Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

"پورے ملک میں اس وقت دو نظام ہم پر مسلط ہیں ایک نظام امیر کا نظام دوسرا غریب کا نظام ہے امیر کے بچے ان سکولوں میں جاتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں جا سکتا، امیروں کے بچے وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں پیدا...

20,170 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 görüntüleme • 8 ay önce

پچھلے ایک دو ہفتے میں جو کچھ بھی خیبر پختونخوا میں ہوا، ایک وزیر صوبائی جو ہیں عبدالشکور صاحب وہ اغوا ہوئے، آج تک ان کا نہیں پتہ۔ ایک ایم این اے ہیں وہ بھی اغوا ہوئے، ان کا آج تک نہیں پتہ۔ کچھ کو کوشش کی گئی ایم پی ایز کو تشدد ہوا, فائرنگ ہوئی اور بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے ایف آئی آر کرتی انہی پہ ایف آئی آر کاٹی گئی تو یہ ساری چیزیں شہباز شریف جیسا بندہ تو نہیں کر سکتا۔ ایک وزیراعظم جو ہے اس کی تو شہباز شریف کی تو اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ صوبائی وزیر کو اغوا کروائے۔ تو جب معاملات وفاق کے اندر سیاستدانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے اور اس چیز سے پیپلز پارٹی بھی اچھی طرح آگاہ ہے جو ایک اتحادی جماعت ہے تو پھر آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے جو عوام ہیں وہ چپ کر کے گھروں میں بیٹھ جائیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقریر کا فیصلہ اس ملک کا نام نہاد وزیراعظم نہیں کرے گا، اس ملک کی نام نہاد پارلیمنٹ نہیں کرے گی اس ان کی تقدیر کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے جس کے ایک ہاتھ میں کے پی کے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ ہے اور دوسرے ہاتھ میں بندوق ہے۔

PTI

55,926 görüntüleme • 3 gün önce

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا انوکھا سکول بھی ہے جہاں داخلہ لینے کے لیے آپ کو امتحان میں ٹاپ کرنے کی نہیں بلکہ دو سے تین بار فیل ہونے کی ضرورت ہے۔ فلم تھری ایڈیٹس اسی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام "سونم جی" ہے اور اس تعلیمی ادارے کا نام "Students Educational and Cultural Moments of #LADAKH" سونم نے سوچا کہ جو 25 فیصد بچے فیل ہو جاتے ہیں ان کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کوئی تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ اس ادارے میں مختلف سکولوں سے " نالائق " کہہ کر دھتکار دیے جانے والے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کو یہ بچے خود ہی چلاتے ہیں۔ ہر دو مہینے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور باقاعدہ ان بچوں میں سے ہی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے ماتحت ایک ٹیم تشکیل دے کر ذمے داریاں سونپ کر " لیڈر" کا کردار ادا کرتا ہے۔ لداخ #India کا ایک ایسا علاقہ جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہوتا ہے وہیں اس سکول کے اندر 15 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہ پورا سکول سولر سسٹم پر چلتا ہے۔ کوئی بچہ سولر سسٹم کی لیڈر شپ قبول کرتا ہے کوئی جانوروں کی کوئی کھیتوں کی اس طرح ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بچے نت نئی ایجادات کرتے ہیں مختلف میدانوں میں اپنا آپ منواتے ہیں اور پھر ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ یہ شخص کہتا ہے لداخ جیسے علاقے میں جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہے وہاں ایک بچے کو "ایف" فار فین کیسے اور کیوں پڑھایا جائے ؟ اسے یہاں پہاڑی علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ماحول کے مطابق ہی چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ؟ روز مرہ زندگی میں کتنے موضوعات ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے نصاب میں شامل ہیں ؟ خود اندازہ لگا لیجیے ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں ؟ نفسا نفسی کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص اور ادارہ ٹاپ کرنے اور ٹاپر پیدا کرنے میں مصروف ہے وہیں ایسے عظیم لوگ بھی موجود ہیں جو کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ایسا شخص جس کی توجہ کا مرکز وہ پچانوے فیصد بچے تھے جو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے نظریات اور انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے حصے کی کوشش کرنے والےاس شخص نے #India کے سرکاری سکولوں میں بچوں کو وہی معیار وہی تعلیم پہنچا دی جو صرف پانچ فیصد #American طرز سکولوں میں مہیا کی جاتی تھی۔ اور ہمارے ہاں ؟ سرکاری سکولوں میں اگر نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا تو پرائیویٹ سکولوں میں اپنے اربوں روپے انویسٹ کرنے والے طاقت ور لوگوں کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر بچہ اپنے آپ میں ایک پوری کائنات ہے۔ اس کے اندر مختلف صلاحتیں موجود ہوتی ہیں ہر بچہ قدرتی طور پر کسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت ، صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور پالش کرنے اہم کردار والدین اور ٹیچرز کا ہوتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ممکن ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں یہاں بھی امید زندہ ہے۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو " نوکری حاصل کر کے نوکر بننے کی سوچ سے آزاد کر دیں تو وہ مستقبل میں نوکریاں دینے والے بن سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلنٹ دریافت کر سکتے ہیں۔ #ابو_عبيدة #Lahore #Cheating #ImranRiazKhan #Taliban #SheikhRasheed #Dubai #Cabada #Balochistan #AlShifaHospital #IsraelIsATerrorist #Islamabad

Sadia Khalid

28,839 görüntüleme • 2 yıl önce

اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے صاحبانِ اختیار، ذرا غور کیجیے گا۔ 💔 ایک ویڈیو میں ایک غریب مگر خوش مزاج نوجوان نظر آیا، جو اپنے خواب پورے کرنے، والدین کو خوش رکھنے اور رزقِ حلال کمانے کے لیے پردیس میں محنت مزدوری کر رہا ہے۔ بائیک رائیڈنگ کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے، مشکلات بھی بتاتا ہے مگر صبر، شکر اور امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لاکھوں کروڑوں محنت کشوں سے مزید 100 ارب روپے کا بوجھ نکالنا ہی آسان راستہ کیوں ہے؟ ایک لیٹر پٹرول پر غریب مزدور اور کروڑوں کی گاڑی میں گھومنے والا امیر و بااختیار شخص تقریباً ایک ہی نوعیت کا ٹیکس دیتا ہے۔ بجلی کے معاملے میں غریب کو 200 یونٹ کی حد میں رکھنے کے لیے سلیب سسٹم اور پابندیاں ہیں، مگر امیر طبقے کے لیے رعایتوں اور سہولتوں کے راستے نکال لیے جاتے ہیں۔ اگر قانون سازی کا مقصد غریب کی مشکلات بڑھانا اور طاقتور کو تحفظ دینا بن جائے، تو پھر مسئلہ صرف ٹیکس کا نہیں، پورے نظام کے انصاف کا ہے۔ صاحبانِ اختیار، کبھی قانون بناتے وقت اس محنت کش نوجوان کے چہرے کو بھی سامنے رکھ لیا کریں۔

Expose Propaganda

16,345 görüntüleme • 1 ay önce