Obaid Bhatti's banner
Obaid Bhatti's profile picture

Obaid Bhatti

@Obibhatti38,444 subscribers

Independent Journalist | Past: Public News | GNN | 92NewsHD | Daily Khabrain | Social activist | Human Rights | Socio-Political commentary | RTs are RTs

Shorts

اپریل 2025 میں نریند مودی کو بھی سعودی دورے پر انہی جہازوں نے اپنی جلو اور حصار میں لے لیا تھا۔ سعودیوں نے یہ جہاز اسی کام کیلیے رکھے ہیں جن میں آپکو برادرانہ محبت، احترام کا مظاہرہ، عالم اسلام میں مقام، افواج کی کامیابیاں وغیرہ وغیرہ دکھائی دے رہی ہیں

اپریل 2025 میں نریند مودی کو بھی سعودی دورے پر انہی جہازوں نے اپنی جلو اور حصار میں لے لیا تھا۔ سعودیوں نے یہ جہاز اسی کام کیلیے رکھے ہیں جن میں آپکو برادرانہ محبت، احترام کا مظاہرہ، عالم اسلام میں مقام، افواج کی کامیابیاں وغیرہ وغیرہ دکھائی دے رہی ہیں

140,617 просмотров

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

42,678 просмотров

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بطور ذمہ دار KP حکومت اعلان کرتا ہوں دہشتگردی کےخلاف جنگ ہماری جنگ ہے، خان کا بھی یہی موقف ہے کہ کسی صورت دہشتگردوں سےسمجھوتا نہیں ہوگا جنگ ہر صورت جاری رہنی چاہیے۔ عمران خان کو ان کاروائیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بطور ذمہ دار KP حکومت اعلان کرتا ہوں دہشتگردی کےخلاف جنگ ہماری جنگ ہے، خان کا بھی یہی موقف ہے کہ کسی صورت دہشتگردوں سےسمجھوتا نہیں ہوگا جنگ ہر صورت جاری رہنی چاہیے۔ عمران خان کو ان کاروائیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے

39,845 просмотров

Videos

Obibhatti's profile picture

علی امین گنڈاپور نے تو استعفی دیتے وقت اپنے منہ سے یہ نہیں کہا ہے کہ انکو علیمہ خان نے ہٹوایا ہے۔ لیکن اب میڈیا "زرائع" کے نام سے یہ کام پورا کررہا ہے جس کو شروع انہوں نے پکی مہر لگا کر کیا تھا، بیرسٹر گوہر میڈیا کو صفائیاں دے رہے تھے، مبشر زیدی سمیت تمام دانشور اسی لائن پر چل رہے ہیں کہ علیمہ خان نے علی امین کو ہٹوا دیا یہ موروثی سیاست ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کام کی پکی بنیاد علی امین نے وی لاگ میں علیمہ خان کو ایم آئی کا ایجنٹ کہہ کر رکھی تھی، اس سے قبل شیر افضل مروت، علی محمد خان اور دیگر لوگ اس مہم کا حصہ تھے۔ اب میڈیا اور صحافی اس بات کو hammer کرتے رہیں گے، نیوز چینلز پر نشر کیا جاتا رہیگا اخبار میں چھاپا جائیگا۔ یوں بیانیہ پختہ ہو جائیگا کہ علیمہ خان سیاسی مداخلت کرتی ہیں علی امین کو ہٹوایا۔ اور اسکے ثبوت کے طور پر علی محمد خان، شیر افضل مروت کے بیانات اور علی امین کا وی لاگ پیش کیا جاتا رہیگا۔ علیمہ خان سے جن قوتوں کو پریشانی اور تکلیف تھی، انہوں نے عمران خان اور تحریک انصاف کو علیمہ خان کے معاملے پر دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیا، نتیجتا آج علیمہ خان پیغام میڈیا کو نہیں دیا کریں گی۔ اور یہی انکی سب سے بڑی برائی تھی۔

Obaid Bhatti

152,499 просмотров • 7 месяцев назад