Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

سوال:آپ نے آزاد کشمیر کا جھنڈا اپنی واسکٹ پر لگایا ہوا ہے؟ کوئی خاص وجہ؟ کشمیر انتخابات کا تو آپ نے بائیکاٹ کیا۔ جواب: ہم کشمیر کے عوام کے مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ جھنڈا ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ہے۔انتخابات عوام کی مرضی سے نہیں ہوئے...

50,463 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

کشمیر کے عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ منصفانہ انتخابات ہونے دیں، جس کا ووٹ نکلے اسی کی حکومت بننے دیں۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے اور یہی کشمیری عوام کا حق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ ہم اسلام آباد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے اور قومی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ ہم آج بھی صبر کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے لیے پاکستان اور عوام کا مفاد سب سے اہم ہے۔ لیکن ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ اگر کوئی ہم سے لڑائی چاہتا ہے تو لڑائی چھیڑ لے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس تمام جمہوری اور آئینی آپشنز موجود ہیں، اور ہم احتجاج کرنا بھی جانتے ہیں۔ 10 اگست کو کشمیر کے عوام صرف پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، بلکہ اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کریں گے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالے یا ان کے مینڈیٹ کو پامال کرے۔ اور میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں: اگر کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اگر ان کے ووٹ کے ساتھ ظلم ہوا، تو میں خود عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا، ان کے ساتھ بیٹھوں گا اور ان کے حق کے لیے احتجاج کروں گا۔ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے۔

Bilawal Bhutto Zardari

53,392 views • 1 month ago

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 views • 3 months ago

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث کا میلہ لوٹ لیا، مدلل اور پر مغز خطاب کے دوران قومی اسمبلی ہال اور گیلریوں میں سکوت طاری۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے خطاب نے نہ صرف بجٹ بحث کا رخ تبدیل کر دیا بلکہ آزاد کشمیر، کشمیر کاز، مہاجرین کی نمائندگی اور پارلیمانی اصلاحات جیسے اہم موضوعات کو قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا۔ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے! چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے تو اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

Afzal Butt

19,169 views • 3 months ago