ممبر قانون ساز اسمبلی پنجاب محترمہ حناء پرویز بٹ صاحبہ

Akvaryum Arenası
216,312 просмотров • 1 год назад
تارڑ ساب، قومی اسمبلی نے اکتوبر 2022 (شہباز شریف... حکومت) میں قانون منظور کیا کہ MNA کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت لینا لازم ہو گی۔ یہ قانون قومی اسمبلی میں درست ہے تو پختون خوا اسمبلی کیلئے غلط کیسے؟ مزید، بالکل ایسا ہی قانون پنجاب اسمبلی میں بھی ہےshow more

Ahmad Warraich
40,727 просмотров • 6 дней назад
ارکین قومی اسمبلی شفقت اعوان ، ملک انور تاج... ، ممبر پنجاب آرگنائزیشن کمیٹی مہر عبدالستار ، میاں اویس قیصر کا اور ہمارے چار وکلاء کو و پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا گیا۔show more

Junaid Akbar
29,609 просмотров • 4 месяцев назад
میں محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ کو بکری اور... چور کے القاب سے پکارنے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اللہ کا بیحد شکر ادا کرتا ہوں کہ انہیں ہیرا منڈی کی کنجری، مجروں پر ناچنے والی، گشتی، حرامزادی اور اپنی بیٹیوں کو نچانے والی دَلؔی جیسی غلیظ گالیاں نہیں سننی پڑیں۔ Hina Parvez Butt Moeed Pirzadashow more

اکرم راعی Akram Raee
691,964 просмотров • 3 лет назад
لاہور میں بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، مگر کہیں... بھی پانی جمع نہیں ہوا۔ الحمدللہ، اس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے، جو ہر وقت متحرک رہتی ہیں۔ حنا پرویز بٹ نوٹ: وڈیو میں نظر آنے والا پانی نہیں بلکہ گُڑ والا شربت ہے۔show more

Fayyaz Shah
171,597 просмотров • 1 год назад
💥اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ننگا پن فحاشی کا عروج💥... ہانیہ عامر لاہور میں چڈی کی جگہ جالی پہن کر ا گئی کچھ اینگل کی ویڈیو کو یہاں لگا نہیں سکتا ہماری مریم نواز صاحبہ حنا پرویز بٹ سے التماس ہے کہ اسلامی ٹچ چھوریں اب وقت ا پہنچا کہ وکٹوریا سیکرٹ کا فیشن شو پاکستان میں کروا دیںshow more

Hashmat Deen Mohammad
79,207 просмотров • 2 месяцев назад
یہ فضل شکور کے اغواء کی ویڈیو ہے دن... دیہاڑے گولی مار کر گاڑی رکوائی سامنے ڈالہ کھڑا کیا گیا اسکو دہشتگردی نہیں تو اور کیا کہیں؟ فضل شکور ممبر صوبائی اسمبلی و وزیر ہے آئین و قانون کا بلاتکار کیا جا رہا ہے روزانہ کی بنیاد پر اوپر سے دھمکیاں دیتے ہوshow more

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶
11,193 просмотров • 11 дней назад
دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ راولپنڈی کا... وہی راجہ بازار ہے جہاں سے پیدل گزرنا تک محال تھا- سوچا تک نہیں جا سکتا تھا کہ راجہ بازار کبھی اس شکل میں بھی تبدیل ہو گا- یہ کرشمہ صرف سپر سی ایم محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کا مرہون منّت ہے- کتنا خوش قسمت ہے پنجاب 💚show more

Amir H. Qureshi
22,703 просмотров • 3 месяцев назад
تمام لیگی بھائی اس ٹویٹ کو شیئر کرے پلیز... ۔۔۔۔یہ مریم نواز صاحبہ کو مسلسل ہر ٹک ٹاک میں گالیاں بکتا ہے اس بدتمیز گھٹیا نسل کی زبان ملاحظہ کیجیۓ میری آئی جی پنجاب اور FIAسے درخواست ہے کہ اس بدخلاق ادمی کو فوری طور قانون کے کٹہرے میں لایا جائے Azma Zahid Bokhari Punjab Police Officialshow more

Ali Malik Advocate
37,686 просмотров • 11 месяцев назад
وزیراعلی مریم نواز صاحبہ کی ہدایت پر حافظ آباد... میں شوہر کے سامنے درندگی کا شکار ہونے والی خاتون سے خود ملنے گئی، خاتون کو گلے لگا کر حوصلہ دیا۔ تین درندے اپنے انجام کو پہنچ چکے، باقی بھی جلد قانون کے شکنجے میں ہونگے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور میں ہر مظلوم عورت کے ساتھ کھڑی ہیںshow more

Hina Parvez Butt
736,079 просмотров • 1 год назад
مریم نوازشریف صاحبہ نے پاکستان کی سیاست میں جو... مقام حاصل کیا وہ بہت کم خواتین کے حصے میں آتا ہے انہوں نے اپنی والدہ محترمہ کلثوم نوازشریف صاحبہ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے جرات و بہادری کی نئی داستان رقم کی جموریت اور آئین و قانون کی سربلندی کی لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا اپنے والد نوازشریف صاحب کی غیر موجودگی میں پارٹی کی کمان سنبھالی اور کارکنوں کیلیے ایک توانا آواز بن کے ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کے ڈٹی رہی۔یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کا کارکن مریم نوازشریف کو نوازشریف صاحب کی پرچھائی کے طور پہ دیکھتا ہے #PMLNWomenRisingshow more

Zeeshan Malik
50,522 просмотров • 3 лет назад
آزاد جیتنے والے تین مزید ارکان اسمبلی پاکستان مسلم... لیگ (ن) میں شامل ہو گئے خانیوال سے رضا حیات ہراج پینل کی نامزد وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر شہباز شریف سے ملاقات رضا حیات ہراج قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 144 خانیوال سے کامیاب ہوئے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 205 سے اکبر حیات ہراج اور پی پی 212 سے اصغر حیات ہراج نے انتخابات میں فتح حاصل کی رضا حیات ہراج، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج کا قائد محمد نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان شہباز شریف کا رضا حیات ہراج، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا آپ سب کا تعاون عوام کی مشکلات کے حل میں میں اہم ثابت ہوگا، شہباز شریف پاکستان کو معاشی خطرات سے بچانے اور قوم کو مزید بربادی سے بچانے کے ایجنڈے پر اتحادی حکومت بنا رہے ہیں، شہباز شریف قوم کا مینڈیٹ ہے کہ سب مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کریں، شہباز شریف رضا حیات ہراج، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج نے وزیر اعظم نامزد ہونے پر پارٹی صدر شہباز شریف کو مبارک دی پارٹی راہنما عطاء اللہ تارڑ اور محترمہ انوشہ رحمان بھی ملاقات میں موجود تھےshow more

PMLN Digital
133,144 просмотров • 2 лет назад
بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا... نیا تنظیمی کلچر 21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔ پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔ کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔ لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔ میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔ 21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔ ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: احمد رحمان گھمن Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir 👇show more

Ahmad Ghuman
94,020 просмотров • 10 дней назад
کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا... چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گاshow more

کاشف چوہدری
27,481 просмотров • 2 лет назад