Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مختصر علاج الإكتئاب… "أََلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ"

19,540 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

"ومَن ذا الذي يَستحقّ أن تُبذَل له الحَياة كلها؛ لأجل حُبّه ورضاه غير الله عزَّ وجلَّ!؟ وإنَّ ذلك القلب [الجوهر] الذي ينظر الله عزَّ وجلَّ إليه، كلما بُذل فيه جهدًا، ومُحاسبةً، وعهدًا، وصيانةً، ورعايةً، وحفظًا؛ نالَ من ربِّه وأرضاه من جنس ما عمِل، وعلى قدر إقباله وطلبه الصّادق أن يُهوِّن عليه البَذل في سبيله؛ نالَ من حظّ السّير إلى بابه، معرفةً به، وأدبًا يتأدّب به فلا يُحرم بقلّته على معرفته، وحقًّا يقوم عليه من لوازمٍ، فيَظهر أثر التجلّي بأنواره؛ إحسانًا بعباداته وكأنّهُ يَراه، ويُوحّد معاملته في كل جوانب حياته به وحده سبحانه وتعالى مُكتفيًا به، فيَنال من حظّ هذه الآية:﴿ أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ﴾!، ويقول ابن رجب:"غاية الحاصل للقلوب في الدُّنيا؛ هو تجلّي أنوار الإيمان في القلب، وحتّى يصير الغيب كأنَّهُ شَهادة". اللهُ لا إله إلّا هو ربُّ العَرش العَظيم، نسأل الله ألّا يحرمنا من هذه المعرفة، ويُعيننا على هذه الأنفس!".

شروق بنت صالح ✨

57,490 views • 1 year ago

البدر ہائیر سیکنڈری اسکول میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کی حرمت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ سکول کی ایک قابل احترام، باحجاب، استانی کو صرف اس "جرم" کی پاداش میں زد و کوب کیا گیا کہ انہوں نے ایک طالبہ کو کلاس میں وقت کی پابندی نہ کرنے پر مختصر کھڑا کیا، طالبہ عیشال شاہد نے اگلے روز اپنی والدہ اور ماموں عبدالحفیظ (پولیس افسر، تعینات لیاری تھانے) کے ساتھ مل کر کلاس روم میں داخل ہو کر نہ صرف معزز استانی کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی بلکہ ان کا نقاب پھاڑ کر انہیں لہو لہان کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک استانی کی توہین ہے بلکہ اس قوم کی ماؤں، بہنوں اور تعلیم کے شعبے پر ایک حملہ ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: عبدالحفیظ کو ملازمت سے برطرف کر کے فوری گرفتار کیا جائے۔ متاثرہ استانی کو مکمل تحفظ، انصاف اور علاج فراہم کیا جائے۔ وزیر تعلیم اور ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز واقعے کا نوٹس لے کر اسکول انتظامیہ سے باز پرس کریں کہ ادارے میں سیکیورٹی اور حدود کا خیال کیوں نہ رکھا گیا

Ch Asif Hamaiyon

65,259 views • 1 year ago

قطر اپنی اچھائی کے چکر میں پاکستان کا نقصان کر رہا ہے۔ سیزفائر کیوجہ طالبان رجیم کو وقت ملے گا تو وہ پھر اپنی تیاری کریں گے طالبان کبھی بھی سدھر نہیں سکتے ہیں اور خاص طور پر اب جنگ کے بعد نفرت بھی بہت بڑھ چکی ہے اور مہاجرین کا ہر صورت پاکستان انخلا کرے گا جس سے نفرت مزید بڑھے گی۔ ان کا علاج صرف ان کے اقتدار کا خاتمہ اور مکمل عسکری تباہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹے کا سیز فائر آج شام چھے بجے ختم ہو رہا ہے اس سے پہلے بھی ایک مختصر سیز فائر ہوا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو اپنے اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تعلقات بہتر رکھنا چاہتے ہیں؛ منافقت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وقتی طور سیز فائر کی آڑ میں وقت کھینچنے کی کوششوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا جو حالیہ واقعات ہوئے ہیں ان سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ حملے اسی وقت ہوئے جب افغان وزیر خارجہ دہلی میں موجود تھے، اس لیے ہمیں زبردست جواب دینا پڑا۔ اگر یہ 48 گھنٹے کا وقفہ طویل مدتی امن کے لیے نہیں بلکہ وقت خریدنے یا حملے منظم کرنے کے لیے ہے تو ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔

Asad R Chaudhry

21,085 views • 11 months ago

چین کے کسانوں میں گائیوں کے لیے فائر تھراپی (Fire Therapy) کا استعمال روایتی چینی طب (Traditional Chinese Medicine - TCM) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ طریقہ کار بنیادی طور پر ان گائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو سردیوں میں یا بچے کو جنم دینے سے پہلے یا بعد میں لنگڑی ہو جاتی ہیں، یا جن کے پچھلے پیر خون کی ناقص گردش کی وجہ سے سُن ہو جاتے ہیں۔ یہ علاج گائے کو کھڑا ہونے میں مدد دینے، خون کے بہاؤ کو تیزی سے بحال کرنے اور پٹھوں کو آرام دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 🔥 فائر تھراپی کا طریقہ کار (عمومی اصول) اگرچہ گائیوں کے لیے اس طریقہ کار کی تفصیلی سائنسی تحقیق یا باقاعدہ ویڈیوز آسانی سے دستیاب نہیں ہیں، لیکن روایتی چینی طب میں جو عمومی اصول اور طریقے استعمال ہوتے ہیں، ان کے مطابق یہ طریقہ کچھ اس طرح سے انجام دیا جا سکتا ہے: 1. تیاری (Preparation) * تشخیص: سب سے پہلے گائے کی حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا فائر تھراپی موزوں ہے، خصوصاً جب گائے کمزوری یا خون کی گردش کے مسائل کا شکار ہو۔ * سامان: اس کے لیے عام طور پر ایک گیلا تولیہ، الکحل (Alcohol) یا کوئی دوسرا آتش گیر مادہ، اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2. اطلاق (Application) * حفاظت: گائے کو قابو میں رکھا جاتا ہے اور علاج کی جگہ کو صاف کیا جاتا ہے۔ * گرم کرنا: * علاج کے لیے متاثرہ جگہ (جیسے پچھلے پیروں کے سُن حصے) پر ایک گیلا تولیہ رکھا جاتا ہے۔ * اس گیلے تولیے پر الکحل کی تھوڑی مقدار ڈالی جاتی ہے۔ * اس الکحل کو جلایا جاتا ہے۔ * میکانزم: یہ عمل عارضی طور پر اور مقامی طور پر شدید حرارت پیدا کرتا ہے۔ یہ حرارت روایتی چینی طب کے تصور کے مطابق "یانگ" (Yang) قوت کو بڑھانے، خراب ہوا (Evil Spirits) کو نکالنے، کیوئ (Qi) اور خون کی گردش کو رواں کرنے، جمے ہوئے خون کو دور کرنے، اور پٹھوں کی سختی کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ * دورانیہ: آگ کو جلدی بجھا دیا جاتا ہے (یا خود بجھ جاتی ہے) تاکہ جلد جلنے سے محفوظ رہے۔ یہ عمل مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق کئی بار دہرایا جا سکتا ہے۔ 3. مقصد (Goal) اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد تیزی سے خون کے بہاؤ کو بحال کرنا اور پٹھوں کو آرام دے کر گائے کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ > اہم نوٹ: فائر تھراپی ایک شدید اور خطرناک طریقہ کار ہو سکتا ہے اور اسے صرف اسی شخص کو کرنا چاہیے جسے روایتی چینی ویٹرنری طریقہ کار یا اس تکنیک میں مکمل مہارت حاصل ہو۔ جدید ویٹرنری میڈیسن میں ایسے طریقوں کے استعمال سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جلنے اور جانور کو مزید تکلیف پہنچانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

32,639 views • 10 months ago

وهنا رأى نوع من التصادم ووالده لم يكن رأى بأسا في ذلك . رفض الشيخ بعد غياب امام المسجد البرهاني ووالده أن يصلي بالناس بالجماعة الثانية وقال : أنا أصلي بالجماعة الأولى . فتناقش مع والده وقال : ماذا تريد من علم الحديث فهو علم المفاليس . احتد النقاش مع والده الذي عرض عليه : إمّا أن توافق أو تفارق ؟! فكر الشيخ ثم قال : بل أفارق ! هنا أعطاه والده بضعة ليرات تكفيه لفترة وخرج من والده ( وقف دون رأيه ولم يكن يرى هذا عقوقا ويقول مادام يخالف النصوص الشرعية فليس هناك عقوق ) . واستدل بالآية (وإن جاهداك على أن تشرك بي ماليس لك به علم فلا تطعهما … الخ ) . بعد خروجه من والده افتتح محلا للساعات قريبا من دكان والده وكان اسمه ( الألباني للساعات ) فكان الناس يأتون إليه من بعيد وهو يفتح لساعات بسيطة اذ كان يشتغل بالعلم ومع هذا ينتظرونه وفتح الله عليه واشترى بيتا وتزوج ولم يحضر والده زواجه للخلاف الذي بينهما . عمله في الساعات لعدة ساعات ويقفل دكانه ويذهب للمكتبة الظاهرية بدمشق التي تضم من الكتب والوثائق والمخطوطات النادرة فكان يقضي جُلّ وقته فيها لدرجة أن خُصصت له غرفة فيها من الموظفين ليتفادوا طلباته من المخطوطات والمجلدات . طلبت منه جامعة دمشق أن يحقق بعض الكتب في السنة وهو في العشرينات حتى أن الاجهاد أصاب عينه وأصيب بمرض الذبابة ( يشاهد خلالها المصاب وكأن ذبابة تتحرك أمامه )وهي تجلط خفيف في شرايين العين، طلب منه الطبيب أن يريح عينه من القراءة وكان هناك مخطوط يريد أن يحققه فاستغل فترة الراحة وكلّف ناسخا أن ينسخ له هذا المخطوط ريثما يتعافى. جاءه الناسخ وقال له : هناك ورقة ناقصة من المخطوط . تحقق فوجد ورقة ضائعة وماكان أمامه إلا أن يبحث عنها في بقية المخطوطات في المكتبة الظاهرية والتي تتجاوز ٥٠٠ مخطوط ( قرأها كلها ٥٠٠ ، ماهذه الهمة والصبر والجلد ؟؟! ) . لم يجد الورقة الضائعة ولكنه كما يصف ( خرجت بكنوز من المعرفة ) وهذا الذي جعله يضع فهرسا خاصا بتصنيف الحديث . اشتهر صيت الألباني وصار يدعو الى الله والعقيدة الصحيحة في كل المدن السورية كاللاذقية وحلب وحمص وحماة والرقة ، فكتب به بعض مشايخ السلفية شكوى إلى أن الألباني يدعو الناس الى الوهابية واستدعاه مدير الأمن بدمشق وناقشه ثم صرفه دون تهمة من هذه اللحظة ١٩٦٠ م صار الألباني تحت مراقبة الدولة السورية .ودعي في كل البلاد العربية لالقاء المحاضرات وصلى في الأقصى عام ١٩٦٥ م . وزار الأندلس عام ١٩٧٢ والمغرب وذهب للأردن ودعته باكستان للاقامة فيها والتدريس ورفض لصعوبة نقل الأهل والأولاد وكان هذا أثناء الحرب بين الهند وباكستان . أقام في المملكة من عام ١٣٨١-١٣٨٣ هـ ومكث بالمدينة المنورة مدرسا لمادة الحديث في الجامعة الاسلامية ورزق ابنه الذي سماه " محمدا " وهو آخر أبناءه إذ رزق بستة كلهم باسم " عبد " عبد المولى وعبد المصور وعبد الأعلى والذي يقول يقل استخدامه بالدول الاسلامية . في عام ١٩٦٧ م اعتقلته السلطات السورية لمدة شهر في قلعة دمشق وهي التي سجن بها ابن تيمية ثم أفرج عنه في بدء حرب ٦٧ ولما انتهت الحرب رأوا أن يدخلوه السجن عام ١٩٦٩ م وهذه المرة سجن في سجن الحسكة بشمال سوريا ومكث ٨ أشهر وفي هذه الفترة من السجن حقق مختصر حديث الامام مسلم الذي لم يكن يحمل غيره. واجتمع مع مفكرين وسياسيين وبعد خروجه ذهب للأردن . عام ١٣٨٨ هـ طلبه الشيخ حسن آل الشيخ ليدرس في جامعة مكة واعتذر . بعد ذلك طلب للجامعة الاسلامية من المفتي محمد ابن ابراهيم وهو شيخ ابن باز للتدريس في الجامعة الاسلامية بالمدينة المنورة من عام ١٣٩٥ - ١٣٩٨ هـ . عاد الى دمشق عام ١٤٠٠ هـ " الأعرابي يرى أن هذه الفترة من ١٩٨٠-١٩٨٢ هي فترة استذئاب النظام النصيري ضد السنة وماتلاها من مجازر حماة " خرج عام ١٤٠٠ هـ وأكيد أنه استشعر الخطر واستوطن الأردن ولكن منع من نقل مكتبته في دمشق . ما إن استقر بالأردن حتى بدأت تطارده المخابرات الأردنية ورحّل الى سوريا وسجن فترة في سوريا ثم أجبر على الإقامة الإجبارية وبعد نصيحة المحبين خرج إلى لبنان وأقام تحت كنف صديق شهم هو زهير الشاويش مدة ثم جاءه طلب من الامارات ومكث بها فترة وتوسط له أناس عند الملك حسين بأن الألباني ليس له علاقة بالجماعات المسلحة وعاد إلى الأردن ومكث بها . من الأمور المتداولة عن الألباني والتي سميت " صيام الالباني " وهي أنه جوّع نفسه أربعين يوما يكتفي فقط بالماء للشفاء من بعض الأمراض وشفي من بعضها كما يشير ويقول خرجت بفائدتين ( الانسان يستطيع الصبر على الجوع - أن الجوع يفيد في علاج بعض الأمراض دون غيرها باختلاف الأجسام والأعمار ) . مرض الشيخ الألباني وعولج على حساب المملكة بمستشفى الملك فيصل ثم خارج المملكة على حساب الدولة ثم عاد الى عمان ليموت عام ١٩٩٩ م . ١٤٢٠ وهو من المجددين ومن الذين ذبوا عن السنة .

‏﮼الأعرابي القديم .

266,103 views • 2 years ago