Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

خیبرپختونخوا پولیس کا جدید UAV ڈویژن قائم! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں، چیئرمین عمران خان کے ایک محفوظ، پُرامن، خودمختار اور جدید خیبرپختونخوا کے وژن کو عملی شکل دیتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس نے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پولیس UAV (Unmanned Aerial Vehicle) ڈویژن...

26,035 views • 4 days ago •via X (Twitter)

1 Comments

Muhammad ishfaq yousafzai's profile picture
Muhammad ishfaq yousafzai4 days ago

ویلڈن

Related Videos

خزینہ بانڈہ حملے کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر، پولیس کی استعداد کار اور سیکیورٹی تیاریوں پر سوالات ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ اور بیک اپ پارٹی پر ہونے والے حملے سے منسوب ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں جدید ڈرونز، جدید اسلحہ اور حملہ آوروں کی مربوط جنگی حکمتِ عملی کا استعمال دیکھایا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکار محدود وسائل میں غیر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، جدید حفاظتی آلات اور ضروری جنگی سازوسامان کیوں میسر نہیں آ سکے۔ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر حملے کے دوران اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی رہائی کا منظر دکھایا گیا ۔ اس ویڈیو کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ دفاعی و سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس بنیادی طور پر سماجی جرائم کو کنٹرول اور معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سوشل فورس ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت سے لیس شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی فوجی تربیت، جدید سازوسامان اور مؤثر انٹیلی جنس اور فضائی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس کو درپیش خطرات کی نوعیت کے مطابق اگر وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر بھی دی جائے تو بھی پولیس فورس ایسے حملوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت نہیں پا سکتی۔ حالیہ ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آیا خیبرپختونخوا پولیس موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہے ؟ یا پھر خیبر پختون خوا پولیس مکمل انہدام کی طرف بڑھ رہی ہے ؟؟؟

Aslam Awan

18,570 views • 1 month ago

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا پولیس لائنز پشاور میں پولیس کے جوانوں سے خطاب! مجھے خوشی ہے کہ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق اپنی پولیس کو مضبوط بنا رہے ہیں، دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں ہے، مزید قربانی سے کبھی دریغ نہیں کیا، ایک مائنڈ سیٹ جو پاکستان پر قابض ہے اس نے ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا، خیبرپختونخوا حکومت اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی ہے، تمام ضروریات ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جا رہی ہیں، جب سے حکومت سنبھالی ہے سی ٹی ڈی کو 7.7 ارب روپے دیئے. اسپیشل برانچ کے لیے 7.2 ارب روپے کا پیکج منظور کیا، صوبے میں سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، مزید بھرتیاں اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا. ضم اضلاع میں سیکورٹی انفراسٹرکچر اور پولیس کی استعداد میں اضافے کے لیے 6.5 ارب روپے جاری کیے، سیف سیٹیز منصوبے کے لیے 3.8 ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی ہے، سیف سٹیز منصوبے کو پشاور کے ساتھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ضم اضلاع تک توسیع دے رہے ہیں, انشاء اللہ بہت جلد صوبے کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کر لیں گے، جب بند کمروں کے فیصلے ہم پر لاگو ہوتے ہیں تو ان سے بہت نقصان ہوتا ہے، ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا ہے، میرے خلاف نو مئی کے کیسز سے متعلق پولیس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے, جو سیاسی مقاصد کے لیے پولیس پر دباؤ ڈال رہے ہیں وہ اس سے بعض رہیں، خیبر پختونخوا پولیس کو غیر سیاسی رہنے دیں, خیبرپختونخوا اسمبلی میں جرگہ ہواجس میں متفقہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، دہشت گردی کے خلاف سیاسی و مذہبی جماعتوں، قبائلی مشران کو اعتماد میں لیکر ایک جامع اور لانگ ٹرم پالیسی بنائی جائے، 8 فروری عوامی فیصلے کی توہین کا دن ہے، مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر 17 سیٹوں والوں کو حکومت میں بٹھایا گیا، سوال کرنا ہمارا حق ہے، بلوچستان میں حملوں کی مذمت کرتے ہیں ،ہم غمزدہ بھی ہیں اور ہمدردی کا اظہار بھی کرتے ہیں, خیبرپختونخوا پولیس کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ #CMKPSohailAfridi

PTI

11,497 views • 7 months ago

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 views • 1 month ago

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کیا. اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا. وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت مکمل یکسوئی کیساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ،آخری فسادی دہشت گردکے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی،دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں انتہائی افسوسناک دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری فسادی دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پوری قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ قوم اپنی بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ ان قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے اس فتنے میں پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا بھرپور کردار ہے جو دہشت گردوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ گفتگو جاری رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم ریاست ان عناصر کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت مکمل یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں ،دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے، اسی لیے وہ مختلف ذرائع سے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اور افواج پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ ملک کو امن، استحکام اور ترقی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہی قربانیاں پاکستان میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

Prime Minister's Office

13,373 views • 2 months ago

خیبرپختونخوا کے ثقافتی و تاریخی ورثے کے لیے قابلِ فخر سنگِ میل۔ خیبرپختونخوا کے چار اہم آثارِ قدیمہ و ثقافتی ورثے کے مقامات، بھامالا ہری پور، سیٹھی ہاؤس پشاور، بریکوٹ سوات اور گور گھٹری پشاور کو یونیسکو کی عالمی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین عمران خان کا وژن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہمیں اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا چاہیے اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اسی وژن پر عمل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں معاونِ خصوصی برائے سیاحت، ثقافت و آثارِ قدیمہ ملک عدیل اقبال کی سربراہی میں محکمہ آثارِ قدیمہ خیبرپختونخوا صوبے کے قیمتی آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ، بحالی اور عالمی سطح پر تشہیر کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ کامیابی خیبرپختونخوا کے شاندار تاریخی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 🔗 #KPArchaeology #WorldHeritage

Shafi Jan

11,967 views • 29 days ago