Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسد طور کا جھوٹ پھر سے پکڑا گیا! ⚠️⚠️ یوتھیا قوم کے دماغ یہی جھوٹ سن کر خراب ہوتے ہیں۔ جنرل عامر رضا آٹھویں نمبر سے نہیں آئے بلکہ سینئیر ترین جرنیل ہیں۔ یہ نام نہاد سستے صحافی وکی پیڈیا سے معلومات اٹھا کر جھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ جنرل...

21,109 Aufrufe • vor 18 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 Aufrufe • vor 7 Monaten

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 Aufrufe • vor 3 Monaten

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 Aufrufe • vor 8 Monaten

“یہ مناظر دیکھئے…” کچھ سیاح ایک وین میں خوشی سے جھوم رہے ہیں، ڈرائیور کو مذاق میں مار رہے ہیں، شور شرابہ، قہقہے، ناچ، مستی… لیکن کیا کوئی سوچ رہا ہے کہ یہ سب کہاں ہو رہا ہے؟ یہ کوئی میلہ نہیں، یہ گلگت بلتستان کی تنگ، پیچیدہ اور جان لیوا وادیاں ہیں، جہاں ایک لمحہ کی بے احتیاطی پورے قافلے کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ ڈرائیور جو سب کی جانوں کا ذمہ دار ہے، اس کے ساتھ مذاق، اس کی توجہ ہٹانا، اسے اپنی جگہ سے ہلانا — یہ تفریح نہیں، غفلت کا وہ کھیل ہے جس کی قیمت زندگی سے چکانی پڑ سکتی ہے۔ جب حادثہ ہو گا… جب لاشیں ہوں گی… جب وادیوں میں سائرن گونجیں گے اور کفن بچھیں گے… تب الزام دیا جائے گا حکومت کو، علاقے کے لوگوں کو، انتظامیہ کو۔ لیکن کیا کوئی یہ پوچھے گا کہ انجان زمین پر آئے مہمان نے اپنی ذمہ داری کو کہاں دفن کر دیا تھا؟ سیاحت خوشی کا ذریعہ ہے، لیکن جب یہ خوشی پاگل پن میں بدل جائے تو وہ صرف تباہی لاتی ہے۔ گلگت بلتستان آپ کو خوش آمدید کہتا ہے… لیکن زندگی کی قیمت پر نہیں۔ خدارا، ہوش سے، شعور سے، احساس کے ساتھ سفر کریں

Gilgit Baltistan Tourism.

25,314 Aufrufe • vor 1 Jahr

پراپوگنڈہ اور جھوٹ مت پھیلائیں، بہت ہی تکلیف دہ چیز کوئی بھی تھوڑا سا بھی دل رکھنے والا تکلیف محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا اللہ پاک اس بچے کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائیں، آمین۔۔ بچے کے باپ کے پاس فتنہ خان نیازی کو ٹکٹ کی رشوت دینے کے لئے ایک کروڑ روپیہ تھا۔ لیکن شوکت خانم ہسپتال میں بچے کی پیدائشی بیماری کے علاج کے لیے ٹکا نہیں تھا؟ اب آتے ہیں آگے جو پروپوگنڈہ کیا جا رہا ہے عباد فارقق کو 9 مئی کے واقعات کا سہارا لے کر پولیس یا اداروں نے جان بوجھ کے اٹھایا ہوا ہے تو ایسا کہنا بلکل غط ہے میں 9 مئی کی 2 ویڈیو اسی پوسٹ پر اپلوڈ کی ہیں جس میں عباد فاروق تور پھوڑ جلاو گھراو کرتا صاف نظر ا رہا ہے اپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں، مطلب کے اسے اداروں نے یا پولیس نے جرم کرنے کے تناظر میں اریسٹ کر رکھا کے نا کے پریس کانفرنس کے لئے اس کی پریس کانفرنس کی کیا اہمیت یہ صرف ٹکٹ ہولڈر ہے نا کے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے۔۔ اب آگے آتے ہیں کے بچہ اتنا بیمار تھا والد کو یاد کرتا تھا تو ملنے نہیں دیا گیا پہلے نمبر پر تو یہ بات سرا سر جھوٹ ہے، عباد فاروق کی 2 بار اس کے بیٹے سے ہاسپٹل میں ملاقات کروائی گئی اس کا ثبوت ساتھ اٹیچ کر رہا ہوں پوسٹ پر تو بات کا مقصد یہ ہے کے خدارا لاشوں پر سیاست نہیں کریں گندے مقصد کے لئے مت استعمال کریں، پہلے ارشد شریف پر سیاست کی پھر ظلے شاہ کی لاش پر اور اب عباد فاروق کے بیٹے پر خدارا گریز کریں ان حرکتوں سے کیا ملے گا پراپوگنڈہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہونا ہاں لیکن مرنے والوں کے گھر والوں کو ضرور تکلیف ہوتی کیوں ان کی تکلیف کی وجہ بنتے ہو جھوٹ بول کر ؟

چوہدری شاہد محمود

115,400 Aufrufe • vor 2 Jahren

شیر پنجشیر احمد شاہ مسعود کا بہادر خون یہ احمد مسعود ، جس نے روس کو پنجشیر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا اور طالبان کے پہلے دور حکومت میں اس نے طالبان کو روکے رکھا تھا پنجشیر میں آنے سے، پھر طالبان نے القاعدہ کو استعمال کرتے ہوئے ٹی وی رپورٹر کے بھیس میں صحافی بھیجے جنہوں نے کیمرے کے اندر بم چھپایا ہوا تھا جس کے پھٹنے سے احمد شاہ مسعود شہید ہوئے اور اس سے اگلے روز طالبان نے القاعدہ کی مدد سے نائین الیون کردیا جس سے امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی ، یہ فارسی بول رہا ھے کتنی نرم اور پیاری زبان ھے ہماری اردو میں ستر فیصد الفاظ فارسی سے آئے ہیں ہماری برصغیر کی سرکاری زبان فارسی رہی ھے ہمیں ان فارسی بولنے والے مسلمان بھائیوں کے حق میں آواز اٹھانا چاہئے جو افغانستان میں اکثریت ہونے کے باوجود اقلیتی طالبان کے ظلم وستم کا شکار ہیں ایک دن یہ ظلم کا سورج غروب ہوگا اور یہ اپنے وطن میں آزادی کی زندگی جی سکیں گے انشااللہ

Aamir Hussain

12,333 Aufrufe • vor 8 Monaten

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 Aufrufe • vor 11 Monaten

کولیٹرل ڈیمیجز پر سیاست چمکانے اور چند فالوورز بڑھانے والے حضرات سے ایک سادہ سی گزارش ہے👇 کیا آپ نے کبھی ان درندوں کے خلاف آواز اٹھائی جو آپریشن کے وقت شہریوں کے گھروں اور مساجد کو ڈھال بنا لیتے ہیں؟ فوج کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس گھر میں کون چھپا ہے، کس کمرے میں کون بیٹھا ہے۔ لیکن جب کوئی خبیث مسجد یا گھر کو آڑ بنا لے تو پاک فوج کسی بھی کارروائی سے پہلے سو بار نہیں، سینکڑوں بار سوچتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایک بھی بے گناہ شہری کی جان خطرے میں آ جائے تو فوج جانتے بوجھتے ہوئے ان حیوانوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں: “طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟” اس کا جواب سیدھا ہے: جس دن یہ خوارج عوامی گھروں اور اجتماعات کو ڈھال بنانا چھوڑ دیں گے، اسی دن سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نہیں، سینکڑوں خوارج جہنم واصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں کے بیچوں بیچ چھپ کر آسانی سے فائر کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی آمنے سامنے کا وقت آتا ہے تو یہ دہشتگرد “شیر” سے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور زندگی کی بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ 📍نیچے دیا گیا کلپ تیرا میدان (ضلع خیبر) کا ہے، جہاں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائی کے وقت یہی خوارج شہری گھروں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یہ ہے ان کی اصل حالت ؛ بزدل اور دھوکے باز۔

War Analyst

28,217 Aufrufe • vor 10 Monaten

"یہ دماغ ہیں ' کپاس یا سوتر نہی " ذہین دماغوں کو جب آپ "کپاس' پنک سالٹ اور سوتر" سمجھ کر باہر ایکسپورٹ کرنے میں فخر محسوس کریں گے تو پھر پیچھے ایسے بچے کچھے دماغ ہی دیکھنے کو ملیں گے جو باقی دماغوں پر حکومت کریں گے ' اس برین ڈرین کے گوبر کو بھی گجریلا ثابت کریں گے اور اس پر فخر محسوس کریں گے - ویسے تو ان کا لٹریچر اور ریسرچ سے کوئی لینا دینا نہی پر پھر بھی ریفرینس کیلئے میں "برین گین " کی آفیشل ڈیفینیشن یہاں تصویر میں لگا رہا ہوں -پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ذہین دماغوں کو " ایکسپورٹ " اور ان کے ملک سے جانے کی وجہ سے ہونے والے "برین ڈرین" کو "برین گین" کہا جاتا ہے - دنیا کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں ' آپ کو "برین ڈرین" کی یہ ڈیفینیشن اور کہی نہی ملے گی بلکہ ہر جگہ یہ لکھا ملے گا کہ "جس ملک سے لوگ جاتے ہیں وہاں "برین ڈرین " ہوتا ہے اور جس ملک کی طرف وہ جاتے ہیں وہاں " برین گین " ہوتا ہے - لیکن چونکہ آرمی چیف صاحب ملک کے اس برین ڈرین کو "برین گین " کہ چکے ہیں سو اب کتاب میں "بلغم " بھی لکھا ہو تو یہ ذہنی غلام اس کو "جیلی " اور مقیت شہد " ثابت کرتے رہیں گے - ملک سے ذہین دماغوں کی اس ایکسپورٹ میں پاکستان ویسے ہی بہت خود کفیل ہو چکا ہے کیوں یہ پچھلے تین سال میں ہماری سب سے بڑی تجارت ہے کیوں کہ ان سالوں میں اس ملک سے سالانہ آٹھ لاکھ لوگ باہر "ایکسپورٹ " ہویے ہیں جو پچھلے ستر سالوں کی شرح کے مقابلے میں آٹھ گنا ہے - یہ لمحۂ فکریہ نہی بلکہ لمحۂ جہالت ' لمحۂ ذلالت ہے -

Dr Waqas Nawaz

40,326 Aufrufe • vor 6 Monaten

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,548 Aufrufe • vor 4 Monaten