Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہارڈ سٹیٹ ہے بھائی۔۔ ووٹ کی نہ وقعت، نہ کوئی ویٹ۔۔ آواز اٹھاؤ تو آواز بند، عدالت اپنی، فیصلے من پسند۔۔ نمونے وزیر، کرپشن عام۔۔ کارکردگی صفر، تمغے ہزار۔۔ عوام جائے بھاڑ میں، حکمران مہنگے جہاز میں۔۔ سوال کرو تو غدار ہو، ٹاؤٹ بنو تو وفادار ہو۔ ہارڈ سٹیٹ...

48,408 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 görüntüleme • 1 yıl önce

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,927 görüntüleme • 5 ay önce

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔
0:19

Sensitive content

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔

Saleem Speaks

52,831 görüntüleme • 5 ay önce

" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا " (اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے ) احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا - پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟ جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے ) پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں - جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے " وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )- یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا - یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے- اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں " یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے - بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو - سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟ کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟ الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟ پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟ جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟ جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟ جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟ جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟ سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟ میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں - قلم کی جسارت وقاص نواز ------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Javeria Siddique Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

15,998 görüntüleme • 2 ay önce

سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپور

Gilgit Baltistan Tourism.

52,416 görüntüleme • 1 yıl önce

دوبارہ سے پڑھیں سبکی tl پر اسکو ہونا چاہیے وہ کوئی عام دن نہیں تھا… وہ ایمان کا امتحان تھا۔ 2022 میں کرناٹک کے ایک کالج کے باہر، جب حجاب کے مسئلے پر ماحول کشیدہ تھا، کچھ شدت پسند لڑکے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم طالبہ کی طرف بڑھے۔ وہ لڑکی تھی—مسکان خان۔ اکیلی۔ کمزور جسم… مگر فولاد جیسا حوصلہ۔ سامنے نفرت بھرا ہجوم، کانوں میں شور، دل میں خوف کی ہلکی سی لرزش— مگر اسی لمحے اس کی زبان سے جو صدا نکلی، وہ پوری دنیا نے سن لی: اللہ اکبر! نہ وہ بھاگی، نہ چیخی، نہ پیچھے ہٹی۔ بس ڈٹ کر کھڑی رہی۔ اس ایک لمحے میں اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان عورت کمزور نہیں ہوتی— جب بات دین اور عزت کی ہو، تو وہ پوری امت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک لڑکی کا واقعہ نہیں تھا… یہ ہر اس بیٹی کی آواز تھی جو اپنے ایمان پر فخر کرتی ہے۔ وہ لمحہ بے حد شاندار تھا— ایسا لمحہ جسے کوئی نہیں بھول پائے گا۔ آؤ، اس منظر کو پھر اپنی ٹائم لائن پر زندہ کریں، تاکہ دنیا دیکھ لے: جب ایک مسلم لڑکی کھڑی ہوتی ہے، تو وہ تاریخ لکھ دیتی ہے۔

عائزے_رومان

17,039 görüntüleme • 7 ay önce

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 görüntüleme • 2 ay önce

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 görüntüleme • 7 ay önce

دلجیت دوسانج نہ اتنا بڑا اداکار ہے کہ اس جیسا کوئی اور اداکار ساؤتھ ایشیاء میں موجود نہ ہو اور گلوکار تو خیر وہ بہت ہی ایوریج سا ہے مگر اس میں کیا ایسی بات ہے کہ اس نے اس قدر پزیرائی حاصل کی ہے؟ میرے نزدیک اسکی مقبولیت کی بڑی وجہ اسکا خود کو ایک اچھے اور بڑے انسان کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا کہ آپ لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کھلے عام کریں۔ یہ کام اس سے پہلے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کر چکا ہے۔ وہ جب بھی بات کرتا ہے تو اعتراف کرتا ہے کہ میں کوئی گلوکار نہیں میں صرف دل سے گانے والا ایک عام آدمی ہوں جس نے کسی قسم کی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل نہ کی،مگر کیا اسکے ان اعترافات سے لوگوں نے اسے سننا چھوڑ دیا؟ عطااللہ جیسا عروج شاید اس خطے کے فنکاروں کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ کام دلجیت دوسانج بھی کر رہا ہے کبھی لمبی لمبی نہیں چھوڑتا کبھی بڑے فنکاروں سے اپنا موازنہ نہیں کرتا بلکہ انکا ذکر نہایت ادب سے کرتا ہے۔ کبھی کسی کے جزبات کو مجروح کرنے والی بات نہیں کرتا۔۔۔ اور عروج دیکھیں کہ آج ساؤتھ اشیاء کے کسی دوسرے ملک میں سب سے بڑے شو کا اعزاز اس کے نام ہوا۔ بڑا فنکار ہونا ایک چیز ہے مگر بڑا انسان ہونا الگ بات۔ دلجیت دوسانج نے ابھی تک خود کو بڑا انسان ثابت کیا ہے جسے میں اسکے عروج کی بڑی وجہ سمجھتا ہوں ورنہ اس جیسے اداکار اور گلوکار تو سینکڑوں اس خطے میں موجود ہیں۔ (منقول)

Asad R Chaudhry

33,274 görüntüleme • 21 gün önce

عطا آباد جھیل کے عین درمیان تعمیر ہونے والے ہوٹل کا سیوریج کہاں جا رہا ہے؟ ⚠️ مسئلہ یہ ہے کہ: جب تک کوئی “گورا” سیاح یا ویلاگر کسی چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا، نہ میڈیا توجہ دیتا ہے، نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ ہی عوامی شعور بیدار ہوتا ہے لیکسس Lexus Hotel ہنزہ کے بعد اب Dolphin Floating Resort کا سیوریج بھی براہ راست جھیل میں چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب تک کوئی گورا سیاح یا ویلاگر کسی مسئلے کو ہائی لائٹ نہ کرے، وہ بات وائرل نہیں ہوتی، اور نہ ہی حکومت کوئی ایکشن لیتی ہے عطاء آباد جھیل کے درمیان بنے اس ہوٹل کے بارے میں سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اس کا سیوریج براہِ راست جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے۔ ہم نے پہلے بھی لیکسس ہوٹل کے بارے میں نشاندہی کی تھی، لیکن تب بھی حکومت نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک ایک غیر ملکی سیاح نے ویڈیو وائرل نہیں کی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مقامی لوگوں کی آواز کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ اصل زمینی حقائق سے ہم ہی واقف ہوتے ہیں۔ اب دوبارہ ہم سوال اٹھا رہے ہیں: ❓ کیا واقعی اس ہوٹل کا گندہ پانی جھیل میں جا رہا ہے؟ ❓ کیا کسی ادارے نے اس کی منظوری سے پہلے سیوریج اور ماحولیاتی نظام کا معائنہ کیا تھا؟ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: •فوری طور پر اس ہوٹل کی تحقیقات کی جائیں۔ •اگر الزامات درست ہوں تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے — چاہے جرمانہ ہو یا عارضی بندش۔ یہ صرف ایک ہوٹل کا معاملہ نہیں، پورے عطاء آباد جھیل کے قدرتی ماحول، پانی کے معیار اور سیاحتی ساکھ کا سوال ہے۔ تمام مقامی لوگ، ماہرین، اور باخبر شہری اس پر ایک آواز ہو کر اپیل کر رہے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے ایکشن لے۔

Gilgit Baltistan Tourism.

38,837 görüntüleme • 1 yıl önce