Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہمارا کام صرف غلط خبروں کو روکنا اور سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کیا ہے وہ کرنا تھا باقی کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا پھیلانا ہمارا کام نہیں تھا امجد خان مومند #khybernews #socialmedia #JusticeForKPInterns #KhyberPakhtunkhwa #Khyber Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa PTI #viralvideo Information Department KP KP 360 🇵🇰...

10 Yorum

Danish Ali profil fotoğrafı
Danish Ali3 yıl önce

@ihtishamlit @KPChiefMinister @PTIofficial نگران حکومت خیبر پختونخوا سے بطور طالب علم میرا ایک ہی گزارش ہے کہ اپنے سیاسی نظریات کے بنا پر ھم جیسے شفاف انفلوئنسرز کو نا گھسیٹا جائے، ھم غیر سیاسی لوگ ہیں اور عام عوام کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں ہمیں غیر سیاسی رہنے دیا جائے! #KPSMIsOnKhyberNews #JusticeForKPInterns

Asif Chitrali🇵🇰 profil fotoğrafı
Asif Chitrali🇵🇰3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial We want Justice... #KPSMIsOnKhyberNews @arynewsud @BOLNETWORK @geonews_urdu #ดาราแหกซาแซง #TAEHYUNGxCELINE

Public Awareness profil fotoğrafı
Public Awareness3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial #KPSMIsOnKhyberNews #JusticeForKPInterns

Khalid Aziz 🇵🇰⚔️ profil fotoğrafı
Khalid Aziz 🇵🇰⚔️3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial Bilkul hum dase da

atta ullah khan profil fotoğrafı
atta ullah khan3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial میں اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن میں تھا ۔ اور سرگرم کارکن تھا ۔ یہ پلکل میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین فروپیگنڈے کر رہے ہیں۔

Xubair Swati Khann profil fotoğrafı
Xubair Swati Khann3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial ویلڈن امجد خان

SALEEM JAN profil fotoğrafı
SALEEM JAN3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial Good

Akhunzada Touseef profil fotoğrafı
Akhunzada Touseef3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial Well done guys 👍

Sajid Chitrali profil fotoğrafı
Sajid Chitrali3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial 👍

Mysterious Girl 🌻 profil fotoğrafı
Mysterious Girl 🌻3 yıl önce

@KPChiefMinister @PTIofficial 👍

Benzer Videolar

ویسے کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ ہماری رائے کسی نے سننی تو نہیں ہے لیکن دینے میں کیا ہرج ہے۔ 2021 میں جب عمران خان کو ہٹانے کا کام شروع ہوا تو اس وقت بھی میں نے کھل کر جی ٹی وی پر اپنے شوز میں مخالفت کی تھی کہ خان، بزدار، محمود خان ٹرائیکا کو دن پورے کرنے دیں۔ خان کے قابل وزیروں کو پانچ سال پورے کرنے دیں۔ انہیں سیاسی شہید نہ بنائیں۔ یہ بھی بتایا تھا وہ پاور سے نکل کر کیا بیانہ بنائیں گے۔ مجھے یہ غلط فہمی تھی کہ نواز شریف اور زرداری یہ کام نہیں کریں گے ورنہ سیاسی نقصان ہوگا لیکن انہوں نے کیا اور بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ اقتدار کے بھوکے زرداری اور شریف جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بننے دیتے تو یقین کریں عمران خان کا حشر بھی بھٹو والا ہونا تھا۔ عمران خان اور جنرل فیض حمید نے ایک دوسرے پر “احسانات”کر رکھے تھے اور احسانات والے کام کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو بھٹو اور نواز شریف کا ہوا تھا۔ بحرحال عمران خان صاحب کو دوبارہ وزیراعظم بنا دیں۔اس قوم کو بچے ہوئے ارمان پورے کرنے دیں۔ ان کا بھاری مینڈیٹ اسے واپس کر دیں۔ صرف چھ ماہ بعد یہی عوام عمران خان کے خلاف سڑکوں پر ہوگی۔ پچھلی دفعہ سب جلدی کر گئے تھے جس پر عمران خان نے خود جلسوں میں شکر ادا کیا تھا کہ ہمیں ہٹا دیا ورنہ ہمارا بیڑا غرق تھا۔اس قوم اور خان کو دوبارہ موقع دیں۔ مان لیں۔ یہ میرا 2021 کا ویڈیو کلپ ہے جب عمران خان کو ہٹانے کے لیے تازہ تازہ کام شروع ہورہا تھا. سن لیں میری کیا رائے تھی اور بعد میں وہی کچھ ہوا اور اب تک ہورہا ہے۔ GTV News HD Mad e Muqabil #ImranKhan 👇

Rauf Klasra

53,212 görüntüleme • 1 yıl önce

انصافینز خدارا ایک دوسرے کو غدار غدار کہنا بند کیجئے۔ مخالفین کے وار کو سمجھئے۔ اپنی توجہ عمران خان صاحب کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی و آئین و قانون کی حکمرانی پہ رکھیں۔ پارٹی کے نام نہاد اندرونی اختلافات پہ نہیں اس فارم 47 کی ناکام حکومت کی ناکام کارکردگی پہ رکھیں۔ ان کو اور انکے ہینڈلرز کو ہلنے نہ دیں ! میں بطور دیرینہ کارکن PTI ہر اس عہدہ دار کو سپورٹ کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کھڑا ہوں جس کو Imran Khan نے چنا ہے۔ کل اس کو خان صاحب ہٹا دیں ہم اسی کو سپورٹ کریں گے جس کو عمران خان نیا نامزد کریں گے لیکن جب تک عمران خان کا اعتماد ان کو حاصل ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی کو غدار کہے یا کسی کی وفاداری پہ شک کرے۔ ہمارے عہدیداران کو بھی پبلک میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کرنا چائیے کیونکہ اس سے آپ مخالفین کو موقع دیتے ہیں کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات پہ میڈیا کا فوکس لے آتے ہیں اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں۔ ہم اتنے نادان ہیں کہ ان کو یہ مواقع بار بار دیتے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ عمران خان کی جماعت کو مذاق تو نہ بنائیں۔ ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو مضبوط نہیں کر سکتے تو اس کو کمزور تو نہ کریں خدارا ! میں اس جماعت کا دیرینہ کارکن ہوں۔ اپنی جوانی اپنا انجنئیرنگ و وکالت کا کیرئر قربان کیا اس ملک کی خاطر۔ پہلا ووٹ میرے خاندان نے تحریک انصاف کو 1997 میں تب دیا جب ہماری جماعت کا نشان چراغ 🪔 ہوا کرتا تھا۔ میں تب پشاور انجنیئرینگ یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ آج بھی کوئی عہدہ نہیں ہے میرے پاس اور نہ ہی کوئی خواہش ہے لیکن تمام عہدہ داران خاص کر 9 مئی کے بعد بغیر کسی قربانی اور بغیر کسی جدوجہد کے بڑے عہدہ پہ بیٹھے والے تمام محترم خواتین و حضرات کو کہنا چاہتا ہوں ہم نے یہ جماعت اپنی جوانییاں اور اپنا خون دیکر کھڑی کی ہے۔ یہ تحریک انصاف ہمارا گھر ہمارا فخر ہے۔ آپ کا تو نہیں پتہ کہ کل کدھر ہونگے ہم نے تو ادھر ہی ہونا ہے کیونکہ ہم ہر بدلتے موسم کے ساتھ گھونسلے بدلنے والے پرندے نہیں گھر کے مالک ہیں۔ تحریک انصاف ہمارا گھر ہے ہم اس کے کارکن اور خان کے سپاہی ہیں۔ آپ کو آپ کی کسی خوبی یا کسی قربانی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس وجہ سے سپورٹ کرتے ہیں کہ آپ کو خان صاحب نے نامزد کیا۔ ہماری جماعت میں جوڑ کا باعث بنیں توڑ کا نہیں ورنہ اگر ہم احترام کرنا جانتے ہیں تو اپنی جماعت کا بچاؤ اور اپنے لیڈر کا دفاع کرنا بھی خوب آتا ہے۔ خان صاحب نے ہماری ٹریننگ ہی ایسی کی ہے پچھلے 27 / 28 سالوں میں۔ یہ ہمارے مخالفین کی گیم ہے کہ جو قیادت بک نہ سکی جھک نہ سکی اور جن کو ڈرایا نہ جا سکا ان کی کردار کشی شروع کردو۔ میں تمام ناقدین و مخالفین و حاسدین سب پہ واضح کرنا چاہتا ہوں! PTI میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں صرف ایک بلاک ہے اور وہ ہے عمران خان بلاک IMRAN KHAN BLOCK۔ بات سمجھ میں آگئی ہے !

Ali Muhammad Khan

23,841 görüntüleme • 1 yıl önce

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 görüntüleme • 2 ay önce

بچے کا والد سعودیہ میں تھا اب پہنچا ہے اور اس کی گفتگو کا خلاصہ اردو میں لکھ رہا ہوں ، باقی پشتو سمجھنے والے مکمل ویڈیو دیکھیں۔ ویڈیو کا خلاصہ :- "میرے بیٹے کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ علم دین حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے اُسے اللہ کے راستے پر لگایا، ایک مدرسے میں داخل کرایا، لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ مدرسہ اُس کے لیے قبر بن جائے گا۔ میرے بیٹے پر اتنا تشدد کیا گیا کہ اُس کی جان ہی لے لی گئی۔ وہ کئی دنوں سے ہم سے کہہ رہا تھا کہ وہاں کچھ غلط ہو رہا ہے، اُس کے ساتھ زیادتی کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن وہ شرم کی وجہ سے کھل کر سب کچھ نہ بتا سکا۔ اُس نے کہا کہ مجھے مدرسہ نہ بھیجیں، میں بھینسیں سنبھال لوں گا، کوئی بھی کام کر لوں گا، لیکن وہاں نہ بھیجیں۔ ہم نے مدرسے والوں سے کہا بھی تھا کہ بچہ چھٹیاں گزار کر آیا ہے، کوئی مسئلہ ہو تو مار پیٹ نہ کریں، ہم فیس بھی ڈبل دیں گے، لیکن انہوں نے ہمارا بیٹا واپس بھیجنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔ میں ریاست سے، عدالتوں سے، علمائے کرام سے، اور انسانیت سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اگر آج یہ ظلم یونہی چھپ گیا تو کل کسی اور کا بچہ بھی اسی انجام کا شکار ہوگا۔" .......... مدارس میں ہر کلاس میں CCTV کیمرہ نصب ہونا چاہئیے کمیل احمد معاویہ

Komail Ahmad Muaviah

17,069 görüntüleme • 1 yıl önce

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,708 görüntüleme • 8 ay önce

قابل فخر نوجوان، ٹیم گرین کنگرگلی ​اپنے گاؤں کی سرسبز و شاداب زمین اور خوبصورت پہاڑ ہمیشہ سے ہمارے لیے ایک انمول نعمت رہے ہیں اور اس قدرتی حسن کی حفاظت و بحالی سب پر ایک اہم اخلاقی اور ماحولیاتی ذمہ داری ہے۔ ​اس مقصد کے تحت اگست 2018 پھر اگست 2020 میں کئی ہزار درخت لگانے کی جو شجرکاری مہمات شروع ہوئی تھیں (جس پر اس وقت لکھا تھا)، آج وہ ہمارے گاؤں میں ایک باقاعدہ تحریک اور مہم کا روپ دھار چکی ہیں۔ ​مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے گاؤں کے باہمت نوجوانوں نے تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر "ٹیم گرین کنگرگلی" کے پلیٹ فارم سے اس سرسبز مشعل کو پوری توانائی کے ساتھ سنبھال لیا ہے۔ ​امسال خوبصورت پہاڑوں پر شجرکاری کے ساتھ ساتھ خصوصاً جنگلی حیات اور پرندوں کی خوراک کے لیے انگور کے پودے لگانا نوجوانوں کی اعلیٰ سوچ اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بے زبان جانوروں کو قدرتی خوراک میسر آئے گی بلکہ انسان اور قدرت کے درمیان ایک بہترین ہم آہنگی قائم ہوگی۔ ​یہ شجرکاری ہماری مٹی کا وہ قرض ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور صحت مند ماحول کی صورت میں ملے گا، بلاشبہ اسے اس دور کا گرین_جہ_ا د کا قرار دیا جاسکتا ہے۔ ​ٹیم گرین کے تمام نوجوانوں، بزرگوں اور رضاکاروں کو میں دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت اور اخلاص کو قبول فرمائے اور ان پودوں کو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سایہ، صحت اور صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین شاباش Team Green Kingar gali 💓 Prime Minister's Office Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Faisal Karim Kundi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Information Department KP KP Police Shafi Jan Government of Pakistan Government of KP Deputy Commissioner Buner #GreenTeamKingergalai #Buner #Kingergalai

Fazal Hadi Hassan

22,862 görüntüleme • 2 ay önce

🛑نفرت کا بیوپار اور مذہب کارڈ کا آزادانہ استعمال 🛑 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کے نام نہاد ترجمان نے وکٹم فیملیز کے وکلا کو کافر قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے نکاح منسوخ ہوچکے ہیں۔ اور اب یہ وکیل اپنے ایمان کی گواہی علماء کی موجودگی میں دیں 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے کرنا شروع ہوگیا ہے 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ انتہائی مکار ، شاطر ، مذہب کا بیوپاری اور اخلاقیات کے ہر درجے سے گرا ہوا گروپ ہے جو تحقیقات کے خوف سے نہ صرف ہر جگہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے بلکہ اب لوگوں کو سرعام کافر کہنا شروع ہوگیا ہے 🔶اگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے اس فلسفے کو مان لیا جائے تو پھر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان رہ جائے گا ؟ 🔶بلاسفیمی بزنس نفرت ، فتنہ انگیزی اور فساد فی الارض کو ہوا دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ملکی حالات خراب ہوں ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ پورا گروپ بمع ہنی ٹریپنگ ایمان اور مخدومہ ایکسپوز ہوچکے ہیں 🟢وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" (البقرۃ: 11) مفہوم: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ 🔶 فیملیز کو جن وکیل صاحب کو بلاسفیمی بزنس گروپ نے کافر قرار دیا ہے وہ الحمد للّہ ایک سچے مسلمان اور حافظ قرآن ہیں ۔ 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کو نہ تو شرم ہے اور نہ ہی اللہ کا اور روز قیامت کا خوف ، جس کو چاہا کافر بنادیا جس کو چاہا اسلام سے خارج کردیا جس کو چاہا اس کا نکاح منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ 🔶یہی آیت جو موصوف نے استعمال کی ہے ان کے فلسفے کے حساب سے کیا وہ واپس انہی پر بھی صادق نہیں آتی؟ کہ جس پر یہ الزام لگا رہے ہیں اگر وہ ویسے نہیں ہیں تو یہ ان پر واپس لوٹ آتا ہے تو کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے انہیں اس پر بھی غور کرلینا چاہییے تھا یا مذہب کا بیوپار نہیں کرنا چاہیے تھا 🔶ایک جنگ کے دوران حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک دشمن شخص کا پیچھا کیا۔ جب اسامہؓ نے اس شخص پر قابو پایا اور تلوار اس کی گردن پر رکھی، تو اس شخص نے فوراً "لا إله إلا الله" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پڑھ لیا۔ مگر حضرت اسامہؓ نے یہ سوچ کر کہ یہ شخص جان بچانے کے لیے صرف زبان سے کلمہ پڑھ رہا ہے، دل سے نہیں، اسے قتل کر دیا۔ جب حضور اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ ﷺ بہت ناراض ہوئے۔ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ سے فرمایا: "کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟" اسامہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس نے محض جان بچانے کے لیے کہا تھا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟" (یعنی تمہیں کیسے پتہ کہ اس کے دل میں کیا تھا؟) اور آپ ﷺ بار بار فرمایا: "قیامت کے دن تم اس کلمے کا کیا جواب دو گے؟" صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4269 صحیح مسلم، حدیث نمبر: 96 🔶 لوگوں کے دلوں کے حال اللہ جانتا ہے مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کا یہ نام نہاد ترجمان اور اسائلم والے کا بیٹا لوگوں کے دلوں کے حال بھی جاننا شروع ہوگیا ہے یہ صفات تو صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھیں ۔ 🟢 "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا فِي قُلُوبِكُمْ" مفہوم: بیشک اللہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 51) 🔶 جو کام اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرنے کے ہیں وہ اس بلاسفیمی بزنس گروپ نے کرنے شروع کردیے ہیں لوگوں کے دلوں کے احوال اور ایمانوں کے فیصلے سوشل میڈیا پر بلاسفیمی بزنس گروپ کے یوٹیوبر کرنے لگے ہیں۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor400

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

32,418 görüntüleme • 1 yıl önce

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 görüntüleme • 9 ay önce

میں فضول کہانیاں نہیں بناتا۔ بہت سوچ سمجھ کہ یہ بات کرنے لگا ہوں۔ ثبوت دوں گا۔ میرے پاس کوئی اندر کے ذرائع نہیں ہیں۔ اللّٰہ نے دماغ دیا ہے اور محنت کرنے کا جذبہ۔ ہر سائیڈ سے سوچا ہے، پھر بات کرنے کی ہمت کی ہے۔ اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ چاراکتوبر سے لے کے آج تک دراصل ہوا کیا ہے، اور عمران خان کی جنگ بچانے کا واحد طریقہ کیا ہے، تو میری ریکوسٹ ہے غور سے سنیں۔ عمران خان کی جان خطرے میں ہے۔ آئینی ترمیم کی وجہ سے پاکستان اور پی ٹی آئی بھی خطرے میں ہے۔ ان دونوں باتوں کا بنیادی طور پے ذمہ دار ہے علی امین گنڈاپور، جس نے ڈیل کی، اور بیرسٹر گوہر، جن نے کے پی ہائوس اسلام آباد میں ڈیل سنی، اور مانی۔ پھر علی امین پشاور بھاگے۔ 🔶علی امین گنڈاپور بدنیت نہیں ہے، لیکن ڈرپوک ہے، اور اپنے آپ کو عمران خان سے زیادہ ہوشیار سمجھتا ہے۔ اس لیے ڈیل کی۔ 🔶کہانی سنانے سے پہلے میں آپ کو اس سب کا حل بتا دوں: ڈی چوک پہنچیں کل۔ اگر یہ ترمیم پاس ہوگئی تو عمران خان کی آزادی اور پاکستان کی آزادی بہت دور ہوجائیں گے۔ علی امین کی طرف نہ دیکھیں۔ 🔶صدام ترین، طیبہ، حیدر آپ کے لیے اپنی جان دائو پے لگانے کے لیے تیار ہیں۔ پہلا قدم وہ کہہ رہیں ہیں کہ لیں گے، اور ہفتے پہلے لے کے دکھایا ہے۔ مار کھا کے دکھائی ہے۔ پھر آپ کیوں کسی اور لیڈر کے انتظار میں ہیں؟ جب ینگ لیڈر تیار ہیں، تو کیوں بوڑھوں کا انتظار کررہے ہیں؟ 🔴اب کہانی سنیں: گنڈاپور نے اسلام آباد کے پی ہائوس میں ڈیل کی کہ میں احتجاج ختم کرتا ہوں، آپ ترمیم کینسل کریں۔اسٹیبلشمنٹ ڈی چوک میں ناکام ہوکے اور پشاور کے راستے میں ناکام ہوکے تھک چکی تھی اور ڈیل کے لیے تیار تھی۔ 🔶گنڈاپور بھی مزید لڑنا نہیں چاہتا تھا، اور اسے لگا کہ ڈبل فائدہ لیتے ہیں۔ مار بھی نہ کھانی پڑے اور ترمیم بھی کینسل ہوجائے۔ زبردست پلان۔ اس پلان میں صرف ایک مسئلہ تھا۔ 🔶عمران خان نے تو کہا تھا احتجاج کسی صورت نہیں روکنا؟ عمران ٰخان تو بول پڑے گا؟ پھر علی امین لوگوں کو کیسے روکے گا؟ لوگ علی امین کی بات نہیں مانیں گے اور ڈی چوک میں دھرنے پے بیٹھ جائیں گے؟ اسٹیبلشمنٹ کو علی امین کیسے سیٹسفائی کرے گا اس پوائنٹ پے؟ 🔴اسٹیبلشمنٹ نےحل تجویز کیا۔ کہا ہم عمران خان کو بولنے سے روک دیتے ہیں۔ گنڈاپور نے کہا ٹھیک ہے، میں آواز نہیں اٹھائوں گا۔ دس دن خاموشی ہوجائے۔ پھر میں خود مل کے منالوں گا خان صاحب کو۔ 🔶خان صاحب کو جب پتہ چلے گا کہ میں نے ترمیم کینسل کروادی، تو احتجاج رکنے کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ یہی بات اس نے بیرسٹر گوہر کو کےپی ہائوس میں بتائی۔ بیرسٹر گوہر نے یہ پلان مانا، اسی لیے اب صرف انھیں اجازت ہے عمران خان سے ملنے کی۔ کیونکہ اگر عمران خان ڈانٹتے ہیں احتجاج روکنے پے، تو بیرسٹر گوہر باہر آکے یہ بات شاید نہ بتائیں۔ 🔶میں ان کے دل کا حال نہیں جانتا۔ شاید عمران خان کی ڈانٹ سے انھیں اپنی غلطی سمجھ آجائے اور وہ باہر آکے بتادیں۔ 🔴اگر میری یہ خطرناک کہانی سچ نہیں ہے، تو کیا وجہ ہے کہ علی امین کے پی ہائوس سے بھاگ کے ڈی چوک نہیں گیا؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ 🔶فرض کریں کہ آئی جی اسلام آباد نے اسے اغواء کر بھی لیا تھا۔ تب بھی کہانی تو وہ یہی سنارہا ہے نا کہ میں بھاگ گیا؟ تو جب ہزاروں لوگ ڈی چوک میں تھے، تو وہاں کیوں نہیں گئے؟ پشاور کیوں بھاگے؟ 🔶کیونکہ وہ ڈیل کرچکا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈی چوک میں پی ٹی آئی کی جیت کی تصویریں کسی صورت نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ علی امین نے ترمیم کینسل کرنے کے بدلے ڈی چوک کی قربانی دی۔ اس عوامی قربانی کا اسے کوئی حق نہیں بنتا تھا۔ 🔴اگر یہ سچ نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ علی امین بغیر تیاری کے پندرہ اکتوبر کو اسلام آباد جانےکی دھمکی دے رہا تھا؟ کیا آپ نے علی امین کو کام کرتے نہیں دیکھا؟ میں نے کشمیر میں قریب سے دیکھا ہے۔ 🔶یہ بندہ اپنا ہوم ورک پورا کرتا ہے۔ کیا پشاور میں نکلنے سے پہلے ہمیشہ بل ڈوزر تیار نہیں کرتا؟ لوگوں کو جمع نہیں کرتا؟ تو کیا وجہ ہے کہ پندرہ اکتوبر کو ایسے ہی نکلنے کے لیے تیار ہوگیا؟ 🔶کیونکہ اسے پتہ تھا نہیں نکلنا پڑے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی کہ لوگ بہت عمران خان کی صحت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ظاہر ہے عمران خان کو بولنے تو نہیں دے سکتے، اس لیے کسی انجانے ڈاکٹر کو بھیج کے صحت کی گارنٹی دیں۔ 🔴میں یہ نہیں کہہ رہا کہ علی امین کو عمران خان کی صحت کی فکر نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ہے۔ اس نے خود بھی بڑی قربانیاں دی ہیں اس اسٹرگل کے لیے۔ ٹارچر ہوا تھا بال کٹوادیے تھے۔ یاد ہے؟ 🔶لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ڈر کے مارے اس حقیقت کو دیکھنا نہیں چاہتا یا واقعی بیوقوف ہے اور اس لیے اسٹیبلشمنٹ کی بات مان رہا ہے۔ 🔶گنڈاپور کو جو بات سمجھ نہیں آرہی، وہ یہ ہے کہ یہ جھوٹے ہیں مکار ہیں۔ اپنے ڈاکٹر بھیج کے جھوٹی رپورٹ جاری کروانے سے کون روک سکتا ہے انھیں؟ اسی لیے عمران خان نے ان سے ڈیل کرنے سے منع کیا تھا اور کہا تھا احتجاج نہیں روکنا۔ کیونکہ یہ عہد کی پاسداری نہیں کرتے 🔶مسئلہ یہ ہے کہ بیرسٹر گوہر یا علی امین یا کسی اور اندرونی سرکل کے علاوہ والا بندہ عمران خان سے مل گیا تو سچ باہر آسکتا ہے۔ کہ اندر عمران خان کیا سوچ رہا ہے احتجاج رکنے کے بارے میں۔ علی امین کی احتجاج روکنے والی حرکت کے بارے میں 🔶میں پھر بتادوں۔ میں علی امین کو بدنیت نہیں سمجھتا۔ لیکن ڈرپوک ہونا، بیوقوف ہونا، یہ بڑی خامیاں ہیں۔ اور ان کی بنیاد پے ڈیل کرلینا جبکہ عمران خان نے سختی سے منع کیا تھا، یہ سراسر حکم کی نافرمانی ہے اور سیدھا سیدھا اٹیک ہے عمران خان کی لیڈرشپ اور نظریے پے۔ اس کی کوئی معافیٰ نہیں۔ 🔶بیرسٹر گوہر نے بھی چالاکی کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاست میں نئے ہیں، سمجھتے ہیں بڑا تیر مارا ہے۔ انھیں نہیں پتہ آگ سے کھیلے ہیں۔ اگر ڈیل کے مکمل اثرات نظر آنے کی قابلیت نہ ہو، تو زیادہ چالاک بننے کی کوشش کریں گے، تو زیادہ شاطر دشمن فائدہ اٹھائے گا۔ چالاکی نہ آتی ہو تو بہتر ہے بندہ سیدھا اور سچا (اور مشکل) راستہ اپنائے 🔴بات نوٹ کریں: علی امین کوئی زیادہ شور نہیں مچا رہا کہ عمران خان کو بولنے سے کیوں روکا ہے؟ صحت کے لیے بولا ہے، مگر عمران خان پے پہلی بار پابندی لگی ہے بولنے کی، اور علی امین چپ ہے۔ کیوں؟ 🔶میں آپ سے ایک ریکوسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ میں امریکہ میں ہوں۔ ابھی پاکستان نہیں آسکتا۔ لیکن اپنا دل، دماغ اور پاکستان میں فیملی کی سیفٹی اس جنگ پے پورے اخلاص کے ساتھ لگا رہا ہوں۔ ہاتھ جوڑ کے ریکوسٹ کرہا ہوں۔ پلیز کل نکلیں۔ عمران خان کے لیے کل نکلیں۔ اس بندے نے اپنا سب کچھ لگا دیا ہے۔ ہمیں دوسرا نہیں ملے گا 🔴ینگ لیڈر ہیں سڑکوں پے۔ کیوں بوڑھوں کا انتظار کرنا ہے؟ اللّٰہ صرف تجھ سے ڈرتے ہیں۔ اور کسی سے نہیں Enkidu Reborn Shams Khattak Kashif Baloch Haider Saeed Arslan Baloch Pakistan Walli Ahmad Hassan Bobak Falak Javaid Khan Kamran Khan Sadam K Tareen PTI @Ahmeds4ys Sabee Kazmi Amir Khan Chamkani @clynergy @Aladeen441 Siasat.pk agha sarwar

Bilal Ansar Khan

121,476 görüntüleme • 1 yıl önce

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------

Dr Waqas Nawaz

18,703 görüntüleme • 1 ay önce

مولانا فضل الرحمٰن پی ٹی آئی میں:-؟؟؟ مولوی فضل الرحمان کل سے خبروں میں ہیں اور رات 8 بجے کے بعد تو مولوی صاحب میڈیا اور سوشل میڈیا کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں لیکن کیا آپ نے اس بات پر غور کیا ہے کہ یہ اچانک سے فضل الرحمان کے رویے میں یہ تبدیلی کیوں اور کیسے آئی یا ان موصوف کی غیرت کیوں جاگ گئی ہے کیونکہ اگر انکا ضمیر زندہ ہوتا تو وہ پی ڈی ایم بنا کر عمران خان کی حکومت گرانے میں سہولت کار نہ بنتا (بقول رانا ثناءاللہ مولانا کے کہنے پر ہمیں ڈیڑھ سال کی وزارت عظمیٰ اپنے سر لینی پڑی) فضل الرحمان کا ضمیر زندہ ہوتا تو پی ڈی ایم حکومت کا حصہ نہ بنتا فضل الرحمان کا ضمیر زندہ ہوتا تو یہ چوروں کی حفاظت کیلیے سپریم کورٹ کے آگے دھرنا نہ دیتا فضل الرحمان کا ضمیر زندہ ہوتا تو یہ امریکی سفیر کو مل کر اپنی خدمات پیش نہ کرتا اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ اگر مولوی فضل الرحمان میں غیرت بھی نہیں اور ضمیر بھی اسکا مردہ ہے تو پھر اس کے اندر اچانک یہ بدلاؤ کیوں جس پی ٹی آئی کو وہ یہودی ایجنٹ کی پارٹی اور ناچ گانے والی پارٹی کہتا تھا، جس پارٹی کی خواتین پر یہ انتہائی نازیبا اور گھٹیا جملے کستا تھا آج اس جماعت کیلیے اچانک سے اسکے دل میں ہمدردی کیوں جاگ رہی ہے تو بات کچھ یوں ہے کہ مولوی صاحب اپنی سابقہ خدمات کے عوض موجودہ الیکشن اور اسکے نتیجے میں بننے والی اسمبلیوں میں اپنے لیے بھاری بھرکم حصے کے خواہشمند تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو تو انکی اوقات سے بڑھ کر نوازا جارہا ہے جبکہ مولوی صاحب کو واشروم کے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا گیا ہے تو مولوی صاحب کے کان کھڑے ہوگئے مولوی صاحب نے سوچا کہ اب مقتدر حلقوں کو کیسے قابو میں لا کر اپنا کام نکالا جائے بہت سوچ بچار کے بعد مولوی صاحب نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اسٹیبلشمنٹ کی پرانی غلطیوں کو ہائی لائٹ کیا جائے اور ان کو پریشر میں لا کر اپنا حصہ وصول کیا جائے لیکن مولوی صاحب کی مجبوری یہ تھی کہ احتجاج کیلیے لوگ کدھر سے لائے جائیں کیونکہ کوئی بھی عقلمند بندہ اسکے ساتھ شامل ہونے پر راضی نہیں ایسے میں مولوی فضل الرحمان نے کمال حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے تحریک انصاف کو دانہ ڈالا اور تحریک انصاف کے ورکرز کو اسٹیبلشمنٹ کے آگے بطورِ چارہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا سما نیوز پر ندیم ملک کے پروگرام میں فضل الرحمان نے تسلیم کیا کہ عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل فیض حمید کے کہنے پر لائی گئی فضل الرحمان نے کمال مہارت سے باجوہ کے ساتھ جنرل فیض کا بھی ذکر کیا، ہوسکتا ہے جنرل فیض بھی سازش کا حصہ ہو لیکن جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تب ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم تھا جبکہ فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور لگا دیا گیا تھا یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ مولوی صاحب نے آخر ان لوگوں کا نام کیوں نہیں لیے جو اس وقت حاضر سروس ہیں اور یہی سوال مولانا کی نیت کے فتور کو عیاں کرنے کیلیے کافی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت مولانا پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی ہمدردی حاصل کرنے اور جنرل باجوہ اور اسکی باقیات سے متعلق ان کے دلوں میں موجود ناراضگی اور سخت جذبات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، اور ان کے ذریعے مقتدرہ کو دباؤ میں لا کر اپنے لیے کوئی بڑی کرسی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر کوئی بات نہ کرنا اور ہر بات کا الزام باجوہ اور فیض پر لگانے کا مطلب ہے کہ مولانا اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب کرنے کے حق میں نہیں ہیں مقصد صرف ذاتی فائدے لینا ہے ۔ پی ٹی آئی اور اسکے سپورٹرز کو مولوی فضل الرحمان جیسے چالاک اور مکار شخص سے ہوشیار رہنا چاہیے ، اسکے بیانات کو اپنے بیانیے کی تقویت کیلیے ضرور استعمال کریں لیکن فضل الرحمان کے شر سے بھی محفوظ رہیں کیونکہ جو شخص اپنے باپ کا نہ ہوا وہ کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔ آپ کے وقت کا شکریہ اگر آپ مندرجہ بالا باتوں سے اتفاق کرتے ہیں تو پوسٹ کو لائک اور شیئر کریں اور اگر آپ کوئی تصیح کرنا چاہیں تو کمینٹ میں اپنی راۓ دیجیۓ شکریہ ۔

عام آدمی common man

48,005 görüntüleme • 2 yıl önce

🛑🚫 دجل کے دلدادہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا نیا دجل ، نیا دھوکہ ، نئی مکاری، نیا فریب 🛑 📍 بلاسفیمی بزنس گروپ کے ڈچ نیشنل ترجمان نے یوٹیوب چینل پر متاثرہ فیملیز کے 4 لوگوں کا انٹرویو نشر کیا اور ظاہر کیا کہ ان کا موقف تو سب سے برعکس ہے ۔ 📍مزکورہ 4 انٹرویو کئے گئے افراد نے جب اپنا انٹرویو دیکھا تو وہ بھی حیران و پریشاں ہوگئے کہ مخصوص کلپس اور الفاظ الگ کرکے نشر کردیے گئے جو باقی باتیں انہوں نے کی تھیں وہ تو نشر ہی نہیں کی گئیں ۔ 📍حقوق الناس کے پلیٹ فارم سے عبدالوارث گل نے قیصر راجہ نامی یوٹیومر سے یہ انٹرویو ان فیملیز کو بہانے سے مدد کرنے اور ان کا حل نکالنے کا لالی پاپ دے کر اور ہمدرد بن کر ان سے اپنی مرضی کا مقصد حاصل کرنے کے لئے کروایا۔۔ 📍پہلے انٹرویو کا شارٹ کلپ سنیں اور ساتھ میں متاثرہ افراد کا وائس مسیج جس میں احتجاج کیا گیا کہ اس نے تو ہمارا انٹرویو غلط طریقے سے چلایا ۔ پھر قیصر راجہ یوٹیوبر کا وائس میسج سنیں اور خود فیصلہ کریں کہ یہ کتنے بڑے دجل کے کاروباری ہیں ۔ 📍زیر نظر تصاویر میں ایک تصویر کے اندر حسن معاویہ اور انٹرویو کیے گئے افراد کے مابین بریفنگ سیشن دیکھا جاسکتا ہے یہ کوششیں فروری 2025 سے جاری تھیں اور ان فیملی ممبرز کو دھوکے سے کہا جارہا تھا کہ ہم آپ کے بچے کو چھوڑ دیں گے بس ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے رہو 📍اس سے اگلی تصویر میں آپ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں رضوان سیفی کو انہی افراد کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں جن کا انٹرویو کیا گیا ۔ 📍اس گروپ نے مارچ 2025 سے قبل ہی ان پر کام کرنا شروع کیا ہوا تھا رٹ پیٹیشن سے پیچھے ہٹانے کے لیے انہیں مکمل طور پر برین واش کیا گیا تھا بچے کو چھوڑنے میں مدد دینے کے لالچ میں ان سے کافی سارے کام لینے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ رٹ پیٹیشن سے نام واپس لینے سمیت اس کے خلاف سی ایم بھی انہی افراد کو استعمال کرکے لگائی گئی تھی جو کہ ریجیکٹ ہوگئی ۔ خود انٹرویو میں انہی کی زبانی سن لیں۔ 📍یاد رہے یہ وہی رضوان سیفی ہے جو عبداللہ شاہ قتل کیس کے دوران راؤ عبدالرحیم کو بچانے والوں میں شامل تھا ۔ 📍حسن معاویہ اور رضوان سیفی نے ان فیملی ممبرز کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا کہ آپ ہماری بات مانیں اور جو ہم کہتے ہیں وہ کریں ۔ اب انٹرویو کئے گئے اشخاص میں سے تین افراد تو پیٹیشنر ہی نہیں ہیں اور ان کے موقف کو سب فیملیز کا موقف بنا کر پیش کیا جارہا ہے کیوں کہ بلاسفیمی بزنس گروپ کی دال کسی اور پر نہیں گلی بس ان کچھ لوگوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے جن پر کافی عرصہ سے انہوں نے ہوم ورک مکمل کیا ہوا تھا 📍رضوان سیفی اور حسن معاویہ نے ان افراد کو کہا کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ کی رٹ پیٹیشن سے اپنے نام واپس لے لیں اور وہاں پیش ہو کر کہیں کہ علماء کا کمیشن بنایا جائے ان سے حلف نامے اور معافی نامے لکھ کر سائن کروائے گئے اس لالچ میں کہ آپ کے بچوں کو ہم چھوڑ دیں گے۔ جاری ہے 👇 اگلی ٹویٹ میں رضوان سیفی کی چالوں سے پردہ ہٹایا جائے گا

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

16,577 görüntüleme • 1 yıl önce