سائیکل ایمبولینس کوئی نیا یا انوکھا تصور نہیں بلکہ... دنیا کے کئی ممالک جیسے برطانیہ بھارت کینیا بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز میں یہ برسوں سے ہنگامی طبی امداد کا حصہ ہے۔ تنگ گلیوں شدید ٹریفک اور دور دراز علاقوں میں کم لاگت کے ساتھ مریض تک فوری رسائی اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ سائیکل ایمبولینس ریسکیو ایمبولینسز کا ایک سپلیمنٹری حصہ ہے کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر کو عرصہ دراز سے سائیکل ایمبولینس کی کی ضرورت تھی اور جو جاہل لوگ اس سلسلے میں مئیر کراچی کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں وہ پلیز اپنی جہالت کا علاج کروائیں اور تھوڑا ریسرچ کر لیا کریں پھر بات کیا کریں بغض پیپلزپارٹی سے نکلیں بہت سی چیزیں واضح دکھائی دیں گی پنجاب میں بھی اسکی بہت ضرورت ہے پیپلزپارٹی فیصل آباد کی خواتین ونگ کی صدر رخسانہ قمر صاحبہ کا جواں سال بیٹا 1122 ایمبولینس کے نا آنے کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کے آدھے گھنٹے بعد سڑک پر ہی لقمہ اجل کا شکار ہو گیا تھا MQMshow more

Shaista Aslam( PPP)🇱🇾
21,076 次观看 • 2 个月前
دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ... رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔show more

Saleem Speaks
54,770 次观看 • 11 个月前
عطا قباد جھیل۔گزشتہ سال کا یہ منظر اور آج... کی تشویش۔۔ یہ عطااباد جھیل کا گزشتہ سال کا خوبصورت منظر ہے، جب جھیل کا نیلا شفاف پانی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا اور لوگ اس کے ٹھنڈے پانی میں خوب انجوائے کرتے نظر آتے تھے۔ 💙🏔️ مگر آج صورتحال تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔ پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ جھیل کے کئی حصوں میں ریت اور مٹی جمع ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس خوبصورت قدرتی اثاثے کا حسن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ عطاباد جھیل صرف ہنزہ ہی نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کی سیاحت کا ایک اہم مرکز اور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اگر پانی کی کمی، ریت اور مٹی کے جمع ہونے اور دیگر ماحولیاتی مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس جھیل کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ اس جھیل کی موجودہ صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے، ماہرین کی مدد سے اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورت جھیل کے نیلے پانی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اتاباد جھیل کو بچانا صرف ہنزہ کی نہیں، پورے گلگت بلتستان کی ذمہ داری ہے۔ 🏔️💙show more

Gilgit Baltistan Tourism.
29,353 次观看 • 12 天前
#PMLN کی #ایم_کیو_ایم_پاکستان کے ساتھ پاکستان بھتر انداز میں... چلانے کی مشترکہ حکمتِ عملی اور اس بات پر اتحاد پر تکلیف ان لوگوں کو ہورہی ہے جو سندھو دیش بنا رہے تھے اور جو ان سے بنوا رہے تھے!! لندن ٹولا اور لندن ٹولے کے انویسٹر دونوں دل کی تقلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں کیوں کہ لندن ٹولے کی کمائی سندھ کے لوٹیروں (پی پی پی) سے ہو رہی ہے اور ان لوٹیروں کا شکار #کراچی ہے جو کے ان کو ایم کیو ایم کے متحد اور منظم ہونے سے ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ اب یہ مسلہ سیاست کا نہیں ظالم اور مظلوم کا ہے اور اب مظلوم کھڑا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ #MQMPakistanshow more

🇵🇰Nadir Qureshi🇵🇰
13,893 次观看 • 2 年前
محمد قاسم—پیشہ کے لحاظ سے ایک درزی۔ 9 مئی... کے مقدمہ (FIR No. 103، تھانہ سرور روڈ لاہور) میں 10 سال کی سزا ہے۔ ایک محنت کش انسان، جس کی زندگی کا سہارا صرف اس کی محنت تھی، آج انصاف کے بجائے آزمائش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی والدہ شدید بیمار ہیں اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ایک بیٹے کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وہ اس وقت اپنی ماں کے پاس بھی نہیں۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ آپ کی چھوٹی سی مدد ایک خاندان کے لیے سہارا بن سکتی ہے۔ 📌 EasyPaisa: 03014231790 آئیں انسانیت کے ناطے اس بھائی کا ساتھ دیں۔show more

Malik Pervaiz Iqbal Umvi Adv
26,585 次观看 • 1 个月前
#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد... ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہےshow more

Shehr Bano Official
39,229 次观看 • 1 年前
Urgent help Needed❗ شدید بخار تھا ۔۔ٹوٹر سے بریک... لی تھی ۔۔یہ ویڈیوز دیکھی تو دل کٹ کے رہ گیا ۔۔اشفاق جو کہ سیکیورٹی گارڈ ہے۔اس کی زندگی بھر کی کمائی کرچیوں میں بدل گئی ۔۔قابل استعمال نا برتن نا چولہا نا واش روم ۔۔لیکن غریب ہے تو سوشل میڈیا پر بھوچال نہیں ایا ۔۔مجھے لگا تھا ابھی تک اس کی بہت مدد ہو چکی ہوگی ۔۔لوگوں کو اور پارٹ کو اس کی تکلیف کا احساس ہوگا ۔۔۔لیکن نہیں 💔 یہاں پر احساس بھی امیروں کا ہی ہوتا ہے ایک عام ورکر کتنی تکلیف میں ہے کسی کو کوئی پرواہ نہیں اپ میں سے جو بھی ان ان کی فیملی کا نمبر لینا چاہیں وہ نمبر لے رابطہ کریں اور ان کی اس تکلیف میں مدد کریں ۔۔تاکہ ان کے نقصان کا کچھ مداوا ہو سکے 🙏show more

Shehr Bano Official
79,854 次观看 • 16 天前
ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ... کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیںshow more

Tariq Mateen
72,391 次观看 • 1 个月前
سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن... نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پرshow more

Umar Cheema
13,621 次观看 • 6 个月前
یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ... کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمیshow more

Saad dogar
102,646 次观看 • 4 个月前
یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور... مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔show more

عباس خٹک
104,598 次观看 • 8 个月前
"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا... نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Rajashow more

Dr Waqas Nawaz
12,319 次观看 • 1 年前
ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے... گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔show more

Sammi Deen Baloch
45,423 次观看 • 3 个月前
فرشتوں جیسا ریحان اس کا چھوٹا بھائی اور اس... کی ایک بہن ایک ایسی موزی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا شاید علاج ہی کوئی نہیں ۔۔۔لیکن اس سے بھی تکلیف دہ یہ ہے کے والد شدید شوگر کے مریض نہ اپنی دوائی لے سکتے ہیں نہ بچوں کی۔۔یہ بیماری تو ختم نہ ہو لیکن اگر ہم ان کی مدد کریں تو جتنی ان کی زندگی ہے کم از کم دوائیوں کے ذریعے ہی سہی کچھ تکلیف تو کم ہوگی ۔۔ریحان کے والد ایک درزی کے ساتھ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں جس دن بیماری کی وجہ سے نہیں جاتے اس دن دیہاڑی بھی نہیں لگتی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور تینوں بچے بیمار ۔۔۔اگر اپ میں سے کوئی بھی ان کی کچھ مدد کر سکیں جس سے کم از کم وہ اپنی ادویات خرید سکیں بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جا سکیں تو مجھ سے ان کی انفارمیشن لے لیںshow more

Shehr Bano Official
26,672 次观看 • 3 个月前
یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز... ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔show more

Matiullah Jan
255,843 次观看 • 2 年前
بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا... نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇show more

Ahmad Ghuman
94,035 次观看 • 15 天前