
Ahmad Ghuman
@ghuman_ar • 24,392 subscribers
Democracy is my faith . CEO — ARG Digitals. It’s my passion. ( Digital Marketing | Digital Branding) Politics PPP Deputy Information Secretary PPP Lahore!
Shorts
Videos

ہمیں کھوکھلے دعوے اور اشتہارات نہیں، حقیقی نتائج چاہییں! پنجاب کے وسائل کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود خواتین اور بچے آج بھی اپنے بنیادی آئینی حقوق اور تحفظ سے محروم ہیں۔ بڑے بڑے اشتہارات اور ’’سب اچھا ہے‘‘ کا تاثر حقیقت نہیں بدل سکتے۔ ایک خاتون وزیراعلیٰ کی موجودگی میں پنجاب کے پاس موقع ہے کہ خواتین اور بچوں کی فلاح و تحفظ کے لیے عملی مثال قائم کرے۔ حکومت کی کامیابی کا اصل معیار بلند عمارتیں نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی ہے: • خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں واضح کمی • مادری اموات میں کمی اور صحت کی بہتر سہولیات • ہیپاٹائٹس، پولیو اور ایڈز کے خلاف مؤثر اقدامات • بچیوں کے لیے HPV ویکسینیشن اور بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی و علاج • بچیوں کے اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں اضافہ عوام کو دعوے نہیں، نتائج چاہییں۔ خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر عائشہ شوکت ! #PakistanPeoplesParty #WomenRights #ChildProtection #Punjab #Healthcare #Education #SocialJustice Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Dr.Ayesha Shaukat 👇
Ahmad Ghuman184,389 görüntüleme • 2 ay önce

بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇
Ahmad Ghuman94,037 görüntüleme • 1 ay önce

منصور علی خان نے چند ہی منٹوں میں مریم نواز کے لندن جانے کے معاملے پر کیے گئے دفاع کا پورا پوسٹ مارٹم کر دیا۔ یہ کہنا کہ جہاز کا کرایہ یا ایندھن کا خرچہ مریم نواز اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں، اصل سوال کا جواب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ نجی دورہ تھا تو سرکاری جہاز نجی مقصد کے لیے استعمال کیوں کیا گیا؟ پٹرول کا خرچہ ادا کر دینا کافی نہیں۔ سرکاری جہاز کے ساتھ عملہ، مینٹیننس اور دیگر سرکاری اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ اصل سوال صرف یہ ہے: اگر دورہ نجی تھا تو سرکاری جہاز استعمال کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟ عوام کو اس سوال کا واضح جواب چاہیے۔ Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari
Ahmad Ghuman113,251 görüntüleme • 1 ay önce

پاکستان پیپلز پارٹی لاہور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں بھرپور مصروف ہے۔ نشتر ٹاؤن میں نوجوان کارکنوں اور تنظیمی عہدیداران نے بڑی تعداد میں بلدیاتی انتخابات لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ نوجوان قیادت کی یہ بھرپور شرکت پیپلز پارٹی کی مضبوط تنظیم اور عوامی رابطے کا واضح ثبوت ہے۔ جئے بھٹو، جئے عوام Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir Dr.Ayesha Shaukat 👇
Ahmad Ghuman96,366 görüntüleme • 1 ay önce

جِنے لاہور نئیں ویکھیا او جمّیا ای نئیں لے جی مریم نواز صاحبہ لاہور دیکھ لیں یہ وہی لاہور ہے جہاں گندگی تعفن کھلے گٹر اور سڑکوں پر گندا پانی موجود ہے جبکہ دوسری طرف ستھرا پنجاب کے بڑے بڑے دعوے اور تشہیری مہمات جاری ہیں لاہور کو اشتہارات نہیں صفائی اور عملی اقدامات چاہییں مریم نواز صاحبہ ذرا کیمروں سے باہر نکل کر اصل لاہور بھی دیکھ لیں #SuthraPunjab #MeraLahore #Lahore #MaryamNawaz
Ahmad Ghuman105,881 görüntüleme • 2 ay önce

کل میں نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا ذکر کیا تھا کہ 21 ملکوں کی آبادی میں سے 48 فیصد غریب عوام پاکستان میں رہتی ہے اور ہر پانچواں پاکستانی روزانہ 850 روپے پر اپنا گزارا کرنے پر مجبور ہے اس کے بعد میں سمجھا کہ حکومتی ترجمان کی طرف سے اس رپورٹ کی تردید آئے گی کہ یہ بکواس کر رہے ہیں لیکن کسی نے اس پر بات کرنا گوارا نہیں سمجھا اس کے مقابلے میں خبر یہ آتی ہے کہ آٹا مہنگا ہو گیا ہے دو دن میں 15 کلو آٹے کی قیمت میں 450 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Shehzad Saeed Cheema Syed Ahsan Abbas Rizvi
Ahmad Ghuman36,094 görüntüleme • 24 gün önce

مریم نواز کی وہ گڈ گورننس جس کی وجہ سے کشمیر میں ووٹ ملا؟ مریم نواز صاحبہ کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں کامیابی ان کی گورننس کی وجہ سے ملی۔ تو ذرا پنجاب کی گڈ گورننس کا ایک منظر راولپنڈی سے بھی دیکھ لیجیے۔ لاہور چند روز پہلے بارش میں ڈوبا، اب راولپنڈی مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، لیکن وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کی مشینری کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ ہے وہ گڈ گورننس جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اشتہارات میں پنجاب ترقی کر رہا ہے، مگر بارش ہوتے ہی لاہور اور راولپنڈی ڈوب رہے ہیں۔ لاہور ڈوبا، راولپنڈی بھی پانی میں بہہ گیا مریم کا گڈ گورننس تھا، بس اشتہاروں میں رہ گیا 😏 #GoodGovernance #PunjabGovernment #MaryamNawaz
Ahmad Ghuman98,464 görüntüleme • 2 ay önce

35لاکھ ماہانہ تنخواہ کس کارکردگی کی؟ حساب دو! عوام ٹیکس دےکر بھی گلی، سکول اورہسپتال سےمحروم، اور حکمرانوں کےمنظورِنظر عوام کے پیسےپر عیاشیاں کررہے ہیں! گالیاں نہیں چاہئیں،میرے ٹیکس کے ایک ایک روپے کاحساب چاہیےیہ عوام کاپیسہ ہے،تمہاری جاگیرنہیں! سیدحسن مرتضیٰ Hassan Murtaza
Ahmad Ghuman84,358 görüntüleme • 2 ay önce

ڈاکٹر عائشہ شوکت نے ڈاکٹر فرید کے ہمراہ فلٹیز ہوٹل کے اس تاریخی کمرے کا دورہ کیا جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو قیام اور اہم سیاسی میٹنگز کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ ان شاء اللہ جلد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ اسی تاریخی مقام پر میٹنگ کریں گے۔ 👇
Ahmad Ghuman34,254 görüntüleme • 1 ay önce

دریائے راجہ بازار رآولپنڈی ! مريم نواز نے ترقی کے ریکآرڈ قایم کر دیے ! 👇
Ahmad Ghuman56,572 görüntüleme • 2 ay önce

💔 اسلام آباد: پیمز ہسپتال کا دلخراش واقعہ – سوالات اور احتساب کی اپیل کل اسلام آباد کے پیمس (PIMS) ہسپتال میں نومولود بچوں کی وفات کا المیہ انتہائی دلخراش ہے۔ ماؤں کی سسکیاں دیکھ کر خاموش رہنا ممکن نہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال صاحب! جو وفاق 15 کلومیٹر کے شہر اسلام آباد میں صحت کا مثالی نظام قائم نہیں کر سکا، وہ دوسرے صوبوں کے ہسپتالوں پر سوال کیسے اٹھا سکتا ہے؟ استعفیٰ پہلے، احتساب بعد میں: عہدے پر قائم رہ کر اپنی ہی زیرِ نگرانی انکوائری کیسا احتساب ہے؟ بے حسی: حادثہ صبح پیش آیا اور وزیر صاحب شام چار بجے پہنچے۔ شفاف انکوائری: معلوم کیا جائے کہ کیا پہلے سے موجود شکایات کو نظر انداز تو نہیں کیا گیا؟ وزیراعظم صاحب! سب سے پہلے وزیر صحت کا استعفیٰ لیں اور واقعے کی آزادانہ انکوائری کروائیں تا کہ متاثرہ والدین کو انصاف مل سکے۔ #PIMS #Islamabad #JusticeForBabies #Accountability #MustafaKamal Bilawal Bhutto Zardari Edit Shehbaz Sharif Nadeem Afzal Chan
Ahmad Ghuman55,667 görüntüleme • 2 ay önce

پاکستان میں عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، آٹا، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں پنجاب حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے جرمانے سب سے زیادہ ان لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں جو روزانہ محنت کر کے اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں۔ رکشا ڈرائیور صبح سے شام تک سڑکوں پر محنت کرتا ہے۔ دن بھر کی کمائی بمشکل گھر کا راشن، بچوں کی فیس، بجلی کا بل اور پٹرول پورا کرتی ہے۔ لیکن اگر اسی محدود آمدن کا بڑا حصہ جرمانوں کی صورت میں حکومت کو ادا کرنا پڑے تو وہ اپنے بچوں کے لیے کیا بچائے گا؟ قانون کی پابندی ضروری ہے لیکن قانون کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہونا چاہیے، انہیں معاشی طور پر کچلنا نہیں۔ غریب رکشا ڈرائیور سے جرمانہ وصول کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وہ دن بھر میں کتنا کماتا ہے اور اس کے گھر میں کتنے افراد اس کی آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جرمانوں کے نظام کو آمدن اور حالات کے مطابق متوازن کرے، غریب محنت کشوں کو سہولت دے اور ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کی مشکلات کم ہوں نہ کہ مزید بڑھیں۔ غریب پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے اس پر جرمانوں کا بوجھ اس کی کمر مزید نہ توڑے Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan
Ahmad Ghuman23,259 görüntüleme • 25 gün önce

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir
Ahmad Ghuman56,467 görüntüleme • 2 ay önce

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جو افسوسناک سانحہ پیش آیا، اس کی ذمہ داری صرف ایک سرکاری افسر کو ہٹا کر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اگر سیکریٹری ہیلتھ کو ہٹایا گیا ہے تو میرا سوال ہے کہ وفاقی وزیرِ صحت سے بھی جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی؟ پمز کے حوالے سے ایک سال سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت کو ان شکایات کا علم تھا تو پھر ان پر بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سرکاری افسر اپنی جگہ جواب دہ ہے، لیکن سیاسی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر صاحب عوام کے ووٹوں سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر عوام کو یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ ایک سال سے سامنے آنے والی شکایات پر کیا کارروائی کی گئی؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک کسی کو سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اور میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صوبے کے ہسپتالوں پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں آج بھی بیڈز کی کمی ہے، آکسیجن کی سہولیات کئی جگہ ناکافی ہیں، لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں لفٹس خراب ہیں، مریضوں کو ایک منزل سے دوسری منزل تک منتقل کرنا اہلِ خانہ کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں MRI، X-Ray اور دیگر ضروری مشینری خراب پڑی ہے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ! چین اور جاپان کے دورے اپنی جگہ، لیکن اگر آپ خود پنجاب کے ہسپتالوں کا دورہ نہیں کر سکتیں تو اپنے ساتھ جانے والے وزراء کو ہی پاکستان میں رکھیں۔ انہیں لاہور اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کروائیں اور دیکھیں کہ عام آدمی کس صورتحال میں علاج کروانے پر مجبور ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بڑے ہسپتال میں ایک عام مریض کے لیے علاج اور پروسیجر کے انتظار کا طویل عرصہ اس نظامِ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر مریض کے پاس سفارش نہیں تو اسے علاج کے لیے دنوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی حادثے کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ پمز میں جو ہوا وہ ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں کو اس سانحے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی سہولیات، مشینری، آکسیجن، بجلی اور ایگزٹ روٹس کا فوری آڈٹ کرایا جائے، تاکہ کسی اور ماں باپ کو اپنے نومولود یا کسی عزیز کی جان اس نظام کی غفلت کی وجہ سے نہ گنوانی پڑے۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb
Ahmad Ghuman43,583 görüntüleme • 2 ay önce