Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کیسا زمانہ آ گیا ہے دوستوں پر اعتماد کرنا ممکن نہیں رہا صادق آباد نوجوان کا دعویٰ کہ اس کے دوست اسے ہاتھ پیر باندھ کے نہر میں پھینک گئے مقامی لوگوں نے چیخ و پکار سن کر نہر سے نکالا ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے

133,868 просмотров • 11 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 3

Фото профиля Lady khokhar
Lady khokhar11 дней назад

اللہ پاک رحم فرمائے

Фото профиля FH Awan
FH Awan11 дней назад

پانی نہیں دینا ہوتا بھائی ، جب فائر لگا ہو یا حادثہ میں چوٹیں آئیں ہوں ،

Фото профиля IamAttique
IamAttique11 дней назад

May He get well soon

Похожие видео

ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا جس سے فوج کو مارشل لا لگانے کے مواقع ملے۔ قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ سال بعد سن 1958 میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور دس سال تک وہ حکمران رہے،یہ ملک نظریاتی،سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریاؤں کو ہم نے ہندوستان کے حوالے کردیا، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں،یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ بظاہر تو کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ناکام ہوگئے، یہ تو کرپشن کرتے ہیں، لیکن جب سن 1958 میں مارشل لا لگیا گیا اور ٹھیک مارشل لا کے دو سال بعد پاکستان کے تین دریاؤں کو ہندوستان کو ہاتھ بیچا گیا اور آج بھی عالمی بینک کی ثالثی کے ہوتے ہوئے آپ وہ معاہدہ پڑھیں کہ اس میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے ہیں، ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے ہیں۔ یہی کچھ سن 1949 کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ لیے گئے۔ یہ بھی ڈکٹیٹر ہی کر سکتا ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، بنگال ہم سے الگ ہو گیا۔ مغربی پاکستان اور بنگال کے بیچ میں سوائے اسلام کے ہمارے درمیان کوئی قدرِ مشترک نہ تھی۔ ان کی تہذیب مختلف، ہماری تہذیب مختلف، ان کا بودوباش مختلف، ہمارا بودوباش مختلف، ہمارے طور طریقے اور ان کے طور طریقےاور۔ اور اگر کوئی چیز قدرِ مشترک تھی ان کے اور ہمارے درمیان تو اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی، اور جب اسلام کو راستہ نہیں دیا گیا تو پھر اس ملک کے دو حصوں کو یک جان نہیں رکھا جا سکا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

19,690 просмотров • 13 дней назад

جب یہ ویڈیو دیکھی تو ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کوئی ستر سالہ بوڑھی ماں ہوگی، جسے اس کی دو بیٹیاں سہارا دے کر کوئٹہ پریس کلب لائی ہیں۔ مگر غور کیا تو سامنے ایک نوجوان لڑکی تھی، جو شاید سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر خیال سا آیا کہ آخر اتنی کم عمر لڑکی اس قدر نڈھال کیوں ہے، قدم اٹھانا بھی دشوار کیوں ہے؟ پھر جب اس کی پریس کانفرنس سنی تو دل مزید بوجھل ہوگیا۔ اسماء امان اللہ نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ 13 اگست کی شب تقریباً گیارہ بجے خدا بخش ولد بختیار احمد، اس کے ماموں کا بیٹا جاوید ولد عبدالصمد، ماموں کا نواسہ سراج ولد احمد حسین اور رفیق ولد یوسف محمد یوسف دیوار پھلانگ کر اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے بقول، ملزمان نے اس پر اور اس کی والدہ پر تشدد کیا، گھر سے سونا، چاندی، بالیاں اور دیگر زیورات کے علاوہ 65 ہزار روپے بھی لے لیے، بھائی کے میٹرک سند دیگر دستاویزات بھی ۔ اسے مارا پیٹا اور پھر گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اسماء کے چہرے پر تشدد کے نشانات اس کی فریاد کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ اسے جوائنٹ روڈ، کوئٹہ ریلوے کالونی میں احمد حسین کے گھر لے جایا گیا، جہاں اس نے مدد کی اپیل کی اور ان کی وردی کا واسطہ بھی دیا، مگر اس کے مطابق کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہاں اس کا سابق منگیتر خدا بخش مبینہ طور پر زبردستی نکاح کرنا چاہتا تھا۔ اس کی رضامندی نہ ہونے پر مولوی نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا تو وہ مزید مشتعل ہوگئے۔ اسماء کے مطابق اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس نے بات نہ مانی تو اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے اسے کسی ویرانے پہاڑ میں قتل کرکے پھینک دیا جائے گا۔ اس دوران، اس کے بقول، جاوید نے اس کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ بعد ازاں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ کولپور کے مقام پر ماشاءاللہ ہوٹل کے قریب گاڑی روکی گئی۔ اسماء کے مطابق وہاں اس کے اغوا کاروں نے چائے پی، اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ آگے ایف سی کی چیک پوسٹ ہے، اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ اسے دھمکایا گیا کہ اگر اس نے شور مچایا تو اس کی ماں اور بہن کو نقصان پہنچایا جائے گا اور اسے ایف سی کے حوالے کرکے اس کی عزت خراب کروائی جائے گی۔ مگر شاید اس بے بس لڑکی کی قسمت میں ابھی زندگی باقی تھی۔ جیسے ہی گاڑی ناکہ بندی پر پہنچی، اسماء نے چیخ چیخ کر ایف سی اہلکاروں سے مدد مانگی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے، تشدد کے باعث کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کے مطابق ایف سی اہلکاروں نے فوراً اسے چپل دی اور سر پر چادر اوڑھائی۔ دوسری جانب اغوا کاروں نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر بچنے کی کوشش کی کہ وہ اسے علاج کے لیے لے جا رہے ہیں اور اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ مگر اسماء نے اہلکاروں کے سامنے اپنی فریاد دہراتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ہوش و حواس میں ہے، اسے اغوا کرکے لے جایا جا رہا ہے، اس کے گھر پر حملہ کیا گیا، زیورات اور رقم لے لی گئی اور وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ نہیں جا رہی۔ بالآخر ایف سی اہلکاروں نے اسے ان کے قبضے سے آزاد کرایا۔ آج اسماء اپنی والدہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب پہنچی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ابھی تک خفیہ مقام پر رہ رہی ہے، مگر خوف اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ اسے ان لوگوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان محمد طاہر سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کر رہی ہے۔ ایک اسماء جتک کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، اسے انصاف نہیں ملا، اس کے خاندان کو تحفظ نہیں ملا، کہ ایک اور اسماء اپنی فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گئی۔ آخر کب تک ہماری بیٹیاں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستانیں لیے پریس کلبوں کے دروازے کھٹکھٹاتی رہیں گی؟

Maulana Sami Ullah JUI 

105,606 просмотров • 1 месяц назад