Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

منظور مینگل کہہ رہا ہے "باہر نکل کر دیکھو یا حسینا یا حسینا کرنے والوں کے پچھواڑے پر تالبان نے ڈنڈے مار کر۔۔۔۔۔ سلام ہے تالبان کو جس نے ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردوں کا مذہب نہیں ہوتا کہنے والے بتائیں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور تالبان ملحدوں کی تنظیمیں ہیں...

17,351 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

“دہشت گردی پر خاموشی، ریاستی کارروائی پر سیاست” #دہشتگردی_پر_خاموشی #دہشتگردوں_کے_سیاسی_وکیل 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر شور؛ یہی دوہرا معیار ہے۔ جب کوئٹہ میں ٹرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، درجنوں معصوم جانیں گئیں، تو BNP قیادت کی فوری پریس کانفرنس، سخت مذمت اور عوامی احتجاج کہاں تھا؟ 24 مئی 2026 کو کوئٹہ کے قریب ٹرین پر خودکش حملے میں کم از کم 23 معصوم افراد شھید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے، اور BLA نے ذمہ داری قبول کی۔ آپ کی زبان اُس وقت خاموش رہی۔ 📍جب ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے تو اسے “جبر” کہنا دراصل دہشت گردی کے بیانیے کو سیاسی کور دینا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت قانون سے بالاتر نہیں، اور کوئی بھی علاقہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ 📍سوال سیدھا ہے: BNP قیادت نے BLA کی دہشت گردی، ٹرین حملے، معصوم شہریوں کے قتل اور بلوچ خواتین و گھروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی مذمت کیوں نہیں کی؟ خاموشی بھی ایک سیاسی مؤقف ہوتی ہے۔اور اس معاملے میں تو دھشت گردوں کی بھر پور حمایتی۔ 📍یہ بیانیہ کہ فورسز دہشت پھیلا رہی ہیں، اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ دہشت گرد جب گھروں، آبادیوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کریں تو ریاست خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔کینسر کا علاج گہرائی میں جائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور دھشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا نہایت ضروری۔ 📍کسی بھی شخص کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، مگر قانون کے نام پر دہشت گردوں کو سہولت، پناہ یا سیاسی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا راستہ سب کے لیے موجود ہے، مگر آپریشن میں رکاوٹ ڈالنا ریاستی عمل میں مداخلت ہے۔ 📍بی این پی کو فیصلہ کرنا ہوگا: وہ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے یا دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کے خلاف؟ دونوں کشتیوں میں سفر اب نہیں چلے گا۔ 📍بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ماضی میں بھی مسافروں، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ 2025 کے جعفر ایکسپریس حملے اور حال ہی میں کئے گئے ٹرین حملے میں مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، اور حملہ آوروں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اور آپ کی زبان اس پر خاموش ہے۔ 📍جو لوگ ہر آپریشن کو “چادر و چار دیواری” کا مسئلہ بنا دیتے ہیں، وہ پہلے یہ بتائیں کہ دہشت گردوں کو گھروں اور آبادیوں میں پناہ دینے کا حق کس آئین نے دیا ہے؟ چادر و چار دیواری کا احترام اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے لیے اس تقدس کو ڈھال بنانا ناقابل قبول ہے۔ 📍یہ پروپیگنڈا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی قیادت، میڈیا اور شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا ماحول بنایا جائے۔ 📍ریاست کا پیغام واضح ہے: بے گناہ شہریوں کا تحفظ، دہشت گردوں کا خاتمہ، اور قانون کی بالادستی۔ جو بھی شخص یا جماعت دہشت گردی کو سیاسی رنگ دے گی، اسے عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر چیخ و پکار؛ BNP کا یہ دوہرا معیار اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ فورسز کے دہشت گردی مخالف آپریشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے ایک طویل بیان جاری کر کے ریاستی اداروں پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف حقائق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہید جوانوں کے خون پر مبنی گھناؤنا پروپیگنڈا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو علاقے کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنائے ہوئے تھے۔ 📌 جب مشتبہ دہشت گرد گھروں کو ہتھیاروں کا ڈپو بنا لیتے ہیں اور فورسز پر حملہ کرتے ہیں تو فورسز ا کارروائی کرتی ہیں۔ لیکن بی این پی والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ ان کے نزدیک فورسز کا کام صرف خاموش بیٹھنا اور دہشت گردوں کو آزاد گھومنے دینا ہے۔ 📌احتجاج کے نام پر خواتین کو آگے کر کے مردوں کو پیچھے چھپانا ان کا پرانا طریقہ ہے۔ یہ لوگ امن کے نام پر دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کو گمراہ کر کے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں دوسری طرف جب فورسز انہیں ختم کرنے نکلتی ہے تو انسانی حقوق اور چادر و چار دیواری کا رونا روتے ہیں۔ 📌یہ ڈرامہ اب بہت ہو چکا۔بلوچستان کے غریب عوام ایک سال سے زیادہ عرصے سے انہی عناصر کی وجہ سے کرب میں ہیں۔ سڑکیں اڑ رہی ہیں، جوان شہید ہو رہے ہیں، ترقی رک گئی ہے۔ لیکن بی این پی والوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ انہیں صرف اپنے سیاسی مفادات اور ریاست مخالف عناصر کی حفاظت کی فکر ہے۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ریاست کے خلاف زہر گھول رہی ہے۔

Dr. Saniya Salaar

10,464 görüntüleme • 2 ay önce

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 görüntüleme • 1 yıl önce