Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

نیوکلیئر تنازع ہوا تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے بچوں کا کھیل نظر آگئیں گے!روس نے خبردار کر دیا #ExpressNews #BreakingNews #LatestNews #latestUpdates #news #InternationalNews #InternationalPolitics #War #iran #america #Attack #bunker #Netanyahu #kuwait #russia

11 Comments

🅜aham 🆅oice🔊🔊's profile picture
🅜aham 🆅oice🔊🔊7 months ago

Ye cheeeezzzz mere haaabib 🥳🥳🥳

Falcon's profile picture
Falcon7 months ago

Bhai apni urdu hii theek kr lo

I Love Weex's profile picture
I Love Weex7 months ago

I'm Muslim if Russia fight against amrica I will ready and I will go Russia and fight against amrica I will broke amrica

Aqeel Afzal butt Adv.'s profile picture
Aqeel Afzal butt Adv.7 months ago

@grok ye thk he?

Bushra Umer's profile picture
Bushra Umer6 months ago

Then why no one there to stop Israel who was spreading terror since Palestine war

Shaukat Ellahi's profile picture
Shaukat Ellahi6 months ago

اللہ مدد فرمائے

viki viki's profile picture
viki viki7 months ago

Good

Irshadullah's profile picture
Irshadullah7 months ago

@grok if I am not wrong, Britain is already in this war, their jets are flying over Iran. Is this news correct that Britain and NATO has declared to not join this war?

ilma's profile picture
ilma7 months ago

Wow

Abdul Basit khan Achakzai's profile picture
Abdul Basit khan Achakzai7 months ago

China bhi hamari Tarah muzammat Wala nikla

CHANDIO SHABIR's profile picture
CHANDIO SHABIR7 months ago

GOOD

Related Videos

🚨ایران امریکہ سے ہونیوالے مذاکرات میں ایٹم بم نہ بنانے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA سے اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرانے پر بھی رضامند ہوگیا تھا، پھر ایران پر حملے کا کیا جواز تھا؟ #IranWar #Iran #IranIsraelUSWar صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتا اور جب پاگل لوگوں کے ہاتھ میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، اس وقت امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں صدر ہیری ٹرومین اور انکی انتظامیہ نے پاگل پن کا مظاہرہ کیا تھا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور تباہ کاریوں پر تمام اسلامی ممالک کی خاموشی نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے۔ مجھے پاکستان کی خاموشی پر بھی سخت افسوس ہے۔ ( صدر ٹرمپ نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب اپنے خطاب میں جو الفاظ ادا کئے تھے، قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی وڈیو کلپ دیکھئے پھر میرا وڈیو لاگ دیکھئے )

Altaf Hussain

32,224 views • 6 months ago

عرب نے پاکستان نیو کلیئر پر اینیمیٹڈ ویڈیو بنائی ہے 🇵🇰🇸🇦💚 ویڈیو کا اردو ترجمہ 1971 بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ پاکستان کی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ دنیا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھڑے ہو کر کہا: "اگر بھارت نے ایٹم بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے... چاہے ہمیں گھاس اور پتے کھانے پڑیں!" اس نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کا آغاز کیا۔ لیکن مغربی دنیا نے پابندیاں لگا دیں۔ پیسہ کہاں سے آئے؟ ٹیکنالوجی کہاں سے ملے؟ عبدالقادر خان یورپ میں کام کر رہے تھے۔ وہ یورینیئم افزودگی (Uranium Enrichment) کی ٹیکنالوجی چوری کر کے پاکستان لائے۔ وہ خفیہ طور پر پاکستان واپس آئے اور زیر زمین لیبارٹریاں قائم کیں۔ لیکن پروگرام کے لیے اربوں ڈالر درکار تھے۔ سعودی عرب نے خفیہ طور پر اربوں ڈالر کی امداد کی۔ سعودی پیسے سے پاکستان نے جدید ترین سنٹری فیوجز خریدیں۔ خفیہ لیبارٹریاں بنائیں۔ اور دنیا کی نظروں سے بچتے ہوئے نیوکلیئر بم تیار کیا۔ 1998 پاکستان نے اپنا پہلا نیوکلیئر ٹیسٹ کیا۔ "چاغی" میں دھماکہ ہوا۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس ویڈیو کا مرکزی پیغام: سعودی عرب نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو خفیہ طور پر مالی طور پر سپورٹ کیا، جو اسے بھارت کے مقابلے میں توازن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ بھٹو کی قسم اور قadir خان کی کوششوں کے ساتھ سعودی فنڈنگ کو اہم کردار دیا گیا ہے۔

Bakker Janjua

24,754 views • 6 months ago

پشاور میں جو واقعہ ہوا،آرمی پبلک اسکول پر حملے کا،طالبان نے 130 سے بھی ذیادہ ان بچوں اور انکے استاتذہ کو گولیوں سے بھون دیا،تو اسکے بعد بھی یہ ایک بحث چلی کہ جو لوگ ملوث ہوں گے انکا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کیا جائے،تو بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ نہیں انکا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور باقاعدہ اس چیز کی مخالفت کی گئی “جمہوریت پسند “لکھنے والوں کی طرف سے ملٹری کورٹ بڑا غلط راستہ ہے! لیکن اب آپکے سامنے ملٹری کورٹس کے حق میں ہر طرح تاویل پیش کی جاتی ہے،آپ ان سب باتوں کو دیکھیں تو آپکو دلیل کی موت ہوتی ہوئی نظر آئے گی منطق آپکو تڑپتی ہوئی نظر آئے گی، باز لوگوں نے کھلے عام کہا کہ یہ جو طالبان ہیں چاہے انھوں نے ہمارے سینکڑوں بھائیوں کو،ہزاروں پاکستانیوں کو تح تیغ کیا ہے مار دیا ہے شہید کر دیا ہے،ان طالبان نے ہمارے بچوں کا شہید کر دیا ہے،ان طالبان نے ہمارے بھائیوں کو قتل کر کے انکے سر تن سے جدا کر کے انکے سروں سے فٹ بال کھیلا ہے اور فٹ بال کھیلتے ہوئے وڈیو بنائی ہے! تب بھی ان سے مذاکرات ہونے چاہیں ان سے بات ہونی چاہئے یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں،وہ طالبان جو کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلنے والے طالبان تھے، تو پھر بھی یہ دلیل تھی کے یہ اپنے لوگ ہیں ان سے بات ہونی چاہیے،ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں،اپنے لوگوں کے ساتھ چلا جاتا ہے! وہی لوگ آج بات کرتے ہیں کہ اگر آج سانحہ 9مئی کے مجرموں کو سزا نہ دی گئی تو پاکستان آگے نہیں چل سکتا! تو بنیادی طور پر آپ یہ دیکھ لیں کہ سانحہ 9 مئی میں آپ دلیل اور منطق کی موت ہوتی ہوئی دیکھیں کے نفرت انسان کو کس حد تک گرا دیتی ہے! باز صحافیوں سے یہ بار بار لکھوایا جاتا ہے کہ سانحہ مئی تو پاکستان کا 9/11 تھا! ارے بھائی GHQ کے اندر دہشت گرد گھس گئے آپکی ایسی کی تیسی کردی،آپکے بندے انھوں نے پکڑ کے مار دئیے وہ 9/11نہیں تھا؟آپکے ملٹری کے تمام انسٹالیشن پر ملک بھر میں آپ کے اپنے پیدا کئیے گئے دہشت گردوں نے،ایک ایک انسٹالیشن پر جا کر حملہ کیاوہ 9/11نہیں تھا؟آپکے کراچی میں نیول بیس کے اوپر حملہ ہو گیا وہ 9/11 نہیں تھا؟پشاور میں آرمی پبلک اسکول جو کنٹونمنٹ ایریا میں واقعہ ہے اس کے اندر گھس کے 140 بچوں کو شہید کر دیا وہ 9/11نہیں تھا؟ایک آپکی باونڈری وائر پر چند پتھر پھینکے گئے ہیں تو وہ 9/11 ہو گیا ہے! پشاور کے اندر ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ جلی سب کو پتہ ہے اس واقعے کی تفصیلات کا کبھی بھی اسکی تحقیقات نہیں ہو ں گی! صاف ظاہر ہے الزام لگانا مقصود ہے پی ٹی آئی کے اوپر ایک سیاسی جماعت کے اوپر،آپ غلط بات کر رہے ہیں آپ کسی کو ذور زبردستی سے ختم نہیں کر سکتے،آپ جھوٹ کی بنیاد کے اوپر نہیں ختم کر سکتے،آپ عمران خان پر ایک کرپشن کا کیس نہیں بنا سکے،توشہ خانہ کے اصل چور تو موجودہ حکمران ہیں،9مئی کے حوالے سے جس طریقے سے آپ جھوٹ اور ذور زبردستی کے ذریعے ایک بات کو بڑھا بڑھا کے اسکو قومی یکجہتی اور سلامتی کے ساتھ منصوب کر کے صرف جھوٹ کا سہارا لیکر آپ اس بات کو ختم کرنے پر نہیں آرہے! (سنئیر صحافی احمد نورانی )

Rodium-A

333,477 views • 3 years ago

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 views • 8 months ago

پاکستان کے ہمسائے ایران میں صورتحال تشویشناک، حکومت مخالف احتجاج تو نظر نہیں آ رہے مگر امریکا اب کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔۔ نیویارک ٹائمز نے ایران پر امریکا کی جانب سے میزائل اور سائبر حملوں کی خبر بریک کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام احتجاج جاری رکھیں، ان کے لیے مدد راستے میں ہے۔۔ کیا امریکا کے ساتھ اسرائیل بھی ایران پر حملے کر سکتا ہے،، امریکہ کے ساتھ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو خطے میں جہاں جہاں امریکی فورسز ہیں وہاں ان پر جوابی حملہ کیا جا سکتا ہے۔۔ پاکستان صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے معاملات کے حل کی بین الاقوامی کوششوں کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔۔ دوسری جانب معاشی ترقی کے معاملے پر حکومت دباؤ میں ہے۔۔ حکومت کی اپنی رپورٹ نے صورتحال کی قلعی کھول دی ہے،، حکومت نے معاشی معاملات پر اچھی صورتحال نا ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اسحاق ڈار کی سربراہی میں اہم کمیٹی بنائی ہے اور ایک روڈ میپ طے کیا جا رہا ہے۔۔ پاکستان تحریک انصاف آٹھ فروری کو احتجاج کی تیاری میں ہے۔۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا دعوی ہے کہ سہیل آفریدی کے دورے کے دوران ایک نو مئی کراچی میں دہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ کیا یہ الزام درست ہے؟ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

23,945 views • 8 months ago

اس کیس کا (شادی ہونے والی تھی ) رات گئے پتا چلا تھا ہمین چند دن پہلے ۔ اور جتنا ہوسکا اس وقت رات اور اگلے دن میں کردیا ۔ اتنی جلدی جو جوجو ممکن تھا ۔ لڑکا کریانے کی دکان کرتا تھا تب دکان کو سرسری نظر سے دیکھا تھا ۔ شادی کے دو دن بعد پتا چلا کہ لڑکا لڑکی کے پاس اپنا کمرہ بھی نہیں ہے ۔ شادی کے وقت بڑے بھائ نے کمرہ دیا، جس میں رہائش پذیر ہیں ۔ اور یہ بھی کے بڑے بھائی کے پاس اور کوئی کمرہ نہین وہ ماں کے کمرے مین شیف ہوا ہوا ہے بیوی بچوں سمیت ۔ جو کمرہ لڑکے کے حصے میں ہے اسکی چھت سال سے زیادہ ہوگیا، مکمل نہیں ہوسکی دیواریں راولپنڈی میں محنت مزدوری کرکے، تعمیر کیں۔ لیکن چھت کے پیسے نہین بن پائے ۔ چھت اور دروازے کھڑکی کی گنجائش نہیں بن سکی کمرہ دیکھنے گئے تو دکان چیک کی ۔ گھر میں ہی ایک چھوڑے سے سٹور کو باہر کی طرف دروازہ لگا کر واشروم کے ساتھ دوکان بنائی ہوئی ہے ۔ ساری دکان خالی ہے۔ جو پہلی بار مجھے لگا ڈبے پڑے ہین ریکس کے اندر ۔ جو بھری چیزیں اور سامان نظر آرہا تھا وہ اصل میں خالی ڈبے ڈسپلے کیئے تھے لڑکا لڑکی اس دن جھنگ تھے، ان سے بات نا ہوسکی ۔ کسی ڈبے مین کوئی چیز نہین تھی۔ چینی والی بالٹی مین ادھا پاو چینی پڑی تھی۔ چند پیکٹ ساشے تار پر لٹک رہے تھے ۔ مسالہ جات کے ۔ یا ایک جار مین ادھا کلو چنے کی دال پڑی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضعیف ماں، جس کے زیر کفالت ایک مطلقہ بیٹی اور اس کا بارہ سال کا بیٹا یے ماں نے درخواست کی کہ روزگار کا کچھ کردیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب روزگار اور کمرے کا کہا تو بہت دعائیں دی کل دوبارہ گئے، لیکن جانے سے پہلے مستری کو کہا کہ چھت کے لیئے مطلوبہ سامان کی پیمائش کرو، وہ واجد کے ذمے سامان لگا دیا ۔ مستری نے پیمائش کر کے واجد کو کال کر دی۔ واجد بھوانہ سے جا کر سامان شام کو خرید لایا اور ان کے گھر پہنچا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج انشاءاللہ ان کی چھت ڈل جائے گی ۔ کمرہ مکمل ہو جائے گا ۔ دروازہ کھڑی بھی لگ جائے گی اگر میرے رب کو منظور ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔ لڑکا لڑکی سے بات ہوئی دکان کیسے ختم ہوئی چالیس ہزار کا سامان ڈالا ۔ خود مزدوری کر کے لڑکے نے۔ یا بڑے بھائی نے دس ہزار دئیے ۔ لیکن ادھار نے کام مشکل کردیا لوگوں کو کئ بار کہا لیکن کسی نے واپس نا کیئے سات ماہ دکان چلائی، اب پچیس ہزار کا ادھار لینا ۔ برادری کے گھر ہین اردگرد ۔ شادی سے چند دن پہلے لڑکے نے ادھار والے گھروں مین جا کر خدا واسطے کے منت ترلے کئے لیکن سب نے چند سو کے سوا اس کا دوکان سے لیا ادھار واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وقت تھا تب چاول، چینی پتی سب بیچے اور اب صرف خالی ڈبے ہی پڑے ہین ریکس مین ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا کام کرنا چاہتا دوبارہ شروع کرنا چاہتا اپنی غلطیاں جان چکا کہتا ادھار نہیں دینا اب اب کماؤں گا تو کھلاؤں گا پہلے اکیلا تھا تو گزارا ہو جاتا تھا ۔ اب بیوی بھی ہے اور بیوی کے ساتھ بیوی کا پہلی شادی سے ایا بیٹا بھی ساتھ ہے ۔ لڑکی کا پہلا شوہر نشہ کرتا تھا تبھی طلاق کی اس بچئ نے۔ لڑکی کا باپ تندور پر روٹیاں لگاتا ہے ۔ جہاں سے ہم شادیون کے کھانے بنوانے ہین اور روٹیاں لگواتے ہین ۔ انشاءاللہ جلد ہی اسکا کمرہ مکمل کردیں گے کمرے میں کھڑکی کا آپشن نہیں رکھا، کے ہمت ہی نہین تھی اس کے پاس۔ اسکا مستری کو کہ دیا ہے ۔ دکان کا بھی جلد کر دیتے دو چار دن میں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وسائل سے اس کے لئے آسانیاں پیدا کر سکتے ہین باقی رب نے اصل آسانیاں پیدا کرنی ہین ۔ اپنے اردگرد ایسے غربا پر نظر رکھا کریں جن کے حالات ایسے ہو۔ دعاؤں مین یاد رکھا کرین۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

43,807 views • 2 months ago

بھارتی ڈی جی ایم او نے ڈسکوری چینل پر دعویٰ کیا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او نے جنگ بندی کے لیے منت سماجت کی، امریکا کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا اور بھارتی فوج اس پورے آپریشن کے دوران ’’نظر نہ آنے والی‘‘ پوزیشن میں تھی۔ 📍 کچھ اہم حقائق: • 7 مئی: بھارتی فضائیہ (IAF) نے فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستانی فضائیہ (PAF) نے مبینہ طور پر 8 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ • 8/9 مئی: بھارت نے پاکستانی علاقوں کی جانب بڑے پیمانے پر کامیکازی ڈرونز بھیجے۔ پاکستان نے مبینہ طور پر 78 ڈرونز مار گرائے، جبکہ صرف 2 ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ • 10 مئی: پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا، جس کے دوران بھارتی ایئر بیسز، اسلحہ ذخائر اور دیگر اہم تنصیبات کو آرٹلری، ملٹی پل راکٹ لانچ سسٹمز (MLRS) اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فضائیہ نے مبینہ طور پر دو مقامات پر بھارتی S-400 ریڈارز کو بھی نشانہ بنایا۔ • 10 مئی: بھارت نے پاکستانی فوجی اڈوں کی جانب تقریباً 50 میزائل داغے، جن میں سے مبینہ طور پر 7 سے 9 میزائل اپنے اہداف تک پہنچے، جبکہ باقی کو روک لیا گیا۔ • 10 مئی: امریکا نے اس معاملے میں مداخلت کی اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی اتفاقِ رائے کے تحت جنگ بندی قائم کروائی گئی۔ • مئی کے تنازع کے بعد: پاکستان کی جغرافیائی سیاسی حیثیت میں اضافہ ہوا، عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان کے بارے میں تاثر تبدیل ہوا، اور یہاں تک کہ بھارت سے تعلق رکھنے والی بعض شخصیات نے بھی ان واقعات سے متعلق حقائق کو تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ بھارت کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاملات میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر واقعی جنگ بندی امریکا کی ثالثی یا مداخلت کے بغیر ہوئی تھی، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی کا یہ بیان ان دعوؤں کے ساتھ کہاں کھڑا ہوتا ہے؟

Ather Salem®

12,758 views • 1 month ago

یہ ویڈیو ذرا ملاحظہ کریں پٹواریوں نے رونا ہے، ان کی چیخیں نکلیں گی۔ یہاں ایک بہت بڑی شخصیت، ن لیگ کی، پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہے۔ یہاں مجرے والیوں کو لایا جاتا ہے، نچوایا جا رہا ہے، اور کمروں میں ساتھ لے جایا جا رہا ہے۔ انہی پٹواریوں کا غریب عوام کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں انتظامیہ کیا کہے گی؟ یہاں شریف فیملیز، بچوں والے لوگ بھی رہتے ہیں، اور آپ یہاں ریڈ زون میں، پارلیمنٹ کے اندر مجرے کروا رہے ہیں؟ اس پر کون نوٹس لے گا؟ نوٹ: جن پٹواریوں کو نہیں پتا، وہ یہی کہیں گے کہ “کیا ثبوت ہے؟” ساتھ میں میں نے ایک سادہ ویڈیو بھی لگا دی ہے۔ یہ وہی بلاک ہے ہمارا، جہاں مجھے پتا چلا کہ اکثر یہاں ایسی عورتوں کو لایا جاتا ہے نازیبا حرکات کروائی گئی ہیں… مجھے بہت دکھ ہوا، غصہ آیا۔ اس بندے کی بیوی میری بڑی بہنوں کی طرح ہیں۔ میں نے انہیں کال کر کے بتایا ۔۔۔ وہ یہاں نہیں تھیں، گاؤں گئی ہوئی تھیں۔ جب واپس آئیں تو وہ منتیں کرنے لگ گئیں، یہاں تک کہ قرآن اٹھا کر کہا کہ اس بات کا ذکر کسی سے نہ کروں، پلیز اس دفعہ معاف کر دو، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔ میں نے بھی یہی سوچ کر معاف کر دیا اور خاموش ہو گئی ۔۔۔اللہ بھی پردہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر دوبارہ مجھے ایسی کوئی سرگرمی نظر آئی تو میں لحاظ نہیں کروں گی۔ اگلی بار ویڈیو اور نام بھی پبلک کروں گی ایسے بغیرتوں کا ۔۔۔۔
1:12

Sensitive content

یہ ویڈیو ذرا ملاحظہ کریں پٹواریوں نے رونا ہے، ان کی چیخیں نکلیں گی۔ یہاں ایک بہت بڑی شخصیت، ن لیگ کی، پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہے۔ یہاں مجرے والیوں کو لایا جاتا ہے، نچوایا جا رہا ہے، اور کمروں میں ساتھ لے جایا جا رہا ہے۔ انہی پٹواریوں کا غریب عوام کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں انتظامیہ کیا کہے گی؟ یہاں شریف فیملیز، بچوں والے لوگ بھی رہتے ہیں، اور آپ یہاں ریڈ زون میں، پارلیمنٹ کے اندر مجرے کروا رہے ہیں؟ اس پر کون نوٹس لے گا؟ نوٹ: جن پٹواریوں کو نہیں پتا، وہ یہی کہیں گے کہ “کیا ثبوت ہے؟” ساتھ میں میں نے ایک سادہ ویڈیو بھی لگا دی ہے۔ یہ وہی بلاک ہے ہمارا، جہاں مجھے پتا چلا کہ اکثر یہاں ایسی عورتوں کو لایا جاتا ہے نازیبا حرکات کروائی گئی ہیں… مجھے بہت دکھ ہوا، غصہ آیا۔ اس بندے کی بیوی میری بڑی بہنوں کی طرح ہیں۔ میں نے انہیں کال کر کے بتایا ۔۔۔ وہ یہاں نہیں تھیں، گاؤں گئی ہوئی تھیں۔ جب واپس آئیں تو وہ منتیں کرنے لگ گئیں، یہاں تک کہ قرآن اٹھا کر کہا کہ اس بات کا ذکر کسی سے نہ کروں، پلیز اس دفعہ معاف کر دو، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔ میں نے بھی یہی سوچ کر معاف کر دیا اور خاموش ہو گئی ۔۔۔اللہ بھی پردہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر دوبارہ مجھے ایسی کوئی سرگرمی نظر آئی تو میں لحاظ نہیں کروں گی۔ اگلی بار ویڈیو اور نام بھی پبلک کروں گی ایسے بغیرتوں کا ۔۔۔۔

Rabia Malik

45,020 views • 5 months ago

میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے کہ ہر تقریر میں سینیٹ کی آفیشل فیج سے کٹنگ کی جاتی ہے؟ جملے کاٹے جاتے ہیں، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ پنجاب بڑا بھائی ہے، اور یہ بات رانا ثناء اللہ نے بالکل صحیح کہی۔ لیکن بڑے بھائی کا جابرانہ کردار 14 اگست 1947 سے شروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ بدقسمتی سے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اور چاہے پنجاب ہی کیوں نہ ہو، اس کا رویہ پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا ظالمانہ اور استحصالی رہا ہے۔اگر میں پنجاب کے کردار اور بھائی چارے کی بات کروں، تو یہ زبردستی کا معاملہ لگتا ہے۔ اور پتہ نہیں یہ کب تک جاری رہے گا۔ اللہ خیر کرے۔ لیکن جب ہم گلہ کرتے ہیں، تو فوراً یہ جواب آتا ہے کہ پنجاب یا پنجابی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ وہ ہمارا بھائی ہے، لیکن خدا کی قسم! اگر اپنا بھائی بھی اپنے بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالے تو ہم اس کے خلاف بھی بولیں گے۔ تاریخ کے حوالے سے اگر کھل کر بات کی جائے تو بڑے مسائل سامنے آئیں گے۔ پانی کے معاملے میں اے این پی ہمیشہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے ساتھ کھڑی رہی، بالکل اسی طرح جیسے ہم 18ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے۔ پی ڈی ایم میں بھی ہم ایک تھے، لیکن بعد میں ہمیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نکال دیا گیا۔ اس دور میں ہم نے بہت سے نعرے سنے، جیسے “ووٹ کو عزت دو”، لیکن آج وہی نعرہ بدل کر “بوٹ کو عزت دو” ہو چکا ہے۔ اتنی تابعداری کہ ایک رجسٹرڈ پارٹی آئین کی مخالفت کر رہی ہے۔ کل کو آپ کس منہ سے کہیں گے کہ آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟ آپ نے خود کتنی مخالفت کی ہے؟ کیا 18ویں آئینی ترمیم پر مسلم لیگ کے دستخط نہیں ہیں؟ آج پختونخوا کو بجلی کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ آخری این ایف سی ایوارڈ کب ہوا تھا؟ یہ سب کیوں نہیں ہو رہا؟ پھر آپ کہیں گے کہ آئین کو نظر انداز کیا گیا، تو آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب جمہوریت ہوگی، انقلاب آئے گا، لیکن جب آئینہ دیکھا تو حقیقت سامنے آئی کہ ہر طرف صرف حافظ ہی حافظ ہیں۔ آج کس حیثیت سے چیف آف آرمی اسٹاف باہر گھوم رہے ہیں اور سوٹ کیسوں میں زمینی وسائل اٹھا کر پھر رہے ہیں؟ یہ کیا مذاق ہے؟ جو تصویر سامنے آئی ہے، اس سے لگ رہا ہے جیسے ایک برین اسٹور ہے، اس کا منیجر خوشی خوشی اندر بیٹھا ہے، اور باہر دکاندار لوگوں کو بلا رہا ہے: “آؤ، ہمارے پاس اچھی چیزیں ہیں، لے لو۔” یہ کس معاہدے، آئین اور قانون کے تحت ہو رہا ہے؟ یہ تو آمریت ہے، جمہوریت نہیں۔ کیا پارلیمان کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں؟ جو سعودی عرب اور پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے، اس کی تفصیلات کہاں سے سامنے آ رہی ہیں؟ جو 20 نکاتی ایجنڈا دنیا کے سامنے رکھے گئے، اس میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے یہ سب قبول کیا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کس پاکستان نے یہ قبول کیا؟ ہمیں تو کوئی خبر ہی نہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جب وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف واپس آئیں، تو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ اتنا بڑا سودا کیا جا رہا ہے، تو پارلیمان کے سامنے بتایا جائے کہ حقیقت کیا ہے۔ ملک ایک خطرناک سمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ 20 نکات میں صرف دعوے اور ڈرامہ دکھایا گیا۔ کیا معلوم اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیا گیا ہو؟ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ SIFC ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اس کی موجودگی قانونی ہے یا غیر قانونی؟ کیا پاکستان دوبارہ ون یونٹ کی طرف جا رہا ہے کہ نہیں؟ آج سارے فیصلے ایک ہی جگہ ہو رہے ہیں، اور وہ ہے SIFC۔ باجوڑ میں ہمارا دوسرا رہنما شہید کر دیا گیا، اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ میں نے مطالبہ کیا تھا کہ مولانا خانزیب شہید کے واقعے پر ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن بنایا جائے، لیکن یہ کیوں نہیں ہو رہا؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود ملوث ہے۔ آخر میں سانحۂ تیراہ پر بات شروع کرتے ہی ایمل ولی خان کا مائیک بند کر دیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس میں خطاب

Awami National Party

20,561 views • 1 year ago

بریکنگ نیوز 🚨کیسے ملٹری فوج، ظالم ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں میں اپنا خوف پیدا کرنے کیلئے ظلم کرتے ہیں؟ اور ہمیں کیسے پچھلے 78 سالوں سے فوج کے معاملے میں بیوقوف بنایا گیا؟ اس پر معید پیرزادہ کا شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے اور حقیقت سے خود روشناس کیجئے 🔥🔥 آپ جڑانوالہ باغ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور حیران پریشان رہے جاتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی، تنگ سی جگہ میں جس کے صرف اندر داخل ہونے کیلئے ایک راستہ ہے، جس کے تین طرف اونچی دیواریں ہیں، کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وہاں پر ایک راستے سے جو ہندوستانی فوج ہے، جنرل ڈائیر کا جو دستہ ہے، وہ اندر Enter کرتا ہے، پوزیشن لیتا ہے، لوگ انکو دیکھ رہے ہیں جو تقریریں کر رہے ہیں، انکو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ان پر فائرنگ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اُنکے اوپر اندھا دھند فائر کھولتا ہے۔ جب جنرل ڈائیر سے بعد میں پوچھا گیا کہ تُم نے یہ بربریت کیوں کی ہے؟ اُس نے کہا میں برٹش امپائر کا خُوف لوگوں کے ذہن میں بیٹھنا چاہتا تھا، میں چاہتا کہ انکو پتہ چلا کہ تُم نے راج کی Obedience کیسے کرنی ہے۔ مطلب اسکو کہتے ہیں Moral Authority۔ پولٹیکل سائنس میں۔ چنگیز خان کھوپڑیوں کے منار کیوں بناتا تھا؟ کیونکہ جس زمانے میں، بارہویں، تیرھویں صدی میں چنگیز خان کی چنگیزیت ہمارے سامنے آئی تھی، تو اُس وقت ویسے بھی رواج یہ تھا کہ جب جنگ ہوتی تھی تو جو Able Bodied Men ہوتے تھے جو جنگی سروس کرسکتے تھے انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اُنکی گردن مار دی جاتی تھی، عورتوں کو اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا، تو پھر کھوپڑیوں کے منار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھوپڑیوں کے منانے بنانے کا چنگیز خان نے جو رواج شروع کیا وہ اس لیے تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔ میسج یہ تھا ہر وہ شہر جس کے لوگ لڑیں گے اور لڑے بغیر سرینڈر نہیں کریں گے وہاں پر یعنی مارا ویسا بھی جاسکتا تھا، لیکن اگر فتح کر لے گی منگول فوج تو اسکے بعد سارے شہر کو آگ بھی لگائے گی اور کھوپڑیوں کے منار بھی بنائے گی اور وہی جو خوف تھا پورے سینٹرل ایشیا کے اندر، مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ تک خوف تھا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوسکتا ہے۔ Even ہندوستان کے قریب بھی بعض منگول جنگ باز جب آئے تو یہاں پر بھی انہوں نے کھوپڑیوں کے منار قائم کیے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے اوپر جو دو سال سے Bombing کی ہے، کیا وجہ تھی؟ Moral Authority، خُوف بیٹھانا، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم کتنا ظلم تمہارے ساتھ کرسکتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمیں جو کہانی سنائی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی، جرنیلوں کی، ہماری فوج، پیاری فوج، پاک فوج۔ اُس میں ہم یہ Expect نہیں کرتے تھے۔ اصل میں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہوگا کیونکہ بلوچستان میں تو ہو ہی رہا تھا۔ Former East Pakistan میں تو ہوا ہی تھا۔ کراچی میں خون کی ندیاں تو بہائی ہی گئیں۔ فاٹا کے ساتھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اسکے باوجود ہم چونکہ کہ ایک سوہانہ خواب دیکھتے تھے اور جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے جس طرح سے کانوں میں اذان دی جاتی تھی، اسی طرح ہماری پیٹھ کے اوپر بھی انہوں نے ایک لگایا سٹمپ بیوقوفی کا یا کوئی ٹیکہ لگا دیا جس کے نتیجے میں ہمارے دماغ کے خولیے جو ہیں انہوں نے کبھی Grow کیا ہی نہیں اور ہمارے سامنے کی حقیقتیں تھیں کہ ایسٹ پاکستان میں انہوں نے کیا کیا، بلوچستان میں یہ کیا کررہے ہیں، فاٹا میں یہ کیا کررہے ہیں، کراچی میں کیا ہوا، کیسے مختلف گینگ بنائے گئے، کیسے کبھی سپہ صحابہ بنائی گئی، کبھی سپہ محمد بنائی گئی، کیسے قتلِ عام کرایا گیا۔ یہ سب چیزیں ہمارے سامنے تھیں لیکن ہم نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہماری کھوپڑیاں جو ہیں ایسی ہی رہیں گی اس لیے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ہمارے سامنے جو اس وقت بہت ہی کرب ناک واقعات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ اسلام آباد کا واقعہ ہوا 26 نومبر 2024 کا، پھر مریدکے میں واقعہ ہوا 13 اکتوبر 2025 کا، پھر ہم نے آزاد کشمیر کی Valance دیکھی، پھر ہم نے بلوچستان کی Valance دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ تمام جھوٹ جو تھا، اس کی تمام کلائی اُتر گئی ہے۔ کسی طرح دیکھاتے ہیں Demon یا ڈائن ہوتی ہے، جس نے بہت خوبصورت میک اپ کیا ہوتا ہے، Horror movies میں دیکھاتے ہیں، بارش ہوجاتی ہے کوئی خطرناک قسم کی، سارا میک اپ اتر جاتا ہے۔ وہ ڈائن جو خوبصورت بنی ہوئی تھی، اسکی جو آٹھ سو سال کی عمر تھی یا آٹھ ہزار سال کی ایک بوڑھیا تھی، وہ وہاں نظر آجاتی ہے۔ یہاں جرنیلوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے چہرے کا تمام رنگ روپ روغن، Pant جو انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سارے کا سارا اتر گیا ہے اور انکی اصل حقیقت جو ہے، انکی جو نیچر ہے وہ کھل کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

11,929 views • 2 months ago

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 views • 6 months ago

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,949 views • 1 month ago