Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

امریکہ اس وقت دنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم وہاں پیدا ہونے والا تیل زیادہ گاڑھا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس وینزویلا میں پایا جانے والا تیل نہایت گاڑھا ہے۔ جب اس تیل کو ریفائن کیا جاتا ہے تو اس سے ڈیزل، انجن...

58,249 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,131 просмотров • 4 месяцев назад