正在加载视频...

视频加载失败

فارمیسی ایکٹ ترمیمی بل 2022 آج سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس کمیٹی کے چئیرمین کے زیر نگرانی منعقد ہوا،میرا پیش کردہ فارمیسی ایکٹ ترمیمی بل ایجنڈے کا حصہ تھا۔میرے پیش کردہ بل پر تفصیلی بحث ہوئ۔محکمہ صحت نے بھی فارمیسی ایکٹ میں میری ترامیم کی تائید کی۔...

24,300 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

شعبہ فارمیسی باچا خان یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اپنے مطالبات کے لیے احتجاج پر ہیں،ان کا بنیادی مطالبہ فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کا فارمیسی کونسل آف پاکستان سے رجسٹرڈ نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے طلباء کا تعلیمی مستقبل خطرے میں ہے ۔فارمیسی ڈپارٹمنٹ کو قائم ہوئے چار سال گزر گئے ہیں لیکن تاحال اساتذہ کی عدم دستیابی اور فارمیسی کونسل کے دیگر لوازمات پورا نہ ہونے کی سبب فارمیسی کونسل کے ساتھ رجسٹریشن سے محروم ہے۔یہ انتہا درجے کی انتظامی نااہلی اور غفلت ہے،اس صورتحال سے طلباء میں تشویش اور بےچینی پائے جاتی ہے۔انتظامیہ حیلے بہانوں کا سہارا لےکر تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے،صوبائی حکومت, ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی انتظامیہ فی الفور طلباء کی جائز مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے اور طلباء کی مستقبل کو بچایا جائے۔اس مبنی برحق جدوجہد میں باچا خان یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے ساتھ ہوں۔ Meena Khan Afridi Government of KP @bachakhanuniversity

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان

28,041 次观看 • 1 年前

اسلام آباد: 18 اگست، 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے آج کے اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-2027 میں ترامیم پیش کی گئیں۔ یہ ترامیم توانائی کیلئے مربوط منصوبہ بندی، بجلی کے پیداوار میں اضافے، دور دراز علاقوں میں قابل تجدید ذرائع سے پیدا کردہ بجلی کی فراہمی، بجلی کی کراس بارڈر تجارت، ترسیلی نظام میں وسعت، ٹیریف ڈیزائن، بجلی بچت، سسٹم اینڈ مارکیٹنگ آپریشنز ، خطرات کی نشان دہی اور اس حوالے سے انتظامی امور، ایندھن اور ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر استعداد بہتر بنانے ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹائزیشن سے متعلق ہیں۔ کابینہ کمیٹی نے ان ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ ان ترامیم کے حوالے سے حکومت خیبر پختونخوا اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے مزید مشاورت بھی کی جائے۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردی مربوط توانائی پلان کے ہائی لیول ڈیزائن (High Level Design Report for Integrated Energy Plan 2027-2060) کی منظوری دے دی۔ مزکورہ توانائی پلان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔ اس پلان کا مقصد انرجی سیکیورٹی اور بجلی/توانائی کے شعبے میں معاشی مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔ اس پلان کے تحت بجلی کو مناسب قیمتوں پر صنعتی اور گھریلو صارفین تک پہنچانے کے حوالے سے حکمت عملی بھی ترتیب دی جائے گی۔ مزید برآں کم کاربن اخراج دینے والی توانائی اور بجلی کی پیداوار، ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے توانائی ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پاور ڈویژن کی جانب سے پاور سیکٹر میں گردشی قرضے کے حوالے سے مالی سال 2025-2026 کی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں برائے مالی سال 2025-2026 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

Prime Minister's Office

14,655 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد: 28 جولائی 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی, 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے توانائی تحفظ (انرجی سیکیورٹی) کے جامع نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔ یورو-4 اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لئےاصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالےسے ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی ترویج کے لئے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالےسے ریفائننگ پالیسی میں ترمیم کے حوالے سے وزیر پیٹرولیم اور ان کی ٹیم کے کام اور کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعظم کی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی کی. اجلاس کو ملک میں آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائینریز کے حوالے سے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں کی گئی ترامیم کا مقصد ماحول دوست یورو-V کی مطابقت رکھنے والے پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا، فرنس آئل اور کم معیار کی پیٹرولیم مصنوعات میں کمی لانا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، احسن اقبال، متعلقہ وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

18,122 次观看 • 2 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 次观看 • 2 个月前

پاکستان اس وقت نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے،ہندوستانی جارحیت پاکستان کی سلامتی کے لئے مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے،اس تناظر میں ہمیں آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں توقع تھی کہ کوئی قرار داد لائی جائے گی لیکن اتنے حساس معاملہ پر وزیر اعظم سمیت پوری حکومت کی غیر سنجیدگی پر حیرت اور افسوس ہے۔ اس اہم اجلاس میں ایوان کو بریف کیا جاتا اور ہماری تجاویز کو اصلاح کی نیت سے سنا جاتا تاکہ ہم ایک مضبوط موقف کے ساتھ اپنی قوم کو اعتماد میں لیتے لیکن اتنے بڑے فلور پر غیر سنجیدہ اجلاس جس میں پوری کیبنیٹ غائب ہو اور پارلیمنٹ کو جواب دینے والا کوئی نا ہو تو ایسے رویہ پر ہمارا احتجاج ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے جس پر پوری قوم اعتماد کرتی ہے اور آج اس اہم مسئلہ پر پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہے۔ اس اہم موقع پر بلاوجہ کی غیر سنجیدگی دکھائی جارہی ہے اور ملک اندر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس سے ملکی سوچ اور قوت کمزور ہو، سندھ میں نہروں کا مسئلہ ہو یا بلوچستان اور کے پی کے میں منرلز اینڈ مائنز بل ہو یہ سب جان بوجھ کر بد اعتمادی کی فضا قائم کی جارہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,390 次观看 • 1 年前

اسحاق ڈار نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جیسے بڑے منصب کے حامل آدمی ہیں، انھوں نے خود ستائیسویں ترمیم کی نفی کرتے ہوئے کہ تھا کہ ہم نے ابھی تک چھبیسویں آئینی ترمیم کو ہضم نہیں کیا،پھر اچانک ایسی کیا ایمرجنسی آگئی ہے؟ جتنی جلدی کی جارہی ہے اس سے کئی سوالات اور خدشات پیدا ہورہے ہیں جو قوم کو تقسیم کرسکتے ہیں۔ 1۔ چھبیسویں ترمیم کا معاملہ تاحال عدالت میں زیر غور ہے اور ہم نے ایک اور ترمیم کو گھسیڑ دیا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ طاقتور قوتیں پارلیمان کو ترامیم پر مجبور کر رہی ہیں۔ 2۔ ایک طرف نائب وزیر اعظم ترمیم کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں دوسری طرف ایک منسٹر کہتے ہیں کہ میں اس پر تین مہینوں سے کام کر رہا ہوں،کیا موصوف اتنے بڑے کام کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ؟ اس سے غیر سنجیدگی اور غیر متعلقہ قوتوں کی مداخلت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 3۔ معتدل ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جارہا ہے،حکومت آئین کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس سے آئین کا کھلواڑ ہوگا جس سے ملک اور قوم تقسیم ہوگی۔ 4۔ ہم چھبیسویں ترمیم میں جو شقیں ختم کیں اور اس پر حکومت سے مذاکرات میں داخل ہوئے،ایک طویل پروسس کے بعد بائیس شقوں کے ساتھ چھبیسویں ترمیم پر ہم نے حکومت کو رعایت دی،اب وہی جبر ستائیسویں ترمیم کی شکل میں مسلط کیا جارہا ہے۔ 5۔ جبری ترامیم سے عوام کے اندر خدشات جنم لیں گے اور ایسی ترمیم کی وقعت نہیں رہے گی، جس سے آئین جو پوری قوم کے درمیان میثاق ملی ہے اس پر اثر پڑے گا۔ 6۔ جس طرح جنرل باجوہ نے اپنی نگرانی میں قانون سازی کرواکر اپنی ایکسٹینشن کا راستہ کھولا تو اب اس تاثر کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے کہ طاقتور قوتیں اسمبلی کو ایسی ترامیم پر مجبور کر رہی ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

26,404 次观看 • 10 个月前

آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,812 次观看 • 2 年前