Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

تھری سم کیلئے لڑکا بلوایا مگر وہ کسی کام کا بھی نہیں نکلا۔ آخر کار ماہیوال کو بلانا پڑا اور اس نے آگ ٹھنڈی کی۔۔ Sohni Mahiwal sohni 28 29 ages available for cam #show #paid meetup #cpuole show #solo show

27,454 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

38,808 次观看 • 6 天前

یوتھیوں اور #ImranKhan کی عالمی سطح پر کتنی عزت ہے اس ویڈیو کو دیکھ کر جانیں ! 👇 انڈیا کے دفاعی تجزیہ کار کہہ رہے کہ "عمران خان کے فالوورز اندھے لوگ ہیں ، #NawazSharif کے بارے میں بولے جھوٹ کو بھی مان لیتے مگر #ImranKhan کے خلاف ثبوت کیساتھ بولے سچ کو بھی نہیں مانتے اسکی وجہ سوشل میڈیا پر #ImranKhan کا مضبوط کنٹرول ہے ۔ Pakistan Peoples Party - PPP اور PMLN اسکی بالکل بھی برابری نہیں کر سکتیں ۔ #ImranKhan کے سب ساتھی دوہری شہریت والے ہیں انکا #Pakistan میں کوئی سٹیک ہی نہیں ، #ImranKhan کو لگتا ہے کہ وہ ریاست کے قانون سے بھی اوپر ہے ۔ وہ اپنی ہر تقریر میں #Islam کا ٹچ دیتے ہوئے خود کو کسی نہ کسی طرح حضرت محمدؐ کے برابر بتاتا ہے اس نے ہمیشہ اسلام کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ وہ جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے پھر بھی یوتھئے اسکی ہر بات کو سچ مانتے ہیں ۔ #ImranKhan کی سیکس ٹیپ ہوں یا پھر اس نے اپنے دوستوں کو جو اربوں کی فیورز دی ہوں یا اسکی بیوی #BushraBibi کی کرپشن ہو ہر چیز کا ثبوت موجود ہے اور یوتھیوں کو دکھایا گیا ہے وہ پھر بھی نہیں مانتے ۔ #ImranKhan کی فالونگ نہیں بلکہ کلٹ ہے وہ یوٹرن ماسٹر ہے عوام کو کہتا رہا کہ سیاست میں آرمی کا کردار نہیں ہونا چاہئیے مگر خود وہ آرمی کی مدد چاہتا ہے ۔اور اسکے اندھے فالوور اس سب کو دیکھ کر بھی نہیں مانتے کہ چاہے #ImranKhan جتنے بھی یوٹرن لے ، چاہے اپنی حکومت میں نالائق ترین ثابت ہو ، چاہے کرپشن کرتا رہے ہم اس کے ساتھ ہیں ۔ یوتھئے اصل میں ذہنی بیمار لوگ ہیں "

Sadia Khalid

38,342 次观看 • 1 年前

چند دن پہلے مظفر آباد میں کالج کے پرنسپل حمزہ بریان کو قتل کیسے کیا گیا عمر چیمہ کے مطابق ایک لڑکی نے واہ کینٹ میں رہنے والے شخص سے رابط کیا انسٹاگرام پہ اس شخص کا تعلق بھی کسی جہادی تنظیم سے تھا اسکو کہانی سنائی کہ پاکستان میں ایک مجاہد ہے وہ پاکستان اور انڈیا دونوں کے لئے کام کرتا ہے کچھ عرصہ پہلے وہ مقبوضہ کشمیر آیا میرے شوہر نے اسکی مدد کی لیکن اس نے میرے شوہر کی معلومات انڈین آرمی کو دے دی جسکے بعد میرے شوہر کو قتل کردیا گیا میرا ریپ ہوا پھر اس نے کہا انسٹاگرام کوئی محفوظ ایپ نہیں اس بندے کو اس نے لندن کی سم پہ ٹیلیگراف کا اکاؤنٹ بنا کر دیا پھر اس بندے کو پچاس ہزار روپیہ بیجھے ویڈیو کال پہ بات کرتی رہی اور جب اعتماد بحال ہوگیا تو اس لڑکی نے کہا میں آپکو بتاتی ہوں کس شخص نے میرے خاوند کو مروایا وہ ڈبل ایجنٹ مظفر آباد میں اور پھر اس شخص نے آکر حمزہ بریان کو قتل کردیا اب پتہ چلا وہ لڑکی را کی ایجنٹ تھی قتل کرنے والا پاکستانی تھا حمزہ مقبوضہ کشمیر کا رہائشی تھا جس پہ بھارت نے الزام لگایا تھا کہ اس وہ پلوامہ واقعہ کا ماسٹر مائنڈ تھا

محفوظ الرحمن اعوان

32,501 次观看 • 2 个月前

امین بوکا عرف مینا بوکا آج لودھراں میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نے دسمبر 2025 کو فورٹ عباس کے ایک کاروباری شہری سے ایک آلٹس کرولا کار چھینی اور ظلم یہ کہ کار کے ساتھ اس کار مالک کو بھی زبردستی اغوا کر کے ساتھ لے گئے ، جس کے بارے میں خیال تھا کہ اس بندے کو سندھ کچے کے ڈاکوؤں کو بیچ کر تاوان وصول کریں گے ۔ قسمت اچھی تھی کہ ایک پٹرول پمپ پر تیل ڈلوانے کیلئے رکنے پر اس بندے نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی ، شور مچایا جس پر پٹرول پمپ کے سیکورٹی گارڈ نے دلیری کی اور وہ بندہ اغوا ہونے سے بچ گیا پٹرول پمپ کے کیمروں کی ویڈیو بھی بعد ازاں وائرل ہوئی تھی پولیس اور سی سی ڈی دن رات اس کیس پر کام کرتے رہے اور اخر انکوُ ٹریس کر لیا ، الحمدُللہ چھینا گیاُ موٹرسائیکل اور کار بھی ریکور کر لی گئی مگر اصل مقصد اس گینگ کو پکڑنا تھا ، یہ گینگ آئس پیتے تھے ، 7/7 دن گاڑی میں ہی سفر کرتے ، روڈ پہ ہی رہتے اور موبائلُ کا استعمال بھی بہت احتیاط سے کرتے آخر آج انجام کو پہنچ گئے ہیں ✅،

چوہدری قاسم

37,853 次观看 • 3 个月前

جن لوگوں نے بجلی کے نظام کے ساتھ اپنے سولر کو جوڑ رکھا تھا، ان کیلئے گرڈ بغیر کسی اضافی خرچے کے بیٹری کا کام کرنے لگا یعنی میں نے دن میں بجلی بنا کر گرڈ میں ڈالی اور شام کو واپس لے لی۔۔میں بجلی بنا رہا ہوں، استعمال کر رہا ہوں، بیچ رہا ہوں مگر مجھے بل نہیں اۤرہا۔۔پھر یہ بھی کہ مہنگی بجلی موجود ہے مگر مجھے اسکی ضرورت نہیں جبکہ وہ شخص جسکے پاس سولر نہیں وہ بل دے رہا ہے اور گرڈ کا خرچ بھی اٹھا رہا ہے۔۔چونکہ بجلی اکٹھی پیدا ہوتی ہے اور ساری کی ساری خرچ نہ ہو تو باقی ضائع ہوجاتی ہے، اسلئے میرے استعمال نہ کرنے سے ضائع ہونیوالی بجلی کا بل بھی اسے ہی بھرنا ہے جو غریب سولر نہیں لگوا سکتا۔۔۔۔اس وجہ سے غریب کیلئے بجلی مہنگی ہوتی چلی گئی۔۔۔ابتدا میں سولر کی بجلی بیچنے والے چونکہ بڑے لوگ تھے اسلئے پالیسی کے ذریعے اس چوری کا کسی کو پتہ نہیں چلا۔۔جب یہ دھندہ عام اۤدمی تک پہنچا تو سرکار نے وہی کیا جو سی این جی کے معاملے میں ہوا تھا۔۔یعنی پہلے بڑے لوگوں نے خوب پیسہ بنا لیا اور جب عام لوگوں کیلئے یہ کاروبار پہنچا تو اسمیں لگی انکی جمع پونچی بھی جاتی رہی: حبیب اکرم

Kismat Khan

43,030 次观看 • 4 个月前

اس پورے معاملے کے بعد جو ایک نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed نے چاہتے نہ چاہتے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ کسی کا جواد احمد Jawad Ahmad سے موازنہ ہونا گالی' بد دعا اور تذلیل کی بات ہے اور یہ اس ریاست کیلئے بھی گالی کی بات ہے جس نے جواد احمد کو سیاست دان بنانے کی کوشش کی - یہ میں نہیں کہ رہا - مجھے تو یہ کلپ دیکھ کر یہی سمجھ آیا ہے ورنہ تو اس افسر نے اور کوئی گالم گلوچ نہی کیا اس کے مقابلے میں مجھے اقرار صاحب اس کو "بے شرم " کہتے دکھائی دیے- - اپنی نظر میں تو جواد احمد ملک کے سب سے انقلابی لیڈر اور اس ریاست کیلئے آخری آپشن ہیں ' پر اقرار صاحب کے اس اوور ری ایکشن نے یہ خوش فہمی بھی گمان میں بدل دی - اور اگر یہ کلپ صحیح ہے اور اقرار صاحب جواد احمد بننے کی دعا اور پشین گوئی پر اتنا سیخ پا ہویے ہیں تو پھر اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ آگ بگولہ ہونا اقرار الحسن کا نہی جواد احمد کا بنتا ہے - یعنی میچ کھیلا بھی نہیں اور کلین بولڈ ہوگیے - یہ سارا ڈرامہ کسی باہر کے ملک میں ہوا ہوتا تو محض اپنی راے دینے پر اقرار صاحب نے جو شور شرابہ مچایا اور جس طرح اس ملازم کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اس کو ہراسا کیا ' اب تک یہ جیل میں ہوتے - - پورے کلپ میں عمران خان کا اس افسر نے نام تک نہیں لیا ' پر یہاں بھی اقرار نے فرض کرلیا کہ یہ عمران خان کا سپورٹر ہوگا جو ان کو جواد احمد جیسا حال ہونے کی بد دعا دے رہا ہے - اگر اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمران خان کا ووٹر توڑنے کا یہی حربہ رہ گیا ہے تو ان کو چاہیے کہ ٹاک شاک کرلیں ورنہ ان کا حال بھی ووہی ہوگا جو جواد احمد کا ہوا -

Dr Waqas Nawaz

94,510 次观看 • 4 个月前

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے

Agha Sheikh Sarwar

175,655 次观看 • 1 天前

لاھور کینٹ میں سیاسی کارکنان سے خطاب :— #پنجاب_کا_مقدمہ (پارٹ 6) افسوس ھے کہ مارشل لاؤں نے تباھی کی اور سول حکمرانوں نے بھی توجہ نہیں دی پنجاب سے اٹھنے والے لیڈر میاں نواز شریف نے سنجیدہ کوشیشیں کیں ایک بحرانی دور میں بطور وزیر اعظم پاکستان کو اعلانیہ ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا صوبوں کے بیچ واٹر اکارڈ کروایا، واجپائ کو لاھور بلوایا ، امن کیلئے بات آگے بڑھی ، ممکن تھا کہ کشمیریوں کی بھارت کی غلامی سے جان چھوٹ جاتی مگر جنرل پرویز مشرف نے کارگل کر کے سبوتاژ کر دیا اور پھر بغاوت کرکے ملک پر قبضہ کر لیا ڈاکٹر عبدالمالک کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کیلئے کاوش کی ، بات آگے بڑھی مگر اسوقت کی اسٹیبلشمنٹ نے کام خراب کر دیا لیکن ھر بار #میاں_نواز_شریف_کی_ٹانگیں_کھینچی_گئیں ھم چاھتے ھیں کہ ھر صوبے کو حقوق ملیں ، ھر وفاقی اکائ کا مشورہ شامل ھو، #ھرصوبےکومساوی_ترقی_کاحق_حاصل_ھے، اس مقصد کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ ھونا چاھئیے

Khawaja Saad Rafique

17,576 次观看 • 1 年前

پلندری کا یہ بندر آج سے کچھ سال پہلے دبئی ٹرک چلانے گیا لیکن وہاں یہ را کے ہتھے چڑھ گیا۔ را نے اس کو مینڈیٹ دیا کہ واپس جاؤ اور کشمیر میں آگ لگاؤ۔ اس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں جان بھوج کر پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ اس کے نعروں میں پاکستان بھر میں بہت تشویش ہے لیکن پاکستانی سمجھدار قوم ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس جیسے چند بندروں کا کشمیر سے بھی کوئی تعلق نہیں، یہ ڈالروں کے لیے ماں بیچ چکے، اسلیے جس کسی نے بھی مذمت کی اس کی کی مگر پورے کشمیر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ اس نے اپنا پلان چوپٹ ہوتا دیکھ دوبارہ سے بکواس شروع کر دی ہے تاکہ پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ کچھ برا ہو جس کو یہ اور اس کے ہندو باپ بیچ کر کھا سکیں۔ او پلندری کی کچی کھسری جو بکواس کرنی ہے کر تیرے دلے کے بہکاوے میں کسی نے نہیں آنا، پر ایک بات تہہ ہے اب ساری زندگی ادھر ہی سڑ۔ اب تم دبئی نہیں جا سکتے کیونکہ اس کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

17,793 次观看 • 10 个月前

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ خالق کائنات کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے پاکستان کو یہ عزت عطا فرمائی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کیلئے پوری پاکستانی قوم اس ایوان کے تمام اراکین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کئی ممالک اور قومیں ایسی عزت کی تلاش میں صدیاں گزار جاتی ہیں لیکن وہ اس طرح سے عزت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں جس طرح آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت عطا فرمائی ہے۔ پاکستان کے اس کردار پر اس ایوان سے ایک متفقہ قرارداد جانی چاہئے جو اس عظیم کامیابی کیلئے اس ہائوس کی جانب سے بھرپور تائید ہو گی اور اس سے دنیا میں یکجہتی، اتفاق اور اتحاد کا پیغام جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کو بھی دعوت دی کہ وہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملکر اس مبارک دن اللہ کا شکر ادا کریں اور دنیا کو بتائیں کہ سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کیلئے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس عظیم کامیابی میں سب سے کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ادا کیا، انہوں نے امن کے قیام کیلئے اڑھائی مہینے دن رات کام کیا. انہوں نے کہا کہ وہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عمل میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اسی طرح وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں، ان کے اراکین ، اتحادی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے آدھا گھنٹہ ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ایران کی حکومت اور ایرانی قوم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ میں نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کا پاکستان میں والہانہ استقبال کرنے کیلئے منتظر ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ ایران اور پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ برادر ملک ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے پہلی فرصت میں پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان آ کر وہاں کے عوام کا شکریہ ادا کرینگے۔ اس موقع پر انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین جو 3 یا 4 جولائی کو ہونی ہے اس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس پر انہیں کہا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ان شاء اللہ وہاں پر پاکستان موجود ہو گا تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ان کیلئے ہمارے دلوں میں کتنا احترام ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں اس خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔ خطے میں جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور اس میں مزید کمی آئے گی۔ اس پر ہفتہ وار نظرثانی آج ہو گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تین ماہ قبل جنگ چھڑی تو اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا۔ پاکستان کے عوام نے جس طرح اس دوران تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اس پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان سے عام آدمی کو بچانے کیلئے حتیٰ المقدور کوشش کی ،پٹرولیم مصنوعات پر 128 ارب روپے کی سبسڈی دی تاکہ عوام پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ پڑے۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں وفاق کی بھرپور معاونت کی اور انہوں نے اپنے عوام کو ریلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی، نائب وزیراعظم، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری پٹرولیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ سب نے ملکر اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان نے پیٹرول پمپوں پر لائنیں نہیں لگیں، کوئی بلوے نہیں ہوئے جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں جو صورتحال پیدا ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم نے امریکا کی قیادت بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکراتی عمل میں بھرپور حصہ ڈالنے پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے برادر ملک قطر، سعودی عرب ، ترکیہ کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین جو پاکستان کا ہمالیہ کی طرح بلند دوست ملک ہے اس کا اس عمل میں بڑا کردار رہا۔ اس کی لیڈر شپ نے امن عمل میں بھرپور معاونت کی۔ انہوں نے اس عمل میں حصہ ڈالنے والے دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔

Prime Minister's Office

22,617 次观看 • 2 个月前

یہ ہے اس بلوچستان کی حالت جس کی کھربوں ڈالر کی معدنیات کے نمونے بریف کیس رکھ کر ٹرمپ کو پیش کئیے گئے ————————- اس بد نصیب صوبے کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سپریمُ کورٹ بار کو امدادی رشوت میں دس کڑور دئیے مگر اس نے کوئیٹہ کے تیس ستمبر کے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لئیے صرف پانچ لوگوں کے کفن دفن کے ہیسے دئیے۔ ایک باپ بیٹے کے وارثوں نے میتیں حاصل کرنے کے بدلے جب پیسے لینے کے الزامات لگائے تو پیسے لینے والا ایدھی فاؤنڈیشن کا رضا کار یوں پھٹ پڑا محمد عارف کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 17 سال سے ایدھی میں بطور رضا کار لاوارث یا مسخ شدہ لاشوں کے غسل، کفن دفن کا بندوبست کرتا آرہا ہے اس نے کہا کہ 30 ستمبر کو دھماکے میں آٹھ سے دس افراد شہید ہوئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے صرف پانچ تابوت فراہم کیے گئے۔ پانچوں دن میں استعمال ہو گئے ،رات کو جب باپ بیٹے کی لاشوں کی شناخت ہوئی تو ہسپتال والوں نے مجھے رات ایک بجے کے بعد گھر سے بلایا۔ اس کا کہنا تھا کہ مردہ خانے میں خون آلود اور مسخ شدہ لاشوں کو صاف کرنے کی ہمت اکثر کسی میں نہیں ہوتی اس لیے وہ ڈیوٹی اوقات کے بعد بھی یہ کام کرتا ہے اور ہسپتال والے بھی ضرورت پڑنے پر اسے بلاتے ہیں۔ محمد عارف کے مطابق جب وہ رات گئے سول ہسپتال پہنچا تو تابوت دستیاب نہیں تھے۔ ایدھی کے پاس بھی اُس وقت تابوت اور کفن موجود نہیں تھے اس لیے مجبورا بازار سے خریدنا پڑے اس نے کہا کہ ایک تابوت چھ ہزار روپے کا آتا ہے میری تنخواہ صرف دس ہزار ہے ،اتنی تنخواہ میں دو تابوت خریدنا ممکن نہیں۔میں رات کے وقت شہداء کے ورثاء کو مزید پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا اس لیے خود سے دو تابوت چھ چھ ہزار، دو کفن تین تین ہزار اور دو پلاسٹک کور پانچ پانچ سو روپے کے خریدےلاشوں کو صاف کرکے تابوت میں رکھا اور ورثا کے حوالے کیا اور پھر ورثاء سے اس کی رقم لی۔ محمد عارف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ورثا سے جو رقم لی وہ صرف سامان کی قیمت ادا کرنے کے لیے تھی۔ بازار سے تابوت یا کفن کی قیمت پوچھ لیں اگر میں نے ایک روپیہ بھی زیادہ لیا ہو تو سزا دیں۔

Orya Maqbool Jan

44,451 次观看 • 10 个月前

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -

Dr Waqas Nawaz

45,473 次观看 • 11 个月前

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 次观看 • 6 个月前

"میڈیکل ڈس انفارمیشن " (کوبلیشن مشین کیموتھراپی کا ہرگز متبادل نہیں) جب بھی صحت اور کینسر جیسی موذی بیماری پر سیاست کی جاتی ہے اور اس کو اپنی کیمپین کا حصہ بناتے ہویے بنیادی میڈیکل فیکٹس کو مسخ کیا جاتا ہے تب تب مجھے لکھنا پڑتا ہے کیوں کہ اس طرح میڈیکل ڈس انفارمیشن کو پھیلایا جاتا ہے جو ان کینسر مریضوں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے جو پہلے ہی کینسر سے آدھے مرے ہویے ہوتے ہیں اور ایسے میں کوئی بھی چھوٹی سی ہی امید خواہ وہ جھوٹی ہی ہو ' ان کو اپنے علاج سے متعلق غلط فیصلہ کرنے کی طرف لے جاسکتی ہے جو ان کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے - اس وڈیو میں مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے جس "کوبلیشن مشین " کا ذکر کیا وہ کینسر ابلیشن کا ایک طریقہ ہے جو صرف سٹیج اول کے کینسر کے علاج کیلئےمنظور شدہ ہے اور کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہی ہے ایسے میں یہ کہنا کہ اس مشین کے بعد کیموتھراپی اور ریڈیشن کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے ایک میڈیکل ڈس انفارمیشن ہے - میں اس سے پہلے بھی اس بارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں جب ایک صحافی رضی دادا نے پی ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہا تھا کہ "مریم نواز چائنا سے کرایو تھراپی کا طریقہ لائی ہیں جس کے بعد کیموتھراپی کی ضرورت نہی پڑے گی اور یوں شوکت خانم میں کیمو کے نامہ پر ہو فراڈ ہوتا ہے وہ نہیں ہوگا "- کینسر کی جس سٹیج کیلئے کیموتھراپی کی ضرورت ہوتی ہے وہ سٹیج 2 سے 3 کاکینسر ہوتا ہے جو پہلے ہی لیمف نوڈ (lymph node) تک پھیل گیا ہوتا ہے - اس سٹیج پر کوئی کریوتھراپی کوئی کوبلیشن کا طریقہ اس کا علاج نہی کرسکتا اور اس کیلئے کیموتھراپی ہی درکار ہوتی ہے - کوبلیشن ایک minimal invasive surgery کا طریقہ ہے جو بہت شروع کے سٹیج اول کے کینسر میں ہی مفید ہوتا ہے اور یہ آج کا طریقہ نہیں ہے - یہ بہت سے ملکوں میں کافی عرصے سے زیر استعمال ہے - ایسے میں کچھ مریضوں کو سامنے بٹھا کر اور کچھ پروفیسرز کو پیچھے کھڑا کر کے آدھی بات بتانا میرے نزدیک "میڈیکل ڈس انفارمیشن " کے زمرے میں آتا ہے جو ایک جرم ہے کیوں کہ ایسی بات سن کر کوئی بھی سٹیج دوم یا سوم کا مریض جس کو اس کا ڈاکٹر کیموتھراپی کی سفارش کریگا ' وہ مریض یہ وڈیو دیکھ کر اس ڈاکٹر اور ہسپتال کو فراڈ کہ کر کوبلشن کی ڈمانڈ کریگا جو اس لیول پر کار آمد ہی نہیں تو اس طرح وہ جان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے- اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک Dr. Faizan Malik جو ایک اونکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اس وڈیو میں مجھے سب سے زیادہ دکھ مریم نواز کے پیچھے کھڑے پروفیسرز کو دیکھ کر ہوا جن میں سے دو میرے استاد بھی رہے ہیں اور کنگ ایڈورڈ کے وائس چانلسر بھی ہیں - اس میڈیکل ڈس انفارمیشن پر ان کی خاموشی اور سر دھننا دیکھ کر مجھے بس افسوس ہی ہوا کہ وہ سارا علم جو انہوں نے سیکھا اور سکھایا وہ آج سیاست کے سامنے یوں خاموش ہوگیا اور کسی کا کینسر محض ایک اشتہار بن گیا جس میں غلط فیکٹس اور آدھی انفارمیشن دے کر سادہ لوح مریضوں کے مرض کو استعمال کیا گیا - یہ ہماری پوری میڈیکل لوبی کیلئے لمحۂ فکریہ ہے - ----------------------------------------------------------------- Dr. Faizan Malik Moeed Pirzada

Dr Waqas Nawaz

24,621 次观看 • 11 个月前