Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جناح ہاؤس میں ایک مور چوری ہوجاتا ہے اس چور کو تو ڈھونڈا جاسکتا ہے لیکن باجوڑ میں درجنوں افراد شہید اور زخمی کرنے والوں کو ڈھونڈا نہیں جاتا. باجوڑ کا سانحہ بہت بڑا واقعہ ، درندگی، دہشتگردی ہے اور ایسی حیوانیت ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ باجوڑ...

214,935 views • 3 years ago •via X (Twitter)

8 Comments

Асим Ахунзаде 🇵🇰's profile picture
Асим Ахунзаде 🇵🇰3 years ago

دہشت گردوں کے پیچھے جو لوگ ہیں جب تک ان کو سزا نہیں ہوتی دہشتگردی ختم نہیں ہو گی

Aisha Suhail's profile picture
Aisha Suhail3 years ago

بہت دلیر اور زیرک ۔۔۔ماشاللہ ۔۔عوام کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرتے ہیں ۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں @SenatorMushtaq

SAJJAD MIRZA's profile picture
SAJJAD MIRZA3 years ago

@javerias

MASHAH's profile picture
MASHAH3 years ago

سلام رورا۔ اس سے بہتر انداز میں پختون کی اواز کوئی بلند نہی کر سکتا۔ کاش عمرانخان اور جماعت اسلامی چھوٹے اختلافات کو پیچھے رکھ کر پاکستان کے مظلوم عوام کی خاطر اکھٹے ہوکر ان کرپٹ ٹولے اور سیکیورٹی اداروں کے نام پر قائم دہشتدگردوں کے ا ڈوں کے خلاف عوام کو اکھٹا کرکے جدوجہدکریں

Arshad Mahmood ارشد محمود's profile picture
Arshad Mahmood ارشد محمود3 years ago

ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم انیکسز ایکسپوز ہونے چاہئیں

خون کا حساب دو's profile picture
خون کا حساب دو3 years ago

باجوڑ دھماکہ ملک کی تمام جماعتیں اور تنظیمیں اس دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو پکڑنے اور سامنے لانے کا مطالبہ کر رہی ہیں،،، سوائے PDM اور اتحادیوں کے جن کا سربراہ فضل الرحمن ہے؛ یہ اس واقعے ملوث ہونے کی نشانی ہے !

Muhammad Umar Muavia's profile picture
Muhammad Umar Muavia3 years ago

کیا ہی حق گوٸی کی ہے جی ٹوٸٹ دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا اللہ پاک آپ جیسوں کے ہاتھ اس ملک عظیم کو قوّت بخشے

Ajmal Khan🇵🇰🇵🇸's profile picture
Ajmal Khan🇵🇰🇵🇸3 years ago

حل صرف جماعت اسلامی اجمل خان امبر جماعت اسلامی VC پیران MKD.KPK

Related Videos

صوفی حمید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ باجوڑ میں ایک بریگیڈ فوج ہے، ایف سی موجود ہے، پولیس کی ڈی پی او کی قیادت میں بہت بڑی نفری ہے۔ بارڈر کے اوپر 100 فیصد باڑ لگی ہوئی ہے۔ سول ایڈمنسٹریشن ہے، اس کے باوجود دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کیسے ہو رہی ہے۔ حکومت اور سیکورٹی فورسز کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ صوفی حمید کو ایف سی کے کیمپ سے چند گز کے فاصلے پر شہید کر دیا گیا۔ پولیس اسٹیشن سے چند میٹر کے فاصلے پر ٹارگٹ کلرز نے ان کو مار دیا۔ دن دیہاڑے سیکورٹی فورسز اور پولیس کے عین ناک کے نیچے دہشتگرد اور ٹارگٹ کلرز باجوڑ کی قیادت اور مشران کو کیسے قتل کر رہے ہیں۔ پولیس، ایف سی اور فوج کی کارکردگی گیا ہے؟ صوفی حمید کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کی عوامی مقبولیت کا مظہر ہے اور دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ کے خلاف عوام کے غصے کا اظہار ہے۔ Government of Pakistan DG ISPR KP Police Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Khyber News Government of KP

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان

57,006 views • 1 year ago

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق اس دور کے امریکی صدر ریگن کی چاپلوسی کیا کرتے تھے امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو زبردستی ضیاء الحق نے گھسایا، عمران خان ہمیشہ سے جنگوں کے خلاف ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں پرائی جنگ میں نہیں کودنا چاہیئے، آج پھر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چاپلوسی کرتا ہے اس نے افغانستان پر زبردستی حملہ کر دیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس ہمارے پاس ہونی چاہیے تھی اور اگر ہم یہاں سے ایران پر حملہ کرتے تو ایران کی حکومت کو اور اس کے ملک کو تباہ کر سکتے تھے، آج اسی چاپلوسی میں یہ جنگ شروع کر دی گئی ہے اور پاکستان پھر پرائی جنگ میں کود گیا ہے، خواجہ آصف آج عاصم منیر کا چمچہ بنا ہوا ہے جس طرح اس کے والد ضیاء الحق کے چمچے تھے اور وہی چیز دھرائی جا رہی ہے، یہ چمچہ کلچر پاکستان کے اندر تباہی و بربادی کا ذریعہ بن رہا ہے، ضیاء الحق کو پرائی جنگ میں کودنے سے کیا ملا تھا؟ معیشت اس نے تباہ کر دی پاکستان میں ہیروئین کلچر لے کے آ گیا کلاشن کوف کلچر لے کے آ گیا، افغانستان کی سپریم کورٹ کے اعظم شیخ مولوی عبد الرؤف نے پاکستان کے خلاف لڑنا جہاد قرار دے دیا ہے اور افغان نوجوانوں کو کہا ہے کہ ہم پہ جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اپنے ملک کا دفاع اب ہم نے کر دیا ہے اور یہ ایک جہاد ہے، دونوں طرف سے جہاد کے فتوے آ رہے ہیں دونوں طرف مسلمان ہیں اور بے مقصد جنگ، دوسرے کی جنگ پاکستان نے شروع کر دی ہے تو پھیل رہی ہے، کیا دہشتگردی بگرام ایئر بیس امریکہ کو دینے سے ختم ہو جائے گی؟ #PakAfghanConflict #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

10,252 views • 6 months ago

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 views • 6 months ago

آج خیبر میں کربلا تھی خیبر میں پرامن پٹھان جو بیابان میں بیٹھے ہیں جرگے کے انتظامات کررہے ہیں ان پر صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے کارروائی کرکے تین افراد کو شہید اور 12کو زخمی کردیا میں وہاں جانے لگا تو پولیس نے مجھے وہاں جانے نہیں دیا میں اس معزز ایوان کا حصہ ہوں اور فارم 45کا ممبر ہوں فارم 47کی پیدوار نہیں ہوں سٹبلشمنٹ ، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو شکست دے کرآیا ہوں عوام کی طاقت اور جرات سے آیا ہوں کوئی خوش ہوتا ہے یا خفا ہوتا ہے خیبر پختونخوا کی عوام پر ظلم اور بربریت جاری ہے وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی ہے جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے پرامن تنظیم وہ جوان کو گزشتہ 20سال سے جاری جنگ اور بدامنی سے تنگ آگئے ہیں اپنے عوام کیلئے امن مانگ رہے ہیں پولیس کیلئے امن مانگ رہے ہیں اس پرامن تنظیم پر وفاقی حکومت نے پابندی لگادی انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997کے تحت پابندی لگی ہے جو رجسٹرڈ تنظیم بھی نہیں ہے یہ آئین ہمیں تنظیم پارٹی تحریک چلانے اور پرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا حق دیتا ہے اس تحریک نے آج تک کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا جس قانون کے تحت پابندی لگی ہے اس کے تحت تین روز میں وفاق پابند ہے کہ وجہ بتائے کہ اس تنظیم نے کہاں دہشتگردی کی ہے یہ اس مٹی کے بچے ہیں چاہے یہی کہ ریاست اس کے سوالات کے جوابات دے مسائل کو حل کرے آج وفاقی ہو یا صوبائی حکومت ہو۔۔۔ دونوں بے اختیار ہیں صوبائی حکومت کہتی ہے آئی جی میرے اختیار میں نہیں بہت افسوس کی بات ہے چیف سیکرٹری اور آئی جی آپ کے اختیار میں ہیں آئین یہی کہتا ہے کیسے پولیس اپنے احکامات پر پرامن نوجوانوں پر کارروائی کرتی ہے تین بار کارروائی کی گئی شیلنگ کی گئی خیمے جلائے گئے جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر وفاقی حکومت نے شیلنگ کی اورآپ لوگ اسے ظلم کہتے تھے ویسے ہی صوبائی حکومت نے ان پر تین بار شیلنگ کی آنسو گیس استعمال کی ایف سی بھیجی گئی جس کے حکم پر گئی ؟ آئی جی کو اس ہاﺅس میں طلب کیاجائے اور سوال کیاجائے کہ کس کے کہتے پر یہ کارروائی کی گئی عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم اور بربیت کی مذمت کرتی ہے اور سوال کرتے ہیں ریاست سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہ کیوں ظلم اور بربریت کی گئی عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی نثار باز

Muhammad Faheem

64,104 views • 1 year ago

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,788 views • 17 days ago

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 views • 11 months ago

باجوڑ کے آپریشن کی بات ہے تو پاکستان میں خوارج نہیں ہیں عاصم لا اور خوارج ایک سکے کے دو رخ ہیں ان کو دوبارہ سے ڈالرز چاہئے ان کو پشتونوں کے خون کی ضرورت ہے ان کو منرلز کی ضرورت ہے عمران خان کی حکومت میں تیل برآمد ہوئے 15 سودے ہوئے لیکن پاکستان میں جتنا تیل نکلے گا وہ ہمارا نہیں ہوگا کیونکہ ہم غلام ہیں کیونکہ ہمارے آباواجداد ان کے غلام ہیں ہمارے چیف آف آرمی سٹاف کو یہ (امریکہ) منتخب کرتے ہیں میں تو بدقسمتی سے پاکستان میں پیدا ہوگیا اور یہ باقی ممبران بھی ایسے ہیں آپ (اپوزیشن) چاہتے ہیں کہ امن آئے تو آئیں ساتھ متفقہ قرارداد پیش کرتے ہیں اس سڑک پر نکلتے ہیں باجوڑ میں اسمبلی اجلاس کرتے ہیں جہاں وہ کرفیو لگائے ہم وہاں اجلاس کریں گے آج باجوڑ کے لوگوں کی تذلیل ہورہی ہے بچے عورتیں بزرگ سب گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں پھر پیسوں کی ضرورت ہے خون ہمیشہ پختونخوا کے لوگوں کا بہتا ہے اور پیسہ ہمیشہ پنجاب کے لوگوں کو ملا ہے شرم کی بات ہے نہ پنجاب سے انقلاب آتا ہے اور نہ وہاں ایسے لوگ ہیں جو اپنے حق کیلئے آواز اٹھائیں ہمیں اس لئے مارتے ہیں کیونکہ ہم میں غیرت ہے ہمارے پاس زبان ہے ہم حق کی بات کرتے ہیں پی ٹی آئی رکن اسمبلی طارق آریانی

Muhammad Faheem

33,841 views • 1 year ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 views • 1 month ago