Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

❗ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا میں دو فیصلے ہونے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی پاسپورٹ کے خاتمے کے ساتھ ہی فلسطین کا نیا پاسپورٹ سامنے آئے گا جس پر واضح لکھا ہوگا "یہ انڈیا کے سوا پوری دنیا کے لیے کارآمد ہے" مودی نے جس پروجیکٹ کےلیےمعصوموں کا...

11,150 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,641 views • 3 years ago

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کرکے امریکی صدر کو خط لکھا تھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے لیکن نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے موقف کی نفی ہے،اگر امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کی حمایت میں کھلم کھلا بیان دے سکتا ہے تو کیا ہم فلسطین کی حمایت کا حق نہیں رکھتے،امریکہ اور برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے کر آگئے ہیں، یہ لوگ حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے بلکہ براہ راست بلا تفریق غزہ شہر پر حملے کئے جا رہے ہیں،ہسپتالوں اور سکولوں پر حملے کر رہے ہیں،اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، وہ جنگی مجرم ہے، اسرائیل اور ان کے آقاؤں کے جمہوری دعوے جھوٹے اور مکاری کے لئے ہیں، دوسری جانب مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ہم ان کے شکر گذار ہیں،لیکن اجلاس میں حماس کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نا مکمل ہے، اسلامی برادر ممالک فلسطین کے ساتھ عسکری تعاون کریں اور یہ فیصلہ بھی او آئی سی اپنے اجلاس میں کرے، جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے،ہمارا موقف الیکشن کے بعد یہی ہوگا جو اب ہے, فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطینیوں کا رہے گا اس لئے قضیہ فلسطین پر فلسطینیوں سے براہ راست بات چیت کی جائے۔ جے یو آئی نے پشاور،کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے،جس پر انڈیا کی میڈیا کو بڑی تکلیف ہوئی کہ جیسے ہم نے ان پر حملہ کیا ہے،انڈین میڈیا پھر گاندھی کی جدوجھد آزادی کے بارے میں کاوشوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہے،تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ مسجد اقصی ہمارا قبلہ اوّل ہے سب مسلمانوں پر اس کا حق ہے،اگر اسلامی دنیا بابری مسجد پر متحد ہوسکتی ہے تو مسجد اقصی پر کیوں متحد نہیں ہوسکتی؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

166,009 views • 2 years ago