Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کشمیر الیکشن سے پیپلز پارٹی کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ شروع ہوا، لیکن اسے کشیدگی کہنا درست نہیں ہے کشمیر میں ایک دوسرے کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے، الیکشن بالکل شفاف اور کریڈیبل ہوئے آزاد کشمیر میں 43 حلقوں میں الیکشن ہوئے، کسی ایک شخص کے...

146,594 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 просмотров • 2 месяцев назад

کل آزاد کشمیر الیکشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا، آج نتائج کا اعلان ہوا ہے جس کے مطابق نو نشستیں ن لیگ اور چار نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں۔ الیکشن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے ہیں اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔۔ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں سنگین الزامات لگائے، کہا کہ دھاندلی کروانے کے لیے الیکشن کو مرحلہ وار کیا گیا، ریاست قومی مفاد چھوڑ کر ن لیگ کا مفاد دیکھ رہی ہے۔۔ یہ آزاد کشمیر ہے اسے ہم مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے، سچ اور مفاہمت کا کمیشن ریاست کو تسلیم کرنا ہو گا۔ مریم نواز نے بلاول بھٹو کو جواب دیا کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتی ہے۔ سترہ سال سے سندھ میں حکومت کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں، آپ کی کارکردگی ہوتی تو ذاتیات پر بات نا کرتے۔۔ سوال یہ ہے کہ حالیہ لڑائی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان صرف الیکشن کے لیے ہے اور اگر نہیں تو کیا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد برقرار رہ سکتا ہے؟ دوسری جانب راولا کوٹ میں تصادم کے باعث ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ہو کیا رہا ہے؟ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

19,360 просмотров • 1 месяц назад

پاکستان کے چار بڑے صوبوں کا نظام اب اپنی آخری حد کو پہنچ چکا ہے؟25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں مرتکز طاقت کو توڑ کر اختیار عوام کے دروازے تک پہنچانے کی بحث اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔اس وقت تین بڑے فارمولے زیر بحث ہیں: نئے چھوٹے صوبے، موجودہ صوبوں کے اندر طاقتور ایڈمنسٹریٹو یونٹس، یا آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بااختیار منتخب لوکل گورنمنٹس۔ مگر نئے صوبوں کا راستہ آسان نہیں، کیونکہ آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔اسی لیے ملک گیر ریفرنڈم کی تجویز بھی سامنے آگئی ہے، جو عوامی مینڈیٹ تو دے سکتا ہے مگر آئینی ترمیم کی ضرورت ختم نہیں کرتا۔ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم، سندھ کی تقسیم پر پیپلزپارٹی کی مخالفت اور طاقتور حلقوں کی دلچسپی نے معاملہ مزید اہم بنا دیا ہے۔پاکستان کا نقشہ بدلنے والا ہے یا صرف نظامِ حکومت؟ مکمل تجزیے کیلئے آج کے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں۔

Kamran Khan

40,447 просмотров • 25 дней назад

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 просмотров • 1 месяц назад

آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,812 просмотров • 2 лет назад

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث کا میلہ لوٹ لیا، مدلل اور پر مغز خطاب کے دوران قومی اسمبلی ہال اور گیلریوں میں سکوت طاری۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے خطاب نے نہ صرف بجٹ بحث کا رخ تبدیل کر دیا بلکہ آزاد کشمیر، کشمیر کاز، مہاجرین کی نمائندگی اور پارلیمانی اصلاحات جیسے اہم موضوعات کو قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا۔ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے! چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے تو اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

Afzal Butt

19,169 просмотров • 3 месяцев назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,788 просмотров • 17 дней назад

حامد میر آپ کا یہ استدلال کہ "نئے صوبوں سے پاکستان کے نام کا مخفف (Acronym) متاثر ہوگا یا شناخت ختم ہو جائے گی"، تاریخی حقیقت اور جدید طرزِ حکومت دونوں لحاظ سے کمزور ہے۔ چوہدری رحمت علی نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "اب یا کبھی نہیں" (Now or Never) میں "پاکِستان" کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ محض ایک لسانی مخفف (Acronym) تھا، کوئی ایسی آئینی دستاویز نہیں تھی جس کے تحت مستقبل کی ریاست کی سرحدیں طے ہونی تھیں۔ اس وقت مسلم لیگ کی سب سے بڑی طاقت اور اکثریت بنگال میں تھی، جہاں پاکستان کی قرارداد پیش ہوئی۔ چوہدری رحمت علی کے فارمولے میں بنگال کا "ب" یا کوئی اور حرف شامل ہی نہیں تھا۔ اگر نام کو ہی صوبوں کی نمائندگی کا معیار مانا جائے، تو قیامِ پاکستان کے وقت اکثریتی صوبہ (مشرقی بنگال) اس نام سے بالکل باہر تھا۔ 1947 میں موجودہ بلوچستان نام کا کوئی صوبہ نہیں تھا، بلکہ قلات، خاران، لسبیلہ اور مکران جیسی آزاد ریاستیں تھیں، جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنیں۔ اسی طرح بہاولپور، خیرپور، سوات، دیر اور امب جیسی اہم ریاستیں بھی اس نام کے مخفف کا حصہ نہیں تھیں۔ ناموں کے مخفف وقت کے ساتھ صرف ایک پہچان بن جاتے ہیں، وہ جغرافیائی یا انتظامی تبدیلیوں کے پابند نہیں ہوتے۔ لفظ "پاکستان" کا مروجہ اور اصل مطلب "پاک لوگوں کی سرزمین" (Land of the Pure) ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک کے انتظامی یونٹس (صوبے یا اضلاع) اس کے نام کے حروف تہجی دیکھ کر نہیں بنائے جاتے۔ مثال کے طور پر، امریکہ (USA) کی 50 ریاستیں ہیں، لیکن اس کے نام میں 50 حروف شامل نہیں ہیں۔ گر پنجاب کو چار یا پانچ انتظامی صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے (جیسے جنوبی پنجاب یا پوٹھوہار)، تو وہاں کے رہنے والے پنجابی اور سرائیکی ہی رہیں گے۔ ان کی زبان، ثقافت اور تاریخ تبدیل نہیں ہوگی۔ پاکستان کی آبادی اب 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو صرف 4 صوبوں سے کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ نئے صوبے بننے کا مطلب یہ ہے کہ ہسپتال، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر عوام کی دہلیز پر ہوں گے۔ میاں چنوں یا راجن پور کے شہری کو اپنے چھوٹے سے کام کے لیے لاہور یا کراچی نہیں جانا پڑے گا۔ اصل شناخت حروفِ تہجی کے ملاپ سے نہیں، بلکہ شہریوں کو ملنے والے حقوق سے بنتی ہے۔ جب کسی خطے کے عوام کو روزگار، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے، تو ان کا اپنی مٹی اور ملک سے تعلق مزید مضبوط ہوگا۔ انتظامی یونٹس کا مقصد کسی کی تاریخ کو مٹانا نہیں، بلکہ موجودہ نسلوں کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ لہٰذا، نام کے حروف کے پیچھے چھپ کر عوام کو ان کے انتظامی حقوق سے محروم رکھنا ایک بھونڈی اور کمزور دلیل ہے۔

Markhor 🇵🇰

258,388 просмотров • 1 месяц назад

جے کے ایل ایف کا امان کہتا ہے تمہارے پاس صرف ایک آپشن ہے ہمارے قدموں میں سرنڈر کرو۔ پھر کہتا ہے "وطن یا کفن"۔ سرنڈر کی بات پھر کسی دن رکھ چھوڑتے ہیں آج "وطن یا کفن" پر بات کر لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو 24 اکتوبر 1947 کو آزادی ملی جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو لیکر آپس میں پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن پاکستان نے آج تک بھارت کو آزاد کشمیر کا ایک انچ نہیں لینے دیا۔ آج حیرانگی اس بات کی ہے کہ "وطن یا کفن" کی باتیں وہ کر رہے جن کا جدوجہد آزادیِ جموں و کشمیر سے چٹکی بھر سندور جتنا تعلق بھی نہیں۔ پاکستان تو اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج بھی کار بند ہے کہ خطہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق ہو گا۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ اور آزاد کشمیر کے 22 لاکھ کشمیری خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی انکار نہیں بلکہ پاکستان نے تو اسی لئے آج تک آزاد کشمیر کی حیثیت الگ ریاست کے طور پر برقرار رکھی ہوئی ہے جس کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی اسمبلی، اپنی کابینہ اپنی ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ہے۔ لیکن کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف JKLF کے سرخے کریں گے؟ کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کریں گے؟ نہیں جناب یہ فیصلہ ڈیڑھ کروڑ آبادی والا مقبوضہ کشمیر بھی کرے گا جو بقول کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور JKLF سرخے مہاجر ہیں اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر JKLF کے سرخوں کو اتنا ہی زور سے "وطن یا کفن" آیا ہوا ہے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر وہاں "وطن یا کفن" خود مختار کشمیر کا راگ کیوں نہیں الاپتے؟ کیونکہ جب تک مقبوضہ کشمیر نہیں چاہے گا تب تک تو JKLF کے سرخے ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھوں کے بل بھی چلنا شروع کر دیں تب بھی آزاد کشمیر کی خود مختار وطن کے نام کی باگ ڈور تو انکے ہاتھوں نہیں تھمائی جا سکتی۔ ہاں مجھے اتنا ضرور یقین ہے کہ JKLF کے سرخے اس خود مختار چورن کو لیکر مقبوضہ کشمیر میں جا کر "وطن یا کفن" کی آواز لگائیں تو "کفن" ضرور ملے گا یا وہ بھی پتہ نہیں نصیب ہوگا یا نہیں۔

Political Prism

14,113 просмотров • 3 месяцев назад

🚨 جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آخر آزاد کشمیر کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے؟ کیا وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے کوئی سبق نہیں لیتے، جہاں لوگ آج بھی بنیادی حقوق، روزگار، سیاسی آزادیوں اور معمول کی زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؟ اس ویڈیو کو غور سے سنیے، جہاں محبوبہ مفتی خود آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے چند تلخ حقائق بیان کر رہی ہیں۔ جب مقبوضہ کشمیر کی ایک معروف سیاسی رہنما زمینی حقائق کا اعتراف کر رہی ہیں، تو ہمیں بھی جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر میں عوام کو تعلیم، کاروبار، اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے وہ مواقع حاصل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں محدود یا شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کا حل انتشار، محاذ آرائی اور عدم استحکام نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ اور ترقی پر مبنی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے عوام تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آذاد کشمیریوں کو اس استحکام کو مزید مضبوط بنانا چاہیئے یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے؟ #AJK #AzadKashmir

Kashmir Urdu | کشمیر اردو

442,627 просмотров • 3 месяцев назад

کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید ویڈیوز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ممکن ہے بچے اور بچیاں ابھی خوف کی وجہ سے خاموش ہوں، یا ان کے والدین نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس لیے کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔ خاتون کا گریبان پکڑنے یا انہیں ہراساں کرنے کے الزام کی تاحال کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایسی ویڈیوز ضرور سامنے آچکی ہیں جن میں ایک خاتون کو لاتیں چلاتے، پولیس اہلکار سے لاٹھی چھینتے اور بچیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیو میں بچیوں کو ایف آئی آر کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف باحجاب بچیاں صرف ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہر شخص اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرے کہ اس موقع پر ہراساں کون کر رہا تھا اور انصاف کا مطالبہ کون کر رہا تھا؟ فرعونیت کے سامنے انصاف مانگنا اگر کسی کی رعونت کو ’’ہراساں‘‘ کرنا بن جائے تو پھر مسئلہ انصاف مانگنے والوں میں نہیں، طاقت کے زعم میں ہے۔ جس طرح ایک باحجاب بچی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے، لیکن اس دعوے کی تائید میں تاحال کوئی واضح ویڈیو یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی طرح ٹیچر کا گریبان پکڑے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوے کے لیے بھی فی الحال کوئی واضح ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ دونوں دعووں کو ایک ہی معیارِ ثبوت پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کو ’’افسر صاحب کی بیٹی‘‘ کہا گیا، پھر ’’بیوی‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی نسبت درست نہیں۔ اگر یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں تو بھی اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے بجائے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ معاملہ بنیادی طور پر اتنا سادہ تھا کہ بچے اور بچیاں احتجاج کر رہے تھے۔ اساتذہ کو چاہیے تھا کہ معاملہ باہمی گفتگو سے حل کرتے، طلبہ کی بات سنتے اور انہیں اعتماد میں لیتے۔ ’’امورِ طلبہ‘‘ سے وابستہ ذمہ داران کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ طلبہ کے مسائل سنیں اور تنازعات کو مزید بگاڑنے کے بجائے انہیں حل کریں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختیار، ذمہ داری کے بجائے طاقت کا احساس پیدا کرنے لگے۔ ایسی صورتِ حال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سننے کے بجائے ان پر غصہ، دھمکی یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اور حیرت ان لوگوں پر بھی ہے جو ایسی صورتحال میں درجنوں لاشیں گرانے کی باتیں کرتے ہیں، سوال اٹھانے والوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، یا محض اس بنیاد پر کہ معاملے میں ایک عورت موجود ہے، بغیر شواہد کے اپنی تمام ہمدردیاں ایک ہی فریق کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہی طرزِ عمل آپ کی اپنی بچیوں کے ساتھ کسی تعلیمی ادارے میں اختیار کیا جائے تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بچیاں بھی اختلاف یا احتجاج کے جواب میں لاتیں چلائیں، پولیس سے لاٹھی چھینیں اور دوسری بچیوں کی طرف حملہ آور ہونے کی کوشش کریں؟ اگر یہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا افسر صاحب سے بیٹی یا بیوی کا کوئی رشتہ نہیں، تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو محض کسی بااثر شخصیت سے تعلق یا قربت کے مفروضے کی بنیاد پر ایسے رویے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں طاقتور سے قربت کسی کو قانون، اخلاق اور دوسرے انسانوں کی عزت سے بالاتر نہیں کرتی۔ جہاں تک افسر صاحب کا تعلق ہے، ان کے معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارہ کر رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے، اسے شواہد اور قانون کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اور آخر میں ان لوگوں کے لیے جو ہر صورت میں غلاظت کو ’’کھیر‘‘ ثابت کرنے پر بضد ہیں: آپ اپنی ملازمت، اپنے مفادات اور اپنی مجبوریوں کے مطابق جس طرح چاہیں اسے درست ثابت کرتے رہیں۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے کہ سچ کو شور، گالم گلوچ یا طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اصل ضرورت کسی فریق کو ہیرو یا ولن بنانے کی نہیں، بلکہ مکمل حقائق سامنے لانے کی ہے۔ جو قصوروار ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے، اور جو بے قصور ہو، اسے محض الزام یا طاقت کے زور پر نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ #fmasimmunirleadingpeace #SarhadUniversity

Muhammad Maaz Siddiqui - ⚖️

11,657 просмотров • 1 месяц назад

کیا پاکستان پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے موجودہ ڈھانچے پر اپنے سخت مؤقف پر نظرِ ثانی کے موڈ میں ہے؟ جی ہاں آثار بتارہے ہیں کہ PPP پنجاب میں کئی سینئیر شخصیات ان معملات پر لچک اور درمیان کے راستے ڈھونڈنے کے لئے تیار ہیں آج کے آن مائی ریڈار میں ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس گفتگو میں این ایف سی ایوارڈ، وفاقی مالی دباؤ اور بڑے صوبوں کی انتظامی صلاحیت جیسے حساس موضوعات زیرِ بحث آئے۔ قمر زمان کائرہ نے ایک حقیقت پسندانہ انداز میں اس بات کا عندیہ دیا کہ موجودہ این ایف سی فارمولہ پاکستان کی بدلتی معاشی ضروریات کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں بڑے صوبوں کو مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور چھوٹے صوبے یا مضبوط انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت بن سکتے ہیں۔یہ گفتگو اس بات کا اشارہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر این ایف سی میں تبدیلی اور صوبائی ڈھانچے پر لچکدار سوچ جنم لے رہی ہے۔مکمل تجزیہ اور قمر زمان کائرہ کا پورا انٹرویو دیکھنے کے لیے “آن مائی ریڈار” کا مکمل وی لاگ ضرور دیکھیں

Kamran Khan

14,053 просмотров • 8 месяцев назад