Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج ہم نے خیبر پختونخوٰا کے تمام سیاسی زعماء، رہنماؤں کو اس لیے اکٹھا کیا ہے کیونکہ سیاست سے بالاتر ہمارے لیے امن مقدم ہے۔ الحمدُ للّٰہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ خیبر پختونخوٰا کی تمام سیاسی قیادت بشمول حکومت، حزبِ اختلاف اور وہ جماعتیں جو پارلیمان...

10,924 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 görüntüleme • 6 ay önce

ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا ہے، کیونکہ اس وقت امن و امان ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث بدامنی ہے، جبکہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کی صورتِ حال بھی سب کے سامنے ہے۔ عوام محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ملک کیسے چلے گا۔ موجودہ اسمبلی میں عوام کے لیے ایک بھی قانون نہیں بنایا گیا۔ ہم نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے۔ اگر عوام آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمنٹ، مہنگائی کا خاتمہ اور خودمختار پاکستان چاہتے ہیں تو انہیں اٹھنا ہوگا۔ پاکستان ہمارا ہے، ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے۔ ہمیں پاکستانی کی حیثیت سے باعزت زندگی گزارنی ہے۔ کسی کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں ڈکٹیشن دے یا ہمارے فیصلے کرے۔ پاکستان کے فیصلے اس ملک کے عوام کریں گے۔ سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ تھا، آپ نے اسے نہیں مانا۔ وہ دن دور نہیں جب عمران خان جیل سے باہر ہوگا۔

Asad Qaiser

21,969 görüntüleme • 13 gün önce

ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے ہماری پوری تیاری شروع ہے۔ پہلے نمبر پر ہم، ان شاء اللہ تعالیٰ، حزبِ اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے میٹنگ بلا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہماری کوشش ہے کہ کسانوں، مزدوروں اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بلائیں، جو سندھ، پنجاب یا خیبر پختونخوا میں ہیں۔ اس وقت ملک میں نہ کوئی قانون ہے، نہ آئین ہے۔ ملک میں عملی طور پر قانونی حقوق اور بنیادی انسانی حقوق ختم ہو گئے ہیں، کسی کو بھی اٹھایا جا سکتا ہے، اس کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ ملک میں عدالتیں مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں، عدالتوں کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا چاہیے، چارٹر آف ڈیموکریسی اور ملک میں قانون اور آئین کی بحالی کے لیے۔ ہمارے پاس صرف ایک راستہ ہے، حکومت کو خود پتا ہے کہ وہ ناجائز طور پر حکومت میں ہے، اس کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، اسے استعفیٰ دینا چاہیے۔ ملک میں ایک ایسا الیکشن کمیشن ہونا چاہیے جو سب کو قابلِ قبول ہو، صاف شفاف انتخابات ہوں تاکہ ملک اس بحران سے بچ سکے۔ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال اور مہنگائی کی صورتِ حال، جو بھی صورتِ حال ہے، نئی پارلیمنٹ ہو، عوام کی صحیح نمائندگی ہو، پارلیمنٹ میں وہ لوگ بٹھائے جائیں جو عوام کے اصل نمائندے ہوں۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہماری انگیجمنٹ ہے، ابھی ہماری باضابطہ اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ جمہوریت، رول آف لا، آزاد عدلیہ اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے بات ہو۔

Asad Qaiser

20,946 görüntüleme • 18 gün önce

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 görüntüleme • 5 ay önce

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,083 görüntüleme • 19 gün önce

جنابِ اسپیکر! آپ کو بھی پتا ہے، سارا پاکستان جانتا ہے کہ ہمارے اور حکومت کے درمیان انتہائی سیریس ڈفرینسز (Serious Differences) ہیں۔ آپ جانتے ہیں، ہمارے سارے لوگ جانتے ہیں کہ ہم بائیکاٹ پہ تھے۔ ان سب اختلافات کو اس مومنٹ (Moment) کے لیے سسپینڈ (Suspend) رکھتے ہوئے، ہمارے ایسے خطرناک اور بیکار مطالبات بھی نہیں تھے۔ ہم حکومتِ وقت سے یہ مطالبات کر رہے تھے کہ کم سے کم عمران خان، اس ملک کا سب سے پاپولر (Popular) لیڈر ہے، وہ بیمار ہے، اس کی مرضی کے ہسپتال لیا جائے۔ دوسرا ہمارا مطالبہ تھا کہ اس پہ ملا... ملاقات پہ پابندی ہٹائی جائے۔ ہم بائیکاٹ پہ تھے لیکن چونکہ پاکستان کے عوام اور چائنیز (Chinese) دوستوں کے درمیان ایک بہت بڑی گہری دوستی ہے، ہمارے لوگ اکثر کہتے ہیں "ہمالیہ سے اونچی اور کون سی... بہرحال الکاہل سے گہری"۔ اس خوشی کے دن یا ان عظ... دوستوں کو ویلکم (Welcome) کرنے کے لیے ہم نے بائیکاٹ... ہم نے بائیکاٹ... بائیکاٹ سسپینڈ (Suspend) کیا۔ چائنیز (Chinese) ہمارے ہمسائے ہیں، چائنیز اور ہمارے درمیان بہت بڑی بہترین دوستیاں ہیں۔ ہم... میں اپنی طرف سے، اپوزیشن کی طرف سے اور ان تمام پارٹی کی طرف سے جو ہمیں سپورٹ کرتے ہیں، ہم انہیں یہاں خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کو یقین دلاتے ہیں... اور ان کو یقین دلاتے ہیں کہ انشاءاللہ پاکستان کے عوام کبھی بھی چائنیز دوستوں کے وہ احسانات نہیں بھولیں گے جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیے ہیں اور جو خطے کے متعلق ان کی جو قائدانہ رول (Role) ہے یا بین الاقوامی طور پہ جو وہ چھوٹی قوموں کے لیے وہ کر رہے ہیں، "We salute them. Welcome you all. God bless you

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,349 görüntüleme • 3 ay önce

ہمیں بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، وہاں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو توسیع دی گئی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہماری وزیرِ اعظم سے بات ہوئی، پھر وزیرِ خزانہ سے ہماری بات ہوئی، جن کے ساتھ رانا ثناء اللہ بھی تھے۔ بات ہوئی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم یہ ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ دوسرا، تمباکو پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، لیکن دونوں چیزیں انہوں نے مسترد کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ این ایف سی میں ہمارے حصے کا مسئلہ ہے، جو ہمیں نہیں مل رہا۔ وفاق کے ذمے ہمارے 434 ارب روپے کے فنڈز ہیں، جو نہیں دیے جا رہے۔ ضم شدہ اضلاع کے بارے میں جو کمٹمنٹ کی گئی تھی، وہ بھی پوری نہیں کی جا رہی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کے فلور پر ہم نے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ ان شاء اللہ ہم ہر موقع پر اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

Asad Qaiser

12,024 görüntüleme • 2 ay önce

بلوچستان اور خیبر میں ہم کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ایک پالیسی کے تحت ایک دفاعی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ‌۔۔۔ جبکہ پوری دنیا سے دہشت گردوں کی قیادت اور سپلائی لائن محفوظ ہے ‌۔‌ ہم زمین پر ان کے چند کتے مار بھی دیتے ہیں تو اس تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پاس مزید ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی سپلائی لائن افغانستان بھارت متحدہ عرب امارات، ایران اور اسرائیل کے ذریعے کھلی ہوئی ہے۔۔۔ ان کی قیادت یورپ میں محفوظ ہے۔ ہم کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دشمن پر ضرب لگانی ہوگی۔۔ ہم افغانستان میں جا کر چھوٹی موٹی بمباری کر دیتے ہیں مگر کام مکمل نہیں کرتے۔ لندن میں اور یورپ میں ان دہشت گردوں کی پوری قیادت کھل کر اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔۔۔ ہم ان کو واپس کیوں نہیں لا سکے؟ کوئی سرکاری طور پر مطالبہ بھی نہیں کیا گیا برطانیہ سے اور سوٹزرلینڈ سے کہ اس قیادت کو ہمارے حوالے کیا جائے ‌۔۔ ہم نے بھارت کے اندر ابھی تک کیوں نہیں جواب دیا؟ خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی تحریک ازادی کو کیوں نہیں بھڑکایا؟ افغان طالبان کی قیادت کو ابھی تک قتل کیوں نہیں کیا؟ افغان طالبان کے مخالف دھڑوں کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟ ان کو بلائیں اسلام اباد میں ان سے کہیں اپنا دفتر کھولو ہم کھل کر تمہاری مدد کریں گے۔۔ طالبان کو تو ویسے بھی دنیا میں کوئی پسند نہیں کرتا۔۔‌ ہم کلبوشن یادیو کو ابھی تک پنجرے میں بند کر کر چھپا کر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن کا اتنا بڑا مہرہ ہماری قید میں ہے اس کو ہم پوری دنیا کے سامنے تماشہ کیوں نہیں بناتے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے؟ نہ ہم ابلاغی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم عسکری جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم سیاسی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں ‌۔۔ نہ کوئی ہمارا مرکزی لیڈر ہے جو سامنے ا کر ان دہشت گردوں کو جواب دے اور قومی بیانیہ بنائے۔۔۔ جبکہ فضلو جیسے حرام خور مسلسل ریاست اور فوج پر حملے کر رہے ہیں۔۔۔ اس جنگ میں اگر ہمارا نقصان ہو رہا ہے تو اپنی نااہلی کوتاہی غفلت اور خیانت کی وجہ سے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ دشمن بہت ہوشیار ہے۔۔ اس لیے کہ اپنی صفوں میں غداری اور خیانت ہے۔ کوئی سیاستدان ذمہ داری لینا نہیں چاہتا مگر ملک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔۔ کیا زرداری نواز شریف یا کسی اور بڑے سیاستدان نے بی ایل اے اور جہنم کے کتوں کے خلاف سٹینڈ لیا؟ صرف ریاست اور فوج کو گالی دیں گے کہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ان جہنم کے کتوں اور دہشت گردوں کو معاف کر دیں اور ان کے خلاف اپریشن بن کر دیں۔ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہمیں جارحانہ انداز میں اگے بڑھ کر ہما جہتی پالسی بنانی ہوگی جیسا ہم بتا رہے ہیں ‌۔ بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہم کو ایک ہی غلطی دہراتے ہوئے اور یہ توقع کرتے ہوئے کہ نتیجہ اپ کی دفعہ مختلف نکلے گا۔۔۔ اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔ صرف اس سال کے چھ مہینوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔۔ اب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔ مصلحت کا وقت نہیں ہے۔۔ زمین پر کتوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اپ کو بہت اوپر سے شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ ان کے سیاسی سہولت کار ان کے میڈیا میں سہولت کار ان کے مولویوں میں سہولت کار ان کے عالمی دہشت گرد ریاستوں میں سہولت کار۔۔۔ ان سب کو تو ہم نے ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب تک۔۔۔ صرف روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور لگتا ہے جیسے سب اس پر راضی ہیں۔۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں شہید ہو گئے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔۔۔ جمہوریت تو چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے پیٹ تو بھر رہے ہیں۔۔۔ فضلو کو بھونکنے کی اجازت ہے۔۔اس کا مطلب ہے سب اچھا ہے۔ ☹️

اللہ کے بندے۔۔۔

15,381 görüntüleme • 1 ay önce