Ahmad Ghuman's banner
Ahmad Ghuman's profile picture

Ahmad Ghuman

@ghuman_ar • 24,392 subscribers

Democracy is my faith . CEO — ARG Digitals. It’s my passion. ( Digital Marketing | Digital Branding) Politics PPP Deputy Information Secretary PPP Lahore!

Shorts

بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇

بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇

94,037 görüntüleme

مریم نواز کی وہ گڈ گورننس جس کی وجہ سے کشمیر میں ووٹ ملا؟ مریم نواز صاحبہ کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں کامیابی ان کی گورننس کی وجہ سے ملی۔ تو ذرا پنجاب کی گڈ گورننس کا ایک منظر راولپنڈی سے بھی دیکھ لیجیے۔ لاہور چند روز پہلے بارش میں ڈوبا، اب راولپنڈی مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، لیکن وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کی مشینری کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ ہے وہ گڈ گورننس جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اشتہارات میں پنجاب ترقی کر رہا ہے، مگر بارش ہوتے ہی لاہور اور راولپنڈی ڈوب رہے ہیں۔ لاہور ڈوبا، راولپنڈی بھی پانی میں بہہ گیا مریم کا گڈ گورننس تھا، بس اشتہاروں میں رہ گیا 😏 #GoodGovernance #PunjabGovernment #MaryamNawaz

مریم نواز کی وہ گڈ گورننس جس کی وجہ سے کشمیر میں ووٹ ملا؟ مریم نواز صاحبہ کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں کامیابی ان کی گورننس کی وجہ سے ملی۔ تو ذرا پنجاب کی گڈ گورننس کا ایک منظر راولپنڈی سے بھی دیکھ لیجیے۔ لاہور چند روز پہلے بارش میں ڈوبا، اب راولپنڈی مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، لیکن وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کی مشینری کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ ہے وہ گڈ گورننس جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اشتہارات میں پنجاب ترقی کر رہا ہے، مگر بارش ہوتے ہی لاہور اور راولپنڈی ڈوب رہے ہیں۔ لاہور ڈوبا، راولپنڈی بھی پانی میں بہہ گیا مریم کا گڈ گورننس تھا، بس اشتہاروں میں رہ گیا 😏 #GoodGovernance #PunjabGovernment #MaryamNawaz

98,464 görüntüleme

اگلے 48 گھنٹوں مے یا تو ہیڈ سلام کو بچایا جا سکتا ہے یا پھر لڈن اور بندھ موڑ کا بند توڑنآ پڑیگا ۔ لڈن کآ ٹوٹآ تو پانی لڈن کو تباہ کرتا ہوا وہاڑی شہر تک آیگا ۔ اور بندھ موڑ والا ٹوٹا تو پانی جملیرا کو تباہ کرتا ہوا گگو منڈی تک جآیگا ۔ ہر طرف سے تباہی ہو گی ۔ ۔

اگلے 48 گھنٹوں مے یا تو ہیڈ سلام کو بچایا جا سکتا ہے یا پھر لڈن اور بندھ موڑ کا بند توڑنآ پڑیگا ۔ لڈن کآ ٹوٹآ تو پانی لڈن کو تباہ کرتا ہوا وہاڑی شہر تک آیگا ۔ اور بندھ موڑ والا ٹوٹا تو پانی جملیرا کو تباہ کرتا ہوا گگو منڈی تک جآیگا ۔ ہر طرف سے تباہی ہو گی ۔ ۔

146,393 görüntüleme

ایک طرف سیلاب کی بے رحم لہریں ہیں جو گھر، کھیت اور بستیاں بہا لے گئیں، اور دوسری طرف بارش نے ان بے گھر، لاچار لوگوں کو مزید عذاب میں ڈال دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر سے چھت چھن گئی، بچوں کے لبوں سے مسکراہٹ چھن گئی، اور ماؤں کی آنکھوں میں نیند اڑ گئی۔ سیلاب نے سب کچھ بہا لیا اور بارش نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک بے گھر خاندان کے لیے بارش کے قطرے راحت نہیں بلکہ عذاب بن جاتے ہیں؟ یہ لوگ بھوکے بھی ہیں، پیاسے بھی ہیں اور بے آسرا بھی… لیکن پھر بھی حوصلے سے زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ایک طرف سیلاب کی بے رحم لہریں ہیں جو گھر، کھیت اور بستیاں بہا لے گئیں، اور دوسری طرف بارش نے ان بے گھر، لاچار لوگوں کو مزید عذاب میں ڈال دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر سے چھت چھن گئی، بچوں کے لبوں سے مسکراہٹ چھن گئی، اور ماؤں کی آنکھوں میں نیند اڑ گئی۔ سیلاب نے سب کچھ بہا لیا اور بارش نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک بے گھر خاندان کے لیے بارش کے قطرے راحت نہیں بلکہ عذاب بن جاتے ہیں؟ یہ لوگ بھوکے بھی ہیں، پیاسے بھی ہیں اور بے آسرا بھی… لیکن پھر بھی حوصلے سے زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

115,847 görüntüleme

25 جولائی کا سفر، 17 جولائی سے شروع ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کی جانب سے 25 جولائی کو مینارِ پاکستان میں ہونے والے عظیم الشان جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں مشعل بردار سرکل مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تاریخ: 17 جولائی 2026، بروز جمعہ وقت: شام 7 بجے مقام: آزادی گیٹ، مینارِ پاکستان تمام جیالوں، کارکنوں اور عوام سے شرکت کی اپیل ہے۔ آئیں، جمہوریت، عوامی حقوق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پیغام کو متحد ہو کر آگے بڑھائیں۔ 25 جولائی مینارِ پاکستان جلسہ ہر صورت ہوگا۔ Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

25 جولائی کا سفر، 17 جولائی سے شروع ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کی جانب سے 25 جولائی کو مینارِ پاکستان میں ہونے والے عظیم الشان جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں مشعل بردار سرکل مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تاریخ: 17 جولائی 2026، بروز جمعہ وقت: شام 7 بجے مقام: آزادی گیٹ، مینارِ پاکستان تمام جیالوں، کارکنوں اور عوام سے شرکت کی اپیل ہے۔ آئیں، جمہوریت، عوامی حقوق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پیغام کو متحد ہو کر آگے بڑھائیں۔ 25 جولائی مینارِ پاکستان جلسہ ہر صورت ہوگا۔ Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

30,566 görüntüleme

بلاول ہاؤس لاہور کے باہر جیالوں نے سيکورٹی سنبھآل لی ۔ جیالو کا کہنا ہے ہم خود کریں گے اپنے لیڈر کے گھر کی حفاظت ۔

بلاول ہاؤس لاہور کے باہر جیالوں نے سيکورٹی سنبھآل لی ۔ جیالو کا کہنا ہے ہم خود کریں گے اپنے لیڈر کے گھر کی حفاظت ۔

82,711 görüntüleme

شکریہ سندھ گورنمنٹ ! جمہوری جماعتيں ہی ایسی سوچ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کھلے دل سے CM KPK کآ استقبال کیا ۔ پیپلز پارٹی نے پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اس ملک کی اکلوتی جمہوری جماعت ہے ۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Senator Saeed Ghani 👇

شکریہ سندھ گورنمنٹ ! جمہوری جماعتيں ہی ایسی سوچ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کھلے دل سے CM KPK کآ استقبال کیا ۔ پیپلز پارٹی نے پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اس ملک کی اکلوتی جمہوری جماعت ہے ۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Senator Saeed Ghani 👇

53,832 görüntüleme

لاہور ہے لاہور ! کراچی کو رونے والے کب لاہور کی طرف ديكهيں گے چند سڑکوں اور پوش علاقوں کا نام لاہور نہیں ۔ یہ نالہ ولنشیآ ٹاؤن کے ساتھ ہے . . 👇

لاہور ہے لاہور ! کراچی کو رونے والے کب لاہور کی طرف ديكهيں گے چند سڑکوں اور پوش علاقوں کا نام لاہور نہیں ۔ یہ نالہ ولنشیآ ٹاؤن کے ساتھ ہے . . 👇

34,856 görüntüleme

ایک جہاز کہاں کہاں رسوآ کر واۓ گا ! 👇

ایک جہاز کہاں کہاں رسوآ کر واۓ گا ! 👇

19,950 görüntüleme

پیپلز پارٹی کے جیالے مينار پاکستان میں اسٹیج کا سامان لیکر داخل ! سٹیج لگنے کا کام شروع !

پیپلز پارٹی کے جیالے مينار پاکستان میں اسٹیج کا سامان لیکر داخل ! سٹیج لگنے کا کام شروع !

16,848 görüntüleme

رات ایک بج رہا ہے جیالوں کا جوش کم نہیں ہو رہا ! ہر قدم عوام کے ساتھ، ہر صدا بھٹو کے نام Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

رات ایک بج رہا ہے جیالوں کا جوش کم نہیں ہو رہا ! ہر قدم عوام کے ساتھ، ہر صدا بھٹو کے نام Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

14,348 görüntüleme

قدم بڑھیں تو قافلے بن جاتے ہیں، جیالے نکلیں تو تاریخ بن جاتی ہے Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

قدم بڑھیں تو قافلے بن جاتے ہیں، جیالے نکلیں تو تاریخ بن جاتی ہے Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

14,118 görüntüleme

ملتان جھنگ روڈ 25 پل سے نکاسو پل کی طرف کے حالات ۔۔ پنجابی میڈیا آنکھيں کھولو ۔ ۔

ملتان جھنگ روڈ 25 پل سے نکاسو پل کی طرف کے حالات ۔۔ پنجابی میڈیا آنکھيں کھولو ۔ ۔

33,308 görüntüleme

جیالوں کا مينار پاکستان پر قبضہ ! پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر کی قیادت میں مینارِ پاکستان پر ایک بھرپور مشعل بردار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کارکنوں اور جیالوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا" کے پرجوش نعرے لگائے۔ Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir Dr.Ayesha Shaukat

جیالوں کا مينار پاکستان پر قبضہ ! پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر کی قیادت میں مینارِ پاکستان پر ایک بھرپور مشعل بردار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کارکنوں اور جیالوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا" کے پرجوش نعرے لگائے۔ Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir Dr.Ayesha Shaukat

10,164 görüntüleme

Videos

ghuman_ar's profile picture

ہمیں کھوکھلے دعوے اور اشتہارات نہیں، حقیقی نتائج چاہییں! پنجاب کے وسائل کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود خواتین اور بچے آج بھی اپنے بنیادی آئینی حقوق اور تحفظ سے محروم ہیں۔ بڑے بڑے اشتہارات اور ’’سب اچھا ہے‘‘ کا تاثر حقیقت نہیں بدل سکتے۔ ایک خاتون وزیراعلیٰ کی موجودگی میں پنجاب کے پاس موقع ہے کہ خواتین اور بچوں کی فلاح و تحفظ کے لیے عملی مثال قائم کرے۔ حکومت کی کامیابی کا اصل معیار بلند عمارتیں نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی ہے: • خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں واضح کمی • مادری اموات میں کمی اور صحت کی بہتر سہولیات • ہیپاٹائٹس، پولیو اور ایڈز کے خلاف مؤثر اقدامات • بچیوں کے لیے HPV ویکسینیشن اور بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی و علاج • بچیوں کے اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں اضافہ عوام کو دعوے نہیں، نتائج چاہییں۔ خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر عائشہ شوکت ! #PakistanPeoplesParty #WomenRights #ChildProtection #Punjab #Healthcare #Education #SocialJustice Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Dr.Ayesha Shaukat 👇

Ahmad Ghuman

184,389 görüntüleme • 2 ay önce

ghuman_ar's profile picture

بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇

Ahmad Ghuman

94,037 görüntüleme • 1 ay önce

ghuman_ar's profile picture

💔 اسلام آباد: پیمز ہسپتال کا دلخراش واقعہ – سوالات اور احتساب کی اپیل ​کل اسلام آباد کے پیمس (PIMS) ہسپتال میں نومولود بچوں کی وفات کا المیہ انتہائی دلخراش ہے۔ ماؤں کی سسکیاں دیکھ کر خاموش رہنا ممکن نہیں۔ ​وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال صاحب! جو وفاق 15 کلومیٹر کے شہر اسلام آباد میں صحت کا مثالی نظام قائم نہیں کر سکا، وہ دوسرے صوبوں کے ہسپتالوں پر سوال کیسے اٹھا سکتا ہے؟ ​استعفیٰ پہلے، احتساب بعد میں: عہدے پر قائم رہ کر اپنی ہی زیرِ نگرانی انکوائری کیسا احتساب ہے؟ ​بے حسی: حادثہ صبح پیش آیا اور وزیر صاحب شام چار بجے پہنچے۔ ​شفاف انکوائری: معلوم کیا جائے کہ کیا پہلے سے موجود شکایات کو نظر انداز تو نہیں کیا گیا؟ ​وزیراعظم صاحب! سب سے پہلے وزیر صحت کا استعفیٰ لیں اور واقعے کی آزادانہ انکوائری کروائیں تا کہ متاثرہ والدین کو انصاف مل سکے۔ ​#PIMS #Islamabad #JusticeForBabies #Accountability #MustafaKamal Bilawal Bhutto Zardari Edit Shehbaz Sharif Nadeem Afzal Chan

Ahmad Ghuman

55,667 görüntüleme • 2 ay önce

ghuman_ar's profile picture

پاکستان میں عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، آٹا، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں پنجاب حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے جرمانے سب سے زیادہ ان لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں جو روزانہ محنت کر کے اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں۔ رکشا ڈرائیور صبح سے شام تک سڑکوں پر محنت کرتا ہے۔ دن بھر کی کمائی بمشکل گھر کا راشن، بچوں کی فیس، بجلی کا بل اور پٹرول پورا کرتی ہے۔ لیکن اگر اسی محدود آمدن کا بڑا حصہ جرمانوں کی صورت میں حکومت کو ادا کرنا پڑے تو وہ اپنے بچوں کے لیے کیا بچائے گا؟ قانون کی پابندی ضروری ہے لیکن قانون کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہونا چاہیے، انہیں معاشی طور پر کچلنا نہیں۔ غریب رکشا ڈرائیور سے جرمانہ وصول کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وہ دن بھر میں کتنا کماتا ہے اور اس کے گھر میں کتنے افراد اس کی آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جرمانوں کے نظام کو آمدن اور حالات کے مطابق متوازن کرے، غریب محنت کشوں کو سہولت دے اور ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کی مشکلات کم ہوں نہ کہ مزید بڑھیں۔ غریب پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے اس پر جرمانوں کا بوجھ اس کی کمر مزید نہ توڑے Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan

Ahmad Ghuman

23,259 görüntüleme • 25 gün önce

ghuman_ar's profile picture

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 görüntüleme • 2 ay önce

ghuman_ar's profile picture

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جو افسوسناک سانحہ پیش آیا، اس کی ذمہ داری صرف ایک سرکاری افسر کو ہٹا کر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اگر سیکریٹری ہیلتھ کو ہٹایا گیا ہے تو میرا سوال ہے کہ وفاقی وزیرِ صحت سے بھی جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی؟ پمز کے حوالے سے ایک سال سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت کو ان شکایات کا علم تھا تو پھر ان پر بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سرکاری افسر اپنی جگہ جواب دہ ہے، لیکن سیاسی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر صاحب عوام کے ووٹوں سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر عوام کو یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ ایک سال سے سامنے آنے والی شکایات پر کیا کارروائی کی گئی؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک کسی کو سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اور میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صوبے کے ہسپتالوں پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں آج بھی بیڈز کی کمی ہے، آکسیجن کی سہولیات کئی جگہ ناکافی ہیں، لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں لفٹس خراب ہیں، مریضوں کو ایک منزل سے دوسری منزل تک منتقل کرنا اہلِ خانہ کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں MRI، X-Ray اور دیگر ضروری مشینری خراب پڑی ہے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ! چین اور جاپان کے دورے اپنی جگہ، لیکن اگر آپ خود پنجاب کے ہسپتالوں کا دورہ نہیں کر سکتیں تو اپنے ساتھ جانے والے وزراء کو ہی پاکستان میں رکھیں۔ انہیں لاہور اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کروائیں اور دیکھیں کہ عام آدمی کس صورتحال میں علاج کروانے پر مجبور ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بڑے ہسپتال میں ایک عام مریض کے لیے علاج اور پروسیجر کے انتظار کا طویل عرصہ اس نظامِ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر مریض کے پاس سفارش نہیں تو اسے علاج کے لیے دنوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی حادثے کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ پمز میں جو ہوا وہ ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں کو اس سانحے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی سہولیات، مشینری، آکسیجن، بجلی اور ایگزٹ روٹس کا فوری آڈٹ کرایا جائے، تاکہ کسی اور ماں باپ کو اپنے نومولود یا کسی عزیز کی جان اس نظام کی غفلت کی وجہ سے نہ گنوانی پڑے۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb

Ahmad Ghuman

43,583 görüntüleme • 2 ay önce