Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

نیشنل جیوگرافک پر 100 ہرن کھڑے ہوتے ہیں، شیر آ کر ایک ہرن کھا کر چلا جاتا ہے، باقی 99 گھاس کھانا شروع کر دیتے ہیں جیسے کچھ نہیں ہوا۔ 10 دن قبل شبلی فراز کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا، گھر پر چھاپا مارا گیا۔ کیا اس ایوان...

277,093 Aufrufe • vor 3 Jahren •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Yasir Mirza
Yasir Mirzavor 3 Jahren

یہ ھوا تھا شبلی فراز کے ساتھ ایک ایس پی نے کیا تھا ۔

Profilbild von Pakistan🇵🇰
Pakistan🇵🇰vor 3 Jahren

تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی کے محب وطن کارکن ظلم کےخلاف ہر محاذ پر ڈٹے رہے۔انشااللہ وقت بدلنے والا ہے جلد عوام ان ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں دیکھیں گے۔

Profilbild von Engr.Mian Usman Aziz🇵🇰
Engr.Mian Usman Aziz🇵🇰vor 3 Jahren

چلو جی سلام ہے آپ کی عقل پے جو یہ بات کی۔ او بھائی ایوان والے ہی یہ کر وا رہے ہیں۔ وہ خود کروا رہے ہیں ۔ پھر مذمت کونسی

Profilbild von Ammara 🌬️
Ammara 🌬️vor 3 Jahren

Very well said @AonAbbasPTI And thank you for speaking up for Shibli Faraz. The level of fascism this government and ots handlers have incurred is beyond human acceptance. Tables will turn one day insha'Allah. This is a universal law. لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

Profilbild von Lubaina Atif
Lubaina Atifvor 3 Jahren

جب تک ہم پر امن احتجاج کرتے رہینگے، تب تک غیر انسانی سلوک برداشت کرنا ہوگا۔ خان صاحب مقبوضہ پاکستان میں برطانوی سیاست کر رہے ہیں۔ نتیجہ لامحدود صبر کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا

Profilbild von Adam Rodriguez
Adam Rodriguezvor 3 Jahren

Sab Bajwa @OfficialDGISPR kara raha hai , Pori dunya main zalil honay k baad , but it’s not done yet … yeh muft khoray haram khore Beth ker tamasha dekh rahay hain doobtay Pakistan ka ore awam in Ko muhafiz samajh rahi thi .. kha gy Pakistan per sab haram ker rahay hain ..

Profilbild von ✌میں بھی عمران خان ہوں💪
✌میں بھی عمران خان ہوں💪vor 3 Jahren

👏👏👏👏 Very well said ✌✌

Profilbild von Zubair Khan PTI
Zubair Khan PTIvor 3 Jahren

ان یزیدوں کے بس تھوڑے دن رہ گئے

Profilbild von YouTubePakistani
YouTubePakistanivor 3 Jahren

PTI Zindabad😎😎

Ähnliche Videos

ہم نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں زرداری کنگڈم پر ایک ڈاکیومنٹری اپلوڈ کی تھی ۔۔ جس پر لوگوں نے ہمیں بہت سراہا اور ہمت کی داد دی کہ سمجھ نہیں آتا پاکستان میں اتنی ہمت کا مظاہرہ کوئی کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔ اور لوگوں نے ہمیں بہت پوچھا بھی کہ ڈر نہیں لگتا؟ جس پر ہم نے پمیشہ ایک ہی بات کی کہ اللہ کا حکم ہے کہ 'اے ایمان والوں حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائے' تو ہم کچھ خاص نہیں کر رہے بس وہی کر رہے ہیں جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ۔۔۔ لیکن آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس ویڈیو کے صرف یوٹیوب پر ہی دو ملین سے زائد ویوز ہیں جبکہ دیگر پلیٹ فارمز ملا کر تو 10 ملین سے زائد بنتے ہیں ۔۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں کیا خاص بات ہے، تو جناب ہمارے لیے یہ نمبر اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں اس مشکل دور میں ان لوگوں کی تعداد ہے جو نہ صرف حق اور سچ کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں بلکہ اُس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ ڈاکیومنٹری نہیں دیکھی تو کمنٹس میں لنک موجود ہے لازمی دیکھیں

Raftar

42,913 Aufrufe • vor 11 Monaten

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔ ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,314 Aufrufe • vor 17 Tagen

اسلام آباد جیسی شہر میں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں مسلسل ہمیں فالو کر رہی ہیں، ہراساں کر رہی ہیں اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ بحث اب بےمعنی ہے کہ یہ گاڑیاں کس کی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا اس ملک میں بلوچوں کیلیے کوئی قانون نہیں؟ کیا ہم دشمن ریاست کے شہری ہیں؟ ہم نے جو دوسرا گھر کرائے پر لیا تھا آج اس کے مالک کو بھی ریاستی دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا کہ ہمیں نکال دے۔ اب ضعیف مائیں، بہنیں، اور نوجوان کھلے آسمان تلے ہیں بے آسرا، بے سہارا، صرف اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کی امید لیے۔ ریاست جس طرح اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کر کے ہراساں کر کے، اور در بدر کر رہی ہے، شاید دشمن ملک بھی اپنے قیدیوں سے ایسا سلوک نہ کرے۔ اگر ہمیں دارالحکومت میں ایک کرائے کا گھر لینے کی اجازت نہیں تو کم از کم ہمیں نیشنل پریس کلب کے سامنے خیمہ لگا کر پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔ یا ہمیں واضح طور پر بتا دیں کہ اس ریاست میں بلوچوں کے لیے نہ زمین ہے، نہ آواز، نہ سانس لینے کا حق۔ چند گھنٹے قبل ایک پی ٹی آئی رہنما صرف کھانا دینے آیا تھا، اس کے ڈرائیور اور گاڑی کو غائب کر دیا گیا۔ یہ ہراسانی نہیں، یہ بلوچوں کو سبق سکھانے کا ریاستی منصوبہ ہے۔ ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے: جو قومیں انصاف مانگنے پر دھتکاری جائیں، وہ ایک دن خاموش نہیں رہتیں وہ چیختی بھی ہیں اور پھر لڑتی بھی ہیں۔ بلوچوں کو دیوار سے لگانا بند کریں کیونکہ دیوار گر گئی تو اس کے ملبے تلے ریاست خود دفن ہو سکتی ہے۔ #ReleaseByCLeaders

Nadia Baloch

74,359 Aufrufe • vor 1 Jahr