Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

🔞خواتین اوربچےویڈیوسےدوررہیں🔞 سب بہن بھائی اس کھلم کھلابےحیائی اورگندگی کےخاتمہ کےلئےآوازاٹھائیں یہ ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی اقدارکوتباہ کررہی ہے‼️ سوشل میڈیاپرپھیلنےوالی اس بےحیائی کاذمہ دارکون ہےکون کاروائی نہیں چاہتا⁉️ #بےحیائی_کا_خاتمہ_کرو #ٹک_ٹاک_پر_پابندی_لگائیں

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

دل پھٹ جاتا ہے... یہ خنجر، یہ پسٹل، یہ کلا/شنکوف دکھانے کا کیا مطلب ہے بھائی؟ میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ ہماری معصوم نوجوان نسل، جو کل اس ملک کا مستقبل سنبھالنے والی تھی، آج سوشل میڈیا پر تشدد اور ہتھیا//روں کی دنیا میں کھو رہی ہے۔ وہ بچے جن کے چہرے پر معصومیت ہوتی تھی، جن کے ہاتھوں میں کاپیاں، قلم اور کتابیں ہونی چاہییں تھیں، آج ہتھیار اٹھائے ہوئے "ہیرو" بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں یہ سکھایا تھا؟ کیا یہ وہی خواب تھے جو ہم نے اپنی اولاد کے لیے دیکھے تھے؟ اے ماں باپ! جاگ جاؤ... اے اساتذہ! ذمہ داری نبھاؤ... اے سوشل میڈیا کمپنیوں! اس زہر کو روکو... اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیکیورٹی اداروں سے گزارش ہے، بھرپور ایکشن لو یہ صرف ایک رجحان نہیں، یہ ایک خطر/ناک طوفان ہے جو ہماری نسلوں کو /تباہ کر رہا ہے۔ دل روتا ہے سوچ کر کہ آج کا نوجوان بند/وق کی آواز میں سکون ڈھونڈ رہا ہے جبکہ اسے علم کی روشنی کی طرف جانا چاہیے تھا۔ اللہ پاک! ہماری نوجوان نسل پر رحم فرما.. . انہیں گمراہی سے نکال اور درست راستے پر لے آ۔ آمین۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اسے روکیں۔ نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہے، اسے ضائع نہ ہونے دو! #نوجوان_نسل_بچاؤ #پاکستان_کا_مستقبل #تشدد_کا_خاتمہ #سوشل_میڈیا_ذمہ_داری

چوہدری قاسم

101,957 views • 2 months ago

یہ ایک ہفتہ قبل دو فروری کی بات ہے۔میانوالی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون، جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اسلام آباد آنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھیں۔ بس کے اندر ایک شخص مسلسل انہیں ہراساں کرتا رہا۔ کبھی اپنا موبائل نمبر زبردستی تھمانے کی کوشش، کبھی موبائل پر نامناسب پیغامات، اور کبھی ویڈیو بنا کر بدتمیزی۔ خاتون نے ہمت دکھائی، اپنے بھائی کو اعتماد میں لیا، اور ان کے مشورے پر اس شخص کی خفیہ ویڈیو بنا لی۔ یہ ویڈیو اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں بندہ ، اس کی حرکتیں سب کچھ واضح دکھائی دیتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔بسوں کے اندر خواتین محفوظ نہیں،گلیوں اور بازاروں میں خواتین محفوظ نہیں،حتیٰ کہ ایک لیڈی ڈاکٹر بھی ہراسانی سے محفوظ نہیں۔ بس اڈے پر اترنے کے بعد بھی اس شخص نے پیچھا کرنے کی کوشش کی، مگر خوش قسمتی سے بھائی موقع پر پہنچ گئے، جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔ یہ شخص شناخت کے قابل ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے ٹریس کریں اور عبرتناک سزا دیں، تاکہ یہ پیغام جائے کہ خواتین کو ہراساں کرنا معمول نہیں، جرم ہے۔خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔ یہ اس بندےکا نمبر ہے 03349185512 تصویر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ Maryam Nawaz Sharif Punjab Police Officers پنجاب پولیس Government of Punjab Punjab Police Official

Sabookh Syed | Journalist

122,273 views • 7 months ago

️قراقرم کا راہب دوبارہ نظر آ گیا! 🐆❄️ برفانی چیتا — قراقرم کی خاموش پہچان دوبارہ جلوہ گر! ❄️🐆 دنیا کے نایاب ترین اور خوبصورت جانوروں میں شمار ہونے والا Snow Leopard (برفانی چیتا) حال ہی میں قراقرم ہائی وے گلگت بلتستان میں دیکھا گیا! ماہرین کے مطابق یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے پہاڑی ماحولیاتی نظام میں اب بھی قدرتی توازن موجود ہے 🌿 مقامی افراد اور جنگلی حیات کے ماہرین کی جانب سے اس نادر لمحے کی ویڈیوز اور تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے لیکن یاد رکھیں: 👉 یہ چیتا نایاب اور خطرے سے دوچار نسل سے تعلق رکھتا ہے 👉 اس سے دور رہیں، اسے تنگ نہ کریں 👉 یہ ہماری زمین کی خامی خاموش حفاظت کرتا ہے — ہمیں بھی اس کی حفاظت کرنی چاہیے قدرتی حیات کا تحفظ صرف حکومت نہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے! 📢 محکمہ جنگلی حیات کی اپیل: ⛔ قریبی رابطہ نہ کریں ⛔ ویڈیو بنائیں، لیکن فاصلے سے ✅ شعور پھیلائیں، تحفظ کو ترجیح دیں

Gilgit Baltistan Tourism.

40,296 views • 1 year ago

بطور گجراتی، میں جب دیکھتا ہوں کے گجرات کے اس وقت کے دو تگڑے ترین خاندان، چوہدری برادران، کوٹلہ برادران، ان کے آپس میں کیا کچھ ہورہا ہے تو ڈوب مرنے کو جی چاہتا ہے، چوہدری برادران انتہائی امیر کبیر لوگ ہیں، گجرات نہیں پارے ملک میں انکا طوطی بولتا ہے، ایک وقت میں وزیراعظم و وزیراعلی پنجاب دونوں سیٹیں اس خاندان کے پاس تھیں، اور آج انہی کا ایک سپوت وجاہت حسین اپنی بہن کو ذلیل کررہا ہے، بھتیجے چاچوں کو، بھائی بھائی کو، کزنز سب ایک دوسرے کی چوک میں شلوار اتارتے پھر رہے ہیں، دوسری طرف، چوہدری خالق مرحوم ایک وقت میں پنجاب کا ایک بڑا نام تھے، ذوالفقار علی بھٹو کو وہ کوٹلہ کے قصبے میں لائے تھے، چوہدری عابد رضا کوٹلہ ایک بڑا نام ہے جس نے گجرات میں چوہدریوں کو اس وقت ٹکر دی جب انکا عروج تھا، لیکن حال یہ ہے کے اپنے جواں سال بھتیجے جو انہی کے باپ کا خون ہے اسکا جنازہ تک نہیں پڑھا، اس کی ناگہانی موت پر اپنے اس بڑے بھائی جس نے ان سب کو باپ بن کر سنبھالا اس سے تعزیت تک نہیں کی، اور اب انتہائی امیر کبیر ہوتے انکا بھی آپس میں جائیدادوں کے حصول کا جھگڑا شروع ہوگیا ہے، پہلے بھی سارے بھائیوں نے آپس میں ایک دوسرے کے کئی بندے مارے ہیں، اور اب کچہریوں میں لڑیں گے، سمجھ سے بالاتر ہے، طاقت و مال کی کتنی حرص یوتی ہے اور آخر کیسے یہ ختم ہوتی ہے..!! منقول

چیمہ ہارون

13,142 views • 5 months ago

یہ سب کچھ ڈی جی صاحب نے کہا ۔ صرف انکی جونسی انگریزی ہے اس کا ترجمہ کر دیا ۔ وہ یہ سب سمجھتے ہیں اسی لئے یوتھ کے خلاف ہیں ؟ انہوں نے کہا ۔ جو ہوپ والی بات ہے۔ ​آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا جو نوجوان ہے وہ باشعور نہیں ہے؟ بہت باشعور ہے مجھے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اس شاندار نوجوان طبقے سے بارہا گفتگو کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اور میں آپ کو سچ بتاؤں، جس عمر میں وہ ہیں، اس عمر میں ہمارے مقابلے ان کی سوچ کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ بے حد واضح ​وہ جو دنیا کے حالات دیکھتے ہیں نا میرے بھائی، انہیں ریاست کی اہمیت کا مجھ سے اور آپ سے زیادہ اندازہ ہے جو ہمیں اس عمر میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی، پاکستان سے ان کی محبت، اور پاکستان پر ان کا اعتماد بہت مضبوط ہے۔ اور میرے خیال میں وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے ابھی 50 سے 70 سال کی پوری زندگی پڑی ہے، کہ وہ ذاتی طور پر زندگی میں اور یہ ملک مجموعی طور پر کن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ​اور ایک بہتر تبدیلی اور سنہرے مستقبل کے لیے ان کی خواہش کہیں زیادہ شدید ہے۔ ​تو اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے، اور اب ہم کھلم کھلا اس بات پر بحث بھی کر رہے ہیں کہ جی ہاں، تبدیلی کی ضرورت ہے..." , تو آئی تھنک مایوسی نہیں، کہیں گے... وہ پرہیپس آئی تھنک کہیں گے 'دیر آئے درست آئے'۔ ٹھیک ہے نا؟ Because they also, ان کا اسٹیک ہے میرے بھائی ان کے پاس زندگی زیادہ ہے، ان کے پاس دہائیاں زیادہ ہیں۔ ​اور اسی ملک کے نیچے، انہیں پتہ ہے وہ غزة کو نہیں دیکھ رہے، انہیں پتہ ہے ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست کی جگہ... انہیں پتہ ہے پاکستان کے علاوہ نہ ان کی پہچان ہے، نہ عزت ہے، نہ اوقات ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں، مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میں جب بھی انٹریکٹ کرتا ہوں، ایک چیز.. . جب آپ ان سے ملتے ہیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ کا دل جیت لیتی ہیں، کہ ہمارے پاس کتنا شاندار نوجوان طبقہ ہے! کتنا سلجھا ہوا اور روشن دماغ نوجوان طبقہ ہے!" ​تو یہ ان کی ریکوائرمنٹ ہے میرے بھائی۔ یہ امید کم نہیں ہوئی، یہ ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تو اب ایک... ایک سوچ جنم لے رہی ہے، ایک عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔" اب اس کا طریقہ جونسا ہے وہ آئین اور قانون اور عوام... اور ​"تو پھر، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی تو وہی ہیں ​اگر پاپولیشن وائز بھی دیکھا جائے تو سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر وہی ہے نہ؟ 'ویل آف دی پیپل' کی بات کی جائے تو 'ویل آف دی پیپل' کا سب سے بڑا کمپوننٹ تو وہی ہے۔ تو ہم تو یہی کہہ رہے ہیں لوگوں کی رائے لیں' تو. یوتھ بتا دے گی آپ کو،کہ وہ کیا چاہتے ہیں"

Shafqat Ch

20,404 views • 1 month ago

شہناز کی حقیقت: پروپیگنڈا ویڈیو کے پیچھے چھپی کہانی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے پروپیگنڈا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے کرداروں کی حقیقت اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی شہناز، جو دو بچوں کی ماں ہے، پہلے اپنے شوہر کے ساتھ مسقط میں رہائش پذیر تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق اس کی مسلسل بد اخلاقیوں اور غیر اخلاقی حرکات کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ طلاق کے بعد یہ پاکستان واپس آئی۔ اس کے دو بھائی اور ایک بوڑھی ماں گھر پر موجود ہیں۔ گھر والوں کو اس نے یہ جھوٹ بتایا کہ وہ ایران شادی کے لیے جا رہی ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اسے بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپوں میں پہنچایا گیا۔ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اسے دہشت گرد کیمپ تک پہنچانے میں اس کا سگا ماموں صدام بوہیر ملوث ہے، جو مبینہ طور پر دلالی جیسے گھناؤنے کاموں میں ملوث رہا ہے۔ آج یہی لوگ بلوچ خواتین کے نام پر معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور دہشت گردی کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بی ایل اے اور اس کے سہولت کاروں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ ⚠️ بلوچ معاشرے کی عزت، روایات اور خواتین کے نام پر سیاست کرنے والے یہ کردار دراصل نوجوان نسل کو استعمال کر رہے ہیں۔

Hawk's Eye

34,414 views • 4 months ago

چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔ یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔ ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔ بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔ جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان

Ather Salem®

45,673 views • 10 months ago

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 views • 7 months ago

میں اپنی سوچ اور اپنی قوت کے مطابق مزاحمت کرنا چاہتا ہوں، #ابابیل بنانے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے ذریعے یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ میں جا سکتا ہوں، اگر اورسیز قیادت امبیسیز کے باہر نہیں جاتی تو میں اس پلیٹ فارم کی مدد سے خود احتجاج کی اجازت لے سکتا ہوں، میں صرف عمران خان کا دیوانہ نہیں بلکہ میں ماہ رنگ بلوچ کا بھی شیدائ ہوں ۔ میں اپنے اس پلیٹ فارم سے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوں گا ، سوشل میڈیا کے لڑکوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا ۔ اورسیز میں جہاں کسی کو لیگل مدد چاہیے ہو گی ہماری یہ انسانی حقوق کی تنظیم اس کے ساتھ کھڑی ہو گی ۔۔ ہم ایک کروڑ اورسیز پاکستانی ہیں جیسے میں اجتماع کرنا چاہتا ہوں احتجاج کرنا چاہتا ہوں ویسے ہی میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی اپنے ملکوں میں بڑے بڑے اجتماع کریں احتجاج کریں اور عمران خان کی رہائ کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔۔ میں سوشل میڈیا پے باتیں کرتا تھا تو سب کو اچھا لگتا تھا ، آج عمران خان کے لیے میں گراونڈ پے پریشر ڈالنا چاہتا ہوں تو کچھ دوست ناراض ہو رہے ہیں ۔۔ جو قیادت خان کے لیے سڑکوں پے نہیں آ سکتی امبیسیز کے باہر نہیں جا سکتی میں تھوکتا ہوں ایسی قیادت پے ۔۔ باقی مخالفت کرنے کا شکریہ ابھی تو ہمارا پہلا اجتماع تھا آپ ابھی سے گھبرا گے !😁 #مزاحمت_ہی_واحد_راستہ_ہے

Aladeen

32,361 views • 10 months ago

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ یہ مناظر جاپان کے ہیں، جہاں "اسپیشل بچوں" کی معصوم آوازوں میں جب “دل دل پاکستان، جان جان پاکستان” کے بول گونجے، تو وقت جیسے تھم گیا۔ یہ صرف ایک نغمہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی عزت اور محبت کا ثبوت ہے جو آج پاکستان کو دنیا کے ہر کونے میں مل رہی ہے۔ جاپانی بچوں کی یہ آوازیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ اب "خوف" کا نہیں بلکہ "محبت اور امن" کا بن چکا ہے۔ جب جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں بچے ہمارا قومی نغمہ گاتے ہیں، تو یہ ہماری ثقافتی سفارت کاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ دل دل پاکستان" ہماری وہ شناخت ہے جو نسل در نسل اور ملک در ملک منتقل ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاکستان نے جس طرح عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا ہے، اس نے عام عالمی شہری کے دل میں پاکستان کی جگہ بنا دی ہے۔ آج دنیا ہمیں ایک "مددگار اور ذمہ دار" قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے 🇵🇰🇵🇰😍💝😍🇵🇰🇵🇰

scorpio♏#DJ 🧓🏻

11,763 views • 5 months ago

زندگی کی مشکلات کہاں سانس لینے دیتی ہیں انسان کو۔ آج آپ کے سامنے ایک گھر کی وڈیو لگا رہا ہوں ۔ تین بہنیں ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے ۔ علاقے کے پٹواری نے اپنا ایک پرانا گھر جو جیسا بھی ہے تین یتیم بہنوں کو دے رکھا ہے۔ اس گھر کا لیول گلی سے 6 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔ جی بارش ہو جائے تو موٹر لگا کر پانی گھر سے نکالا جاتا ہے ۔ کیسی زندگی کے بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہوئے ان بہنوں کی پچھلی 18 سال کی زندگی گزری ہے ۔ لوگ ابھی زندگی ۔ معاشی حالات درست ہونے کی۔ دعا کرتے ہین ۔ ان بچیوں کی زندگی بارش نہ ہو کرتے گزر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ بس ایک بار پوچھا وہاں بیٹھے کے بہن جی اگر یہ گھر واپس لے لیا مالک نے تو پھر کیا کریں گی آپ۔ تو بولین رب ہی سہارا ہے ۔ اور کون ہے بھائی ہمارا۔ آنکھوں کی نمی چھپانےکو منہ دوپٹے سے صاف کرنے لگیں یہ بات کرتے ہوئے ۔ ۔۔۔۔ ایک بہن گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے۔ دوسری ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہے۔ تیسری جو سب سے چھوٹی ہے 18 سال کی وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ پیدائشی ۔ اس کے دو آپریشن ہو چکے ہیں جھلی ڈل چکی ہے دل میں لیکن حالات ایسے مشکل اور تکلیف دہ ہیں کے اکثر وہ میڈیسن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے جو اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے میرے پیارے دوست بھائی نعیم گلزار نے جب ان کے بارے بتایا تو سب سے پہلے ان کے لئے سلائی مشین چائیے تھی وہ ساتھ لے کر گیا ۔ پہلی مشین جس سے یہ سلائی کر رہی ہیں آدھا ماہ دوکانوں پر دھکے کھاتی ہے۔ ۔۔۔۔ چھوٹی بہن جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس کے الفاظ نے وہاں موجودگی میں دل چیر دیا۔ بھائی میری زندگی کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ گھر اپنا نہیں بھائی سگے دونوں کبھی پوچھنے نہیں آئے دل کا عارضہ ایسا کے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پلپٹیشن اور چکر شروع ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے ابھی جان نکلی کے ابھی نکلی۔ ۔۔۔۔ وڈیو میں موجود آخری کلیپ میں اسی بچی کا پاوں ہے جس میں دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ 6 دن پہلے گھبراہٹ شروع ہوئی تو خود کو سنبھال نہیں پائی گلی میں گری تو پاس کھڑی ریڑھی پاوں پر سے گزر گئی ۔ سگے بھائی کو کال کی تو گلی سے اٹھا کر گھر تو لایا۔ لیکن بولا کچھ نہیں ہوا اس کو سب ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ معاشی مسائل رشتوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ بچی کو ارتھوپیڈک سے بھی چیک کروا کر اس کی ہڈیوں کو پراپر جڑوا دیا ہے۔ ۔ اس دل کے عارضہ میں ہر چھ ماہ میں معالج سے چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ڈیڑھ سال ہو چکا ہے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کے ویگن پر فیصل آباد جا کر چیک اپ کروا لیتے سرکاری کارڈیو ہسپتال سے ۔ ۔۔۔۔ میں نے یہ پہلا گھر ہے جس کو ساتھ گاون میں زمین 3 مرلے لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اوپر ایک کمرہ واشروم۔ اور کچن کر دینا ہے۔ انشاءاللہ یہ کرنا ہے۔ 3 کمروں کے پیسوں میں ان کا گھر مکمل ہو جائے گا بجلی کے کنکشن سمیت سارا حساب کر لیا ہے۔ اور نعیم بھائی نے زمین کی بات کر لی ہے۔ وہیں جہاں۔ شاہد ( مخنث کھسرے ) کا گھر۔ بن رہا ہے وہیں پاس یہ گھر بنے گا تاکہ ان کو تحفظ کا۔ بھئ مسلہ نہ ہو ۔ نعیم بھائی کا گاون ہے وہاں مشکل نہیں ہو گی ان کو ۔ ۔۔۔۔ بہت کچھ ہے جو لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کیس بارے میں لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ بس اس کو مکمل کرنا تھا بنا کسی کوبتائے۔ لیکن مبشر اور نعیم کی سخت ہدایت پر لکھنا پڑا کے ۔ اس کو بیان کرنے سے وہ لوگ ھدایت پائیں گے جو ناشکری کرتے ہیں۔ جو متعصب ہو کر سوچتے ہیں۔ جو ہوتے سوتے کہتے ہیں ہمارے پاس کیا ہے ۔ ایک بہن کی ان میں سے شادی ہوئی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر بھئ مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن جسمانی طور پر کمزور ہے تو مزدوری بھئ بس گزارے لائق ہی ملتی ہے اس کو ۔ ۔۔۔۔ کیا اس سب کو پڑھ کر بھی آپ آئندہ ناشکری کریں گے ۔ کیا آپ کے پاس اب بھی ناشکری کا جواز موجود ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں آپ کو کیا نہیں۔ دیا ہوا رب نے ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

24,378 views • 3 months ago