Loading video...
Video Failed to Load
🚨 Code Blue & Code Red Protocols in Punjab’s Public Sector Hospitals To ensure timely emergency response and better patient safety, Code Blue and Code Red protocols are being implemented in public sector hospitals across Punjab. 🔵 Code Blue: Rapid response to cardiac or respiratory arrest and other life-threatening... show more
23,367 views • 7 hours ago •via X (Twitter)
10 Comments

A major step towards safer hospitals and better healthcare 👏💚 Strong emergency protocols mean faster responses, better patient safety, and lives saved. Every second counts, and every life matters. 🇵🇰🏥

@zahid_pmln Super CM

❤️👏🏻

Dear Ma’am, my cousin is poor boy from B-Nagar who urgently needs heart valve surgery and PIC has not yet given him a surgery date. His condition is serious, delay could put his life at risk.I humbly request you to please look into his case.Your support could save his life. 🙏

پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی ہسپتالوں کی سہولیات دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ ان شاء اللہ، ہمارا ملک ایک بار پھر ترقی کے سفر پر گامزن ہوگا، جیسے میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان ترقی کی راہ پر آگے بڑھا تھا۔ 🇵🇰 اللہ پاک ہمارے ملک پاکستان کو مزید ترقی، عطا فرمائے۔ آمین! 🤲

👏👏👏

عنوان چیف منسٹر صاحبہ کے کمپلینٹ سیل پر کرپشن اور سیوریج کی کمپلینٹ پر دو بھائیوں کو فائر چھ لاکھ روپیہ لوٹا ڈاکوؤں نے لوڈ پولیس افسر کے نمبر پر کروایا گزارش ہے میرے دو بھائیوں کو ٹارگٹ کلرز گینگسٹرز ہائر کر کے ڈکیٹی کروا کر فائر مروانے گئے مگر اللہ کریم کا کرم بچ گئے ڈاکوؤں نے چھ لاکھ روپیہ لوٹا جو دو بھائیوں کو فائر ایک کو پیٹ سے لگ کر نکلا جو کہ گر گیا تو دوسرے کو ایک پیٹ پر ایک بازو پر اور ایک ٹانگ پر لگا جو فریکچر ہو گئی دوسرے بھائی صفی اللہ کی پیشاب کی نالی ڈیمج اور ریڑھ کی ہڈی کو لگا ابھی تک علاج جاری ہے وقوعہ کی ایف آئی آر پولیس نے خود لکھی چھ لاکھ کی جگہ پانچ لاکھ لکھا اور مضمون ایسا بنایا کہ ڈاکوؤں کو فائدہ پہنچے ایف آئی آر 888/25 میں تین نامزد جو کہ پہلے ایسی دھمکیاں بھائی کو دے چکے تھے جن کو پولیس نے بنا انکوائری بے گناہ کر دیا کہ ہمارا اختیار ہے نجیب اللہ نے سیوریج کے پانی کی کمپلینٹ کی تو چیف منسٹر سپیشل مانیٹرنگ یونٹ نے چھ کروڑ کی گرانٹ ایشو کی کہ پانی نکالا جائے مگر وہ چھ کروڑ روپیہ کھا لیا گیا جب دوبارا کمپلینٹ سیل رابطہ ہوا تو انہوں نے چیف ضلع کونسل فدا میر کو کاروائی کی وارننگ دی فدا میر نے مظہر اور دیگر سے دھمکیاں دلوائی کہ کمپلینٹ واپس لے لیں پھر کرین لا کر دوکان کی سیڑھیاں توڑ کر رستہ اکھاڑ کر ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی بھائی نجیب اللہ اور خالہ کے بیٹے احمد کے خلاف کہ کمپلینٹ واپس لے مگر کمپلینٹ نہ واپس لینے پر اور کمپلینٹ سیل رابطہ کرنے پر چیف ضلع کونسل فدا میر سسپنڈ ہوا تو اسی رات اس نے یہ گینگسٹرز بھیج کر ڈکیٹی اور فائر مروا دیے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا چیف منسٹر کمپلینٹ سیل پر متعدد کمپلینٹ ڈی پی او فیصل شہزاد ڈی ایس پی عرفان سعید ایس پی عثمان منیر سیفی ایس پی ریجن انویسٹیگیشن رانا شہباز ایس ایس پی حسیب راجہ ڈی ایس پی رانا ندیم ڈی آئی جی طیب حفیظ چیمہ ایس ایس پی کمپلینٹ احمد محی الدین ڈی آئی جی خرم شہزاد وڑائچ سب گینگسٹرز کے ساتھی ملوث 1787 کی کمپلینٹ فیکلی کلوز ہوم ڈیپارٹمنٹ کی کمپلینٹ فیکلی کلوز چیف منسٹر کمپلینٹ سیل کی کمپلینٹ فیکلی کلوز پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ کی کمپلینٹ فیکلی کلوز پولیس کہتی ہے ہم اور کسی پو ڈال دیتے ہیں مگر اصل بندے ہمارے اپنے پالے ہیں ان کو نہیں پکڑنا بھائی صفی اللہ نے تھانہ موترہ میں گینگسٹرز پہچان بھی لیے مگر پولیس سر پرست چھوڑ دیا دو دفعہ پکڑنے کے باوجود نہ گرفتاری ڈالی نہ شناخت پریڈ پر بھیجا چھوڑ دیا مہربانی فرما کر اس کا حل کروایا جائے @MaryamNSharif @CMComplaintCell @CMITPunjab @SaimaFarooq @MaryamkoBatayn @GovtofPunjabPK @OfficialDPRPP @rpogujranwala

👍👍

زبردست ۔۔ سلامت رہیں🙌

Well done CM

