Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کراچی والے لڑکے میر رضا کا کیس تو اب مشکوک ہو گیا ہے میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا ہے کہ نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر میرا پیچھا کرتے رہے اور مجھے دھمکیاں دی گئیں اگر خودکشی لکھ دو گی تو ہاتھ...

47,224 views • 3 days ago •via X (Twitter)

4 Comments

PakistanLover's profile picture
PakistanLover2 days ago

کراچی کے بچوں کی زندگیاں بچانی ہیں تو الگ صوبہ ہر قیمت پر حاصل کرنا ہوگا @AltafHussain_90

Asad Ali Khan's profile picture
Asad Ali Khan2 days ago

لیکن وزیر اعلی سندھ کو پتا ہے۔کون ہے وہ گارنٹی کے ساتھ۔زرداری اور بلاول کو بھی پتہ ہے۔

Tom Bolt's profile picture
Tom Bolt3 days ago

same people who are after famous vloggers to get the money.

SAQIBOK's profile picture
SAQIBOK3 days ago

کبھی شائید ہی پتا چل سکے کہ اس کیس کو بڑا ڈرامہ بنانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

Related Videos

اس قدر نفرت ۔ اس قدر تعصب!!! #JusticeForMirRazaAli #MirRaza میر رضا شہید کی قبرکشائی کے بعد باڈی کے معائنے اور کیمیکل ایگزامن رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ میر رضا کو کمر پر گولی ماری گئی، چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا، انگلیوں کو جلایا گیاتاکہ فنگر پرنٹ نہ آئیں، جسم پر جابجا بہیمانہ تشدد کے نشانات ہیں لیکن یہ صاحب بضد ہیں کہ یہ قتل نہیں خود کشی ہے، جن پولیس افسران نے قتل کو خودکشی کا رنگ دیا، یہ ان کی پیشہ ورانہ بددیانتی کا زکر کئے جانے کو بھی لسانی تعصب قرار دے رہے اور حقائق منظرعام پر لانے پر میڈیا کو بھی لسانیت کا طعنہ دے رہے ہیں صرف اسلئے کہ قتل کیا جانے والا نوجوان میر رضا مہاجر ہے۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس قدر متعصب اور نفرت کرنے والا ہوسکتا ہے۔ایسے ہی متعصب لوگوں کی وجہ سے سندھ میں مہاجر تو چھوڑ دیجئے، سندھی ہاریوں اور عام غریب سندھیوں کو بھی انصاف نہیں ملتا کیونکہ اس جیسے نام نہاد صحافی قاتل وڈیروں اور ان کے سہولت کار پولیس افسران کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں۔اس شخص کو صحافی کہنا صحافت کی توہین ہے۔ Imdad Soomro (Sehwani) قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی یہ رپورٹ تعصب کی عینک کے بجائے صحافت کی نظر سے دیکھو اور شرم کرو ۔

Mustafa Azizabadi

11,749 views • 1 month ago

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 views • 2 years ago