Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بھٹو کبھی بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں تھا۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیلنگ کرتا رہا۔ نہ وہ جمہوری تھا اور نہ ہی اس نے عوامی مینڈیٹ تسلیم کیا۔ اقتدار کی ہوس اور مفاد پرستی میں اس نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا جہاں انجام ملک ٹوٹنے کی صورت میں...

29,454 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 views • 8 months ago

یوتھیوں کے لیڈر کے گھٹیا کردار کی کہانی عالمی میڈیا کی زبانی سنیں ! " مغرب میں #ImranKhan کو پلے بوائے کہا جاتا تھا، ایک ایسا انسان جو اسلامی ملک سے آیا تھا مگر اسکا #Islam سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، وہ #London کے نائٹ کلبز میں سپر ماڈلز کا پیچھا کیا کرتا تھا ، اسکے ان گنت عورتوں کیساتھ ناجائز تعلقات تھے جن میں سے کچھ کیساتھ تعلق کا خان نے خود بھی اعتراف کیا، اسکا ناجائز تعلق سیتا وائٹ سے ہوا اور اس تعلق سے ایک ناجائز بچی ٹیریان پیدا ہوئی، 1997 میں سیتا نے خان پر ٹیریان کی ولدیت کا کیس #California کی عدالت سے جیت لیا، پہلے خان نے بچی کا انکار کیا مگر بعد میں بچی کی کسٹڈی بھی لے لی، خان نے خود ایک انٹرویو میں اپنی غلط حرکتوں کو تسلیم کیا، خان نے مانا کہ وہ کرکٹ میں دھوکے بازی کرتا رہا ہے، 1994 میں اس نے مانا کہ وہ بال ٹیمپرنگ کرتا رہا ہے اور بجائے شرمندہ ہونے کے وہ اپنے اس گناہ کا دفاع بھی کرتا رہا، خان نے شوکت خانم کے خیراتی فنڈز سے ذاتی جائیداد بنائی اور اس رقم سے #France اور #Oman میں آف شور کمپنیاں بھی بنائیں، سیاست میں آنے کیلئے اس نے پلے بوائے والا امیج چھپا کر مذہبی انسان کا بہروپ اپنا لیا، وہ دہشت گردی کی بظاہر مذمت کرتا تھا مگر #Taliban کو فنڈنگ بھی کرتا رہا، وہ جمہوریت کو سپورٹ کرنے کے دعوے کرتا رہا مگر جنرل مشرف نے جب #NawazSharif کی جمہوری حکومت گرائی تو خان نے مشرف کو سپورٹ کیا، خان کو فوج نے حکومت دلوائی " اور ثاقب ناسور نے ایسے غلیظ شخص کو صادق اور امین کا ٹائٹل دیا ۔ یوتھئے ایسے غلیظ شخص کو امت مسلمہ کا لیڈر کہتے ہیں ۔ #Qazifaezisa #twitch #ARYNews #SupremeCourt #Punjab #Islamabad #BreakingNews #ImranKhan #Operation #بھارت_کا_یار_قیدی_804 #AFGvsBAN #Punjab
1:21

Sensitive content

یوتھیوں کے لیڈر کے گھٹیا کردار کی کہانی عالمی میڈیا کی زبانی سنیں ! " مغرب میں #ImranKhan کو پلے بوائے کہا جاتا تھا، ایک ایسا انسان جو اسلامی ملک سے آیا تھا مگر اسکا #Islam سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، وہ #London کے نائٹ کلبز میں سپر ماڈلز کا پیچھا کیا کرتا تھا ، اسکے ان گنت عورتوں کیساتھ ناجائز تعلقات تھے جن میں سے کچھ کیساتھ تعلق کا خان نے خود بھی اعتراف کیا، اسکا ناجائز تعلق سیتا وائٹ سے ہوا اور اس تعلق سے ایک ناجائز بچی ٹیریان پیدا ہوئی، 1997 میں سیتا نے خان پر ٹیریان کی ولدیت کا کیس #California کی عدالت سے جیت لیا، پہلے خان نے بچی کا انکار کیا مگر بعد میں بچی کی کسٹڈی بھی لے لی، خان نے خود ایک انٹرویو میں اپنی غلط حرکتوں کو تسلیم کیا، خان نے مانا کہ وہ کرکٹ میں دھوکے بازی کرتا رہا ہے، 1994 میں اس نے مانا کہ وہ بال ٹیمپرنگ کرتا رہا ہے اور بجائے شرمندہ ہونے کے وہ اپنے اس گناہ کا دفاع بھی کرتا رہا، خان نے شوکت خانم کے خیراتی فنڈز سے ذاتی جائیداد بنائی اور اس رقم سے #France اور #Oman میں آف شور کمپنیاں بھی بنائیں، سیاست میں آنے کیلئے اس نے پلے بوائے والا امیج چھپا کر مذہبی انسان کا بہروپ اپنا لیا، وہ دہشت گردی کی بظاہر مذمت کرتا تھا مگر #Taliban کو فنڈنگ بھی کرتا رہا، وہ جمہوریت کو سپورٹ کرنے کے دعوے کرتا رہا مگر جنرل مشرف نے جب #NawazSharif کی جمہوری حکومت گرائی تو خان نے مشرف کو سپورٹ کیا، خان کو فوج نے حکومت دلوائی " اور ثاقب ناسور نے ایسے غلیظ شخص کو صادق اور امین کا ٹائٹل دیا ۔ یوتھئے ایسے غلیظ شخص کو امت مسلمہ کا لیڈر کہتے ہیں ۔ #Qazifaezisa #twitch #ARYNews #SupremeCourt #Punjab #Islamabad #BreakingNews #ImranKhan #Operation #بھارت_کا_یار_قیدی_804 #AFGvsBAN #Punjab

Sadia Khalid

56,702 views • 2 years ago

اللہ اکبر اور الحمدللہ کے نعروں کے ساتھ شہرعزیمت میں جنگ بندی معاہدے کا استقبال کیا گیا! شہر عزیمت اس معاہدے کو اپنی کامیابی بھی سمجھتا ہے، تحریک کی بھی، جیالوں کی بھی، اور جدوجہد کی بھی! اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ جیالوں نے اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ہی شرائط تسلیم کرالیں؛ - مستقل جنگ بندی - دشمن کا مکمل انخلاء - قیدیوں کی مطلوبہ واپسی - عالمی ضمانت - تحریک کی حفاظت چنانچہ یہ نہ تو وہ معاہدہ ہے جو ٹرمپ نے پیش کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر غاصب نے حامی بھری تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر خلیجی ریاستوں نے اتفاق کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس میں تحریک کے خاتمے کی یقین دہانی تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جو شہر عزیمت پر ٹونی بلیئر کو تھوپتا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے خلیجی افواج کے راستے غاصب کے مقاصد پورے ہوتے تھے، بلکہ، یہ وہ معاہدہ ہے جس پر جیالوں نے دستخط کیے ہیں اور جس کا اعلان جیالوں کی حامی بھرنے کے بعد ہی ممکن ہوسکا ہے! یاد رکھیں! جیالوں نے بہت پہلے کہا تھا؛ ہماری مرضی کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرسکوگے! ایک قیدی بھی نہیں! آج کا معاہدہ جیالوں کے آہنی عزائم کی کھل کر گواہی دے رہا ہے! اللہم ثبت اقدامہم، اللہم انصرھم علی اعدائم، اللہم کن لھم عونا ونصیرا! آمین یا رب العالمین

اللہ کے بندے۔۔۔

23,428 views • 10 months ago