Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

🔞آٹھارہ سال سےکم عمرویڈیوسےدوررہیں🔞 یہ یوٹیوبراورخاتون جوبےحیائی پھیلارہےہیں ادارےاس پرکوئی ایکشن لیں گے؟یہ بےحیائی نوجوان نسل کوکھوکھلا کررہی ہے🆘 جب تک سوشل جرائم کاخاتمہ نہیں ہوگانوجوان نسل کوتباہی سےنہیں بچایاجاسکےگا❗ #بےحیائی_کا_خاتمہ_کرو

32,942 views • 4 months ago •via X (Twitter)

5 Comments

Universal Truth Pakistan's profile picture
Universal Truth Pakistan4 months ago

Disgusting 🤮

منہ پھٹ's profile picture
منہ پھٹ4 months ago

یہ بھی سوشل میڈیا انفلوئنزا ہیں۔ان کا علاج بھی فوج ہی کرے گی

Diamant's profile picture
Diamant4 months ago

You think by writing under 18 is video se duur rahen and you did your job? Lore chacha aapko yeh content lagana hi nahi chahiye aap bhi itne hi galeez ho jitnr yeh video wale log. Aap jaise Bharwe Elon musk se pocket money lene ke liye apni Maa tak bech do

Idrees Khan's profile picture
Idrees Khan4 months ago

اگر بے حیائی حتم ہو جاے تو پھر ہم موبائل پر کیا کریں گے

Lusty Boy ♂️'s profile picture
Lusty Boy ♂️4 months ago

Gashtiyon k bhi interview ho rhay hain

Related Videos

دل پھٹ جاتا ہے... یہ خنجر، یہ پسٹل، یہ کلا/شنکوف دکھانے کا کیا مطلب ہے بھائی؟ میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ ہماری معصوم نوجوان نسل، جو کل اس ملک کا مستقبل سنبھالنے والی تھی، آج سوشل میڈیا پر تشدد اور ہتھیا//روں کی دنیا میں کھو رہی ہے۔ وہ بچے جن کے چہرے پر معصومیت ہوتی تھی، جن کے ہاتھوں میں کاپیاں، قلم اور کتابیں ہونی چاہییں تھیں، آج ہتھیار اٹھائے ہوئے "ہیرو" بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں یہ سکھایا تھا؟ کیا یہ وہی خواب تھے جو ہم نے اپنی اولاد کے لیے دیکھے تھے؟ اے ماں باپ! جاگ جاؤ... اے اساتذہ! ذمہ داری نبھاؤ... اے سوشل میڈیا کمپنیوں! اس زہر کو روکو... اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیکیورٹی اداروں سے گزارش ہے، بھرپور ایکشن لو یہ صرف ایک رجحان نہیں، یہ ایک خطر/ناک طوفان ہے جو ہماری نسلوں کو /تباہ کر رہا ہے۔ دل روتا ہے سوچ کر کہ آج کا نوجوان بند/وق کی آواز میں سکون ڈھونڈ رہا ہے جبکہ اسے علم کی روشنی کی طرف جانا چاہیے تھا۔ اللہ پاک! ہماری نوجوان نسل پر رحم فرما.. . انہیں گمراہی سے نکال اور درست راستے پر لے آ۔ آمین۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اسے روکیں۔ نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہے، اسے ضائع نہ ہونے دو! #نوجوان_نسل_بچاؤ #پاکستان_کا_مستقبل #تشدد_کا_خاتمہ #سوشل_میڈیا_ذمہ_داری

چوہدری قاسم

101,957 views • 2 months ago

کہتے ہیں سب سے گندہ نشہ جنسی لذت کا ہوتا ہے اور اس نشے کیلے انسان کس حد تک گر سکتا ہے اس کی زندہ مثال اس ویڈیو میں دیکھیے ۔۔ یہ واقعہ کسی یورپ ملک کا نہی ہے یہ پاکستان کے حالات ہیں کلپ میں نظر انی والی عورت نانی دادی بن چکی ہے ۔۔ اپنی جنسی لذت کی تسکین کیلے اک نوجوان لڑکے سے تعلق بناتی ہے اور پانچ لاکھ دے کر اس لڑکے سے اپنے شوہر کا قتل کرواتی ہے ۔۔ اس کو کیا ضرورت پڑی تھی اس عمر میں کالک ملنے کیلے ۔۔ کیوں وہ اس حد تک چلی گی کہ شوہر کو ہی ماروا دیا ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات ہمیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہی پڑی گی ۔۔ اس کلپ کو دیکھ کر کراچی کی آنٹی کینڈی کا سکینڈل یاد ا گیا ۔۔ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرواتی تھی ۔۔ جب وہ پکڑی گی لوگ توبہ استغفار کر کے اس کا نام لیتے تھے ۔۔ مگر جب وہ سزا پا کر واپس ای اسی معاشرے نے اس کا ایسا سوشل بائیکاٹ کیا اس نے باقی زندگی گمنامی میں گزار دی ۔۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی بات تھی ۔۔ اور آج دیکھ لیں ۔۔ اس ملک میں بے حیای کہاں کھڑی ہے ۔ نوجوان نسل کا صرف اک ہی مقصد ہے وہ راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن جائیں ۔۔ پاکستانی ڈراموں کا حال دیکھ لیں ۔۔ ان کا پچھلا ایوارڈ شو ہی دیکھ لیں ایسا لگتا تھا جیسے ننگ دھڑنگ جسم کون زیادہ دیکھاتا ہے اس کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔۔ پھر تو حالات ایسے ہونگے ۔۔
3:54

Sensitive content

کہتے ہیں سب سے گندہ نشہ جنسی لذت کا ہوتا ہے اور اس نشے کیلے انسان کس حد تک گر سکتا ہے اس کی زندہ مثال اس ویڈیو میں دیکھیے ۔۔ یہ واقعہ کسی یورپ ملک کا نہی ہے یہ پاکستان کے حالات ہیں کلپ میں نظر انی والی عورت نانی دادی بن چکی ہے ۔۔ اپنی جنسی لذت کی تسکین کیلے اک نوجوان لڑکے سے تعلق بناتی ہے اور پانچ لاکھ دے کر اس لڑکے سے اپنے شوہر کا قتل کرواتی ہے ۔۔ اس کو کیا ضرورت پڑی تھی اس عمر میں کالک ملنے کیلے ۔۔ کیوں وہ اس حد تک چلی گی کہ شوہر کو ہی ماروا دیا ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات ہمیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہی پڑی گی ۔۔ اس کلپ کو دیکھ کر کراچی کی آنٹی کینڈی کا سکینڈل یاد ا گیا ۔۔ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرواتی تھی ۔۔ جب وہ پکڑی گی لوگ توبہ استغفار کر کے اس کا نام لیتے تھے ۔۔ مگر جب وہ سزا پا کر واپس ای اسی معاشرے نے اس کا ایسا سوشل بائیکاٹ کیا اس نے باقی زندگی گمنامی میں گزار دی ۔۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی بات تھی ۔۔ اور آج دیکھ لیں ۔۔ اس ملک میں بے حیای کہاں کھڑی ہے ۔ نوجوان نسل کا صرف اک ہی مقصد ہے وہ راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن جائیں ۔۔ پاکستانی ڈراموں کا حال دیکھ لیں ۔۔ ان کا پچھلا ایوارڈ شو ہی دیکھ لیں ایسا لگتا تھا جیسے ننگ دھڑنگ جسم کون زیادہ دیکھاتا ہے اس کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔۔ پھر تو حالات ایسے ہونگے ۔۔

Saleem Speaks

216,659 views • 8 months ago

آپ ان لاشوں کی حالت دیکھیں، ان کی شکلیں دیکھیں؛ کیا یہ دہشت گردوں کی ہیں؟ یا ان نہتے معصوم بچوں کی جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا؟ ان میں 11-12 سال کے کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ ریاست اور انکے کٹھ پُتلی وزیرِ اعلیٰ کو مضحکہ خیز بیانات سے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ بلوچستان میں جو بھی حق کی بات کرتا ہے، اسے یا تو دہشت گرد، 'را' کا ایجنٹ یا مسلح تنظیموں کا سہولت کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ریاست کا یہ پروپیگنڈا پرانا ہے، مگر اب بلوچ قوم گواہ ہے کہ اصل دہشت گرد، قاتل اور مجرم کون ہے؛ اس کا فیصلہ وقت اور بلوچ عوام کریں گے۔ ریاستی جبر کا یہ سلسلہ صرف اغوا تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک منظم انسانیت سوز نسل کُشی کا عمل ہے جس میں نوجوانوں کو سالوں تک زندانوں کے تاریک اذیت گاہوں میں بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک طرف جب مائیں اپنے پیاروں کی راہ تکتے آنسو بہاتے آنکھوں کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھی ہوتی ہیں، تو دوسری طرف ریاست یہ جھوٹا بیانیہ تراشتی ہے کہ مذکورہ نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، حالانکہ وہ انہی کے زندانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہوتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تب ہوتی ہے جب انہی بے گناہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان مقتولوں کے زرد چہرے اور بے رونق آنکھیں چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ انہوں نے عرصوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی تھی۔ ان کے جسموں پر موجود ٹارچر کے ناقابلِ تردید نشانات اس ریاستی بربریت کا نوحہ پڑھتے ہوئے عیاں کرتی ہیں کہ یہ لوگ ان بد بخت ماؤں کے لاپتہ کیئے گئے جگر گوشے ہیں جن کا وہ کئی سالوں سے راہ تک رہی ہوتی ہیں مگر افسوس کہ بکاؤ میڈیا یک طرفہ ریاستی جھوٹ پھیلا کر حقیقت سے منہ موڑ لیتا ہے۔ لیکن ہم بھی بطور قوم یہ عزم کرتے ہیں کہ اپنے قوم کے فرزندوں کے یوں دردناک قتل پر خاموش نہیں رہیں گے ، انھیں بے موت مرنے نہیں دیں گے ۔ ہم دنیا کے کان میں چیخ چیخ کر اسے حقائق سے آشنا کریں گے ۔ اس اجتماعی سزا سمیت بلوچ نسل کشی کے تمام حربوں کو بے نقاب کریں گے ۔ گلزادی بلوچ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

10,827 views • 7 months ago

سوچا ہے جب آپ فیملی کو کال پے کہیں گے میں 300 ڈالر کے بجائے 270، 600 ریال کے بجائے 520 بھیج رہا ہوں کیونکہ عمران خان نے کہا ہے تو گھر والے کیا آگے سے کیا کہیں گے؟ عمران خان تمہارا کیا لگتا ہے؟ تم پاگل ہوگئے ہو؟ سیاست میں یہ سب لگا رہتا ہے تم نے زیادہ سیریس لے لیا ہے؟ بیوقوفوں والی باتیں مت کرو۔ باقی پیسے بھیجو فوراً۔ 🔴تب کیا کہیں گے آپ؟ کیا محسوس کریں گے آپ؟ ایک سیکنڈ کے لیے تو آپ کو بھی لگے گا کہ شاید میں ہی پاگل ہوگیا ہوں۔ فیملی سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہوتا، میں کن کاموں میں پڑ گیا ہوں؟ 🔶جب ابا، بیوی آگے سے یہ کہیں گے؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ کیا اپنے فیصلے پے قائم رہیں گے؟ یہ سوال پوچھنا ہے آپ نے اپنے آپ سے۔ یہ ابھی پوچھیں تاکہ فون پے لاجواب نہ ہوجائیں۔ اپنے فیصلے سے پھر نہ جائیں۔ 🔶تو جواب کیا دیں گے؟ فیملی کو جواب کیا دیں گے؟ 🔴کہ خان صاحب کی ذات کے لیے نہیں ہم یہ کم پیسے بھیج رہے۔ ہم اپنے بچوں کے پاکستان سے رشتے کو بنائے رکھنے کے لیے کم پیسے بھیج رہے ہیں۔ 🔶ہمارے بچے پاکستان جاتے ہیں۔ دو مارکیٹیں دو پہاڑیاں ایک گلی پھر کے واپس آجاتے ہیں۔ باقی ملک میں نہ آزادی نہ حفاظت سے پھر سکتے ہیں نہ کوئی کام شروع کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ہر جگہ قبضہ مافیہ بیٹھا ہوا ہے۔ 🔶تو ایسے ملک سے ان کا رشتہ ہی کیا رہ جائے گا دس سال میں؟ اور ان کے بچے منہ لگائیں گے ایسے ملک کو؟ 🔶اس رشتے کو بچانے کے لیے جس بندے نے تن من دھن لگا دیا، اس کی کال پے ایکشن لے رہے ہیں۔ پیسے کم بھیج رہے ہیں۔ تاکہ ہمارے بچے اور ان کے بچے پاکستان سے رشتہ نہ توڑیں۔ 🔶یہ بات عمران خان سمجھتا ہے۔ عاصم منیر نہیں۔ 🔴جب ہم یہ ایکشن لیں گے، تو ہمارے گھر والوں کو پاکستان میں پتہ چلے گا کہ ہم سیریس ہیں۔ اور گھر والے جب سیریس ہونگے، تب گرائونڈ پے اثر ہوگا۔ 🔶ابھی تک اتنے اوورسیز پاکستانی گرائونڈ پے ایکشن نہیں لے سکے۔ واپس جانا کام چھوڑ کے مشکل ہوتا ہے۔ 🔶لیکن یہ عمل سب کرسکتے ہیں۔ سب کو کرنا ہوگا۔ 🔶عمران خان کو دس دن دسمبر میں گرم کپڑے نہیں دیے۔ دس دن بجلی نہیں دی۔ چارپائی دو ٹکڑے ہوئے ہوئی دی۔ کمینہ کہا انھیں خان صاحب نے۔ وہ کبھی گالیاں نہیں دیتے۔ 🔴ایک بات کی میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں۔ اگر سعودیہ دبئی یورپ امریکہ میں پاکستانی دس فیصد پیسے کم بھیجے دو مہینے تو حکومت گھٹنوں پے آجائے گی۔ عمران خان سے مذاکرات شروع کردے گی۔ کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ 🔶فارن ایکسچینج کا سب سے بڑا ذریعہ ٹی وی فریج اخروٹ کی ایکسپورٹ نہیں ہے۔ آپ کا میرا خون پسینہ ہے۔ اوورسیز پاکستانی کا خون پسینہ ہے۔ 🔴وقت آگیا ہے اس خون پسینے کا حساب لیں ہم۔ ایاک نعبدو وایاک نستعین۔ اللّٰہ تجھ سے ڈرتے ہیں۔ اور کسی سے نہیں۔

Bilal Ansar Khan

90,726 views • 1 year ago

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 views • 9 months ago

دبئی، ابو ظہبی، شارجہ کے بھائیو۔اگرہم سعودیہ کو ہٹا دیں، تو سب سے زیادہ آپ پیسہ پاکستان بھیجتے ہو۔20 لاکھ ہو آپ۔ ہر مہینے 400 ملین ڈالر گھر بھیجتے ہو۔ عمران خان نے آپ سے ڈائریکٹ مدد مانگی ہے۔ جنوری میں کم پیسے بھیجنے کا کہا ہے۔ کتنے کم؟ میں نمبر بتائوں گا۔ یہ بھی بتائوں گا کہ ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ جنوری کے آخر میں ہم کامیاب ہوئے یا ناکام؟ 🔴 جوسب سے زیادہ کماتے ہیں، ان سے شروع کرتے ہیں۔ رول ماڈل وہ بنیں جن کے پاس سب سے زیادہ استطاعت ہے۔ ہمارے ڈاکٹر، ہائی لیول آئی ٹی اسپیشلسٹ بھائی اور بہنیں۔ 🔴چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 5500 درہم بھیجتے ہیں گھر ہر مہینے۔ آپ نے ہر مہینے ۵۵۰ درہم کم بھیجنے ہیں گھر۔ تو اگر آپ 5500 بھیجتے ہیں، تو آپ نے 4950 درہم بھیجنے ہیں۔ کرلیں گے؟ لیڈر بنیں گے؟ 🔶 گھر والے باتیں سنائیں گے۔ عمران خان کو برا بھلا کہیں گے۔ آپ کو پاگل کہیں گے۔ سن لیں گے باتیں؟ برداشت کر لیں گے؟ 🔴آتے ہیں ہمارے انجیبئیر بھائیوں پے۔ چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 3500 درہم بھیجتے ہیں واپس گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں350 درہم کم۔ 10 فیصد کم۔ 🔶یعنی اگر 3500 بھیجتے ہیں تو 3150 بھیجنے ہیں۔ بھیجیں گے اتنے کم؟ جب گھر والے آپ کو پاگل کہیں گے تو آپ کو بھی اپنا آپ پاگل پاگل محسوس ہوگا۔ اس ٹینشن میں، جب خود ہی اپنے اوپر شک ہوجائے، اپنا ایمان مضبوط رکھ پائیں گے؟ 🔶اپنے اصولوں پے کھڑے ہوپائیں گے؟ اپنے فیصلے پے ٹکے رہیں گے؟ 🔴آتے ہیں ہمارے الیکٹریشن،پلمبر،کارپینٹر بھائیوں پے۔اور ایسے تمام جابز والے ہیں بھائیوں پے۔ چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 2300 درہم بھیجتے ہیں واپس گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں۲۳۰ درہم کم۔ 10 فیصد کم۔ 🔶اگر 2300 بھیجتے ہیں تو 2070 بھیجنے ہیں۔ کر لیں گے؟ ماں سر پیٹ کے کہے گی میری ہی غلطی تھی تمہارے ابو کی بات ٹائم پے نہیں مانی، یہ عمران خان کی بکواس بند نہیں کی۔ آج شرمندہ ہوں شرمندہ ہوں شرمندہ ہوں۔ 🔶تو کیا کہو گے؟ 🔴آجاتے ہیں ہمارے کنسٹرکشن ورکرز، پرسنل ڈرائورز، گھر میں کام کرنے والوں پے۔ ایسی تمام جابز والے بھائیو، بہنو۔ چیٹ جی پی ٹی کہتا ہے کہ آپ تقریبا825 درہم بھیجتے ہو مہینے کا گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں 80درہم کم۔ 🔶مطلب اگر825 بھیجتے ہو تو 740 بھیجنا ہے۔ یہ مشکل ترین کام، کر لو گے؟ 🔴یہ جو آخری کیٹگری کے ورکر ہیں، ان کے درد کا ہمیں خاص احساس کرنا چاہیے۔ یہ اپنی 80 فیصد کمائی پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ خود اپنے لیے بس کرائے کے اور کھانے کے پیسے رکھتے ہیں۔ 🔶رہتے بھی دس دس بیس بیس لوگ ایک کمرے میں ہیں۔ ظاہر ہے اتنی مشکل میں بھی سارے پیسے گھر بھیجتے ہیں کیونکہ گھر میں ضرورت اتنی بڑی ہے۔ قرضے کی قسط دینی ہے، بہن کی فیس، بھائی کی دکان کا خرچ، امی کی دوائی۔ 🔶میں کس منہ سے آپ سے قربانی مانگ رہا ہوں، مجھے خود نہیں پتہ۔ مگر عمران خان کا مسیج ہے۔ پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر ہوسکے، تو پیسے کم بھیجیں۔ اگر نہ ہوسکے، تو برا فیل نہ کریں۔ آپ کیسے زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں احساس ہے۔ 🔶عمران خان آئے گا۔ آپ کو عزت، سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس، فخر دلائے گا۔ زیادہ دیر نہیں۔ 🔴🔴اس زبردست مہم کی کامیابی کا ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟ ایسے پتہ چلے گا کہ اگر جنوری کے آخر میں۴۰۰ ملین ڈالر کے بجائے ۳۶۰ ملین ڈالر ہم نے واپس بھیجے ہوں۔ 🔴اور یہ نمبر ہم چیک کریں گے۔ جنوری کے اینڈ پہ۔ اگر آپ نے میں نے، ہم سب نے مل کے کامیاب ہونا ہے تو اس نمبر کو۴۰۰ ملین ڈالر سے ۳۶۰ ملین ڈالر پر لے کے آنا ہے۔ کیا آپ اور میں مل کے یہ کام کر سکتے ہیں؟ تاریخ میں پہلی دفعہ، کسی بھی کام میں، پاکستانی متحد ہوسکتے ہیں؟ 🔶یا نہیں؟ 🔶خان صاحب ہمارے لیے جیل میں ڈیڑھ سال سے سڑ رہے ہیں۔ بجلی بند، گرم کپڑے بند، دو دفعہ فوڈ پائزنگ۔ ہم سے ہماری فیملی کی ایک طرح سے قربانی مانگ رہے ہیں۔ اور یہ دل پے پتھر رکھ کے مانگی ہے۔ ورنہ عمران خان نیازی نے آج تک اپنی ذات کی خاطر کسی سے پھوٹی کوڑی نہیں مانگی۔ یہ بھی ذات کے لیے نہیں مانگ رہا۔ ہم اپنی اور اپنی فیملی کی آج قربانی دے رہے ہیں، تاکہ کل اور پرسوں ہمارے حالات بہتر ہوں۔ ہم یہ ذمہ داری، قربانی کی یہ ذمہ داری، اپنی اگلی نسل پے نہیں چھوڑ سکتے۔ اللّٰہ نے موقع دیا ہے، لیڈر دیا ہے۔ میچ جیت کے جائیں اب۔ 🔴بھروسہ رکھیں۔ آپ اور میں، مل کے یہ کریں گے۔ ہم کامیاب ہوں گے۔ہمیں عمران خان نے آگ میں پچھلے چند سالوں میں ٹرین کیا ہے۔ آگ میں ٹرین ہوئے لڑ مر جاتے ہیں۔ ہارتے نہیں۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین اللہ تیری عبادت کرتے ہیں تجھ سے ڈرتے ہیں کسی آئس پیار، چیف سے نہیں۔

Bilal Ansar Khan

137,411 views • 1 year ago

چیرمین کرکٹ بورڈ/وزیرداخلہ محسن نقوی کی یقینا کوشش ہوگی ٹی 20ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہ کیا جائے کیونکہ اس میں بہت مالی فائدہ ہے۔کرکٹ بورڈ کو ملین آف ڈالرز ملیں گے.دوسری طرف بھارت سے ناراض بنگلہ دیشی عوام خصوصا نوجوان نسل انتظار کررہی ہے جب نیو دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان نفرت/جھگڑا عروج پر ہے وہاں پاکستان کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے کرکٹ /ڈالرز اہم ہیں یا اس مرحلے پر جب بھارت بنگالیوں کو اکیلا کر رہا ہے اس وقت بنگلہ دیش عوام کے ساتھ کھڑا ہونا اہم ہے؟ وہ پرانی اور نئی نسل نوجوان بے چینی سے دیکھ رہے ہیں پاکستان کیا فیصلہ کرتا ہے جو ہر وقت بنگالیوں کے غم میں مبتلا اور انہیں بچھڑے بھائی کا درجہ دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے ڈالرز یا بچھڑا بھائی اہم ہوگا جس کے ساتھ ہماری قوم کا 1971 سے رومانس/نسٹلیجا کبھی ختم نہیں ہوتا ؟ اس ایک فیصلے کے دوررس اثرات ہوں گے خصوصا پاکستان اور بنگلہ دیش کی عوام کو یہ فیصلہ مزید قریب بھی لاسکتا ہے یا پھر بہت دور بھی لے جاسکتا ہے۔۔ پاکستان کی وہی حالت ہوچکی ہے کہ آگے کھائی تو پیچھے سمندر ہے~~کیا فیصلہ ہوگا؟ ICC Bangladesh Cricket Chief Adviser of the Government of Bangladesh Mohsin Naqvi Pakistan Cricket BCCI Shehbaz Sharif Dr. Nauman Niaz Rashid Latif | 🇵🇰 Wasim Akram The Daily Star News from Bangladesh Bangla Urdu | بنگلہ اردو Banglanews24.com RtvOnline BangladeshTelevision Centrist Nation TV DG ISPR Khawaja Saad Rafique Khawaja M. Asif Palwasha Khan Ministry of Foreign Affairs - Pakistan Ishaq Dar Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Sohail Iqbal Bhatti Zahid Gishkori

Rauf Klasra

22,432 views • 8 months ago

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔
1:45

Sensitive content

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔

Saleem Speaks

276,915 views • 8 months ago

عمران خان سیکٹر E-7 اسلام آباد میں میرے پڑوسی تھے جب میں 2008 میں پی ٹی آئی کا کارکن بنا۔ میری عمر پندرہ سال تھی۔ میں وہاں پر اپنی گھر کے قریب کالج کے بعد کرکٹ کھیلتا تھا جب عمران خان نے ہمیں بُلا کر بتایا کہ مجھے آپ جیسے نوجوان لوگوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سارا نظام کرپٹ ہے اور ہمارے حکمران امریکہ سے پیسے لے کر غلامی کرتے ہیں جس کے بعد مجھے انہی کے وارڈ کا جنرل سکریٹری اور پھر صدر منتخب کیا گیا۔ ہم لوگ تقریباً ہر جمعہ کو عدلیہ کی آزادی (چیف جسٹس افتخار چوھدری بحالی تحریک)، ڈرون حملوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب اور آبپارہ چوک میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ رشتہ دار، دوست یہاں تک کہ سکول کے ٹیچر بھی مزاک بناتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن عمران خان کے حکم پر اپنی محنت اور کوشش جاری رکھی۔ اس وقت جب پولیس پکڑتی تھی تو تھانے لے جا کر دو تین چھِتر مار کر چھوڑ دیتی تھی۔ پارٹی میں کبھی بھی عہدہ یا ذاتی مفاد لینے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایک ورکر ہونے کی حیثیت سے گراؤنڈ پر کام کیا۔ کبھی بھی میڈیا پراجیکشن نہیں کی اور نا ہی تصاویر اور وڈیوز کا شوق رکھا۔ میں اپنی حکومت میں بھی ہمیشہ فوج کے سیاسی مداخلت پر تنقید کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں اور آیئندہ آنے والے وقت میں بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک خفیہ اداروں کی سیاسی مداخلت اور انجنیئرنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں قسم کھائی ہے کہ اگر نظریہ عمران خان کے لئے مجھے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے گا تو میں ایک بار بھی نہیں سوچوں گا۔ میں اپنی یہ تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وقت نے مجبور کیا کہ بتایا جائے کہ ٹوئٹر پر بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنے لیڈر کے نظرئے کو تشدد کے بعد بھی قائم و دائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا اثاثہ رہا ہے لیکن ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ جب تک سینئر قیادت عوام کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے لیے باہر نہیں نکالی گی یہ لوگ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے۔ کیا کوئی سینئر لیڈر بتا سکتا ہے کہ آٹھ ماہ بعد بھی آج عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کا آغاز کیوں نا کیا جاسکا ؟ ایسی کیا رکاوٹ ہے آج بھی سینئر قیادت احتجاج اور جلسے کرنے سے خوف زدہ ہے جبکہ عمران خان ہر میٹنگ میں سینئر قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ پورے پاکستان میں احتجاج کئے جایئں۔ سوشل میڈیا کو چاہئے کہ اپنی سینئر قیادت سے سب سوال پوچھے اور ان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلایئں۔ میری کسی بھی ٹویٹ یا لفظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔

Wajahat Sami

145,379 views • 2 years ago

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث کا میلہ لوٹ لیا، مدلل اور پر مغز خطاب کے دوران قومی اسمبلی ہال اور گیلریوں میں سکوت طاری۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے خطاب نے نہ صرف بجٹ بحث کا رخ تبدیل کر دیا بلکہ آزاد کشمیر، کشمیر کاز، مہاجرین کی نمائندگی اور پارلیمانی اصلاحات جیسے اہم موضوعات کو قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا۔ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے! چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے تو اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

Afzal Butt

19,169 views • 3 months ago

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

Altaf Hussain

11,172 views • 3 months ago

نصیب اللہ بادینی سمیت تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیا جائے #ReleaseNaseebUllahBadini بلوچستان میں لاپتہ افراد کامعاملہ انتہائی سنگین ہوچکاہے، نصیب اللہ بادینی سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوان اور دیگر قوموں کے لاپتہ افرادبرسوں سے لاپتہ ہیں، بلوچ نوجوان نصیب اللہ بادینی کودس سال پہلے گرفتارکیا گیا تھا، وہ آج تک لاپتہ ہے، اسی طرح سینکڑوں پشتون، سندھی اورمہاجرنوجوان بھی لاپتہ ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں۔ وہاں ظلم وستم کی انتہا کردی گئی ہے۔ پاکستان خصوصاً اہلِ پنجاب ، بلوچوں پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ آزادی کی تحریک کیوں چلارہے ہیں۔ اہل پنجاب کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر بلوچ نوجوانوں کی طرح خدانخواستہ پنجاب کے نوجوانوں کوبھی سینکڑوں کی تعداد میں غائب کردیا جائے تو آپ کے تاثرات کیاہوں گے؟ جب ریاست اپنے بچوں کوکھانے لگے، نگلنے لگے تو وہ مظلوم کیا کریں گے؟ ان کے گھروالوں کے جذبات کیاہوں گے؟ بلوچوں کودیوارسے لگادیاگیاہے، ریاستی مظالم نے ان کے سارے راستے بند کردیے ہیں۔ میں مظلوم بلوچوں سے مکمل ہمدردی کااظہارکرتا ہوں اور فوج سے کہتاہوں کہ خدارا نصیب اللہ بادینی سمیت تمام لاپتہ بلوچوں کوبازیاب کیا جائے، اسی طرح لاپتہ پشتونوں، سندھیوں ،مہاجروں اور کشمیریوں سمیت تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیاجائے ۔ میں ایم کیوایم کے کارکنوں سمیت تمام افرادسے اپیل کرتاہوں کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سوشل میڈیاپر چلائی جانے والی مہم میں بھرپورحصہ لیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 161ویں فکری نشست سے خطاب 23 نومبر 2024 Baloch Voice For Justice Mahpara Baloch

Altaf Hussain

11,363 views • 1 year ago

🔴کرغزستان میں ان نے پاکستانی بچوں پے حملہ کیا کیوں؟ آخر لڑائی کس بات پے ہوئی؟ 🔶دراصل تیرہ مئی کو کرغز لڑکے ایک مصری میڈیکل کی لڑکی کے ہاسٹل روم میں گھسے، ابن سینا یونیورسٹی میں، جس کے بعد لڑائی شروع ہوئی۔ مصری میڈیکل اسٹودنٹ اور لوکل لڑکوں میں 🔶مصری اسٹوڈنٹ ہیں ہی تھوڑے سے۔ ہزار سے کم شاید، جبکہ پاکستانی دس ہزار ہیں 🔶لوکل لڑکوں نے پاکستانیوں کو مصری لڑکوں سے کنفیوژ کیا (ایک جیسی رنگت؟) اور مارنا شروع کردیا۔ انڈین اور بنگلا دیشیوں کو بھی مارا۔ لیکن پاکستانی زیادہ نشانہ بنے 🔶دراصل جن بڑے ہاسٹلز میں لڑائی ہوئی، وہ پاکستانی اسٹوڈنٹ سے بھرے ہیں۔ سوشل میڈیا پے اسٹوڈنٹس کی بات سن کر تو یہی لگتا ہے 🔴سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ لڑکیوں کی عزت اور زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ لوکل لڑکے پاکستانی لڑکیوں کے ہاسٹل کے کمروں میں گھسے اور کہنے لگے "یس؟ نو؟ بے بی؟" 🔶ہم نے سڑکوں پے دیکھا کے لڑکیاں ڈر کے التجا کررہی ہیں کہ مجھے کچھ نہ کرنا، مجھے کچھ نہ کرنا 🔶پاکستانی حکومت کا فضول ترین ری ایکشن رہا ہے۔ ایمبسی نے رات کو لیٹ ایک نمبر دیا کال کرنے کے لیے۔ مگر رپورٹس ہیں کہ ایک تو نمبر اٹھاتا کوئی نہیں، دوسرا کوئی مدد کرنے کی بات نہیں کرتا 🔶ہمارے پرائم منسٹر اور فارن منسٹر نے صبح نو، دس بجے ٹویٹ کی، اور وہ بھی ہومیوپیتھک سی، کوئی ڈیٹیل انفارمیشن نہیں۔ کوئی عمل نہیں بتائے جو پکے کررہے ہیں اور جن سے اسٹوڈنٹس کو واقعی تسلی ہو 🔴کرغز حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ کوئی پاکستانی اسٹوڈنٹ نہیں مرا۔ دعا ہے یہ سہی ہو۔ مگر سوشل میڈیا پے تصویریں ہیں بچوں کے مرے ہوئے دکھنے کیں، اور مار کٹائی کی تو بہت زیادہ ہیں 🔶پورے ہجوم مار رہے ہیں بچوں کو۔ لڑکیوں کی جان اور عزت کے خطرے میں ہونے کی بھی بہت ویڈیوز ہیں۔ گلیوں میں تنگ کررہے ہیں، ہاسٹل کے دروازے شیشے توڑے ہوئے ہیں 🔶میرے خیال میں فوراً اسٹریٹیجی بچوں کو بچانے کے لیے یہ ہونی چاہیے: انڈین اور بنگالی بچوں کو بھی مارا ہے کنفوژن میں۔ سب کو ایک ساتھ لے کے ایڈریس کریں 🔴بنگلادیشی فارن منسٹر اور انڈین فارن منسٹر جےشنکر کو بھی ٹیگ کریں۔ سب مل کے پریشر ڈالیں گے، کرغز حکومت سنجیدہ ایکشن لے گی۔ اکیلے پاکستانی کا وہ زور شاید نہ ہو 🔴پھر بھی، اپنی حکومت پے سوشل میڈیا کے ذریعے، خاص طور پے ایکس پے، دبا کے پریشر ڈالیں۔ جب تک انسان نہیں بنتے پریشر ڈالیں 🔶جھوٹی خبریں اور سنسنی نہ پھیلائیں۔ بچے اور والدین بہت ڈرے ہوئے ہیں Ishaq Dar Shehbaz Sharif Turkish MFA Egypt MFA Spokesperson Dr. S. Jaishankar Ministry of Foreign Affairs MFA Kyrgyzstan 🇰🇬 Pakistan Embassy Kyrgyzstan Hasan Zaigham

Bilal Ansar Khan

102,641 views • 2 years ago