Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ہم نے آٹھ مہینے تک اس فراڈئیے کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کیا لیکن جیل میں ہونے کی بجائے آٹھ مہینے بعد یہ فراڈیا آرمی چیف اور وزیراعظم کی علماء کانفرنس میں سب سے پہلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اور آج بھی یہ اسلام اور ختم نبوت...

122,736 просмотров • 11 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ہم نے چالیس سال میں کونسی جنگ لڑی ہے؟ہم نے اپنی فوج اور ریاست کو جنگوں میں دھکیلا ہے، دنیا کے ہر جنگجو کےپاؤں کے نشان پاکستان کی سرزمین سے ہوکر گذرتے تھے اور دنیا کہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے ، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے ہیں ؟ لڑائی میں کوئی افغانی مر جاتا ہے تو ہم افغانستان پر سارا غصہ نکال دیتے ہیں،تاکہ قوم ہماری غلطیوں پر بات نہ کرسکے اور پڑوسی ملک کو مجرم سمجھتی رہے۔ ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے، جنرل مشرف کے دور میں امریکی صدر کلنٹن انڈیا آرہا تھاتوپاکستان کی سر زمین پر پاؤں رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، اسے تملے کئے گئے اور دو گھنٹے کے لئے اس شرط پر آئے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنوائیں گے، پھر جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کے لئے پاکستان کی سرزمین بچھا دی گئی، فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کئے گئے اور نام نہاد اتحاد کے حامی بن گئے، کیا کبھی طالبان نے ہمیں کہا کہ آپ کے اڈوں سے امریکی جہازہماری فضاؤں میں کیوں اڑ رہے ہیں؟ آج ہم نے اپنے تجربہ اور ذمہ دار ریاست کے طورپر ان کو چلانا ہے، الیکشن سے پہلے میں ریاست کو اعتماد میں لے کر مشاورت کا ساتھ ایک ایجنڈا لے کر طالبان کی دعوت پر افغانستان گیا اور ایجنڈے کے ہر نقطے پر ان کو قائل کیا، پھر کس نے اس سب پر پانی پھیرا ؟ میں ذاتی حیثیت میں وہاں گیا تھا اس کے بعد اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ بات چیت ہونی تھی، لیکن یہ سب کیوں نہیں ہوا ؟ ہم نے ستر سالسے کشمیر کی سرحد پر انڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہیں، اب ایک اور سرحد ہم کھو رہے ہیں، ہم نے ریاست کی مٹی کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے اسکے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا لیکن ہماری ریاست کے کرتا دہرتا اتنے نا اہل ثابت ہوئے کہ کئے کرائے کو بھی نہیں سنبھال سکے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

173,427 просмотров • 1 год назад

بلوچ مائیں اور بچیاں جُرأت و استقامت کی علامت ہیں۔ آج اسلام آباد میں احتجاج کو آٹھ دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بدسلوکیاں اور جبر بدستور جاری ہے، لیکن وہ نہ ان ماؤں کے حوصلے کو توڑ سکی ہے اور نہ ہی انہیں پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ مائیں سخت بارش، آندھی، طوفان اور جھلسا دینے والی گرمی میں بھی اپنے پرامن احتجاج کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت، اور دیگر جبری طور پر لاپتہ یا گرفتار افراد کی رہائی۔ ریاست کو چاہیے کہ ان کے آئینی مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن افسوس کہ اس کے بجائے ریاست ان باہمت ماؤں کو ہراساں کررہی ہے، اسلام آباد سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور انہیں رہائش گاہوں سے زبردستی بےدخل کیا جا رہا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: یہ بلوچ مائیں ہیں، ان کے حوصلے کو توڑنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ #Releasebycleaderes #StopBalochGenocide

Mahrang Baloch

33,974 просмотров • 1 год назад

چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔ یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔ ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔ بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔ جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان

Ather Salem®

45,673 просмотров • 10 месяцев назад

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 просмотров • 6 месяцев назад