正在加载视频...

视频加载失败

لوگوں کو علاج چاہیے، اور مجھے بس ایک پرفیکٹ 'فِٹ چیک'۔ ویسے بھی، آدھی بیماری تو انسان اچھی لک دیکھ کر ہی بھول جاتا ہے! 💅🔥💊💉😅

10,401 次观看 • 3 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میں ایک صحافی ہونے کے ناطے چند گزارشات رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ سب اس تحریر کو پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں میری تمام ویڈیوز اور تصاویر میں میں نے ہمیشہ حجاب اور شلوار قمیض پہنی ہے، کبھی بھی غیر مہذب لباس استعمال نہیں کیا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو مجھ سے اعتراض ہے تو میں ان سے سوال کرتی ہوں: کیا یہی لباس آپ کی بہن یا بیٹی نہیں پہنتی؟ اگر وہ بھی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں تو پھر میرا قصور کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بڑے نیک اور مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت ان کے رویے اور کمنٹس میں نظر آ جاتی ہے۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں فیک ہوں یا ریئل، تو ان شاءاللہ میں اپنا ثبوت ضرور دوں گی کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ لیکن جنہوں نے مجھے فیک کہا، اگر میں نے اپنی سچائی ثابت کر دی تو کیا ان پر بھی کوئی جرمانہ ہوگا؟ یہ سوال باقی سب کے لیے چھوڑتی ہوں۔ تحریر: نادیہ ملک، صحافی

Nadia Malik

67,265 次观看 • 9 个月前

کیا تحریک انصاف اور بھارتیا جنتا پارٹی BJP کی میڈیا سٹریٹجی ایک ہی برطانوی فرم بنا رہی ہے؟ 💥💥 ڈیجیٹل میڈیا کے بہت سے ماہرین کے مطابق PTI اور BJP کے سوشل میڈیا سیل بالکل ایک طرز عمل پر چل رہے ہیں اور دونوں میں بے انتہا مماثلت ہے۔ 1۔ تحریک انصاف نے غریب عوام کے ٹیکس کے 87 کروڑ روپے سے خیبر پختونخواہ سوشل میڈیا ٹیم کھڑی کی جبکہ BJP بھی بھارتی ٹیکس کا پیسہ ان کاموں پر لگاتی ہے۔ 2۔ دونوں BJP اور PTI کی تمام تر کوشش جعلی خبروں کو پھیلانے پر ہوتی ہے۔ 3۔ دونوں BJP اور PTI کے میڈیا سیل میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو عقل کا استعمال نہیں کرتے 4۔ دونوں PTI اور BJP میڈیا سیل میں شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اسکی سب سے بڑی مثال نیچے ہے جہاں BJP نے مودی کے بت کو پوجنا شروع کردیا ہے جبکہ تحریک انصاف والے بھی شخصیت پرستی میں بالکل ویسے ہی حرکتیں کر رہی ہے ان دونوں گروہوں کی مماثلت سے لگتا یہی ہے کہ ایک ہی برطانوی فرم دونوں کو گائیڈ لائن دیتی رہی ہے۔

Dr Farhan K Virk

127,208 次观看 • 2 年前

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,196 次观看 • 1 个月前

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

Dr M Shujat Rasool

121,664 次观看 • 2 个月前

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 次观看 • 4 个月前