Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسد طور کا جھوٹ پھر سے پکڑا گیا! ⚠️⚠️ یوتھیا قوم کے دماغ یہی جھوٹ سن کر خراب ہوتے ہیں۔ جنرل عامر رضا آٹھویں نمبر سے نہیں آئے بلکہ سینئیر ترین جرنیل ہیں۔ یہ نام نہاد سستے صحافی وکی پیڈیا سے معلومات اٹھا کر جھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ جنرل...

21,109 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 Aufrufe • vor 9 Monaten

,🛑تیجوانا، میکسیکو میں خلا سے زمینی کرۂ ہوا میں داخل ہوتے ہوئے میٹیور کا حیرت انگیز منظر ریکارڈ کر لیا گیا! 😮 میٹیور وہ اجرام فلکی ہیں جو دومکیت، کشودرگرہ یا میٹیورائڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔یہ دراصل چھوٹے خلائی ذرے زمینی ماحول سے گزرنے کے دوران قائم رہتے ہیں اور کبھی کبھی زمینی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔یہ پتھر کے ٹکڑے کشودرگرہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ عام طور پر چند ملی میٹر سے میٹر کے سائز کے ہوتے ہیں۔ زمین کی سطح کی طرف سفر کرنے والے میٹیو رائٹ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک میٹیورائیڈ جو بیرونی خلا میں چھوٹا چٹان یا دھاتی جسم ہوتا ہے تیز رفتاری سے زمین کے ماحول میں داخل ہوتا ہے اور ماحول کے ساتھ رگڑ کے نتیجے میں اتنی حرارت پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ گرم ہوتے جاتا ہے اور کرۂ ہوائی سے ٹکرانے کے بعد اسی دوران روشنی خارج کرتا ہے جس کے نتیجے میں روشنی کی لکیر پیدا ہوتی ہے جسے میٹیور یا شوٹنگ اسٹار کا نام دیا گیا ہے۔زیادہ تر خلائی پتھر زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں جل جاتے ہیں تاہم اگر ایک میٹیورائیڈ کافی بڑا ہے اور اس سفر کے دوران مکمل طور پر ٹوٹ نہیں جاتا ہے تو یہ زمین کی سطح کو متاثر کر سکتا ہے جس کے ماضی میں کئی واقعات موجود ہیں تو انہیں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔

WeatherWalay

31,531 Aufrufe • vor 2 Jahren

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 Aufrufe • vor 4 Monaten

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

62,894 Aufrufe • vor 1 Monat

پراپوگنڈہ اور جھوٹ مت پھیلائیں، بہت ہی تکلیف دہ چیز کوئی بھی تھوڑا سا بھی دل رکھنے والا تکلیف محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا اللہ پاک اس بچے کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائیں، آمین۔۔ بچے کے باپ کے پاس فتنہ خان نیازی کو ٹکٹ کی رشوت دینے کے لئے ایک کروڑ روپیہ تھا۔ لیکن شوکت خانم ہسپتال میں بچے کی پیدائشی بیماری کے علاج کے لیے ٹکا نہیں تھا؟ اب آتے ہیں آگے جو پروپوگنڈہ کیا جا رہا ہے عباد فارقق کو 9 مئی کے واقعات کا سہارا لے کر پولیس یا اداروں نے جان بوجھ کے اٹھایا ہوا ہے تو ایسا کہنا بلکل غط ہے میں 9 مئی کی 2 ویڈیو اسی پوسٹ پر اپلوڈ کی ہیں جس میں عباد فاروق تور پھوڑ جلاو گھراو کرتا صاف نظر ا رہا ہے اپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں، مطلب کے اسے اداروں نے یا پولیس نے جرم کرنے کے تناظر میں اریسٹ کر رکھا کے نا کے پریس کانفرنس کے لئے اس کی پریس کانفرنس کی کیا اہمیت یہ صرف ٹکٹ ہولڈر ہے نا کے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے۔۔ اب آگے آتے ہیں کے بچہ اتنا بیمار تھا والد کو یاد کرتا تھا تو ملنے نہیں دیا گیا پہلے نمبر پر تو یہ بات سرا سر جھوٹ ہے، عباد فاروق کی 2 بار اس کے بیٹے سے ہاسپٹل میں ملاقات کروائی گئی اس کا ثبوت ساتھ اٹیچ کر رہا ہوں پوسٹ پر تو بات کا مقصد یہ ہے کے خدارا لاشوں پر سیاست نہیں کریں گندے مقصد کے لئے مت استعمال کریں، پہلے ارشد شریف پر سیاست کی پھر ظلے شاہ کی لاش پر اور اب عباد فاروق کے بیٹے پر خدارا گریز کریں ان حرکتوں سے کیا ملے گا پراپوگنڈہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہونا ہاں لیکن مرنے والوں کے گھر والوں کو ضرور تکلیف ہوتی کیوں ان کی تکلیف کی وجہ بنتے ہو جھوٹ بول کر ؟

چوہدری شاہد محمود

115,408 Aufrufe • vor 3 Jahren

شیر پنجشیر احمد شاہ مسعود کا بہادر خون یہ احمد مسعود ، جس نے روس کو پنجشیر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا اور طالبان کے پہلے دور حکومت میں اس نے طالبان کو روکے رکھا تھا پنجشیر میں آنے سے، پھر طالبان نے القاعدہ کو استعمال کرتے ہوئے ٹی وی رپورٹر کے بھیس میں صحافی بھیجے جنہوں نے کیمرے کے اندر بم چھپایا ہوا تھا جس کے پھٹنے سے احمد شاہ مسعود شہید ہوئے اور اس سے اگلے روز طالبان نے القاعدہ کی مدد سے نائین الیون کردیا جس سے امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی ، یہ فارسی بول رہا ھے کتنی نرم اور پیاری زبان ھے ہماری اردو میں ستر فیصد الفاظ فارسی سے آئے ہیں ہماری برصغیر کی سرکاری زبان فارسی رہی ھے ہمیں ان فارسی بولنے والے مسلمان بھائیوں کے حق میں آواز اٹھانا چاہئے جو افغانستان میں اکثریت ہونے کے باوجود اقلیتی طالبان کے ظلم وستم کا شکار ہیں ایک دن یہ ظلم کا سورج غروب ہوگا اور یہ اپنے وطن میں آزادی کی زندگی جی سکیں گے انشااللہ

Aamir Hussain

12,333 Aufrufe • vor 10 Monaten

جناب اعلی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ملاقات کروائے ۔ قوم کے نام ۔مسٹر خان کی جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ۔ہم تصدیق کرتے ہیں پہلی خبر ان کا بلڈ پریشر ہائی ہے جھوٹ ہے ۔ مسٹر خان کی موت کی خبر پھیلائی گی جھوٹ ہے ۔ مسٹر خان کی چار بار ملاقات کسی سے کرائی گی جھوٹ ہے ۔صرف ایک بار ہوئی ۔ مسٹر خان کو تین بار ہسپتال لے کرجایا گیا جھوٹ ہے ۔ہسپتال کی ٹیم ہی جیل لائی گی تھی ۔باہر صرف خالی وین آنے جانے کا سکرپٹ چلایا گیا ۔ مسٹر خان کے بارے میں جب بھی انتہائی بری اللہ نہ کرے ہوئے پہلے بتایا جائے گا۔ کسی بھی اسلامی ملک نے مسٹر خان کے رہائی کی کوشش نہ کی نہ ضمانت دی گی ۔ کسی بھی یورپی ملک نےاپنی اپنی پارلیمنٹ میں مسٹر خان پر بات تو کی لیکن کسی نے رہائی کی کوشش نہیں کی ۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ہمارے ادارے نے مل کرمسٹر خان کو اسرائیل کو بیچا ہے اور اس میں امریکہ کے ادارے کی گارنٹی ہے ۔عالمی حالات پہلے سے مختلف ہیں پوری قوم کو مسٹر خان کی رہائی اور علاج کے لیے خود سے کچھ کرنا ہوگا کیونکہ ساری پارٹی قیادت ادارے کی ہے ۔ آپ سب کو اپنی لڑائی چھور ت مل کر متحد ہو کر ایک ہو کر نکلنا ہوگا ۔ورنہ مسٹر خان طبعی موت تک جیل میں رہیں گے اگر آپ متحد نہیں ہوئے تو ادارے کے ساتھآپ سب بھی زمہ دار ہوں گے اللہ پاکستان کی قوم پرسختیاں دور کرے آمین ۔🪐🥷🏽🪐🥷🏽🪐🥷🏽📷📷📷🪐🥷🏽🥷🏽🪐🥷🏽🪐🪐🪐🪐🪐🥷🏽🥷🏽🥷🏽۵۷۵۷/۷۸🥷🏽🪐🥷🏽🪐۶۸۷۵🥷🏽🪐۷۹۸/۶۷🥷🏽🥷🏽🥷🏽🥷🏽🥷🏽🥷🏽✍️🪐📷🛑🪐

SAGA in Field

18,274 Aufrufe • vor 1 Monat

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 Aufrufe • vor 1 Jahr