Altaf Hussain's banner
Altaf Hussain's profile picture

Altaf Hussain

@AltafHussain_90115,337 subscribers

Founder & Leader of @OfficialMqm - My Philosophy is Realism & Practicalism - https://t.co/10I2G34tiL Idealogue - Thinker - Reformer- Democrat- Pharmacist

Shorts

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

32,204 次观看

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

11,172 次观看

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha ———————————————- I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza. #dohaattack Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza. The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed. Altaf Hussain

42,342 次观看

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب! سلام وآداب آج 22مئی2023ء کوپاکستان کے مختلف نیوزچینلز پر آپ کا ایک بیان پڑھا اورسنا بھی جس میں آپ نے فرمایاکہ ''فوج علاقائی، لسانی ، سیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے''۔میری ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ ملک کی فوج اوراس کے حکام و اہلکاروں کوعلاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات سے پاک ہونا چاہیے لیکن میں یہاں آپ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنی مرضی سے فوج کے اعلیٰ حکام پر مبنی ایک کمیشن تشکیل دیں جوکہ کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں ایم کیوایم کے شہید کئےجانےوالےکارکنوں کےلواحقین اور1992ء سے لے کرآج 2023ء تک لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے اہل خانہ کوکسی ایک جگہ جمع کرکے 15دنوں تک ان سے ملاقات کرے اور آپ اسے ایک جامع اورغیرجانبدارانہ رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیں۔ پھرآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ فوج کس حد تک علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات اورامتیازات سے بالاتر ہے۔ محترم عاصم منیر صاحب! ایم کیوایم حقیقی، پاک سرزمین پارٹی(PSP) اور MQMP المعروف ایم کیوایم بہادرآباد کا بنایا جانا ہی ازخود آپ کے بیان کی کھلی نفی کررہا ہے کیونکہ بچہ بچہ اس اصل حقیقت کوخوب جانتا ہے کہ ان جماعتوں کا خالق کون ہے ۔ لہٰذا آپ سے میرامؤدبانہ مطالبہ ہے کہ خدارا آپ یہ کمیشن تشکیل دے کر فوج کو واقعتاً علاقائی، لسانی اورسیاسی تعصبات وامتیازات سے پاک کردیں اور فوج کواس کی اصل ذمہ داریوں تک محدود کرکے پاکستان کوبچانے کا کردارادا کریں اورتاریخ میں اپنانام سنہری الفاظ میں لکھوائیں اوردنیا اورآخرت میں یہ نیک کام کرنے کا اجرحاصل کریں۔ DG ISPR

84,211 次观看

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اورہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #StopBalochGenocide #Balochistan ماہ رنگ بلوچ ایک امن پسند اورآئین وقانون کے دائر ے میں رہتے ہوئےنہ صرف رہنما بلوچ قوم کی نمائندہ جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماہیں بلکہ ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔انہوں نے اب تک آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ قوم کےلئےانصاف کی آوازبلند کی ہے اور پرامن احتجاج کیاہے، ان کی گرفتاری سراسر غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے عمل سے بلوچ قوم اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان مزید فاصلے بڑھیں گے۔لہٰذا بلوچ یکجتی کمیٹی کی رہنما اور ملکی وبین الاقوامی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوفی الفور رہاکیا جائے اورانہیں گرفتارکرنے والوں کی تحقیقات کرکےان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ Mahrang Baloch

28,597 次观看

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس عمرعطاء بندیال صاحب! سلام وآداب میں اپنے آج کے اس Tweet سے پہلے بھی اصل ایم کیوایم (جو میری قیادت میں 1984ء سے آج تک اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ) کے خلاف کی جانے والی سازشوں،فوجی آپریشنز اورایم کیوایم میں نئےنئے دھڑوں کے قیام، لاپتہ کارکنوں، جھوٹے مقدمات میں اسیر کارکنوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا زکرکرچکا ہوں۔گزشتہ دوروز قبل آپ کی ایک تقریر سنی جس کا حوالہ میں اپنے اس Tweet کے ساتھ وڈیوکلپ کی شکل میں پیش کررہاہوں ۔ آج میں ایک بار پھر آپ کے خطاب کی روشنی میں کچھ اہم باتیں آپ کے علم میں لیکرآنا چاہتا ہوں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے عوام جن میں بزرگ ، خواتین ، نوجوان اور اسکول کے طالبعلموں نے ایک پرامن ریلی بروز اتوار مورخہ 9، جولائی 2023ء کو نکالی تھی ۔ریلی میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم اورپاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ایم کیوایم کے حق میں نعرے لگارہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میری تحریر، تقریر حتیٰ کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میری تصویر دکھانے پربھی لاہور ہائی کورٹ نے 2015ء میں چھ ماہ کیلئے جو پابندی عائد کی تھی وہ آج 2023ء میں غیرقانونی و غیرآئینی طورپر ہر دور حکومت میں جاری رہی اورآج تک جاری ہے ،ریلی کے شرکاء اس پابندی کو ختم کرنے کے نعرے بھی لگارہے تھے اور وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پرامن طورپراپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اس کے بعد رینجرز ، پولیس اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ایک قیامت برپاکرکےگھرگھر چھاپےمارکر سینکڑوں کارکنوں کو اور کارکن کے گھر پر نہ ملنے کی صورت میں اس کے بھائیوں، والد یابیٹوں کو گرفتارکرلیا جس میں ایک گرفتارکارکن کے کمسن بیٹے15 سالہ طہام عامر، ایک کارکن کے صاحبزادے شہزاد علی ولد فیض علی، انکے بھتیجے فائزعلی ولد علی محمد اورایک کارکن کے بھائی کامران ولد سراج الدین کوگرفتار کرکے آج تک لاپتہ کیا ہواہے۔چھاپوں کےدوران رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے گھروں میں نہ صرف تمام سامان کو الٹ پلٹ کردیا بلکہ خواتین کے ساتھ انتہائی بدسلوکی بھی کی گئی۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے 70 سال سے زائد عمر کےبزرگ محترم آفتاب بقائی صاحب کو اسی رات ان کے گھر سے گرفتار کرلیاجنہیں متعدد بیماریاں بھی لاحق ہیں ، انہیں ایک دن غائب رکھنے کے بعد زمان ٹاؤن تھانےکورنگی منتقل کیاگیا جنکی سندھ کی عدلیہ سے ضمانت ہونےکے بعد بھی حکومت سندھ کے MPO کے تحت جیل منتقل کردیاگیا۔ اسی طرح تمام گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کی ضمانت ہوجانے کے باوجود انہیں بھی MPO کے تحت دوبارہ گرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ اب یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ تمام گرفتارشدگان کوکراچی سینٹرل جیل سےاندرون سندھ کی دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے اور اسی طرح حیدرآباد، میرپورخاص اور عمرکوٹ سے گرفتارکیےگئےکارکنان کو بھی اپنے شہروں کی جیلوں سے نکال کر سندھ کے دوردرازشہروں کی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی کرب واذیت اور پریشانیوں کا نشانہ بنایاجاسکے ۔ میرا آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے خطاب میں بیان کئےگئے نکات کے تحت کیا ''کورنگی '' کے عوام نے پرامن ریلی نکال کرکوئی غیرآئینی وغیرقانونی عمل کا ارتکاب کیا تھا؟ اس پرامن ریلی کے خلاف رینجرز و پولیس آج تک چھاپوں اورگرفتاریوں کے سلسلےکو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت سندھ کے حکم کے مطابق ان گرفتارشدہ عوام وکارکنوں کو بھی MPO لگاکر جیل میں بند کردیاگیا ہے، کیایہ عمل جائز ہے؟ مزید یہ کہ کیاایک سینئر سٹیزن(Senior citizen) بزرگ رہنما آفتاب بقائی کوجھوٹے الزامات لگاکرگرفتارکرنا اوربعد میں MPO لگاکر انہیں بھی جیل میں قیدرکھنے کا جوحکم حکومت سندھ نے جاری کیا ہے ،کیا حکومت سندھ کا یہ آمرانہ اقدام جائز ہے؟میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ کراچی ،حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے ایم کیوایم کےکارکنوں کی گرفتاریاں بندکرائیں۔ بلاجواز MPO کے تحت جیل میں بھیجے جانے والے بزرگ رہنما ء محترم آفتاب بقائی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی کےفوری احکامات جاری کریں۔ شکریہ احقر الطاف حسین 16، جولائی2023ء (لندن) #ReleaseAftabBaqai #ReleaseMQMWorkers

33,052 次观看

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

28,338 次观看

Videos

AltafHussain_90's profile picture

میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں تاجروں کی دکانیں سیل کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ سراسر ظلم ہے، حکومتی غنڈہ گردی اور بربریت ہے ۔ حیدرآباد کے علاقے چھوٹی گٹی میں یہ دکانیں ، شہر کے تاجروں نے اپنی محنت کی کمائی سے برسوں پہلے بنائی تھیں، لیکن حکومت نے پولیس و انتظامیہ کے ذریعے رات کی تاریکی میں سیل کرنے کے نوٹس دکانوں اور شاپنگ پلازہ پر لگا کر انہیں سیل کردیا ہے، ایک عمارت میں نجی اسپتال بھی قائم ہے، اسے بھی سیل کرنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے حیدرآباد کے ان تاجروں ہی میں نہیں بلکہ پورے حیدرآباد کے شہریوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ دکانوں کو سیل کرنےکا سندھ حکومت کا اقدام حیدرآباد کے تاجروں کا معاشی قتل ہے۔ میں اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ چھوٹی گٹی کی دکانوں کو سیل کرنے کا اقدام واپس لیا جائے ۔ میں حیدرآباد کےدکانداروں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔

Altaf Hussain

10,285 次观看 • 17 天前

AltafHussain_90's profile picture

کشمیر میں فوجی آپریشن بند کیا جائے، شوکت نوازمیرسمیت تمام کشمیریوں کوفی الفور رہا کیاجائے۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK اس وقت پاکستان میں مسئلہ بلوچستان سنگین شکل اختیارکرچکا ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا کامسئلہ بھی انتہائی خطرناک ہوتاجارہا ہے، افغانستان سے بھی کشیدگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کےحکمرانوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ غیرحقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے ناراض ہیں۔ 78برسوں میں کشمیرکے نام پرانڈیاسے تین جنگیں بھی ہوئیں، کشمیریوں نے پاکستان کی خاطر بڑی قربانیاں دیں، پاکستان کے سیاسی وعسکری حکمرانوں اور عیارومکارسیاسی رہنماؤں نےکشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا اورکشمیری عوام کو ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کانعرہ دیا۔وہ کشمیریوں کو ایسے ہی نعروں کی لوریاں سناکر سلاتے رہے اور انہیں کشمیربنے گا پاکستان کے سہانے خواب دکھائےجاتے رہے۔ کشمیری عوام اس نعرے پر قربانیاں دیتے رہے، لیکن جب کشمیری عوام کی آنکھ کھلی اوروہ نیند سے بیدار ہوئے توانہیں معلوم ہوا کہ کشمیربنے گا پاکستان کا نعرہ حقیقت نہیں بلکہ محض ایک خواب تھا۔ کشمیرپاکستان تونہ بن سکاالبتہ آدھے سے زیادہ کشمیر ہندوستان کا حصہ بن گیا۔ تاریخی طورپر ریاست جموں و کشمیر تقسیم برصغیرسے قبل ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی جہاں ڈوگرہ راج تھا، جب 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اورہندوستان کی دیگرپرنسلے اسٹیٹس کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو بھی اس بات کااختیاردیاگیاکہ وہ چاہیں تو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیں، چاہیں توپاکستان میں شامل ہوجائیں یاچاہیں توخودمختارریاست کے طورپرآزاد رہیں۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھا اوراس سلسلے میں باقاعدہ الحاق نامے پر دستخط کرلیئے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کی رو سے پوری ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ بن گئی تھی لیکن پاکستان نے قبائلیوں کوبھیج کرریاست کشمیر پر حملہ کیااورکچھ علاقہ پر کنٹرول کرلیا، اقوام متحدہ نے سیزفائر لائن کھینچی جوایل او سی یالائن آف کنٹرول بن گئی، کشمیر کاجوحصہ پاکستان کے زیرانتظام ہوا اسے آزادکشمیر کانام دیدیا گیا لیکن کشمیری مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق نامے کی روسے ہندوستان دعویٰ کرتاہے کہ آزادکشمیراس کاحصہ ہے۔ 2019ء میں ہندوستان نےاپنے آئین کے آرٹیکل 370کو ہٹا کر اپنے زیرانتظام کشمیرکو ہندوستان کے جغرافیے کاباقاعدہ حصہ بنالیاہے۔ اب وہاں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ یہ سب اطلاعات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کومل رہی ہیں اور کشمیری عوام بالخصوص نئی نسل اپنے بنیاد ی حقوق کے لئے آوازاٹھارہی ہے۔کشمیریوں کے نوجوانوں نے اپنے بنیادی حقوق کےلئےکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی بناکر جدوجہد شروع کی تو حکومت پاکستان نے ان کی جدوجہد کو سبوتاژکرنے کے لئے مذاکرات اورمعاہدہ کے نام پر کشمیرایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کااعلان کیا لیکن ان سے کئے گئے معاہدے پرکوئی عمل نہیں کیا گیا، کشمیری عوام سمجھ گئے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہےلہٰذا انہوں نے اپنے حقوق کےلئے دوبارہ جدوجہد کاآغاز کردیا اورپرامن احتجاج شروع کیاتوحکومت پاکستان کشمیریوں کی بات سننےکے بجائےان کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے، اپنے حقوق کے لئے باہرنکلنے والے کشمیریوں پر گولیاں چلائی گئیں،بے شمارکشمیریوں کو شہید کردیاگیا، ان کی لاشیں تک لواحقین کو نہیں دی جارہی ہیں، سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کے لیئے قائم ہونے والی تنظیم کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوکالعدم قراردیدیا گیاہے اوران کے رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نوازمیر کوفوج نے سفاکانہ انداز میں گرفتارکرلیاہے، ان کی گرفتاری بھی ایسے کی گئی جیسے وہ کوئی بہت بڑے دہشت گرد ہیں، اب اطلاعات مل رہی ہیں شوکت نواز کی زندگی شدیدخطرے میں ہے۔ میں نے کشمیریوں کی آزادی وخودمختاری اوران کےحقوق کے لئے ہمیشہ آوازبلند کی، میں نے ہمیشہ یہی مؤقف اختیارکیاکہ کشمیرصرف کشمیریوں کاہے، کشمیرکافیصلہ کرنے کا حق بھی صرف کشمیریوں کو ہے، میں نے کشمیری عوام سے ہمیشہ کہاکہ اگر انہیں حق خودارادیت دیاجائے تووہ کسی سے الحاق نہ کریں بلکہ آزاد وخودمختار کشمیر کےلئے جدوجہدکریں تواس پر کشمیریوں اورپنجابیوں نے مجھے برابھلا کہا، مجھ پریہ الزام لگایاکہ الطاف حسین ہندوستان کی زبان بول رہاہے لیکن میں کشمیریوں کے حق کے لئے آواز اٹھاتارہا، آج تمام کشمیری عوام وہی کہہ رہے ہیں جوبرسوں پہلے میں نے کہاتھا۔ 1/2 (مزید پڑھئیے اگلے ٹوئیٹ میں)

Altaf Hussain

10,112 次观看 • 22 天前

AltafHussain_90's profile picture

ڈرامے بازیاں کرنے کے بجائے پاکستان سیدھا سیدھا اعلان کردے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں #ہمارا_مقدر_17ستمبر فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میں نے پہلے ہی کہاتھا کہ دوریاستی حل کومان لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے لیکن سپر طاقتوں کے دباؤ پر خاموشی اختیارکرلی گئی لیکن آج ٹرمپ سے گلے مل کے، جھپیاں ڈال کے اورسعودی عرب سے معاہدہ کرکے وہی کام کیا جارہا ہے۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں اور عوام کو سبزباغ دکھائے جارہے ہیں کہ جیسے اس معاہدے سے ملک میں دودھ کی نہریں بہنےلگیں گی۔اتنی ڈرامے بازیوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھاسیدھا اعلان کردیں کہ ہم فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے دوریاستی حل کے حامی ہیں، ہم ایٹمی طاقت ہیں اور اسرائیل کوبھی تسلیم کررہے ہیں۔ عوام خودغورکریں کہ کیا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی کے بغیرہوسکتاہے؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد آج کل صدرٹرمپ سے معاشقہ چل رہا ہے ،صدرٹرمپ سے بغل گیر ہواجارہا ہے اوریہ وہی معاشقہ ہے کہ جیسے کوئی نیانیاجوان اپنی محبوبہ کو خوش کرنے کےلئے چاند تارے توڑ کرلانے کا یقین دلاتا ہے اوردونوں ایک دوسرے سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ آج بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں اوربڑے فخر سے کہاجا رہا ہے کہ ہماری فوج تو پہلے سے ہی سعودی عرب میں موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ کی فوج نے 78برسوں میں سوائے کرائے کی فوج کے کیا کوئی ایک کام ایسا کیا ہے جس پر آپ فخر محسوس کرسکیں؟ البتہ ایک ایسا کام ضرور کیا ہے کہ جوتاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ 93ہزار کی تعداد میں فوج نے سرینڈر کیا۔ آپ نے سینہ تان کر ہمیشہ اپنے ہی ملک کے نہتے لوگوں پر چڑھائی کی ہے، آپ اپنے ہی شہریوں کے گھروں میں گھس کرمظلوم لوگوں کوغائب کردیتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم فرعون، نمرود، شداد، ہامان کو ظالم سمجھتے ہیں لیکن ہماراعمل یہ ہے کہ گزشتہ دوسال سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ہورہا ہے اور 57 اسلامی ممالک اس ظلم وبربریت پر خاموش ہیں اور زبانی کلامی مذمت تک محدود ہیں ۔ ہماراحال یہ ہے کہ ہم غزنوی اورغوری نام کے میزائل توبناتے ہیں لیکن غزنوی اورغوری کے افغانستان کودشمن کہتے ہیں اور اس پر حملہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہماری فوج ان کی باقیات ہے جنہوں نے1757ء سے 1857ء تک یعنی 200سال تک انگریزوں کی خدمت گاری کی ہے،جن کی رگ رگ میں یہ خدمت گاری سمائی ہوئی ہے۔ اردن میں ضیاالحق کی سربراہی میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں فلسطینی نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں اوربچوں کا قتل کیا،اس قتل عام کو ”بلیک ستمبر“ کےنام سے یاد کیا جاتا ہے۔ صومالیہ میں انہوں نے قتل کیا،یمن میں یہ موجود ہیں۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ کو کفرو اسلام کی جنگ بنادیااوریہ دلیلیں دیں کہ روسی اللہ کونہیں مانتے ، وہ کافر ہیں اور امریکی اہلِ کتاب ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ آج بھی ''ابراہیم اکارڈ '' کی بات ہورہی ہے۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ میں جہاد کے نام پر پشتونوں کواستعمال کیا، جہادی مدرسے قائم کئے، مجاہدین اور طالبان بنائے۔ میں نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ آپ جو طالبان بنارہے ہیں یہ مونسٹر بن جائیں گے اور ایک دن آپ ہی کو کھائیں گے۔آج وہی طالبان، فوج پر ہی حملے کررہے ہیں اوردوسری طرف فوج طالبان کو'' خوارج '' قرار دے کرمارہی ہے۔ یہ طالبا ن فوج نے ہی تیار کئے تھے تو اب فوج انہی طالبان کو کس لئے ماررہی ہے؟ ان کی سرپرستی کس نے کی تھی؟ آرمی پبلک اسکول میں 150سے زائد بچوں اوراساتذہ کے سفاکانہ قتل میں ملوث طالبان کا دہشتگرد احسان اللہ احسان فوج کی کسٹڈی میں تھا وہ فوج کی حراست سے کیسے فرار ہوگیا؟ الخوارج کوبعد میں ماریں ، پہلے آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سوسے زائد بچوں اوراساتذہ کوقتل کرنے والے طالبان اوران کی سرپرستی کرنے والے فوجیوں کوسرعام لٹکایاجائے۔ الطاف حسین لندن میں 72ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 27،ستمبر 2025

Altaf Hussain

62,421 次观看 • 10 个月前