Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

🔞اٹھارہ سال سے کم عمر ویڈیو نہ دیکھیں🔞 #بےحیائی_کا_خاتمہ_کرو #ٹک_ٹاک_پر_پابندی_لگائیں_نوجوان_نسل_کو_بچائیں یہ ٹک ٹاک جیسی بےحیائی اوربےغیرتی ہماری نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ بزرگوں تک کواخلاقی زوال کی طرف دھکیل رہی ہےاگر اس بےلگام طوفان کونہ روکاگیاتوآنےوالی نسلوں کامستقبل تباہ ہوجاےگا⚠️ آئیےاپنی تہذیب،اقداراونئی نسل کی حفاظت کےلیےآواز بلند کریں۔📵

6 条评论

Jia K 的头像
Jia K6 个月前

Yeh Baba roz kay hazaron kama raha

Awaked 的头像
Awaked6 个月前

#ٹک_ٹاک_پر_پابندی_لگائیں_نوجوان_نسل_کو_بچائیں

⭐ 🇵🇰ضیاء 的头像
⭐ 🇵🇰ضیاء6 个月前

Ye fabiha jattii h

Aslam K Nawaz 的头像
Aslam K Nawaz6 个月前

So why you are posting ? Where is your brain ?

AYYAN WAQAS 的头像
AYYAN WAQAS6 个月前

@grok who is she?

Hackerunited 的头像
Hackerunited6 个月前

Kanjri Punjabi aurat

相关视频

دل پھٹ جاتا ہے... یہ خنجر، یہ پسٹل، یہ کلا/شنکوف دکھانے کا کیا مطلب ہے بھائی؟ میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ ہماری معصوم نوجوان نسل، جو کل اس ملک کا مستقبل سنبھالنے والی تھی، آج سوشل میڈیا پر تشدد اور ہتھیا//روں کی دنیا میں کھو رہی ہے۔ وہ بچے جن کے چہرے پر معصومیت ہوتی تھی، جن کے ہاتھوں میں کاپیاں، قلم اور کتابیں ہونی چاہییں تھیں، آج ہتھیار اٹھائے ہوئے "ہیرو" بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں یہ سکھایا تھا؟ کیا یہ وہی خواب تھے جو ہم نے اپنی اولاد کے لیے دیکھے تھے؟ اے ماں باپ! جاگ جاؤ... اے اساتذہ! ذمہ داری نبھاؤ... اے سوشل میڈیا کمپنیوں! اس زہر کو روکو... اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیکیورٹی اداروں سے گزارش ہے، بھرپور ایکشن لو یہ صرف ایک رجحان نہیں، یہ ایک خطر/ناک طوفان ہے جو ہماری نسلوں کو /تباہ کر رہا ہے۔ دل روتا ہے سوچ کر کہ آج کا نوجوان بند/وق کی آواز میں سکون ڈھونڈ رہا ہے جبکہ اسے علم کی روشنی کی طرف جانا چاہیے تھا۔ اللہ پاک! ہماری نوجوان نسل پر رحم فرما.. . انہیں گمراہی سے نکال اور درست راستے پر لے آ۔ آمین۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اسے روکیں۔ نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہے، اسے ضائع نہ ہونے دو! #نوجوان_نسل_بچاؤ #پاکستان_کا_مستقبل #تشدد_کا_خاتمہ #سوشل_میڈیا_ذمہ_داری

چوہدری قاسم

101,957 次观看 • 2 个月前

🚨 ایک ویڈیو... اور زندگی کا آخری لمحہ! یہ نوجوان آصف، ساکن سنگینی کی آخری ویڈیو ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ زیڑی ڈیم کے پشتے پر ہنڈا موٹر سائیکل کھڑی کر کے ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنا رہے تھے۔ اچانک موٹر سائیکل کا توازن بگڑا، وہ گہرے پانی میں جا گرے، اور چند لمحوں میں ایک ہنستا بستا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، اور افسوس یہ بھی ہے کہ شاید یہ آخری بھی نہ ہو۔ سوشل میڈیا پر چند لمحوں کی شہرت، خطرناک اسٹنٹس اور غیر ذمہ دارانہ حرکات ہماری نوجوان نسل سے قیمتی زندگیاں چھین رہی ہیں، مگر ہم پھر بھی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ والدین سے درد بھری اپیل ہے: اپنے بچوں کی صرف تربیت ہی نہ کریں، بلکہ ان کے دوستوں، صحبت اور سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ بعض اوقات غلط صحبت اور وقتی جوش ایک ایسا قدم اٹھوا دیتے ہیں جس کا انجام صرف افسوس، آنسو اور دعائے مغفرت رہ جاتا ہے۔ یاد رکھیں! ایک ویڈیو دوبارہ بن سکتی ہے، لیکن ایک زندگی کبھی واپس نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم آصف کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ نوجوانوں سے گزارش ہے: زندگی کو لائکس، ویوز اور فالوورز پر قربان نہ کریں۔ آپ کی جان آپ کے والدین کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی امانت ہے۔ آفتاب خٹک

Ather Salem®

49,067 次观看 • 1 个月前

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔
1:45

Sensitive content

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔

Saleem Speaks

276,915 次观看 • 8 个月前

آج ایک خاتون لاہور چڑیا گھر گئیں تو انہوں نے یہ ویڈیو شئیر کی ۔ مجھے کراچی چڑیا گھر کی ہتھنی ,, نور جہاں ،، کی موت نہیں بھولتی اور وہ اس کے آخری دن ۔۔۔ ، وہ اٹھارہ سال قید تنہائی میں تڑپتی رہی ، اور پھر ایسی گری کہ کھڑی نہ ہوپائی ، اور وہ لاہور کی سوزی ! چھ سال کی عمر میں چڑیا گھر لائی گئی ، جس نے 35 سال دیکھنے والوں کا دل بہلایا مگر اس کا دل کوئی نہ بہلا سکا ، ڈپریشن کا شکار ہونے لگی ، ہفتوں سر جھکائے بھوکی رہتی اور عمر کے آخری سال دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کے مر گئی یعنی آزاد ہوگئی ۔ اور وہ لاہور Zoo کے ہی نایاب ببر شیر اور شیرنیاں ۔۔۔ فیری ، راول اور انجیلا ، اور ان کے بچے مصنوعی ماحول میں جینے کی کوشش میں۔۔۔۔ مرگئے ۔ میرے بس میں ہو تو کم ازکم پاکستان کے چڑیا گھر ختم کرادوں ، جس ملک میں انسانوں کی حالت قابل رحم ہو وہاں جانوروں کی ذمہ داری کوئی کیوں لے ؟ مجھے ان بےزبانوں کی حالت پر رحم آتا ہے ۔ کاش ۔۔۔ یہ چڑیا گھر نہ ہوتے ۔۔۔ نہ ہمیں پیسے بھر کو ان کو قید دیکھنے کی چاہ ہوتی ۔۔ اس ویڈیو میں ایک سفید چیتا بےچینی سے پنجرے کے اندر چکر لگا رہا ہے ، صاف نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاؤں میں کوئی مسئلہ ہے، شاید ہڈی ٹوٹی ہے، مگر تکلیف میں ہے ۔ بےچین ہے ۔۔ مجھے نہیں معلوم چڑیا گھر کی انتظامیہ کہاں ہے ۔۔۔ بس اتنا معلوم ہے یہ بھی ایک دن زندگی ہار جائے گا ۔ کاش یہ ویڈیو چیف منسٹر پنجاب تک پہنچ جائے ، کروڑوں کی ٹکٹوں پر چلنے والے یہ چڑیا گھر نہیں عقوبت خانے ہیں ، یہاں ہر پنجرے اور دیوار سے عجیب سی وحشت ٹپکتی ہے ۔۔ قید میں مرنے والے ہرجانور کی روح ، سلاخوں میں جینے والوں کو تسلی دیتی ہے کہ فکر نہ کرو ! کبھی مر گئے تو آزاد ہوجاو گے ۔ سوزی ، نور جہاں ، فیری ، راول اور انجیلا ۔۔۔ کی طرح 💔

Ch Asif Hamaiyon

118,664 次观看 • 1 年前

ہم صرف سندھ کی بات نہیں کر رہے، ہم پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں،ہم نے ایک نئے زاویے کے ساتھ سوچنا ہے،میں آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے آیا ہوں،آج وقت آگیا ہے کہ اپنے ملک کی اصلاح کو ٹھیک کریں،ملک کو اسلامی شناخت دینی ہوگی یہاں پر نہ انسانی حقوق کا تحفظ ہے اور نہ ہی یہاں انسان کی جان، عزت و آبرو محفوظ ہے،کہا جاتا ہے کہ مولوی بھی اقتدار اور کرسی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن سنو اقتدار اور کرسی کی جنگ تو تم لڑ رہے ہو کرسی تک پہنچنا یہ تمہاری زندگی کا مقصد ہے،ہماری منزل اس سے بھی آگے ہے،نوجوان نسل کو گمراہ کیا گیا، بے حیائی اور عریانی کو نوجوان نسل کی زندگی کا حصہ بنایا، یہاں پر اپنی سیاست کے لیے اسرائیل کے موساد اور ہندوستان کے را سمیت امریکہ اور یورپ سے پیسا لے کر کہتے رہے کہ ہم پاکستان بنا رہے ہیں، حالانکہ وہ تو اپنے آقاؤں کا ایجنڈا پورا کر رہا تھا،مجھے افسوس ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کردیا،ملک کو آگے جانے سے روک دیا گیا۔ سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ محبتیں دی ہیں، سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا انشااللہ، انتخابات ہوں گے، کتاب پر ٹھپہ لگے گا،اللہ تعالی جمیعت علماء اسلام اور ہمارے اتحادیوں کو کامیاب کرے گا۔ انشاءاللہ

Maulana Fazl-ur-Rehman

75,603 次观看 • 2 年前

یہ ویڈیو دیکھ کر کوی بھی زی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ لوگ انسان نہی حیوان ہیں ۔ٹک ٹاک لائیو میں ہزاروں لوگوں کے سامنے منہ پر تھپٹر مارنے والی لڑکی اور ٹب میں گند ڈال کر اس پانی سے نہانے والی لڑکی بلکل پاگل نہی ہے ۔ یہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار Senorita ہے جسکے ملین فالورز ہیں ۔ اب یہ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اپ مجھے فرق بتایے ڈارک ویب پر جو کچھ دنیا سے چھپ کر کیا جاتا ہے وہی ٹک ٹاک لائیو پر سبکے سامنے کیا جاتا ہے ۔۔ لوگ کہتے ہیں ٹک ٹاک تو گند ہے اس کو ڈسکس نہ کرو اگر یہ صرف گند ہوتا تو بھی ٹھکانے لگایا جا سکتا یہ وائرس ہے جو نوجوان نسل کو کھارہا ہے جو اس معاشرے کو تباہ کر رہا ہے ۔ ڈاکٹر ایمان اور اس لڑکی نے میچ لگایا ۔ ہارنے پر گفٹرز کی طرف سے دی گی شرائط پر عمل کر رہی ہے ۔ مطلب اپ پیسہ پھینکو اور تماشہ دیکھو ۔۔ اور جتنی گندی فحش حرکتیں ہونگی اتنا زیادہ گفٹ ملتے ہیں ۔۔ یہاں سزا کے نام پر مجرے Truth and dare کے نام پر ایسی ایسی حرکات ایسے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔۔ جو اپ نے زندگی میں نہی سنے اور دیکھے ہونگے ۔۔ میری ریکوسٹ ہے اگر یہ پوسٹ کوی صحافی کوی سیاست دان کوی حکومتی وزیر کوی بگ بردار دیکھ رہا ہے تو ان سائیکو زومبیز کو دبئی سے بلا کر انکا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا جاے ۔۔
1:57

Sensitive content

یہ ویڈیو دیکھ کر کوی بھی زی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ لوگ انسان نہی حیوان ہیں ۔ٹک ٹاک لائیو میں ہزاروں لوگوں کے سامنے منہ پر تھپٹر مارنے والی لڑکی اور ٹب میں گند ڈال کر اس پانی سے نہانے والی لڑکی بلکل پاگل نہی ہے ۔ یہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار Senorita ہے جسکے ملین فالورز ہیں ۔ اب یہ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اپ مجھے فرق بتایے ڈارک ویب پر جو کچھ دنیا سے چھپ کر کیا جاتا ہے وہی ٹک ٹاک لائیو پر سبکے سامنے کیا جاتا ہے ۔۔ لوگ کہتے ہیں ٹک ٹاک تو گند ہے اس کو ڈسکس نہ کرو اگر یہ صرف گند ہوتا تو بھی ٹھکانے لگایا جا سکتا یہ وائرس ہے جو نوجوان نسل کو کھارہا ہے جو اس معاشرے کو تباہ کر رہا ہے ۔ ڈاکٹر ایمان اور اس لڑکی نے میچ لگایا ۔ ہارنے پر گفٹرز کی طرف سے دی گی شرائط پر عمل کر رہی ہے ۔ مطلب اپ پیسہ پھینکو اور تماشہ دیکھو ۔۔ اور جتنی گندی فحش حرکتیں ہونگی اتنا زیادہ گفٹ ملتے ہیں ۔۔ یہاں سزا کے نام پر مجرے Truth and dare کے نام پر ایسی ایسی حرکات ایسے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔۔ جو اپ نے زندگی میں نہی سنے اور دیکھے ہونگے ۔۔ میری ریکوسٹ ہے اگر یہ پوسٹ کوی صحافی کوی سیاست دان کوی حکومتی وزیر کوی بگ بردار دیکھ رہا ہے تو ان سائیکو زومبیز کو دبئی سے بلا کر انکا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا جاے ۔۔

Saleem Speaks

91,604 次观看 • 5 个月前

آپ شاید میرا یقین نہ کریں لیکن مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاک کی بھی مونوٹائزیشن ہوتی ہے اور وہاں بھی ڈالرز میں آمدن ہوتی ہے ورنہ مجھے صرف یو ٹیوب اور ایکس کا ہی معلوم تھا اور مجھے آج سمجھ آئی کہ یہ ٹک ٹاکرز ویڈیوز لیک ہونے کے زیادہ واقعات کیوں ہونا شروع ہو گئے ویسے میں سوشل میڈیا کے زہر آلود اثرات پر متعدد تحریریں لکھ چُکا ہوں مگر آج ٹک ٹاک کی مونوٹائزیشن اور ڈالرز میں آمدن کا سُن کر ایک مرتبہ تو پسینے چھوٹ گئے ایک وی لاگ سے اندازہ ہوا نہ صرف ٹک ٹاک پر آپ یو ٹیوب سے زیادہ کماتے ہیں بلکہ یہاں ویڈیوز دیکھنے اور ویڈیوز کو ریسپونڈ کرنے سے بھی کمائی ہوتی ہے محترمہ حکومت صاحبہ Shehbaz Sharif DG ISPR Mohsin Naqvi Maryam Nawaz Sharif اگر اس عنفریت (ٹک ٹاک) کو پاکستان میں بند نہ کیا گیا تو آنیوالے چند سالوں میں جب آج کے دس سال کا لڑکا/لڑکی 17/18 سال کا ہوگا تو ہمارے معاشرے کا چہرہ بگڑ کر بہت بدنما چُکا ہوگا جب ایک لڑکے/لڑکی کو بیہودگی پھیلانے پر ٹھیک ٹھاک پیسے مل رہے ہونگے تو پھر اس بیہودگی کو عام ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا اس میں تباہ حال بات یہ ہے کہ ایک بچہ/بچی 18/20 سال کی سخت محنت طلب پروفیشنل تعلیم کے بعد برسر روزگار ہوتا ہے اور پھر وہ لاکھ روپیہ سے اپنی پروفیشنل زندگی کا سفر شروع کرتا ہے 👆 یہ بات تو میں نے پروفیشنلز ڈاکٹر انجنئیرز اکاؤنٹینٹس وکلاء سے متعلق کی یہاں تو لاکھوں بچے بچیوں کی تعداد ہے جو مالی مشکلات کی باعث میٹرک انٹر کے کے بعد ہی چھوٹی موٹی چند ہزار کی نوکریاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں پیسہ ہر انسان کی ضرورت ہے میں نے اپنی زندگی میں کسی انسان کا پیٹ پیسے سے بھرتے ہوۓ نہیں دیکھا بھلے وہ غریب ہے یا امیر تو جس ملک میں لاکھوں فیملیز سطح غربت سے نیچے رہتی ہوں بروکن فیملیز ہیں جن میں پچوں کا کوئی پرسان حال نہیں گھر کے حالات یا ماحول کی وجہ سے سپائلڈ اور بغاوت پر اُترے ہوۓ بچے ہیں بہت سی نابالغ اولادیں جو صرف اس ڈر سے اپنے گھر میں رہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ باہر اُنہیں روٹی تک نہیں ملے گی ٹک ٹاک والے ان حالات میں میرے مُلک کے بچے کا دیھان کیونکر اس طرف نہیں جاۓ گا یا وہ بغاوت پر نہیں اُترے گا؟ اور اُسکے ذہن میں یہ سوال کیونکر پیدا نہیں ہوگا؟ کہ اُسے محنت کی ضرورت کیا ہے؟ کیونکہ اُسکی نظروں کے سامنے ایک جاہل اور کنجر مافق ٹک ٹاکر کے پاس فیم اور پیسہ دونوں کہیں زیادہ ہیں بلکہ وہ حرامزادے تو مذھبی اور سیاسی لیڈرز بھی بنے ہوۓ ہیں اور اس کام میں محنت کوئی ہے ہی نہیں بیہودہ بکواس کرنا ہے جسم کی نمائش کرنا ہے اور پھر کسی دن کپڑے اُتار دینے ہیں پیسہ تو اندھا کر دیتا ہے اور پیٹ کی بھوک تو ازل سے کپڑے اُترواتی آئی ہے یہ بیہودگی والی خوفناک صورتحال تو اس مُلک کی ناپختہ ذہن بچیوں کے لئیے ہے اور لڑکوں کے لئیے ٹک ٹاک پر کیا ہے؟ ہتھکڑی لگے بدمعاش قاتل ڈکیٹ گینگسٹرز ٹک ٹاک پر اپنا آپ ہیرو کی طرح پیش کرتے ہیں بدماشعوں غنڈوں کے شرمناک قصے بہادری کے قصے بنا کر پیش کئیے جارہے ہیں مفرور مجرم انٹرویوز دے رہے ہیں مطلب آپ اس اپلیکیشن کے ذریعہ اپنے وطن کی ینگ جینریشن کو کیا پیغام دے رہے ہیں ہیں؟ کہ اس ملک کی لڑکیاں بیہودگی سے انسپائر ہوں اور لڑکے بدمعاش غنڈوں سے؟ یہ 13 سے 25 سال تک کی عمر بہت خطرناک لاپرواہ اور نفع نقصان کا سوچے بغیر جُرأت والی ہوتی ہے اس عمر میں کوئی لانگ ٹرم پلاننگ نہیں ہوتی نہ یہ سوچ ہوتی ہے کہ کل کیا ہوگا یا نتائج کیا ہونگے یہ بچے صرف آج میں جیتے ہیں ابھی حال ہی میں ایک جھوٹی ریپ ٹک ٹاک پر پنجاب میں آگ لگ گئی ایک جان چلی گئی املاک کو نقصان پہنچا جانے کتنے طلباء جن میں بچے بچیاں دونوں شامل ہیں کالج سے نکالے گئے اُنکا فیوچر ختم ہو گیا آپ نے ایک ٹک ٹاکر گرفتار کی جس نے بچی کی ماں ہونے کا جھوٹا دعوہ کیا اور بچوں کو گرفتار اور پھر کالجز سے نکال دینے کے آرڈرز جاری کر دئیے ایک یوٹیوبر عمران ریاض نے سب سے پہلے اس جھوٹی خبر پر پورا پروگرام کیا معاملے کو ہوا دی اور ملک انتشار پھیلایا آگ لگوا دی وہ کُتی کا بچہ تو اب بھی روز یوٹیوب پر بیٹھا ہوتا ہے اس فساد کے پیچھے ایک سیاسی پارٹی کی پوری لابی موجود تھی آپ نے خود اُنکے واٹس ایپس ایکسپوز کئیے کوئی پکڑا گیا؟ کہاں گئیے آپکے وہ دعوے کہ ہم اس معاملے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے مکمل پڑھنا ہو وہ آرٹیکل میں پڑھ لیں یہ جو کلپ میں لگا رہا ہوں اسکے لئیے تھوڑی تھوڑی معذرت یہ کلپ انڈیا کا ہے اور انڈیا میں تو تباہی پھری ہوئی ہے پاکستان میں ابھی اکا دُکا واقعات ہیں لیکن اگر حکومت نے سخت اقدامات نہ کئیے تو دو چار سال میں پاکستان میں بھی یہی ہوگا جیسے کہ کلپ میں لڑکا بتا رہا ہے بیشک ہمارا مذھب فرق ہے مگر کلچر اور ڈی این اے ایک ہی ہے

کاشف چوہدری

20,458 次观看 • 1 年前

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,639 次观看 • 4 个月前

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,758 次观看 • 1 年前

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ظالم اپنا ظلم بلوچستان کے ہر کونے میں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلوچستان کے ہر گھر میں آگ برسائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ زہری کا علاقہ ہو جہاں پچھلے 25 دنوں سے کرفیو نافذ ہے - اس دوران کتنے لوگ بھوک اور بیماری سے جان بحق ہوئے ہیں، اور کتنی خواتین اور بچے فائرنگ اور ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔ آواران میں ہر ہفتے کسی بلوچ کو فوجی کیمپ میں طلب کر کے اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے۔ مکران میں بھی ایک ہفتے کے اندر ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں پانچ بلوچ نوجوان اغوا کر کے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے یا فائرنگ کر کے شہید کر دیے گئے۔ یہ کسی گھر یا طبقے کی کہانی نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کی کہانی ہے - ظالم یہاں بلوچ کی نسل کشی بلوچ کے اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بلوچ قوم کے لیے بولنا چاہتا ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کیا گیا ہے، دیگر تنظیموں کے رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف بات نہ کریں۔ ہمارے عام عوام کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رات کے وقت گھروں کی دیواریں پھلانگ کر گھس آتے ہیں۔ کبھی جعلی غم خوار بن کر لوگ بھیجے جاتے ہیں تاکہ تمھیں ڈرا دھمکا کر جھوٹی تسلیاں دے کر تمہاری آواز دبائی جائے اور یہ کہہ کر کہ تمہارے مسئلے حل کر دیے جائیں۔ ان تمام حربوں سے ایک بات واضح ہے، ریاست خاموشی سے ہماری نسل کشی جاری رکھنا چاہتی ہے، اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ ایک فرزند، جو بے بسی اور غریبی میں بھی زندگی گزارنے کے ہزاروں خواب رکھتا تھا، اس کی لاش اس کے خوابوں کے ساتھ دفن نہ ہو۔ اس لاش کو زندہ رکھیں - کم از کم جو لوگ اغوا ہو رہے ہیں ان کے کیسز سامنے لائیں، جو لوگ قتل ہو رہے ہیں ان کی لاشیں اپنے خوابوں کے ساتھ سڑکوں پر لا کر دھرنا دیں تاکہ دنیا دیکھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کم از کم ہم اپنے دشمن کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جو چاہے ہمارے ساتھ کرے - بچوں اور عورتوں کو لاپتہ کرے یا قتل کرے، اور اپنے دلالوں کو شہروں میں آزاد چھوڑ دے۔ لازم ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں، ہماری خاموشی ہماری نسل کشی کو مزید تقویت دے گی۔ ہمیں اس طاقت اور خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ جس بلوچ کے گھر میں کوئی ظلم ہوا ہے اسے سامنے لائیں - ظلم کا خاتمہ یہی سے ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔

BAAM

14,884 次观看 • 10 个月前

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 次观看 • 7 个月前

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 次观看 • 6 个月前

آپ ان لاشوں کی حالت دیکھیں، ان کی شکلیں دیکھیں؛ کیا یہ دہشت گردوں کی ہیں؟ یا ان نہتے معصوم بچوں کی جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا؟ ان میں 11-12 سال کے کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ ریاست اور انکے کٹھ پُتلی وزیرِ اعلیٰ کو مضحکہ خیز بیانات سے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ بلوچستان میں جو بھی حق کی بات کرتا ہے، اسے یا تو دہشت گرد، 'را' کا ایجنٹ یا مسلح تنظیموں کا سہولت کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ریاست کا یہ پروپیگنڈا پرانا ہے، مگر اب بلوچ قوم گواہ ہے کہ اصل دہشت گرد، قاتل اور مجرم کون ہے؛ اس کا فیصلہ وقت اور بلوچ عوام کریں گے۔ ریاستی جبر کا یہ سلسلہ صرف اغوا تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک منظم انسانیت سوز نسل کُشی کا عمل ہے جس میں نوجوانوں کو سالوں تک زندانوں کے تاریک اذیت گاہوں میں بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک طرف جب مائیں اپنے پیاروں کی راہ تکتے آنسو بہاتے آنکھوں کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھی ہوتی ہیں، تو دوسری طرف ریاست یہ جھوٹا بیانیہ تراشتی ہے کہ مذکورہ نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، حالانکہ وہ انہی کے زندانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہوتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تب ہوتی ہے جب انہی بے گناہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان مقتولوں کے زرد چہرے اور بے رونق آنکھیں چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ انہوں نے عرصوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی تھی۔ ان کے جسموں پر موجود ٹارچر کے ناقابلِ تردید نشانات اس ریاستی بربریت کا نوحہ پڑھتے ہوئے عیاں کرتی ہیں کہ یہ لوگ ان بد بخت ماؤں کے لاپتہ کیئے گئے جگر گوشے ہیں جن کا وہ کئی سالوں سے راہ تک رہی ہوتی ہیں مگر افسوس کہ بکاؤ میڈیا یک طرفہ ریاستی جھوٹ پھیلا کر حقیقت سے منہ موڑ لیتا ہے۔ لیکن ہم بھی بطور قوم یہ عزم کرتے ہیں کہ اپنے قوم کے فرزندوں کے یوں دردناک قتل پر خاموش نہیں رہیں گے ، انھیں بے موت مرنے نہیں دیں گے ۔ ہم دنیا کے کان میں چیخ چیخ کر اسے حقائق سے آشنا کریں گے ۔ اس اجتماعی سزا سمیت بلوچ نسل کشی کے تمام حربوں کو بے نقاب کریں گے ۔ گلزادی بلوچ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

10,827 次观看 • 7 个月前

اپکو ملواتے ہیں پاکستان کی بیسٹ Content Creator Award جیتنے والی علینہ عامر سے ۔۔۔ یہ جو نیچے ویڈیو میں موجود دو چہرے ہیں انکی زو معنی گفتگو سنیے ۔پتہ نہی کیا سوچ کر ایوارڈ دیا گیا جب اک خاتون نے علینہ عامر سے پوچھا کہ اپکو یہ ایوارڈ کس لیے ملا ہے اپ نے کیا ایسا کیا ہے ؟ تو محترمہ کا جواب سنیں تم جیلس ہو رہی ہے مطلب اس کے پاس بتانے کیلے کچھ نہی تھا ۔ پہلے تو ایوارڈ دینے والے کو شرم انی چاہیے ایسوں کو ایوارڈ دے کر معاشرے کو کیامسیج دے رہے ہیں ۔۔ کیا یہ علینہ عامر پاکستانی لڑکی فاطمہ کی طرح مارشل ارٹ میں ایکسپرٹ ہے جس نے ورلڈ ریکارڈ میں چھٹا ریکارڈ توڑ دیا ۔۔ کیا یہ نادیہ نواز کی طرح پہلی خاتون بنی ہیں جنہوں نے الیکٹرک انجنئیرنگ کی فیلڈ میں پہلا Patient حاصل کیا ہے ۔ یہ پھر یہ پروفیسر ڈاکٹر مریم جلال کی طرح کمپیوٹر انجئنرینگ میں تمغہ امتیاز حاصل کر کے ای ہیں ۔ ایسی سینکڑوں پاکستان کی بچیاں ہیں خواتین ہیں جو اپنی فیلڈ میں دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں مگر ہمیں پتہ بھی نہی ہے ۔۔ اس دجالی نظام کو دیکھیں جو جتنا فحش گفتگو کرے گا وہی اس ملک کی پہچان بنے گا اسے ایوارڈ دیا جاے گا ۔ یہ کیا پرموٹ کر رہے ہیں جو انکی طرح کا Content بناے گا اس کو ایوارڈ ملے گا اس کی حوصلہ افزای کی جاے گی ۔ قصور ان ٹک ٹاکر کا نہی ہے ہمارا اپنا ہے جو ہم انہیں سر پر بیٹھاتے ہیں ان کے کڑوروں ویوز اتے ہیں صاف ظاہر ہے ہم پاکستان کی عوام دیکھتے ہیں ۔ اگر ہم سب ان کے خلاف بولیں انکی حوصلہ شکنی کریں تو کم سے کم معاشرے کو یہ تو پتہ چلے گا کہ یہ ہیرو نہی زیرو ہیں ۔ جب یہ یونیورسٹی میں موٹویشنل اسپیکر کے طور پر جاتی ہے وہاں ٹھمکے لگا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں کسی اک بچی نے کسی اک نوجوان نے بائیکاٹ کیا؟ اخر کیوں ؟ کیا ہمارا تعلیمی معیار اتنا گرچکا ہے کسی نے سوال نہی پوچھا کہ اس کو کس حثیت سے بولا گیا ہے یا پھر ہماری ینگ جنریشن انکی فین ہے وہ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں ٹک ٹاکر یوٹیوبر فیملی وی لاگر بننا ہے ۔ کیونکہ انہیں تعلیم بورنگ لگتی ہے ۔ جب میڈیا انکو چینل پر بٹھا کر انہیں ہیرو بنا کر پیش کرے گا تو نوجوان نسل کیوں اپنے کندھے پر بستہ کا بوجھ برداشت کرے ۔ زرا نہی پورا سوچیے سماج میں پل رہی اس نوجوان نسل کا سوچئیے ۔

Saleem Speaks

43,254 次观看 • 15 天前