Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

عوام کو 300 یونٹ تک مفت بجلی دینے والا نوسرباز اردلی سولر پینل کا ٹیکہ لگا گیا۔ یہ ہوتا ہے جب آپ ووٹ کے بجائے بوٹوں کے تسموں سے ڈٹ کر اقتدار میں ہیں تو آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا عوام آپ کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

11,112 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آپ سے عوام کیوں نفرت کرتی ہے اب ؟ دیکھ لیں اس ویڈیو کو اور دوبارہ کسی آہنی محفل میں اپنے پسند کے بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے یہ جھوٹ مت بولنا کہ آپ کے اور عوام کے درمیان لازوال رشتہ ہے آپ 80% عوام کے دلوں کی محبت کھو چکے ہیں 10% نوکری کرتے ہیں 10% کو آپ نے اشرافیہ بنایا ہوا ہے باقی 80% عوام سچ دل سے اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہے اس وقت آپ عوام کی نظروں میں بہت حد تک گرچکے ہیں یہ سچائی ہے کوئی جھوٹ یا بغض نہیں۔ یقین نہیں تو بھیس بدل کر عوام میں نکلو گلیوں بازاروں سڑکوں میں عوام آپ کو بددعائیں اور شدید نفرت کرتے ہوئے نظر آئے گی ۔ گھاٹے کا سودا کیا آپ نے چوروں اور امریکہ کو تحفظ دے کر آپ ہار چکے ہو بس ماننے کی دیر ہے تاریخ ظالم ہے معاف نہیں کرتی سر نہیں معاف کرتی آپ بے شک ہم سب محب وطن لوگوں کو غدار کہ دیں مگر آپ پار چکے ہیں عوام آپ کے پیچھے نہیں ہے آپ کو اس وقت پتہ چلے گا جب کوئی طاقتور آپ کے مقابلے آئے گا وہ طالبان کی صورت ہو یا ہندوستان کی صورت تب آپ کو نظر آئے گا عوام اور آپ میں کتنی دوری ہے

Rashid Mehmood Bangash

101,467 просмотров • 2 лет назад

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,276 просмотров • 1 год назад

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,052 просмотров • 3 месяцев назад

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 7 месяцев назад