Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

"عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ، وَيَقُولُ: مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ حُرْمَةً ". ترجمہ:" حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ...

29,230 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

S𝐲𝙲ᴏ_AS profil fotoğrafı
S𝐲𝙲ᴏ_AS2 yıl önce

اللہ پاک کی عدالت میں یہ سب ظالم حکمران جنہوں نے عوام کا خون بہایا ہے یہ جواب دہہ ہوں گے

S𝐲𝙲ᴏ_AS profil fotoğrafı
S𝐲𝙲ᴏ_AS2 yıl önce

اللہ پاک مدد فرما

Ahmad001 profil fotoğrafı
Ahmad0012 yıl önce

Look Mohsin Naqwee.@MohsinnaqviC42 Did he sleep with your wife . He is doing peaceful strike . Why u r doing this Just you want to sleep with ur Beloved General Ranii. Beghairattt. Kaminii . Dalllall aur Khabees insaan. @PTIOfficialISB @PTIofficial @PTIKPOfficial

Asad Munwar profil fotoğrafı
Asad Munwar2 yıl önce

Allah pak slamat rakhy slam ap k jzby ko

durrani profil fotoğrafı
durrani2 yıl önce

@IHRF_English @UNHumanRights @UN_HRC @HRC_KP @UN_Women @amnestysasia @amnestyusa @amnesty @BBCBreaking @BBCUrdu @cnni @cnnbrk @CNN @ABCNewsUrdu @ABC @AJEnglish @FoxNews @France24_en @business @TheEconomist @voaurdu @washingtonpost @TIME @WorldTimesWT

Faisal zaheer profil fotoğrafı
Faisal zaheer2 yıl önce

ایسی حدیث کو اس جگہ پر لکھنے والے رب کی لعنت ہو گی کیونکہ وہ اسلام کو اپنے مقصد کیلئے بیان کر رہا ہے کیا اس جاہل بندے قرآن مجید اور وہ احادیث نئ پڑھی جن میں فساد فی الارض اور حکومت کے خلاف نکلنے سے منع کیا گیا ہے پھر ننگے سر عورتوں میں جانا ایسی گندی محافل میں جانا بےشرم

Waqas Khan profil fotoğrafı
Waqas Khan2 yıl önce

Yar waps ho jao ap abi kly

Ibbi writes… profil fotoğrafı
Ibbi writes…2 yıl önce

Wah yar dip jeet lia, ye jabza sub m h to kya hi bat h

Benzer Videolar

عمران خان کی تصویر کو خانہ کعبہ میں لہرانا مطلب اللہ کے گھر میں دوبارہ بت پرستی کا آغاز کرنا۔ یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔👇👇 حدیث نمبر: 1601 صحيح بخاری۔ ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے دن) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ جزیرۃ العرب میں شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توفیق دی اور اپنے لشکروں سے ان کی مدد کی حتیٰ کہ انہوں نے تمام بتوں کا خاتمہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم بلند کردیا۔ لیکن قیامت کے قریب لوگوں کے دین سے دور اور علم سے بے نیاز ہونے کی وجہ سے ایک گروہ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردے گا اور یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

34,827 görüntüleme • 2 yıl önce

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے) اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔ آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلاف کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان اللہ ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم 💕✌️💚

MAJID SIDDIQUI (ماجد صدیقی۔) 🇮🇳

152,591 görüntüleme • 5 ay önce

کبھی کبھی نماز کے بعد اس طرح دعا کر کے دیکھیں! اے اللہ! میرے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں، لیکن مجھے امید ہے کہ میری کوئی ایک نیکی تجھے پسند آ گئی ہوگی، حالانکہ میرے پاس زیادہ تر تو گناہ ہی ہیں اے اللہ! مجھے بھلائی میں اس قدر مصروف کر دے کہ میں غم کو بھول جاؤں۔ مجھے تھکن سے دور رکھ، یہاں تک کہ میں تیری نعمتوں پر شکر گزار بن جاؤں اے اللہ! اگر واقعی میری دعائیں ان گناہوں کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں جو میں نے کیے، تو مجھے معاف فرما دے اور میرے گناہ مٹا دے، میرے مالک۔اے اللہ! اپنے بندے کو دکھا دے کہ یہ زندگی کتنی خوبصورت ہے اور کتنی آسان ہے اے اللہ! اگر میرا رزق آسمانوں میں ہے تو اسے اتار دے، اگر زمین میں ہے تو اسے نکال دے، اگر مشکل ہے تو اسے آسان کر دے، اور اگر وہ حرام ہے تو اسے پاک کر دے۔ (حدیثِ مبارکہ): اسے ضرور شیئر کریں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی کو ہدایت کی طرف بلائے، تو اسے ان سب لوگوں کے برابر ثواب ملتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، اور ان کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جاتا۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2674)

شبانہ شوکت

36,892 görüntüleme • 8 ay önce

سہیل وڑائچ کے فیلڈ مارشل کے انٹرویو پر قاری زاور بہادر صاحب کا تبصرہ، قاری صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے بڑے بڑے دعوؤں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، قاری زاور بہادر صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے اس موازنے کی شدید مذمت کی ہے کہ جس نے معافی نہیں مانگی وہ شیطان ہے اور جس نے مانگ لی وہ فرشتہ، قاری صاحب نے وضاحت کی ہے کہ شیطان نے اللہ کے سجدے کے حکم کی نافرمانی کی تھی جس پر اسے مردود کیا گیا، جبکہ فرشتوں نے اللہ کے حکم پر عمل کیا، یہ معافی مانگنا اور معاف کرنا صرف اللہ کا اختیار ہے کوئی شخص خود کو خدا کی جگہ پر فائز نہیں کر سکتا اور معافی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ قاری زاور بہادر صاحب نے تکبر کو ایک بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے بڑے متکبر لوگ انجام کو پہنچے ہیں اور نصیحت کی ہے کہ معافی صرف اللہ کی ذات سے مانگنی چاہیے جو سب سے زیادہ معاف فرمانے والا ہے، قاری صاحب نےحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بیان فرمایا ہے کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم خود اس مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ۔

Qasim Khan Suri

23,134 görüntüleme • 1 yıl önce

میرے کارکن نظریاتی اور دلیر ہیں۔ انہوں نے اپنے خوف کے بت توڑ دیے ہیں۔ مجھے ان کا جنون سب سے زیادہ پسند ہے۔ جنون کا کوئی توڑ نہیں، کوئی میرے کارکنوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ لیڈر باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو پہلے اللہ کی تعریف کرتے ہیں، پھر سیدھے راستے کی دعا مانگتے ہیں۔ 622 میں نبی ﷺ نے مدینہ ہجرت کی۔ 624 میں جنگِ بدر ہوئی، 313 مسلمان۔ دو سپر پاورز کے مقابلے میں 313 مسلمان۔ 632 میں نبی ﷺ نے دنیا سے پردہ کیا۔ لیکن اس دوران سپر پاورز نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ اسی لیے اللہ نبی ﷺ کے راستے پر چلنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے عرب میں کیا تبدیلی لائی کہ مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھال لی؟ وہ تھی لا الہ الا اللہ۔ صرف آزاد انسان ہی امامت کر سکتا ہے۔ جو ہارنے سے ڈرتا ہے، اسے جیتنا نہیں آتا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسان کو اس خوف سے آزاد کیا ہے۔ دوسرا خوف نوکری کا ہے۔ اللہ پر اعتماد ہو تو انسان ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ کہ نہتے بے گناہوں پر کسی کے حکم پر حملہ کرتا ہے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پی ڈی ایم روز میری بہت باتیں کرتا ہے، مگر لوگوں میں میری عزت اور بڑھ گئی ہے۔ شیطان کا راستہ شارٹ کٹ اور آسان راستہ ہے۔ دوسرا نبی ﷺ کا راستہ ہے، وہ آسان نہیں لیکن اوپر لے جاتا ہے۔ میری اللہ سے تین دعائیں ہیں: - اللہ پاکستان کو وہ ریاست بنا جو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑی ہو - جہاں عدل اور انصاف ہو - جہاں لوگ حقیقی طور پر آزاد ہوں - کوئی بھی پاکستانی بھوکا نہ سوئے #افطار_کہتان_کےساتھ #RamadanWithKaptaan

PTI

203,682 görüntüleme • 6 ay önce

1400 سال سے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم واجمعین سے لیکر آج تک جتنے بھی دین کی بات کرنے والے گزرے ہیں وہ ہمیشہ آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم یا رب کعبہ کی بات کرتے تھے عربی میں وہ حدیث یا آیت کورٹ کرتے تھے پھر اس کا ترجمہ اردو انگلش یا لوکل زبان میں۔ آپ انکی غلامی چک کریں موصوف انگلش سے اردو ترجمہ کرکے حدیث سنا رہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انگلش بولتے تھے یا اس شخص کو اتنا بھی نہیں پتہ قرآن و حدیث عربی میں ہے اور ترجمہ عربی کا کرکے بتانا اصل طریقہ ہے ہوسکتا ہے اسے عربی آتی نہیں یا ہوسکتا ہے یہ سمجھتا ہو کہ انگلش سے ترجمہ کرکے رعب زیادہ پڑے گا مجھ ناچیز کا تجزیہ اس حدیث پر یہ ہے کہ جناب جو فلسطین کی ریلیاں نہ نکلنے دیں ، جو اپنی ہی قوم کو بار بار فتح کریں جو چن چن کر کرپٹ لوگ اپنی قوم پر مسلط کریں جو اسلام کو اسلامی ملک میں نافذ نہ ہونے دیں جو ایک امریکی نوکر کے خط پر سجدہ ریز ہوجائیں، وہ امام مہدی کے ساتھ تو نہیں انکے خلاف ہوتے ہی نظر آتے ہیں

Stranger

146,149 görüntüleme • 2 yıl önce

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,240 görüntüleme • 1 ay önce