں نئے صوبوں کی بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی لیکن سارا نزلہ مہاجروں پر گررہا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خدارا مہاجروں کا بھی سوچیں ………………………………… پاکستان ایک خطرناک ترین دور کی طرف تیزی سے گامزن ہے اورملک کے عوام کو ابھی خطرے کابالکل بھی اندازہ نہیں ہے۔ ملک میں ہرجگہ نئےصوبوں کے قیام کی بحث چل رہی ہےکہ صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے، اس بحث کو ہرگز ہلکا نہ لیا جائے۔ ماضی میں ن لیگ، پیپلزپارٹی اورمولانا فضل الرحمان نے مشترکہ سودے بازی کرکے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم منظور کیں اوراب ملک میں28 ویں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہےجس میں یہ بھی شامل ہےکہ پاکستان میں نئےصوبے بنائے جائیں، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کہہ رہےہیں کہ پاکستان کانظام تباہ ہوچکا ہے،لیکن صدرآصف زرداری پاکستان میں نہیں ہیں، ان حالات میں صدر کو ایوان صدر چھوڑنے کاخیال بھی نہیں آنا چاہیے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق صدرزرداری اپنےبیٹے بلاول زرداری کی شادی کے سلسلے میں آسٹریا گئے تھے اور اس وقت لندن میں ہیں۔میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق لندن میں صدر آصف زرداری سے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ایک گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں ون ٹوون بات چیت ہوئی اور محسن نقوی نے صدر زرداری کو اہم پیغام پہنچایا۔خبر کے مطابق اس ملاقات میں صدرزرداری نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہاکہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کسی بھی مسئلے کا پائیدارحل نہیں نکلے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نہیں رہتے بلکہ وہ وزیراعظم اوورسیز بن گئے ہیں اورمختلف ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ آخر 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں سے متعلق بات چیت لندن میں کیوں ہورہی ہے؟ صدر مملکت اوروفاقی وزیرداخلہ کی پاکستان میں صبح شام ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو پھر صدرمملکت کو پاکستان واپس آنے میں کیاتکلیف ہے؟ملک میں 28 ویں ترمیم آنے والی ہے، صوبے بننے یا نہ بننے کی بحث چل رہی ہے، ایسے وقت میں صدر زرداری کو دو تین ہفتے کیلئے ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ دنوں جب ہائیکورٹس کے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدرزرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی تھی تو صدر زرداری اپنی علالت کابہانہ کرکے ایوان صدرسے بلاول ہاؤس کراچی منتقل ہوگئےتھےلیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کچھ کہا تو انہیں ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے پڑے۔ پاکستان کے سیاستداں قوم سے جھوٹ بولتے رہے ہیں، انہیں عدالتیں سزا دیں اور وہ جیل میں قید ہونےکے باوجود پاکستان کے بااثرحلقوں سے اپنے معاملات طے کرکے علاج کےبہانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، میاں نوازشریف کی مثال سامنے ہے۔ اسی طرح موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری جب جیل میں قید تھے تو پورا ملک جانتا ہے کہ وہ جیل کے بجائے ایک نجی اسپتال میں رہتے تھے اور رات 8 بجے کےبعداسپتال سے کہیں اور منتقل ہوجاتے تھے اوروقت گزارکرصبح اسپتال آجاتے تھے، انہوں نے اپنی پوری اسیری اسی طرح اسپتال میں کاٹی ہے۔ پاکستان کی دوفیصد حکمراں اشرافیہ جب بیمار ہوتی ہے تو ان کا علاج ملک میں نہیں ہوتا بلکہ وہ علاج کیلئے امریکہ، برطانیہ، جرمنی یا فرانس میں جاتے ہیں، اگر صدرزرداری بیمارنہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لندن میں کسی اور وجہ سے قیام پذیر ہیں۔ پیپلزپارٹی والے اب کہیں گے کہ پارٹی کے چیئرمین اور کوچیئرمین ملک میں نہیں ہیں لہٰذا ہم 28 ویں ترمیم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی گئی ہے لیکن سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے خلاف قراردادپیش کی جارہی ہے یعنی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے، سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان اشتعال انگیز تقاریر کررہے ہیں، ا گر صدرآصف زرداری نے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان واپس نہیں جائیں گے توپھروہ بیرون ملک سے”پاکستان نہ کھپے“ کی تحریک چلائیں گے اور صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب 28 ویں ترمیم کافیصلہ پوری اسٹیبلشمنٹ نے کرلیا ہے مگرصرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تمام کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر فیلڈ مارشل ازخود کوئی فیصلہ کرلیں، یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کامتفقہ فیصلہ ہے، 1/2

Altaf Hussain

37,753 次观看 • 6 天前

AltafHussain_90's profile picture

کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟ آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر PTI کے رہنماؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کےباعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔ پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پرنہ صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی۔اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔ پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریا سے لندن پہنچ گئے جس کے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟ یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جو آج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھر کون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟ اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر صاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟ 1/2

Altaf Hussain

17,324 次观看 • 4 天前

AltafHussain_90's profile picture

کراچی کے عوام کوالطاف حسین کا پیغام میرے پیارے اہلیان کراچی! کراچی کی ماؤں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں خصوصاً جین زی کی خدمت میں الطاف حسین کا سلام وآداب۔ میں اپنے تمام چاہنےوالے وفاپرست ساتھیوں سے درخواست کرتا ہوں، ساتھ ساتھ اہلیانِ کراچی سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی میں ریلی ہو یاجلسہ عام ہو، اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ میں اپنے وفاپرست ساتھیوں اورہمدردوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کوسہیل آفرید ی کی ریلی یاجلسہ عام میں ایم کیوایم کا جھنڈا یا بینر لے جانے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے کام سے بتانا ہے کہ ہم ہر اس فرد کے ساتھ ہیں جو حق اورسچ کے لئے لڑرہا ہے۔ میں اہلیان کراچی، تمام جین زی، نوجوانوں، طلبہ وطالبات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سہیل آفریدی کی ریلی یاجلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے بتادیں کہ اہلیانِ کراچی حق اور سچ کاساتھ دینے والے ہیں۔ بہت بہت شکریہ والسلام آپ کا اپنا الطاف حسین 6 ستمبر 2026ء

Altaf Hussain

10,643 次观看 • 2 天前

AltafHussain_90's profile picture

جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر سندھ میں کیوں نہ بنیں؟ اگر سندھ دھرتی ماں ہے،توکیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان دھرتی ماں نہیں؟ ………………………………… پاکستان انتہائی نازک صورتحال کی طرف تیزی سے گامزن ہے، پاکستان میں یہ بحث ومباحثہ چل رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کررہی ہے، وہ کہتی ہے کہ پنجاب، KPK اور بلوچستان میں نئے صوبے بنادئیے جائیں لیکن سندھ میں نئے صوبے نہ بنیں، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور کہتے ہیں کہ سندھ دھرتی ماں ہے، تو کیا پنجابیوں کے لئے پنجاب دھرتی ماں نہیں ہے؟کیاپشتونوں کے لئے خیبرپختونخوادھرتی ماں نہیں ہے؟ کیابلوچوں کے لئے بلوچستان دھرتی ماں نہیں ہے؟ جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر صوبہ سندھ میں کیوں نہ بنیں؟نئے صوبوں سے سندھ کی تقسیم تو نہیں ہورہی ہے۔ ایک ملک میں چار صوبے بنے تو نہ ملک کوکوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی چارصوبے بننے سے ملک ٹوٹا، نئے صوبوں کے قیام سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صوبائی حیثیت برقراررہے گی۔ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنا سندھی قوم پرست تنظیموں اوربطورسیاسی جماعت پیپلزپارٹی کاحق ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ صوبوں کی تقسیم تین صوبوں میں جائز ہو لیکن ایک صوبے میں ناجائز ہو۔ دنیا کاکوئی ایک ملک بتائیں جس کی تاریخ اور جغرافیہ آج 2026ء میں وہی ہو جوآج سے 1000 سال یا 500 سال پہلے تھا۔ پیپلزپارٹی اورسندھی قوم پرستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاق اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی توپوں کارخ مہاجروں کی جانب ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہے،اس نے ہمیشہ وفاق اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کیلئے سندھ میں نام نہادقوم پرستوں کو پال رکھا ہے۔ آزاد سندھودیش کانعرہ لگانے والے تمام قوم پرست نہ صرف عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوہی ووٹ دیکر کامیاب بناتے چلے آرہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کیلئے کام بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام اورفوج اس حقیقت کوجان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے قوم پرستوں کاٹولہ فوج کو ڈرانے کیلئے رکھا ہوا ہے اسی لئے نام نہاد قوم پرست اورپیپلزپارٹی ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو سندھو دیش بن جائے گا۔ آج بھی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی والوں کی جانب سے بلاواسطہ دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی گئی تو کشت وخون ہوجائے گا اورسندھو دیش کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیرانتظام کشمیر بھارت کے جغرافیے کا حصہ نہیں تھامگر اب وہ بھارت کی یونین میں شامل کیاجاچکا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو آزادکشمیر کہاجاتا ہے، لیکن اب کشمیری عوام خود کہہ رہے ہیں کہ کشمیرآزاد نہیں ہے بلکہ وفاق پاکستان کے تحت اس طرح چلایاجارہاہے جیسے وہ پاکستان کا ایک صوبہ ہو۔ کشمیری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ حقوق دو تو ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، پانی، بجلی، گیس، آٹے کے معاملات خودچلانے اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پرگولیاں چلائی گئی جارہی ہیں اوراب تک 100 زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکاہے۔ 1/2

Altaf Hussain

15,842 次观看 • 5 天前

AltafHussain_90's profile picture

پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کوجیل میں محمد مرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئےباہر نکلیں۔ عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔الطاف حسین #ContemptOfCourt #FreeImranKhan #FreeImranKhanNow 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب کو دودن کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال منتقل کیاجائے لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ کیاPTI اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کررہی ہے؟پھر PTI کے ساتھ ایسا غیرمنصفانہ اور سفاکانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ پشتون تحفظ موومنٹ(PTM) کے سربراہ منظور پشتین کی جماعت کے جلسے جلوس پر پابندی لگادی گئی تو کیاپی ٹی ایم کے سربراہ منظورپشتین یا کسی اور رہنما نے اپنے عوامی جلسوں میں مسلح جدوجہد کی بات کی تھی؟ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نےاپنے کسی عوامی جلسے جلوس میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیاتھا؟ تازہ ترین مثال آزادکشمیر کی ہے، کشمیرکے نام پر پاکستان کے ارباب اقتدار واختیار، سیاسی ومذہبی جماعتوں خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قوم کوجھوٹے وعدہ اور تسلیاں دیں، آج کشمیری عوام آٹا، بجلی اور روزگارکیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات سننے والا کوئی نہیں تھا تو کشمیریGen Z نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناکر 38 مطالبات پیش کیے تھے، اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کشمیریوں کے جلوس پر فائرنگ کرکے سو سے زائد افراد کو شہید جبکہ ہزاروں کشمیریوں کو زخمی کردیاگیا، ایکشن کمیٹی کے مرکزی صدر اوردیگر اراکین کو گرفتار کرکےجیل میں ڈال دیا گیا،کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کے حق میں مسلح جدوجہد کا کوئی اعلان کیاتھا؟ یقینا کسی نے بھی مسلح جدوجہد کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ایم کیوایم نے بھی کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا ان حقائق کے باوجودان تمام سیاسی وعوامی جماعتوں کے ساتھ حکومت، ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کاجو رویہ رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ فوج کیاکررہی ہے؟ عمران خان کوفوج نے کمرہ عدالت سے دروازے کھڑکیاں توڑکرگرفتارکیا، گریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے، اسے قید میں رکھا،ذہنی تشددکیا، آج سپریم کورٹ نے عمران خان کوعلاج کےلئے الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کاحکم دیا توحکومت نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ عمران خان کوحکومت نے قید کیا ہوا ہے، اگرسپریم کورٹ آرڈر کرتی توکیا حکومت کی یہ طاقت ہوسکتی ہے کہ وہ انہیں جیل میں بند رکھے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس پر کیا کررہی ہے؟ سوائے 26نومبر کے احتجاج کے جب فوج نے اس پر فائرنگ کی، کئی لوگ شہید ہوئے لیکن وزیراعلیٰ KPKعلی امین گنڈاپورکارکنوں کوچھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلے۔ اس کے بعد سے پی ٹی آئی نے کوئی احتجاج نہیں کیااوراب بھی کہتے ہیں کہ فوج ہماری ہے۔ کہنے کوتوپی ٹی آئی والے عمران خان کیلئے بڑے نعرے لگاتے ہیں لیکن تین سال کے دوران عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اورعمران خان کو انصاف دلانے کےلئے پی ٹی آئی کاکوئی لیڈر نہیں نکلا۔ عمران خان کی بہنوں کی تمام تر اپیلوں کے باوجود کوئی لیڈراورمنتخب نمائندے اڈیالہ جیل نہیں پہنچتے اور ان کی بہنیں اکیلی پولیس کی لاٹھیاں کھاتی رہیں۔ 18 اگست کوسپریم کورٹ کے آرڈرکے باجود جب حکومت نے عمران خان کوالشفااسپتال منتقل نہیں کیا توپی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے سپریم کورٹ میں کوئی ارجنٹ پٹیشن دائر کیوں نہیں کی؟حالانکہ عمران خان نے اپنی بہن کوبتایا کہ انہیں جیل میں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں، انہیں آئسولیشن میں رکھا جارہاہے، یہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح جیل میں ماردیناچاہتے ہیں، پی ٹی آئی کے لیڈراس پر کیاکررہے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کاکیااخلاقی فرض ہے؟ ان کی اسمبلیوں کی رکنیت ان کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی مرہون منت ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اپنے مصلحت پسند لیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، عمران خان کی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان نے روتے ہوئے عمران خان کو جیل میں دی جانے والی اذیتوں کاجوزکرکیا ہے،پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے آنسوؤں کوسمجھیں اور عمران خان کوجیل میں محمدمرسی کی طرح مارنے سے بچانے کے لئے باہر نکلیں، عمران خان کوجیل سے نکالیں، ان کی جان بچائیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 453 ویں فکری نشست سے خطاب 22، اگست2026ء

Altaf Hussain

26,974 次观看 • 17 天前

AltafHussain_90's profile picture

جوسلوک محمد مرسی کے ساتھ ہوا ا نشااللہ وہ عمران خان کے ساتھ نہیں ہوگا مجھے یقین ہے کہ27 ستمبر سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کواسپتال اورموجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنماؤں اوروکلاء کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے 18، اگست2026ء کو بانی PTI عمران خان صاحب کو شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی معائنے کے حوالے سے جو واضح ہدایات دی تھیں ان کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایاگیا، ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ نہیں کرایاگیااورمختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا۔ حکومت کا یہ فعل انتہائی سفاکانہ، ظالمانہ، غیرمنصفانہ اورمتعصبانہ ہے، عدالت سے سزایافتہ ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف کوعلاج ومعالجے کیلئے شاہانہ انداز میں بیرون ملک بھیجاگیا، نواز شریف باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے لندن گئے تھے کہ وہ اپناعلاج کراکر چارہفتے میں وطن واپس آجائیں گے لیکن انہیں وطن واپس آنے میں چارسال کاعرصہ لگ گیا۔ جب وہ وطن واپس آئے تو اصولی طورپر ایک سزایافتہ قیدی کو مقررہ وقت پر عدالت میں پیش نہ ہونے اورتوہین عدالت کاارتکاب کرنے پر گرفتارکرکے جیل بھیجنا چاہیے تھا مگر نوازشریف کیلئے ریڈکارپیٹ بچھاکر بادشاہ سلامت کی طرح ان کااستقبال کیاگیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا یہی نظام ہے کہ نوازشریف کو دی گئی سزائیں قصہ پارینہ بنادی گئیں۔ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کے بانی اور سربراہ ہیں، سپریم کورٹ نے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں شفٹ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد نہ کرکے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے توہین عدالت کاارتکاب کیاہے، بہت جلد موجودہ حکومت کے اراکین کواپنے اس عمل کاجواب دیناپڑے گا۔اس سلسلے میں عمران خان کے وکلاء کی پٹیشن عدالت میں ہے اورمجھے یقین ہے کہ27 ستمبر2026 ء سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اسپتال منتقل کیاجائے گا اور موجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گااورجوالمناک سلوک مصر کے صدر محمد مرسی کے ساتھ ہوا انشااللہ ایسا عمل عمران خان صاحب کے ساتھ نہیں ہوگا۔ حقوق کامطالبہ کرنے پر پہلے ایم کیوایم کو غدارکہاگیا اب پی ٹی آئی، پی ٹی ایم، بی وائی سی اور کشمیرکی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی غدارقراردی جارہی ہے یعنی جو حق اورسچ بات کرے اسے غدارکہاجارہاہے۔ میں نے فوجی جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اورناجائز اقدامات پر تنقید کی تو ستمبر2015ء میں میری تحریر، تقریر پر 6 ماہ کیلئے پابندی لگادی گئی جوکہ 11 سال گزرنے کے باوجو دآج تک لگی ہوئی ہے۔ 22 اگست2016ء کی رات فوج نے میرے گھر نائن زیرو کو seal کیا،پھرستمبر2022ء میں نائن زیروکوآگ لگانے کے بعد بلڈوز کردیاگیا، سیاسی ومذہبی جماعتیں،بعض اینکرپرسنزاوریوٹیوبرز مجھ پر من گھڑت اورجھوٹے الزامات لگاتے ہیں مگرصوبہ پنجاب اور KPK کے لوگوں کو یہ نہیں بتایاگیا کہ ملک کے فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین کے پورے خاندان کو دربدرکردیاگیا، میرے بڑے بھائی ناصرحسین، بھتیجے عارف حسین، بہنوئی اسلم ابراہانی اور ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، شہداء کی قبریں یاسین آباد کے شہداء قبرستان میں ہیں، اہل پنجا ب اورKPK کے لوگ وفد بناکرکراچی آئیں تو ہمارے ذمہ دار انہیں ان متاثرہ خاندانوں سے ملواسکتے ہیں جن کے بچوں کو ان کے سامنے گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا یا ماورائے عدالت قتل کردیاگیاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ قانون سب کیلئے برابر ہوناچاہیے یہ نہیں کہ کوئی امیرجرم کرے تو اس کا گناہ معاف کردیا جائے اوراگر کوئی غریب جرم کرے تو اس کیلئے سزا ہو، یہ سراسرناانصافی اورظلم ہے۔ جب تک ملک میں جزا اورسزا کا نظام قائم نہیں ہوگا ملک صحیح ڈگر پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 454ویں فکری نشست سے خطاب 23، اگست2026

Altaf Hussain

10,577 次观看 • 16 天前

AltafHussain_90's profile picture

ملک میں نئے صوبوں کےقیام کے لئے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے، انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتا رہا کہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتالیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی،آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کےلئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔آج ڈی جی ISPR کہہ رہے ہیں کہ1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اُس وقت چار صوبےتھے،آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سےزائد ہوچکی ہے، پھر بھی چار صوبے ہیں ،لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف کی تقریر کےجواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کےقیام کو قطعی ناممکن اور out of question قراردیا ہے، پیپلزپارٹی کےبعض رہنماؤں نے تو اسے سندھ کی تقسیم قرار دیکر یہاں تک کہہ دیاہےکہ”نئے صوبے بناکر دیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیاہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے تو صوبے بناکر دکھائے۔اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی ان دھمکیوں کانوٹس لیں گےیانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کےلئے یہ دلیل دیتاہےکہ آپ تویہ کہیں گےکہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈگورننس اورملک کی ترقی کےلئےمزید صوبے بنارہے ہیں،جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم دس سال کےلئےنافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزر جانےکےباوجود بھی کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔ اور پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کےنام پر سندھ کی تقسیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہےکہ کوٹہ سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنافذ کیا تھا، اگردیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی اور جائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی یہ تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سےتعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔ سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کےلئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کےلئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کےلئےنافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کےوڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہےجنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقابلوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہےاور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔وڈیروں نے سندھ کےنام پر بہت کمایا ہےجبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کےلئے روٹی تک نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی سسٹم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسر آئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔ میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گا کہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 440 ویں فکری نشست سے خطاب یکم اگست 2026

Altaf Hussain

15,967 次观看 • 1 个月前

AltafHussain_90's profile picture

نئے صوبوں کے معاملے پر مہاجروں کو دھمکیاں نہ دی جائیں۔ الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ چندروزقبل وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےاپنےخطاب میں پاکستان کے سسٹم کوتباہ قراردیتےہوئےملک میں نئے صوبے اورانتظامی یونٹس بنانےکی تجویز پیش کی تھی جس پرملک بھر میں بحث ہورہی ہے،کوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں 20 صوبے بنائےجائیں،کوئی کہتا ہے 33 صوبے بنائے جائیں۔اس معاملے پر صدر آصف زرداری توخاموش ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے نچلی سطح کےلوگوں اور سندھ کے بعض قوم پرستوں نےمہاجروں کو بلواسطہ یابلاواسطہ دھمکیاں دیناشروع کردی ہیں کہ اگر سندھ تقسیم ہوا تو سندھ میں خون کی ندیاں بہیں گی۔میں دھمکیاں دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس کوماریں گے؟ کس کےخون کی ندیاں بہائیں گے؟ آخرانہوں نے مہاجروں کوکیا سمجھ لیا ہے؟ صوبوں کی بات نہ ایم کیوایم نے کی، نہ ہی الطاف حسین نے کی، یہ تو وزیرداخلہ محسن نقوی نے کی ہے اورآج بلاول زرداری نےکشمیرمیں اپنے خطاب میں صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگرعوام کی اکثریت نئے صوبے چاہتی ہےتوہم بھی حمایت کریں گے۔بلاول صوبوں کےقیام کی حمایت کرے توجائز لیکن اگر الطاف حسین حمایت کرے تو سندھ دشمن قرار دیا جائے،یہ کیادوعملی ہے؟ مہاجروں کو دھمکیاں دینے والے قوم پرستوں نے صوبوں کی حمایت کرنے پر بلاول کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یہ آصف زرداری کےخلاف کیوں نہیں بولے جو اس معاملے پرخاموش ہیں؟ یہ بلاول سےکیوں نہیں کہتےکہ وہ صوبوں کے قیام کے خلاف اسلام آباد میں جلوس نکالیں؟ مہاجروں کے خلاف بلاوجہ نفرت کیوں پھیلائی جارہی ہے؟ انہیں دھمکیاں کیوں دی جارہی ہیں؟ میں MQM اور مہاجروں کے خلاف یہ نفرت گزشتہ کئی دنوں سےدیکھ رہا ہوں، کچھ متعصب پوسٹ کاسٹراپنے پروگراموں میں مہاجروں کے خلاف بلاجوازنفرت پھیلارہے ہیں،شاید انہیں زداری صاحب کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہےکہ وہ شروع ہوجائیں کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔اب صوبوں کے قیام کا بہانہ بنا کر بعض قوم پرست مہاجروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میں متنبہ کرتا ہوں کہ اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ مہاجروں کوکاٹ کر دریائے سندھ میں پانی کی جگہ ان کا خون بہائے گاتو وہ یادرکھے کہ جن کاخون بہایاجائے گا، ان کے بھی دوہاتھ ہیں، ان کی بھی آنکھیں ہیں، لہٰذا خون خرابے کی باتیں کیوں کررہے ہو؟ مہاجروں کوبلاوجہ برابھلا کہنا اورانہیں دھمکیاں دینا بند کرو، مہاجر مار کھا کھا کراتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ وہ مارنے والوں کے ہاتھ روک سکتے ہیں، لہٰذامرنے مارنے اور خون خرابے کی باتیں نہیں کرو، جوبات کرنی ہے حکومت سے کرو، جو نیا سسٹم لارہے ہیں ان سے کرو۔فیلڈ مارشل عاصم منیراوروزیرداخلہ محسن نقوی کو مہاجروں کوبلواسطہ یابلاواسطہ دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ جولوگ کہتے ہیں کہ لسانی بنیاد پر کوئی صوبہ نہیں ہونا چاہیے،میں ان سے سوال کرتاہوں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سےکس صوبےکا نام لسانی بنیاد پر نہیں ہے؟ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا کیا ہے؟ کیا سندھیوں کا سندھ، پنجابیوں کا پنجاب، بلوچوں کا بلوچستان، پشتونوں کاخیبرپختونخوا نہیں ہے؟ پختونخواہ صوبےکا نام پہلے صوبہ سرحد NWFP یعنی نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس تھا، پشتونوں نے مطالبہ کیاکہ اس کانام پشتونستان رکھاجائے، ان کامطالبہ درست تھالہٰذا آج صوبہ سرحد خیبر پختونخوا ہے۔ نفرت اور تعصب کی وجہ سےکہا جاتا ہےکہ مہاجر کوئی قوم نہیں ہے۔ میں سوال کرتاہوں کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جو مہاجر یوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات یا ہندوستان کے دیگرعلاقوں سے پاکستان آئے، کیاان کی مادری زبان سندھی، پنجابی، بلوچی یا پشتو تھی؟ کیا ان کی مادری زبان اردو نہیں ہے؟ اگرکوئی کہتا ہے کہ اردوتوقومی زبان ہے، تواردوکوقومی زبان الطاف حسین یاایم کیوایم نے نہیں بنایا تھا، آپ اردوکوقومی زبان سے ہٹادیجئے لیکن آپ ہم سے ہماری زبان، ہماری پہچان نہیں چھین سکتے، آپ یہ نہ بھولیں کہ یوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات جہاں تحریک پاکستان چلی مگر پاکستان ان علاقوں میں نہیں بنا، انہوں نے قیام پاکستان کےلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جب وہ پاکستان کی خاطراپناسب کچھ لٹا کر یہاں آئے تووہ کوئی روبوٹ نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان تھے، وہ اپنے ساتھ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے، جب انہوں نے ہجرت کی تووہ خالی جسموں کی ہجرت نہیں تھی، بلکہ وہ لباس کی بھی ہجرت تھی، وہ زبان کی بھی ہجرت تھی، تہذیب وثقافت کی بھی ہجرت تھی۔اگرموجودہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی پانچ ہزار سالہ تہذیب ہے تو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بھی تہذیب پانچ ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ وہ آج سندھ میں بس رہے ہیں توانہیں ان کی زبان، ان کی تہذیب اورثقافت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ 1/2

Altaf Hussain

13,917 次观看 • 1 个月前