Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جیل سے گاڑی تک بیبو کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے لے جایا گیا۔ جب اس کے بال ٹوٹ جاتے تو پولیس مزید بال پکڑ کر گھسیٹتی ، بیبو کے کپڑے تک پھٹ گئے۔ سوچیے اگر ایک سیاسی کارکن کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو اُن بےنام بلوچ...

27,143 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 görüntüleme • 1 ay önce

بلوچ سر زمین پر بلوچ نسل کشی ہر ریاستی پالیسی میں عیاں ہے۔ زہری میں عام عوام کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے، گزشتہ 4 دنوں میں محض شہر سے 12 شہریوں کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے جبکہ دور دراز علاقوں سے کئی افراد اٹھائے گئے ہیں جن کا ڈیٹا تا حال مکمل نہیں مل سکا۔ آپریشن کے دوران ایک 16 سالہ نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ کل سے لواحقین نے شا ہ راہ کو دو جگہوں “زہری کراس” ، اور سوراب زیروں پوائنٹ کے مقام پر بندھ کیا تھا۔ جسکے بعد دھرنے کو ایک جگہہ منظم کرنے کے لیے لواحقیں نے زہری کراس سے لیکر سوراب تک پیدل مارچ کیا، ٹھٹھرتی سردی میں پچھلے 24 گھنٹوں سے لواحقین سڑک پر بیٹھ کر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، دوسری جانب سڑک بند ہونے کی وجہ سے مسافر بھی ازیت کا شکار ہے، مگر نسل کش ریاست کے لیے یہ انسان نہیں، جسمانی ازیت سے لیکر زہنی ازیت تک ہر بلوچ ریاستی بلوچ نسل کش پالیسیوں کی وجہ سے متاثر ہے۔ آج دھرنے کا دوسرا دن ہے اور سوراب میں نیٹورک مکمل بند کی گئی ہے #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

Sabiha Baloch

11,336 görüntüleme • 1 yıl önce

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 görüntüleme • 6 ay önce

سفید بال سیاہ کرنے کے لیے بہترین نسخہ اگر آپ سفید ہوتے بالوں سے پریشان ہیں اور بے فائدہ ٹوٹکوں یا مضر صحت ادویات آزما کر تھک گئے ہیں تو اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ جادوئی قدرتی نسخہ آزمائیں اور دیکھیں کیسے بال دوبارہ سیاہ، گھنے اور چمکدار ہو جاتے ہیں. ھوالشافی! ▪ ایک کپ السی کا تیل ▪ پانچ عدد درمیانے سائز کے لیموں (چھلکے سمیت) ▪ پانچ جوئے لہسن (چھلے ہوئے) ▪ ایک کپ شہد خالص ترکیب تیاری: تمام اجزاء کو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کریں تاکہ گاڑھا آمیزہ بن جائے۔ اس آمیزے کو شیشے کے مرتبان میں محفوظ کر لیں۔ طریقہ استعمال: کھانے سے پہلے ایک بڑا چمچ استعمال کریں۔ روزانہ تین بار لیں۔ تین ماہ تک باقاعدگی سے استعمال کریں۔ فوائد: ✅ سفید بالوں کو دوبارہ قدرتی رنگ دیتا ہے ✅ بالوں کو گھنا، ملائم اور چمکدار بناتا ہے ✅ آنکھوں کی روشنی بڑھاتا ہے ✅ جسم کو توانائی اور قوت بخشتا ہے ✅ قوتِ مدافعت کو بہتر کرتا ہے قدرتی نسخہ، شاندار نتائج کے ساتھ

دیسی طبی نسخے Indigenous medical prescriptions

11,514 görüntüleme • 1 ay önce

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 görüntüleme • 5 ay önce

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 görüntüleme • 1 yıl önce