جس ملک کی پڑھی لکھی قوم "نشا پومی" جیسے... انپڑھ جاہل گوار ٹک ٹاکر کو اتنا اونچا لے جا سکتی ہے۔۔۔۔ اس ملک میں Imran Khan جیسے بندے کا وزیر اعظم بن جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے!!!!! عمران خان تو پھر بھی اس ٹیم میں (12واں کھلاڑی) تھا جس نے 1992 والا ورلڈ کپ جیتا تھا۔۔۔show more

میاں اعجاز
23,745 Aufrufe • vor 2 Monaten
سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے بلین ٹری سونامی... پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا، جس کا میں خود گواہ ہوں۔ اپنے علاقے میں دوبارہ سبزہ اور اس کی دیکھ بھال کو بڑے قریب سے دیکھا آج پھر وہی تحریک انصاف کی حکومت ہے کے پی میں، لیکن اس کے باوجود کے سوات جیسے خوبصورت علاقے میں درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ کے پی حکومت محض تماشہ دیکھ رہی ہے، جبکہ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ Ali Amin Khan Gandapur KPK Governmentshow more

Harmeet Singh
72,581 Aufrufe • vor 1 Jahr
اجلاس میں عمران خان کی کوئی بات ہوئی ہے؟... صحافی کا سوال خان کی یہی بات ہوئی ہے کورونا میں انہوں نے بہترین طریقے سے ملک کو سنبھالا،جب پاکستان کا معاملہ تھا ایران کا معاملہ تھا اس میں سٹیسٹس مین کا کردار ادا کیا، انہوں نے یہاں پر دو دفعہ او آئی سی کا اجلاس بلایا، او آئی سی ہماری مین طاقت ہے پاکستان کو اس میں لیڈ لینی چاہئے، سہیل آفریدی کا جوابshow more

Siddique Jan SMT
22,539 Aufrufe • vor 6 Monaten
اس ملک میں مکمل غنڈہ راج نافظ کر دیا... گیا ہے کوئ بھی اٹھا لو کسی کی بھی جان لے لو جس کو دل کرے مارو یہ عاصم منیر نے ملک کا حال کردیاshow more

Abu bakar
56,673 Aufrufe • vor 3 Monaten
فوج کا ایک جوان تھا جس کی " پیٹھ... پہ گولی " لگی تھی اس نے کہا میں نے ملک و قوم کی خاطر گولی کھائی ہے میں ٹھیک ہو کر پھر ان کا مقابلہ کروں گا ! عطا تارڑ ۔۔۔ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ یہ سینے پہ گولی کھاتے ہیں جبکہ آج تو وفاقی وزیر نے کہہ دیا کہ یہ بزدل پیٹھ پہ گولی کھاتے ہیں 🤣show more

AMJAD KHAN
47,907 Aufrufe • vor 1 Tag
جس جس نے فلسطین کا سکارف یا مفرر اپنے... گلے میں ڈال کر فلسطین کی حمایت کی ان سب کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے ۔🚨🚨کیا اس کا اصل قصور فلسطین کی حمایت تھا ؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے اسرائیل یہودیوں کی جڑیں کتنی لمبی اور مضبوط ہیں ،کسی ملک میں احتجاج نہیں ہونے دیا ،یورپ میں احتجاجوں پر پولیس چھوڑی جاتی تھی ،ایک یمن تھا جس پر سعودی امارت چھوڑ دیے،وینزویلا کے صدر کو آج منشیات یا تیل کی وجہ سے نہیں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کی سزا دی گی ۔show more

SSG of Pti
50,860 Aufrufe • vor 8 Monaten
جیسے ہی خان صاحب کی حکومت ائے گی ہماری... حکومت ائے گی میں خود طیبہ راجہ کے لیے نشان جرات کی ڈیمانڈ کروں گی جیسے اس نے ان یزیدوں کو للکارا تھا مجھے پتہ ہے وہ اسان نہیں ہوتا😢 ایک والد کی آنکھوں میں آنسوں میں سمجھ سکتی ہوںshow more

Sara Mir
367,649 Aufrufe • vor 2 Jahren
عمران نیازی کا بیٹا اس وقت پوری میں سیر... سپاٹے اور سوشل میڈیا شوز میں گھوم پھر رہا ہے لیکن آج تک آپ نے عمران نیازی کے اس بیٹے کو تحریک انصاف لندن کے ایک اختجاج میں نہیں دیکھا ہوگا جس بندے کی اپنی سگی اولاد کو اسکی فکر نہیں اسکے لئے یوتھیا اپنے ملک کو گالیاں نکالتے ہیںshow more

Dr Farhan K Virk
18,246 Aufrufe • vor 8 Monaten
یہ ارمغان کا والد کامران قریشی ہے ۔ ارمغان... نے اپنے دوست مصطفیٰ عامر کو لوہے کی راڈ سے تشدد کرکے مارا تھا اور اس کو گاڑی سمیت جلا کر نذر آتش کردیا تھا ۔ آج اس کا والد پاکستان کے نظام انصاف کو اپنے بازو سے اشارے کرکے بتارہا ہے کہ اس ملک میں انصاف کا کوئی نظام نہیں ہے یہ ایسا کرسکتا ہے کیوں کہ یہ طاقتور اور بااثر ہے جبکہ اگر کوئی غریب ہو تو پھر پولیس بغیر لیڈی کانسٹیبل دو خواتین کو اٹھا کر تھانے لاتی ہے اور وہاں ان کی موت بھی ہوجاتی ہے ۔ کیوں کہ وہ غریب تھیں ۔ اس ملک میں جرائم پیشہ ہونا جرم نہیں ہے غریب ہونا جرم ہےshow more

Tanveer Awan
71,322 Aufrufe • vor 1 Monat
"میں فضل الرحمٰن کا سیکیورٹی گارڈ ہوا کرتا تھا۔... جب میں نے اس میں یہودیوں والی حرکتیں دیکھیں تو اسے چھوڑ دیا۔ عمران خان میں ایک بھی یہودیوں والی حرکت نہیں۔ عمران خان محب وطن پاکستانی ہے۔ ملک سے مخلص ہے" - فضل الرحمٰن کے سیکیورٹی گارڈ کا اعترافshow more

Maleeha Hashmey
151,270 Aufrufe • vor 3 Jahren
ناپاک فوج کی طرف سے یہ بیانیہ بنایا جارہا... ہے کہ اس فوجی کی بیوی کو ہراساں کیا گیا تھا اس لیے اس نے غیرت میں ایسا کیا اس لیے یہ سب جائز ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر جب جب تم نے سویلینز کو ہراساں کیا تھا تو سویلنز کو بھی حق حاصل ہونا چاہئیے ان فوجیوں کو ٹھکانے لگانے کا۔show more

Sarah Naeem Khan
24,959 Aufrufe • vor 1 Monat
بس ہوسٹس کی ویڈیو بنانے والا اصل بندہ بھی... سامنے آگیا ہے اس ٹک ٹاکر alihassangondal822 نے ویڈیو بنائی اور اس کو وائرل کیا ۔ جبکہ جو ویڈیو اس سے پہلے والی ہے وہ بھی ٹک ٹاکر ہے ۔ اور ٹک ٹاک میں ایک فیچر ہے جس سے ایک ویڈیو سے لوگ اپنی ویڈیو کو جوڑ لیتے ہیں ۔ تو وہ پہلی ویڈیو والا بھی مجرم ہی ہے جو اس ویڈیو کو مزید وائرل کررہا ہے ۔ بلکہ اس طرح کے معاملات میں ویڈیو بنانے سے پھیلانے والے تک مجرم ہوتے ہیں ۔ اور ان پر برابر کی قانونی کاروائی ہونی چاہیےshow more

Adv Sahiba Rana
58,142 Aufrufe • vor 3 Monaten
میں رستے میں جا رہا تھا ایک بندے نے... مجھے ایک لفافہ تھمایا اس میں یہ سارا کچھ لکھا ہوا تھا تو یہ ہے میرا خبر کا سورس: اسد اللہ خان جیڑا پنو او ای لال اے اسد اللہ خان کی وضاحت نے واضع کر دیا اس کا سورس بھی خاکی ہی تھا ویسے اتنی خوبصورت وضاحت دینے کی ضرورت ہی کیا تھیshow more

Waqar khan
66,845 Aufrufe • vor 8 Monaten
جس عمران خان نے جانتے ہوئے کہ نواز شریف... نے باہر جا کر سیاست کرنی ہے صحت کے مبینہ خطرے کی وجہ سے ملک سے باہر جانے دیا تھا، آج مسلم لیگ حکومت اس عمران خان کو مقامی ہسپتال نہیں جانے دے رہی۔ زرف کر فرق صاف ظاہر ہےshow more

Asad Umar
176,002 Aufrufe • vor 1 Monat
کیپٹن صفدر یہاں کہہ رہے ہم نے میاں چیاؤں... چیاؤں ایڈوکیٹ کے بہنوئی احسن بھون کی ڈگری کو آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے یعنی جو فیصلہ ہوگا سامنے آئے گا بھون کوئی خدانخواستہ خدا ہے جس پر بات نہیں ہو سکتی ؟ چیاؤں ایڈوکیٹ کا ٹارگٹ مریم تھا اب عوام نے اس کی پین چوک میں کھلار دی ہےshow more

Kippsam Malik
33,748 Aufrufe • vor 3 Tagen
"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور... ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddiqueshow more

Dr Waqas Nawaz
45,959 Aufrufe • vor 9 Monaten
اس بندے کے آگے پیچھے سیکیورٹی اور آفیسرز ہیں... اس ویڈیو کو دیکھ کر ہمیں یہ درس ملتا ہے کے اگر انسان کا جنون اور ارادے بڑے ہوں تو پھر کسی بھی قسم کی معذوری بھی انسان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔show more

Naseer Awan(نصیر اعوان)
13,083 Aufrufe • vor 5 Monaten
میرے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ میں ثابت کر... سکوں کہ FIA اہلکار نے مجھے گالی دی۔ اقرار الحسن کل اقرار نے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ اہلکار نے مجھے بہن کی گالی دی ہے اور میرے پاس ثبوت ہے۔ اس نے پھر ویوز کے لیے وڈیو اپلوڈ کی تو اس میں گالی کا کوئی ثبوت نہیں تھا اور آج اپنی بات سے مکر گیا ہے۔show more

Fayyaz Shah
40,052 Aufrufe • vor 5 Monaten
🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں... عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوںshow more

Khawaja Yaseen Usmani
73,638 Aufrufe • vor 2 Jahren