Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

فضل الرحمن صافی ASP کو سادہ کپڑوں میں بیجھا گیا کوئی نفری نہیں کوئی پولیس گاڑی نہیں تھی اس اے ایس پی کو کہا گیا کہ چپ کر کے کر جاؤ اور رضا ڈار کو لے کر آ جاؤ اس بعد رضا کو گرفتار کیا تو رات 2 بجے...

22,519 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بریکنگ: میری گفتگو اے ایس پی ڈیفنس فضل سے ہوئی، جنہوں نے رضا ڈار کیس میں دو غیر ملکی خواتین کی بازیابی کی کارروائی کی قیادت کی۔ اُن کے مطابق پولیس نے ڈیفنس میں اُس گھر پر چھاپہ مارا جہاں خواتین کو پہلے رکھا گیا تھا، لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی رضا ڈار انہیں وہاں سے لے کر فرار ہو چکا تھا۔ اسی دوران خواتین کے والد نے اے ایس پی فضل کو فون کیا اور اسٹیفنی کو کانفرنس کال پر شامل کیا۔ گفتگو کے دوران اسٹیفنی نے اپنی لائیو لوکیشن شیئر کی۔ اے ایس پی فضل نے انہیں مسلسل رہنمائی فراہم کی اور ہدایت کی کہ وہ ایک محفوظ مقام، فلٹر ہاؤس، پر انتظار کریں تاکہ پولیس وہاں پہنچ کر انہیں بحفاظت اپنی تحویل میں لے سکے۔ میں نے خود ان کی واٹس ایپ گفتگو دیکھی ہے، جس میں اسٹیفنی نے اپنی لائیو لوکیشن شیئر کی تھی۔ اے ایس پی فضل نے مجھے وہ پیغام بھی دکھایا جو دونوں خواتین نے ائیرپورٹ سے انہیں ذاتی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بھیجا تھا۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ پولیس نے خواتین کو بازیاب نہیں کرایا، یا اس پوری کارروائی میں پولیس کا کوئی کردار نہیں تھا، حقائق کے منافی اور سراسر بے بنیاد ہے۔

Waqas Habib Rana

26,457 views • 2 months ago