Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

7 ستمبر تاریخ ساز دن یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ

10,866 просмотров • 25 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 4

Фото профиля Mujeeb Ahmad
Mujeeb Ahmad22 дней назад

جماعت اسلامی سب سے بڑی منافق پارٹی ہے جو نام اسلام کا لیتی ہے اور کرتی وہ ہے جو جنرل کہتا ہے ۔ افغان جنگ کو جہاد کہا اور پیسہ امریکہ سے لیا ۔ TTP والے جماعت اسلامی کے لوگ ہی تو ہیں جن کے مرنے پر نماز جنازہ پڑھتے ہیں

Фото профиля RealWorld
RealWorld25 дней назад

منافقت ہے سراج صاحب حضور سے محبت کرنے والوں کو سرے سے غائب کر دیا گیا ۔ ہزاروں ماؤں کے بچے لبیک یارسول اللہ کہنے والوں کی کوئی خبر تک نہیں ۔ جس عاشقِ رسول کے جنازے پر کروڑوں مسلمانوں کی آنکھیں اشکبار تھیں آپ اور آپ کی بے حس جماعت نے ان ایک مظاہرے تک نہ کیا ایوانِ بالا سے سوال ہی پوچھ لیتے کہاں ہیں وہ عاشقِ رسول بچے ۔ اس منافقت سے باہر نکلیں اگر آپ کو ان کا درد نہیں تو آپ کیسے عاشقِ رسول اپنے آپ کو کہتے ہیں ۔

Фото профиля TalkwithProof
TalkwithProof25 дней назад

کونسے والی ختم نبوت؟ سب ہی ایکدوسرے منکر ختم نبوت قرار دیتے ہیں۔ مثلاً دیوبند،شعیہ وغیرہ سب کو ہی منکر ختم نبوت قرار دیا گیا ہے۔[ملاحظہ فرمائیں۔] ’’خود ساختہ سرکاری کافر‘‘ قرار دینے والا خود اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے کی استدعائیں کرتا کرتا اِس دار فانی سے چلا گیا۔

Фото профиля Zeeshan Sultan
Zeeshan Sultan25 дней назад

سراج لالہ قادیانوں کے کافر ہونے میں تو کسی کو کوئی شک نہیں ، مگر جس ملک میں لغت میں لکھا ہر جرم ، ہر ظلم ، ہر ناانصافی سرکار کی سرپرستی میں جاری ہو اسے مسجد سے تشبیہ دینا آپ ہی کے دل گردے کا کام ہے۔

Похожие видео

سات ستمبر کو یومِ فتح سے قبل ہم چھ ستمبر کو یومِ دفاع بھی مناتے ہیں،تسلسل کے ساتھ پاکستان ایک دن چھ ستمبر اور اگلے روز سات ستمبر کا دن مناتا ہے۔ چھ ستمبر 1965 کو جب سیالکوٹ اور لاہور کی سرحدات پر انڈیا کی فوجوں نے حملہ کیا اور ہماری افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کو پسپا کیا،وہ بھی تاریخی دن تھا۔ چھ ستمبر پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور سات ستمبر 1974 کا واقعہ پاکستان کی نظریاتی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تو یہ سمجھ دینا چاہیے کہ جہاں پاکستان کو جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ضرورت ہے، وہاں پاکستان کو نظریاتی حدود کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے، اور یہ دونوں مل کر ہمیں جاننے چاہیے۔ پاکستان کے عوام پاکستان اور اسلام سے محبت کرتے ہیں، البتہ دونوں حوالوں سے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے نظریات کے حوالے سے بھی، پاکستان کا عوام اس وقت عدمِ تحفظ کے احساس سے وابستہ ہے۔ ہمیں ایک مضبوط پاکستان چاہیے اور ہمیں ایک اسلامی عادلانہ مملکت چاہیے، ایک ایسا نظامِ عدل جو انسانی حقوق کا محافظ ہے، جو قیامِ امن کا ضامن ہو، جو خوشحال معیشت کی ضمانت دیتا ہو۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

19,981 просмотров • 24 дней назад