#غیر_آئینی_ترامیم_نامنظور

آج کادن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے یادرکھاجائے گا جب میرٹ کا قتل کرکے جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقررکردیاگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #غیر_آئینی_ترامیم_نامنظور دنیا بھرمیں نظام ِانصاف کو شفاف بنانے کیلئے اصولی طورپرسنیاریٹی، اہلیت ، صلاحیت اور میرٹ کی بنیادپر لوئرکورٹ، سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں ججوں کا تقررکیاجاتاہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ججوں کی تقرری کی جاتی تھی اور سب سے سینئرجج کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کیا جاتارہاہے مگر موجود ہ حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس منصفانہ قانون کو تبدیل کردیا،'' جمہوریت'' اور'' ووٹ کو عزت دو'' کے نعرے لگانے والوں نے میرٹ اورانصاف کاقتل کرتے ہوئے26ویں آئینی ترمیم کرکے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کااختیار وزیراعظم کو سونپ دیاہے ۔ پوری دنیا کہہ رہی تھی کہ سینئر ترین جج منصورعلی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے مگر موجودہ حکومت نے بادشاہانہ انداز میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سینئر ترین اورحقدارجج کی اہلیت کوڑے دان میں پھینک دی اور سینئر ترین جج کو نظر انداز کرکے ایک جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقررکردیاہے جو میرٹ کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے یادرکھاجائے گا۔ 26، ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قراردینے ،سپریم کورٹ کی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کیلئے عوام اور وکلاء کو میدان عمل میں نکلنا ہوگااورانصاف پر مبنی نظام کے قیام کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی ۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جنہیں لوگ ایک اصول پسند جج کے طورپرجانتے تھے لیکن انہوں نے چیف جسٹس کے منصب پر فائزہونے کے بعدجوکرداراداکیاوہ افسوسناک ہے۔انہوں نے آئین کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ومنشا کےمطابق فیصلے دیے۔انہوں نے تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان ''بلا'' چھینا ،جعلی مقابلوں، ماورائےعدالت قتل ، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ظلم وناانصافیوں کے واقعات پر اپنی آنکھیں بند رکھیں ، جن وکلاء نے ان ناانصافیوں کے مقدمات کی پیروی کی انہیں اغواء کرکے غائب کردیاگیا لیکن قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی حکومت اور ریاست سے نہیں پوچھا کہ ان وکلاء کوکیوں اغواء کیاگیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر بتایاکہ فوج ،آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے ان پر من پسند فیصلے کروانے کیلئے دباؤڈالاجارہاہے،ان کے رشتے داروں کواغواء کیاجارہاہے اور ججوں کے بیڈرومزمیں خفیہ کیمرے نصب کیے جارہے ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ نے ان ججوں کی فریاد تک نہیں سنی۔جب ہائیکورٹ کے ججوں کو انصاف نہیں مل رہا تو عوام کو انصاف کیسے ملے گا؟ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج سپریم کورٹ کے احاطے میں آزادی اظہار،عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کے مونومنٹ کا افتتاح کیا ہے۔ یہ مونومنٹ نہیں بلکہ یادگاریں ہیں اور یادگار مرنے والوں کی بنائی جاتی ہے ، قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار رائے کی آزادی اورانسانی حقوق کی قبریں بناکرانہیں دفن کردیا ہے ۔ خداکرے کہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جرات اور ہمت کے ساتھ انصاف پر مبنی فیصلے کریں، کسی کے دباؤ یاخوشنودی کے لئے فیصلے ہرگزنہ کریں ورنہ سپریم کورٹ کا وجود بے معنی ہوجائے گا۔ ملک میں آمرانہ ذہنیت رکھنے والی سیاسی جماعتیں اسی لئے باربار حکومتوں میں آتی رہیں کیونکہ عوام نے ان جماعتوں کے آمرانہ اقدامات کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی لیکن اب سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور پیدا ہورہا ہے اور عوام سمجھ رہے ہیں کہ جس ملک میں میرٹ کا قتل کیاجائے گا وہاں انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام عمل میں لانا ناممکن ہوجائے گا۔ پاکستان میں چند خاندان حکومت کررہے ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) جمہوریت کی علمبردار جماعتیں ہیں لیکن قیادت کے لئے ان جماعتوں کےسینئر ترین ارکان کو یکسر نظرانداز کرکے ان جماعتوں کے سربراہان کی اولادوں کوہی آگے لایاجاتا رہا ہے اور بادشاہت کی طرح یہ سلسلہ نسل درنسل جاری ہے۔ موروثی سیاست کرنےوالےان جعلی جمہوریت پسند سیاستدانوں سے نجات کیلئے نوجوان نسل کو آگے آناچاہیے اور موروثی سیاست کے خلاف عملی جدوجہد کاآغازکرنا چاہیے۔ 1/2
Altaf Hussain10,479 Aufrufe • vor 1 Jahr
Keine weiteren Inhalte verfügbar


