یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور... مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔show more

عباس خٹک
104,545 views • 7 months ago
وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان... کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨show more

Sher Afzal Khan Marwat
91,385 views • 1 month ago
سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن... نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پرshow more

Umar Cheema
13,621 views • 4 months ago
انعم فاطمہ نے اس وقت ریاست کا ساتھ دیا... جب حالات انتہائی کشیدہ تھے اور ان کا اپنا عملہ بھی پیچھے ہٹ چکا تھا۔ حملوں اور زخمی ہونے کے باوجود ڈٹے رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ذاتی حفاظت پر قومی ذمہ داری کو ترجیح دی۔ تمغۂ امتیاز کسی سفارش پر نہیں، بلکہ اس ہمت اور قربانی کے اعتراف میں دیا گیا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر فیصلے سنانے والوں کو اس کرب اور دباؤ کا اندازہ نہیں جو انہوں نے اس وقت محسوس کیا۔ کسی کی بہادری کو سیاسی اختلاف کی نذر کرنا ناانصافی ہے۔ انعم فاطمہ کا حوصلہ ان تمام سرکاری افسران کے لیے ایک مثال ہے جو مشکل وقت میں ریاست کی رٹ قائم رکھتے ہیں۔show more

صحرانورد
16,281 views • 3 months ago
دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ... رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔show more

Saleem Speaks
54,770 views • 10 months ago
یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی... میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔show more

Nadia Malik🍁
22,552 views • 2 months ago
ویلنٹائن ڈے پر یہ لاہور ہے ! یہاں ضمیر... نہیں بکتے، ضمیر مر جاتے ہیں اور ان کی میتوں پر بھنگڑا ڈالا جاتا ہے۔ خدا کی بستی میں اب صرف بستی رہ گئی ہے، خدا اس بستی کے لوگوں کی زندگی میں نہیں رہا ۔" شرم و حیا کی بات مت کیجئے، وہ تو اب صرف لغت میں ایک گالی بن کر رہ گئی ہے۔ جب پیٹ بھرا ہو اور ذہن خالی، تو پھر انسان کو اپنی بے حسی پر رونا نہیں آتا، بلکہ اسے ڈھول کی تھاپ پر جھومنا آتا ہے۔ ادھر کوئی سلاخیں گن رہا ہے، ادھر کوئی کمر کی لچک ناپ رہا ہے۔ یہ تضاد نہیں صاحب، یہ ہماری قوم کا وہ ناسور ہے جس کا آپریشن اب کسی جراح کے بس میں نہیں۔ ہم وہ تماشائی ہیں جو اپنے ہی گھر کو لگی آگ پر ہاتھ تاپتے ہیں اور کہتے ہیں: "واہ! کیا سین ہے!"show more

Rebel Flame 🔥
11,116 views • 6 months ago
سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات... کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپورshow more

Gilgit Baltistan Tourism.
52,416 views • 1 year ago
یہ منظر گلگت بلتستان کی ایک جھیل کا ہے،... جہاں ایک خاتون نہا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ درست ہے؟ میرے خیال میں یہ مناسب نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کے جھیل اور وادیاں سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں، لیکن یہاں کے مقامی اقدار اور معاشرتی روایات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف مقامی لوگوں کو ناگوار گزرتے ہیں بلکہ علاقے کے تقدس اور خوبصورتی پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ سیاح اگر یہاں آتے ہیں تو ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ علاقے کی ثقافت اور اقدار کا احترام کریں۔ خوشی اور تفریح ضرور کریں، لیکن حدود و قیود میں رہ کر تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قدرتی مقامات کی پاکیزگی بھی قائم رہےshow more

Gilgit Baltistan Tourism.
84,883 views • 1 year ago
ایک طرف سوشل میڈیا پر سستی شہرت، فحاشی اور... غیر اخلاقی مواد کی ترویج کا وہ طوفان ہے جو ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کر رہا ہے، اور دوسری طرف اس کا انجام انتہائی دردناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ شمسو گیلامنہ کی یہ آخری ویڈیو اس تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کی دوڑ اور باؤنڈریز پار کرنے کا رجحان معاشرے کو کس پستی کی طرف لے جا رہا ہے۔ بے شک، کسی کی جان لینا اور قانون کو ہاتھ میں لینا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں اور قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے؛ لیکن ساتھ ہی ہمارے نوجوانوں، بالخصوص خواتین کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عزت و وقار کی بجائے اس طرح کی شہرت کا انتخاب انسان کو کن خوفناک انجام سے دوچار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ 💔🥺🤲🏻show more

ꜱᴀɴɪᴀ ꜱʜᴇɪᴋʜ🌸
28,549 views • 12 days ago
یہ ویڈیو لندن سے ایک دوست نے شیئر کی... ہے۔ان کے مطابق پیٹرول کا دو ہفتے پہلے جو ریٹ تھا آج بھی اسی نرخ پر دستیاب ہے ۔یہ جو تاثر دیا جارہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے یورپ میں ایندھن اور توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیںshow more

Bilal Ghauri
25,526 views • 5 months ago
ایک بیل، ایک عیدگاہ اور ایک لمحۂ فکر یہ... واقعہ کراچی کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 9 کی ایک عیدگاہ کا بتایا جا رہا ہے، جہاں عیدالاضحیٰ کی نماز کے دوران ایک بیل رسی تڑوا کر نمازیوں کے اجتماع میں جا پہنچا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے نہ کوئی بھگدڑ مچائی، نہ کسی کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی اشتعال کا مظاہرہ کیا، بلکہ خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہو کر ماحول کا حصہ بن گیا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ شاید یہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ یہ بیل میرے ایک عزیز دوست کا ہے اور یہ ویڈیو بھی ان کے گھر والوں نے اپنے موبائل فون سے خود ریکارڈ کی ہے۔ یقیناً ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اس واقعے میں کوئی غیر معمولی روحانی راز پوشیدہ ہے، لیکن یہ منظر انسان کو غور و فکر کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ جانور عموماً شور، خوف اور اشتعال پر فوری ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ سکون، اطمینان اور محفوظ ماحول ان کے رویّے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہزاروں نمازیوں کے درمیان پہنچنے کے باوجود یہ طاقتور جانور پُرسکون رہا۔ یہ مختصر سا منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت صرف انسان کے دل و دماغ پر ہی اثر نہیں ڈالتی بلکہ اس کے اردگرد کے ماحول میں بھی سکون، نظم اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنے اپنے انداز میں اس کی قدرت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ کبھی پرندوں کی چہچہاہٹ، کبھی چیونٹیوں کی نظم و ضبط، کبھی شہد کی مکھیوں کا نظام، اور کبھی ایک طاقتور بیل کا غیر متوقع سکون انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر شے اپنے رب کے حکم کی پابند ہے۔ یہ ویڈیو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک خوبصورت جھلک اور غور و فکر کا ایک موقع محسوس ہوئی، اس لیے آپ کے ساتھ شیئر کر دی۔ "آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" #عیدالاضحی #قربانی #عیدگاہ #اللہ_کی_قدرت #قدرت_کے_مناظر #غور_و_فکر #اسلام #نماز #خشوع_و_خضوع #روحانیت #EidUlAdha #Qurbani #Faith #Prayer #Spirituality #NatureAndFaith #SubhanAllah #MashaAllahshow more

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan
29,059 views • 2 months ago
اسلام آباد انتظامیہ کی بے حسی اور جبر کا... عالم یہ ہے کہ بلوچ مظاہرین، جو صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے آئے ہیں، انہیں نہ پریس کلب کی حدود میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، نہ ٹینٹ لگانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ شدید بارش اور خراب موسم میں بھی سڑک پر بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی مہذب ریاست کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دے، خاص طور پر ان خاندانوں کو جو صرف اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے، چونکہ یہ بلوچستان کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اس لیے ان سے اس قدر بے رحمی سے پیش آ کر گویا ان کی مظلومیت کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ ریاستی تعصب اور عدم برداشت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔show more

Sammi Deen Baloch
191,026 views • 1 year ago
پہلے زمانے میں والدین اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے... تھے تو ایک ہی بار رقم ملتی تھی، رقم ختم ہوئی تو معاملہ بھی ختم۔ اب اس کا ایک نیا طریقہ آ گیا ہے: بچوں کو بچپن سے ہی TikTok کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہوتے ہوتے وہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جائیں۔ اس بچی کو یہ تک نہیں معلوم کہ لائک کیا ہے، گفٹ کیا ہے، گانا کیا ہے یا ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔ اسے بس موومنٹ سکھائی جا رہی ہے کہ یہ کرو، ایسے کرو، تاکہ کل یہ ہمارے لیے کمائی کا ذریعہ بنے۔ اور اس میں بچوں سے زیادہ والدین شریک ہیں۔ جو لڑکے لڑکیاں کم عمری میں TikTok پر لائیو آتے ہیں یا ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے پیچھے اکثر والدین کی رضامندی اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچے نہ خود اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ یہ سب فیصلہ کر سکیں، نہ اپنی مرضی سے موبائل اور یہ سب سہولیات خرید سکتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک کوئی نہیں پوچھتا جب تک وہ مشہور ہو کر کمائی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔show more

its me میٹھو
22,133 views • 3 days ago
دیر میدان میں پاکستانی جٹ طیارے نے سکول کو... نشانہ بنایا، جی ہاں، وہی سکول جہاں بچوں کو خواب سکھائے جاتے ہیں، قلم تھمائے جاتے ہیں، اور مستقبل کی امید جگائی جاتی ہے.ویڈیو میں استاد بچوں کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بچے… بچے تو ڈر کے مارے گھروں کی طرف دوڑ رہے ہیں،ان کے قدموں میں خوف، آنکھوں میں آنسو، اور دل میں ایک ہی سوال: ہماری غلطی کیا ہے؟ کیا ان بچوں کو آزادی منانی چاہیے؟ یا پھر وہ بخوبی جان چکے ہیں کہ وہ محکوم ہیں، ان کی قسمت پر کسی اور کا قبضہ ہے؟ اب ذرا تصور کریں، پنجاب کا بچہ جب پارلیمنٹ آتا ہے، تو اسے بتایا جاتا ہے: تم پاکستانی ہو، تمہارا حق ہے سوال کرنا، بولنا، جینا!لیکن ادھر، پختونخوا کے بچے صرف اس لیے بارود کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ وہ اُس سرزمین پر پیدا ہوئے جہاں ریاستی مفاد کا مطلب خاموش لاشیں اور جلتے خواب ہے. #پرامن_ملک_گیر_تحریک #StopPashtunsGenocideshow more

Saleem Afridi
30,464 views • 1 year ago
ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود... ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.show more

Dr M Shujat Rasool
121,664 views • 3 months ago
آپ نے سوچا رات کے دو بجے، ٹھٹرتی سردی... میں، پرامن مظاہرین پر جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے واٹر کینن کیوں چلایا جا رہا ہے؟ پتھراؤ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ یہ لوگ کسی انتشار کے لیے تو نہیں نکلے، یہ اس لیے باہر ہیں کہ ایک قیدی کی اس کے خاندان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی، حالانکہ ملاقات کی اجازت قانون، جیل رولز اور خود عدالتی فیصلوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں نہیں ہونے دی جا رہی ملاقات؟ کیونکہ قیدی نے کہا ہے کہ وہ سرینڈر نہیں کرے گا، اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوام نے جو مقدس امانت ووٹ کی صورت میں اس کے سپرد کی، اس پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟ سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ سب کرکے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم دلیل سے نہیں، طاقت سے بات کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا اصول تو واضح ہے، طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، سچ کو دفن نہیں کر سکتی !!show more

Waseem Malik
30,234 views • 8 months ago
اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے... بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeadersshow more

Sammi Deen Baloch
145,168 views • 1 year ago