Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آیت نور کیس میں ڈی پی او ہری پور کا مشکوک کردار سامنے آگیا ۔ جی این این کی رپورٹر ڈی پی او ہری پور کا انٹرویو کرنے گئے اور سوالات کے دوران ڈی پی او گبھرا گئے ۔ انہوں نے رپورٹر سے کہا کہ آپ کے بال نہیں...

18,470 просмотров • 24 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 4

Фото профиля Arif Orakzai
Arif Orakzai24 дней назад

اس ڈی پی او کی عادت ہے سزا کے طور پر بال کٹواتا ہے شاید خاندانی نائ ہو۔ جب کرک میں تھے تب بھی جن لوگوں کے بال لمبے ہوتے تھے انکو پکڑ کر زبردستی بال کٹواتا تھا اور پھر کوہاٹ میں بھی ایسے ہی کیا اس نے۔

Фото профиля VictimOf privatization
VictimOf privatization24 дней назад

تو رپورٹر صاحب نے حقائق جاننے کی کوشش کی یا۔ نہیں یا کھا پی کر مٹھی چاپی کروا کر چلے آئے؟

Фото профиля izaz ali Shah
izaz ali Shah24 дней назад

@SohailAfridiISF plz take a notice and form some committee of brave officers @KP_Police1

Фото профиля Afzal shah yousafzai
Afzal shah yousafzai21 дней назад

ہاہاہا موصوف جس نے ڈی پی او کے ساتھ لاہوری اینکر ملوایا تھا بلال کا پوسٹ ذرا دیکھے

Похожие видео

واش روم کا استعمال/ Get Lost/ ڈی پی او تبدیل حافظ آباد میں پیش آیا انوکھا واقعہ، چند روز قبل لیگی رکن پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور دیگر لوگوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس حافظ آباد میں موجود تھے، ڈی پی او کامران حامد اس وقت آفس نہیں تھے اس دوران ایم پی اے کے بیٹے حیدر بھٹی نے ڈی پی او کے ذاتی کمرے کا واش روم استعمال کیا۔ حیدر بھٹی جب واش روم سے نکلے تو آگے ڈی پی او صاحب موجود تھے جہاں ان میں تلخ کلامی ہوئی اور حیدر بھٹی کو Get Lost کا پیغام دیا گیا۔ اس پیغام کے بعد سیاسی زور آزمائی شروع ہوئی اور گزشتہ روز ڈی پی او حافظ آباد کو تبدیل کردیا گیا اور انکو پنجاب سیف سٹی میں تعینات کردیا گیا۔ تبادلے کے بعد لیگی ایم پی اے کے بیٹے نے فیس بک پوسٹ کی ہے کہ Now You Get Lost اس واقعہ کی سابق ایم پی اے مامون جعفر تارڈ کی آڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ واش روم استعمال کے واقعہ کا تذکرہ کررہے ہیں۔ تبادلے میں مرکزی کردار حافظ آباد کے معروف سیاسی خاندان نے ادا کیا۔

Muhammad Umair

362,655 просмотров • 3 месяцев назад

حافظ آباد میں جو واش روم کا تنازعہ ہوا ہے، ڈی پی او نے واش روم استعمال کرنے پر ایم پی اے کے بیٹے کو کہا کہ "GET LOST"۔ اب یہ واش روم تو سرکاری پیسوں سے بنا ہوا تھا، یہ ان کے ذاتی گھر کا واش روم تو نہیں تھا۔ جب شکایت مریم نواز اور آئی جی تک پہنچی تو ڈی پی او کا تبادلہ ہو گیا۔یہ ہماری افسر شاہی کا مزاج ہے۔ ان کے اندر حکمرانی کی کتنی تڑ آگئی ہے کہ اگر کوئی ان کا واش روم استعمال کر لے تو یہ مائنڈ کر لیتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کا کام کیا کرنا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ یہ ڈی پی او صاح نے کبھی پبلک واش روم نہیں استعمال کیا ہو گاموٹروے پر یا کہیں بھی یہ اپنا واش روم ساتھ لے کر چلتے ہوں گے۔یہ اخلاقی طور پر بہت گرا ہوا واقعہ ہے ۔یہ پولیس ا ور آئی جی صاحب کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث ہے۔ ان کو آئندہ کوئی پوسٹنگ نہیں دینی چاہیے۔ انہیں آئی جی آفس کے تمام باتھ رومز کا ڈی پی او لگا دینا چاہیے۔ ان کے لیے کہنا چاہیے کہ آپ آج سے "ڈی پی او واش روم پنجاب" ہوں گے۔ ان کے لیے الگ سے ایک عہدہ ہونا چاہیے۔ Muzamal Suharwardy

Muzamal Suharwardy Team

44,198 просмотров • 3 месяцев назад