Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنایا جا سکتا ہے! آج اسکی عملی مثال دیکھیں۔ عمران نیازی جب کشمیر بیچ کر آیا تو کشمیر کے جھنڈے کو بھی برداشت نہیں کرتا تھا لیکن ووٹ کی بھیک مانگنے کا وقت...

29,503 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جے کے ایل ایف کا امان کہتا ہے تمہارے پاس صرف ایک آپشن ہے ہمارے قدموں میں سرنڈر کرو۔ پھر کہتا ہے "وطن یا کفن"۔ سرنڈر کی بات پھر کسی دن رکھ چھوڑتے ہیں آج "وطن یا کفن" پر بات کر لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو 24 اکتوبر 1947 کو آزادی ملی جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو لیکر آپس میں پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن پاکستان نے آج تک بھارت کو آزاد کشمیر کا ایک انچ نہیں لینے دیا۔ آج حیرانگی اس بات کی ہے کہ "وطن یا کفن" کی باتیں وہ کر رہے جن کا جدوجہد آزادیِ جموں و کشمیر سے چٹکی بھر سندور جتنا تعلق بھی نہیں۔ پاکستان تو اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج بھی کار بند ہے کہ خطہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق ہو گا۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ اور آزاد کشمیر کے 22 لاکھ کشمیری خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی انکار نہیں بلکہ پاکستان نے تو اسی لئے آج تک آزاد کشمیر کی حیثیت الگ ریاست کے طور پر برقرار رکھی ہوئی ہے جس کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی اسمبلی، اپنی کابینہ اپنی ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ہے۔ لیکن کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف JKLF کے سرخے کریں گے؟ کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کریں گے؟ نہیں جناب یہ فیصلہ ڈیڑھ کروڑ آبادی والا مقبوضہ کشمیر بھی کرے گا جو بقول کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور JKLF سرخے مہاجر ہیں اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر JKLF کے سرخوں کو اتنا ہی زور سے "وطن یا کفن" آیا ہوا ہے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر وہاں "وطن یا کفن" خود مختار کشمیر کا راگ کیوں نہیں الاپتے؟ کیونکہ جب تک مقبوضہ کشمیر نہیں چاہے گا تب تک تو JKLF کے سرخے ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھوں کے بل بھی چلنا شروع کر دیں تب بھی آزاد کشمیر کی خود مختار وطن کے نام کی باگ ڈور تو انکے ہاتھوں نہیں تھمائی جا سکتی۔ ہاں مجھے اتنا ضرور یقین ہے کہ JKLF کے سرخے اس خود مختار چورن کو لیکر مقبوضہ کشمیر میں جا کر "وطن یا کفن" کی آواز لگائیں تو "کفن" ضرور ملے گا یا وہ بھی پتہ نہیں نصیب ہوگا یا نہیں۔

Political Prism

14,113 Aufrufe • vor 2 Monaten

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 Aufrufe • vor 8 Monaten

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث کا میلہ لوٹ لیا، مدلل اور پر مغز خطاب کے دوران قومی اسمبلی ہال اور گیلریوں میں سکوت طاری۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے خطاب نے نہ صرف بجٹ بحث کا رخ تبدیل کر دیا بلکہ آزاد کشمیر، کشمیر کاز، مہاجرین کی نمائندگی اور پارلیمانی اصلاحات جیسے اہم موضوعات کو قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا۔ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے! چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے تو اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

Afzal Butt

19,147 Aufrufe • vor 2 Monaten

میرے کشمیری بہن بھائیوں کے نام اہم پیغام... آزاد کشمیر کا الیکشن صرف ایک ووٹ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل، اپنے علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کریں۔جن لوگوں نے کئی دہائیوں تک آپ سے وعدے کیے، ان سے ضرور سوال کریں کہ اگر وہ محرومیاں ختم کر سکتے تھے تو آج بھی آزاد کشمیر ترقی کے سفر میں پیچھے کیوں ہے؟ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے استحکام پاکستان پارٹی پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر میں ترقی، شفاف حکمرانی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ سیاحت کے فروغ، جدید انفراسٹرکچر، روزگار کے نئے مواقع، بہتر تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آزاد کشمیر کو بے مثال قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کے اس خوبصورت ترین علاقے کو جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تاکہ عوام کی محرومیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ فیصلہ آپ کا ہے، لیکن ووٹ ہمیشہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دیں۔ #AzaadKashmirIPPKa #آزاد_کشمیر_عقاب_کا

Abdul Aleem Khan

213,889 Aufrufe • vor 1 Monat

کشمیر کے عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ منصفانہ انتخابات ہونے دیں، جس کا ووٹ نکلے اسی کی حکومت بننے دیں۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے اور یہی کشمیری عوام کا حق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ ہم اسلام آباد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے اور قومی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ ہم آج بھی صبر کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے لیے پاکستان اور عوام کا مفاد سب سے اہم ہے۔ لیکن ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ اگر کوئی ہم سے لڑائی چاہتا ہے تو لڑائی چھیڑ لے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس تمام جمہوری اور آئینی آپشنز موجود ہیں، اور ہم احتجاج کرنا بھی جانتے ہیں۔ 10 اگست کو کشمیر کے عوام صرف پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، بلکہ اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کریں گے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالے یا ان کے مینڈیٹ کو پامال کرے۔ اور میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں: اگر کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اگر ان کے ووٹ کے ساتھ ظلم ہوا، تو میں خود عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا، ان کے ساتھ بیٹھوں گا اور ان کے حق کے لیے احتجاج کروں گا۔ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے۔

Bilawal Bhutto Zardari

47,062 Aufrufe • vor 21 Tagen