Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اس جنگ کو ٹرمپ کی ہار سمجھا جاے یا امریکی صدر کا ماسٹر سٹروک کیا پتا ہار کر بھی ٹرمپ وہ سب چیز طے کر رہا ہے جو شاید وہ جیت کر بھی حاصل نا کر سکے نہ ہی امریکہ اتنا کمزور ہے کہ آبنائے ہرمز نہ کھلوا سکے...

230,198 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,131 views • 4 months ago

میں ٹرمپ انتظامیہ کی ان کیمیرابریفنگ سے نکلا ہوں جہاں بند دروازوں کے پیچھے بھی وہی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے شوق کی جنگ میں پڑ تو گیا ہے لیکن آگے اس کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ اسکا دعوی ہے کہ حملہ اسلئے کیاکہ ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا ۔ یہ جھوٹ ہے! اگر ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا تو پچھلے سال ٹرمپ نے یہ دعوی کیوں کیا کہ اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام Obliterate کر دیا ہے؟ ٹرمپ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے امریکی قوم سے پرائی جنگوں میں نہ پڑنے کا وعدہ کیوں توڑا؟ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے خامنائی کو قتل کر کے ایران کو آزاد کر دیا لیکن سی آئی اے کی رپورٹ ہے کہ خامنائی کے بعد ایران اور زیادہ radical ہو جائے گا۔اصل میں وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو 40سال سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور اسے چالیس سالوں میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل صدر نہیں ملا تھا جو امریکہ کو پرائی جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ اب اسے ٹرمپ کی صورت میں مل گیا ہے۔ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس جنگ کی End Gameکیا ہو گی۔امریکی سینیٹر نے ٹرمپ کی آتما رول دی

Harmeet Singh

12,373 views • 6 months ago

آج یہودیوں کے ابو ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی ماس نے تقریر کی اور اس میں اس نے اسلامی ایٹمی طاقت کے خاتمے کا ذکر کیا۔ ▪️واحد اسلامی ایٹمی طاقت کون ہے اور اس کا محافظ کون ہے؟ یقینا پاکستان اور اس کی افواج ▪️یہودیوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہمیشہ سے نہ تو عرب سے کبھی خطرہ ہوا نہ ہی ایران سے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 1948 میں کہا تھا “ہمیں عربوں سے نہیں بلکہ پاکستان سے خطرہ ہے”۔ انہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی ان پر چڑھائی ہوئی تو وہ پاک فوج ہی ہو گی۔ اسی لیے تو ان کا ہمیشہ نشانہ پاک فوج رہی۔ یہ جانتے ہیں کے پاکستان کو صرف ایک طاقت نے جوڑے رکھا ہے اور وہ ہے پاک فوج۔ ▪️مہاتما عمران ان کا ترپ کا پتہ ہے، اسی لیے تو یہ ٹرمپ کو ابو بنا کر اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ابو آئیں گے اور ہمیں بچائیں گے۔ مہاتما اور اس کے حواریوں کا نشانہ بھی صرف پاک فوج ہے۔ ▪️لیکن یہ جانتے نہیں کہ یہ محمدی فوج ہے اور اس کا رکھوالا اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہ لاکھ مکر کر لیں چالیں چل لیں انشاللہ ان کا ہر مکر اور ہر چال ان کے منہ پر دے ماری جائے گی

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

53,523 views • 2 years ago

اللہ اکبر اور الحمدللہ کے نعروں کے ساتھ شہرعزیمت میں جنگ بندی معاہدے کا استقبال کیا گیا! شہر عزیمت اس معاہدے کو اپنی کامیابی بھی سمجھتا ہے، تحریک کی بھی، جیالوں کی بھی، اور جدوجہد کی بھی! اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ جیالوں نے اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ہی شرائط تسلیم کرالیں؛ - مستقل جنگ بندی - دشمن کا مکمل انخلاء - قیدیوں کی مطلوبہ واپسی - عالمی ضمانت - تحریک کی حفاظت چنانچہ یہ نہ تو وہ معاہدہ ہے جو ٹرمپ نے پیش کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر غاصب نے حامی بھری تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر خلیجی ریاستوں نے اتفاق کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس میں تحریک کے خاتمے کی یقین دہانی تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جو شہر عزیمت پر ٹونی بلیئر کو تھوپتا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے خلیجی افواج کے راستے غاصب کے مقاصد پورے ہوتے تھے، بلکہ، یہ وہ معاہدہ ہے جس پر جیالوں نے دستخط کیے ہیں اور جس کا اعلان جیالوں کی حامی بھرنے کے بعد ہی ممکن ہوسکا ہے! یاد رکھیں! جیالوں نے بہت پہلے کہا تھا؛ ہماری مرضی کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرسکوگے! ایک قیدی بھی نہیں! آج کا معاہدہ جیالوں کے آہنی عزائم کی کھل کر گواہی دے رہا ہے! اللہم ثبت اقدامہم، اللہم انصرھم علی اعدائم، اللہم کن لھم عونا ونصیرا! آمین یا رب العالمین

اللہ کے بندے۔۔۔

23,428 views • 10 months ago