حضور والا !! اتنی پبلک کافی ہے یا اور... چاہئیے ؟ بغیر ووٹ ڈلوائے جتوانا تھا تو سیدھا سیدھا نوٹیفائی کردیتے ، قوم کے ٹیکسوں کا اربوں روپیہ اُڑانے کی ضرورت تھی ؟ 4:30 بجے پولنگ اسٹارٹ نہیں ہوئی ؟ اسے کہتے ہیں صاف شفاف الیکشن ؟show more

Jameel Farooqui
408,254 görüntüleme • 2 yıl önce
تحریک انصاف والوں کو مٹھائی پھر واپس کرنی پڑ... گئی 🚨🚨 آپ کے کمشنر کے مطابق تو فوج کا کوئی کردار تھا ہی نہیں الیکشن میں اور فوج کی نگرانی میں سارا عمل صاف شفاف ہوا۔ رہا فارم 45، اس پر نا دستخط ہیں، یا انگوٹھے کا نشان ہے اور نا شناختی کارڈ ہیں۔ پراپیگینڈا تو وڑ گیاshow more

Dr Farhan K Virk
96,777 görüntüleme • 2 yıl önce
عمر نذیر کشمیری کے ساتھ ویڈیو میں نظر آنے... والا شخص TTPکمانڈر ڈاکٹر رؤف کشمیری کا بیٹا ہے۔ اگر یہ بات درست نہیں تو عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کھل کر وضاحت کیوں نہیں کرتی اور اگر یہ درست ہے تو قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ وہاں کس مقصد کے لیے موجود تھا؟ کیا وہ عوامی مسائل حل کرنے آیا تھا یا کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے؟ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ سوال مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے کہ عوامی حقوق کا نعرہ محض ایک پردہ ہے جس کے پیچھے تصادم، انتشار اور ریاست سے محاذ آرائی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ افسوس یہ ہے کہ اس کھیل کی قیمت دونوں اطراف کے معصوم اور بے گناہ لوگ اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔show more

Waqar Satti 🎖️🇵🇰
130,262 görüntüleme • 25 gün önce
آفس میں زیادہ کام کی وجہ سے کمر میں... شدید درد ہو گیا تھا۔ پھر آفس سے باس نے گھر پر کھانے کے لیے انوائٹ کیا تھا۔ وہاں سے رات تقریباً دس، گیارہ بجے واپس گھر پہنچی تو تکلیف اتنی شدید تھی کہ سیدھا کھڑا ہونا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ آخرکار اپنے نوکر رامو کاکا کو بلایا اور کمر پر ہاتھ سے ہلکی مالش کروائی، جس سے کچھ آرام محسوس ہوا۔ 😣 واقعی کام کا دباؤ کبھی کبھی انسان کو بری طرح تھکا دیتا ہے۔show more

Nadia Malik🍁
27,473 görüntüleme • 11 gün önce
بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا... ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ اب خود سے ایک سوال پوچھیے... اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ لیکن افسوس... ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔ دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "سیدھا لکھو!" "لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟" "شکل خراب کیوں بنائی؟" "دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!" اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیے... جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟ دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے. یاد رکھیے... اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں .. اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں منقولshow more

DTE PUNJAB DSD
42,242 görüntüleme • 26 gün önce
یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور... موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔show more

منصور مصطفیٰ
63,519 görüntüleme • 8 ay önce
پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر... وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔show more

Saleem Speaks
52,831 görüntüleme • 4 ay önce
نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز... کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !show more

Jack~The~Ripper
19,361 görüntüleme • 1 ay önce
بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے... حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیںshow more

Qaimkhani
15,327 görüntüleme • 2 ay önce
میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے... والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharifshow more

Khadim Ali khan Yousaf zai
16,301 görüntüleme • 7 ay önce
اگر ادارے سو رہے ہیں تو اب جاگنے کی... ضرورت ہے نیند کا وقت گزر گیا وہ شخص جو خود کو عشقِ عمران میں مبتلا کہلاتا ہے آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہے اور وہ ایسے بیانات دے رہا ہے جس میں ہماری مسلح افواج کو بدنام کیا جا رہا ہے “سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی حکومت پشتونوں کی قاتل ہے اور وہ اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوں کیونکہ فوجی حکومت نے پشتون علاقوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے” یہ سراسر بیہودہ الزامات اور قوم کو منتشر کرنے کی سازش ہے یہ بیانات نہ صرف ملکی مفاد کے خلاف ہیں بلکہ ایسے بیانات کو بیرونی عناصر اور افغان صفحات پر خوشی سے شیئر کیا جا رہا ہےقومی سلامتی اور اداروں کی ساکھ اتنی آسانی سے پامال نہیں ہونے دینی چاہیے قومی مفاد میں ضروری ہے کہ کوئی بھی سیاستدان یا افسر ایسا پروپیگنڈا پھیلائے تو آئینی اور قانونی راستے سے جواب دیا جائے تنقید کا حق ہر کسی کو ہے مگر بے بنیاد الزامات برداشت نہیں کیے جائیں گے ہم پاکستانی آنکھیں بند کر کے ایسے ہراپوگینڈے کو پھیلنے نہیں دے سکتے پاکستان زندہ باد 🇵🇰show more

Safina Khan
85,521 görüntüleme • 9 ay önce
یہ شخص کہتا ہے کہ ایک پاکستانی کی جان... ہزار افغانیوں کی جانوں پر مقدم ہے۔ کاش یہ بات تم ارشد شریف کی ماں سے جا کر کہتے جس کا بیٹا ایک سچا پاکستانی تھا، جس نے صرف تم جیسے غداروں کو بے نقاب کرنے کی جرات کی اور اسی جرم میں اسے جلاوطنی، تعاقب اور آخرکار قتل تک پہنچا دیا گیا۔ یا پھر ظلے شاہ کے والدین سے پوچھتے جس کو مارنے سے پہلے اس کے نازک اعضاء تک کو ٹارچر کیا گیا۔ کسی پاکستانی جان کی قدر پوچھنی تھی تو وقار ستی کے والد سے پوچھتے جس کے بچے کے سر میں ڈی چوک پر فوجیوں نے گولی ماری اور پھر لاش دینے سے بھی انکار کر دیا۔ یا مریدکے کے فیصل کی ماں سے پوچھتے جو اپنے بچے کا چہرہ تک نہ پہچان سکی کیونکہ اسے مارنے کے بعد اس کے سر پر فوجی گاڑی گزار دی گئی تھی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بیچ کر تم نے اپنا اقتدار بھی بنایا جائیدادیں بنائیں بیرون ملک کاروبار خریدے جزیرے بناۓ پزا سٹور خریدے محل بناۓ اور اپنے بچوں کے مستقبل بھی۔ اس لیے تمہاری گندی زبان سے جب لفظ پاکستان یا پاکستانی نکلتا ہے تو وہ لفظ نہیں لگتا وہ شہید پاکستانیوں کے خون پر کیا گیا ایک تلخ مذاق لگتا ہے۔show more

Waqar khan
46,737 görüntüleme • 5 ay önce
نہ صرف کامن ویلتھ بلکہ یورپی یونین نے بھی... پاکستان کے 2024 الیکشن کی رپورٹ چھپائی ہے۔ جب چند پاکستانی نژاد یورپی شہریوں نے اس رپورٹ کے اجراء کی درخواست دی تو کہا گیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور پاکستان میں کُہرام مچ جائے گا۔ Waqas کا علی مصطفی | Ali Mustafa کے پروگرام میں انکشاف۔ سیدھی سی بات ہے۔ عوام کا حقِ رائے دبایا گیا، جس پارٹی کو عوام نے ووٹ دیا اُسے پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش ہوئی اور عالمی اداروں نے بھی سچ کو چھپانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب آپ ہی بتائیں، یہ مداخلت تھی یا سازش؟؟ #SeatsBelongToPTIshow more

Faiza Murad
53,273 görüntüleme • 11 ay önce
راولاکوٹ آزاد کشمیر میں آج جان کی بازی ہارنے... والی یونیورسٹی لیکچرر خاتون کی آخری لمحات کی ویڈیو ، خاتون امریکہ سے اعلی تعلیم یافتہ تھی گاڑی کے دھندلے شیشے پر ہاتھ مارتی ہوئی یہ بہن جاتے جاتے بہت سارے سوالات کو جنم دے گئیں۔۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہم نے لوگوں کو تیز و تند دریاؤں میں چھلانگ مار کر لوگوں کی جانیں بچاتے دیکھا ہم یہ نہیں کہتے کہ اپنی جان کی حفاظت نا کریں لیکن یہاں تو کوشش تک بھی نہیں کی گئی۔۔ کوئی بہت بڑی ندی نالہ یا بہت گہرا تالاب تو نہیں تھا نہیں لیکن نہ جانے کیوں لوگوں کی بے حسی پہ دل سخت تڑپ اٹھا پانی کی گہرائی سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ پانی چھ فٹ سے زیادہ گہرا نہیں تھا اور وہاں پر کم و بیش ہیں ادھا درجن لوگ بھی موجود تھے ویڈیو میں بہت ساری آوازوں کو واضح سنا جا سکتا،سب کچھ انتظامیہ پہ ڈال کر اپنی نااہلی، بزدلی، کمزوری پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا.. وہاں پہ کھڑے کسی بھی شخص کی اگر یہ بہن بیٹی ہوتی تو وہ بلا خوف و خطر پانی میں کود جاتا اور جب انسان ہمت کرتا ہے تو رب تعالی اس کی مدد بھی فرماتا ہے کاش کہ اج اس بہن کی زندگی بچائی گئی ہوتی۔۔۔ موت سے تو کسی کا انکار نہیں ...انا للہ وانا الیہ راجعونshow more

Yousaf Saeed
59,994 görüntüleme • 1 yıl önce
"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا... نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Rajashow more

Dr Waqas Nawaz
12,319 görüntüleme • 1 yıl önce
لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین... یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔show more

ZEShan ⚫
37,434 görüntüleme • 1 ay önce