Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے

229,054 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀) profil fotoğrafı
ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)2 yıl önce

ن لیگ والوں کے سامنے لفظ الیکشن بولیں تو انکا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ انور مقصود ❤️🔥😂

Zeeshan Ahmed profil fotoğrafı
Zeeshan Ahmed2 yıl önce

@SdqJaan اور اگر میرا ضمیر کہتا ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا تو میرا ایمان ہے کہ اوپر والا نہ کبھی مجھے زلیل کرے گا اور نہ کوئ مجھے زلیل کر سکے گا ،عمران خان بس ایسا ایمان اللہ مجھے عطاء کردے

NaWaB profil fotoğrafı
NaWaB2 yıl önce

@Khalidiqbal143

کـــͥـــͫـــͣـــᷜـــــــا مــــــــــــی🇵🇰 profil fotoğrafı
کـــͥـــͫـــͣـــᷜـــــــا مــــــــــــی🇵🇰2 yıl önce

سوال: خان صاحب کی جان کو سچ مچ خطرہ ہے؟؟ یا صرف انصافینز کو اشتعال دلانے کے لیے جیل میں حملوں کے تھریٹ الرٹ جاری کررہے ہیں اور پابندی کا ڈرامہ لگا رہے جواب: خان صاحب کی جان کو خطرہ تو کافی عرصے سے ہے لیکن موجودہ پابندیاں خان صاحب اور پارٹی لیڈرشپ کے درمیان کمیونیکیشن گیپ پیدا کرنے کے لئے لگائی جا رہی ہیں۔ کسی جیل، اور وہ بھی اڈیالہ جیسی جیل، کے اندر کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے unless اور until وہ خطرہ خود جیل حکام ہوں؟ یہ تحریر منقول ہے ۔

804حیاتِ مریم 💫💫 profil fotoğrafı
804حیاتِ مریم 💫💫2 yıl önce

اوووہ یا خدا اس کو قبر میں جانا ہے یا ممی بنوائے گا اپنی ۔۔۔انکے دلوں پر قفل لگ چکا ہے

Irfan Akbar profil fotoğrafı
Irfan Akbar2 yıl önce

اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنانا ایسے ہی ہے جیسے باؤلر کو اوپننگ بیٹر بھیج دیں

Ranjha profil fotoğrafı
Ranjha2 yıl önce

@SdqJaan تمہارے پاس لیڈر (عمران خان)❤ راستہ (حقیقی آزادی)🇵🇰 اور روشنی (سوشل میڈیا)👉 موجود ہے۔ توقدر کرو ان تینوں چیزوں کی۔ اور نکلو عمران خان کی خاطر

Rumi profil fotoğrafı
Rumi2 yıl önce

@Dur_Naayaab واہ بھئی واہ ایک بڈھے قاتل اور ڈاکو کتے کے اتنے نخرے واہ رے پاکستانیو تم بہت ہی بے حس قوم ہو تمھاری آنکھیں کب کھولیں گی زرداری قاتل کو اسی قالین میں لپٹ کر کسی گندے نالے میں پھینک دینا تھا

Benzer Videolar

استاد قمر جلالوی کی غزل اور منی بیگم کی خوبصورت آواز، ایسی غزلیں ایسے گلوکار اب بہت کم ملتے ہیں کیا حسین زمانہ تھا۔ ———————————— انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دل سخت جان کو مسلتے مسلتے بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے ارادہ تھا ترک محبت کا لیکن فریب تبسم میں پھر آ گئے ہم ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے بس اب صبر کر رہرو راہ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے ادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دئے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے استاد قمر جلالوی

اردو ورثہ

12,486 görüntüleme • 8 ay önce