اسد طور کا جھوٹ پھر سے پکڑا گیا! ⚠️⚠️... یوتھیا قوم کے دماغ یہی جھوٹ سن کر خراب ہوتے ہیں۔ جنرل عامر رضا آٹھویں نمبر سے نہیں آئے بلکہ سینئیر ترین جرنیل ہیں۔ یہ نام نہاد سستے صحافی وکی پیڈیا سے معلومات اٹھا کر جھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ جنرل عامر رضا کا تعلق 22 OTS سے ہے جس کی پاسنگ آوٹ پریڈ 6 اکتوبر 1988 کو ہوئی۔ اس حساب سے یہ 80 PMA لانگ کورس سے پہلے پاس ہوئے، جس کی پاسنگ آوٹ پریڈ 7 ستمبر 1989 کو ہوئی لیکن یہ جھوٹ بولنے پر کبھی معذرت نہیں کریں گے کیونکہ یہی جھوٹ انکو یوتھی قوم میں مقبول کرتا ہے۔show more

Dr Farhan K Virk
21,056 görüntüleme • 13 gün önce
محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا... تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔show more

Azeem Butt
19,989 görüntüleme • 7 ay önce
پاکستانی سوشل میڈیا جاگ گیا 🇵🇰🇵🇰 اس وقت ٹک... ٹاک سے میٹا اور میٹا سے یوٹیوب پر، ہر جگہ پاکستانی عوام فتنہ عمرانیہ کی وہ تاریخی چھترول کر رہی ہے جس کا آپ نے سال پہلے تک تصور نہیں کیا ہوگا۔ عوام کو سچ اور جھوٹ کی سمجھ لگ گئی ہے۔ انشاءاللہ اب فتنے کے دن بہت کم ہیں ✌️✌️show more

Dr Farhan K Virk
31,762 görüntüleme • 1 yıl önce
یہ کچھ ایسے شرم سے عاری عادی فتنہ باز... اور جھوٹے کریکٹرز ہوتے ہیں جن کا کام ہی سوشل میڈیا پر جھوٹ اور فتنہ پھیلانا ہوتا ہے؛ رمضان کے مبارک مہینے میں بھی یہ شیطانیت سے باز نہیں آتے۔ یوٹیوب سے ایک ویڈیو اٹھائی گئی جو اصل میں چین کے صوبے Gansu میں سولر پاور سسٹم کی تنصیب کی ہے۔ اس ویڈیو کو جھوٹے فسادی کیپشن پاکستان سے متعلق لگا کر، جان بوجھ کر پھیلایا جا رہا ہے۔ Pillocks! اصل ویڈیو بھی ٹویٹ میں لگا رہی ہوں اور یوٹیوب لنک میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔۔show more

Gharidah Farooqi (T.I.)
133,320 görüntüleme • 2 yıl önce
یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ... کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمیshow more

Saad dogar
102,646 görüntüleme • 2 ay önce
او تہاڈا بھلا ہو جائے! شکر ہے ڈارون ہمارے... دیسی ارتقائیوں کی پیدائش سے پہلے ہی مر گیا تھا، ورنہ وہ اِن پر ہتکِ کام سینس کے کیس کرتا۔ یہ صاحب نظریہ ارتقاء سے نہ بلد لوگوں پہ اپنا علم جھاڑتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پہلے پروکریریٹس پھر یوکرییٹس اور پھر سنگل سیل کا ارتقا ہوا حالانکہ جس آدمی کو ارتقا کی الف ب کا بھی پتہ ہے وہ یہ جانتا ہے کہ پروکریریٹس بذات خود سنگل سیلڈ اور یوکیریٹس ملٹی سیلڈ کہلاتے ہیں۔ یہ ملٹی سیلڈ سے سنگل سیل کا ارتقا کہاں سے آ گیا؟ اگر ارتقاء پر ایمان لے ہی آئے ہیں تو کم از کم اس کو پڑھ تو لیں! میرا مشورہ ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں جو جہالت جہالت کے فتوے تو لگاتے رہتے ہیں لیکن خود سلطنتِ جہالت کے بے تاج بادشاہ ہیں۔show more

Qaiser Ahmed Raja
21,813 görüntüleme • 1 yıl önce
ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات... ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏show more

Ch Awais Younas Adv
18,446 görüntüleme • 8 ay önce
“یہ مناظر دیکھئے…” کچھ سیاح ایک وین میں خوشی... سے جھوم رہے ہیں، ڈرائیور کو مذاق میں مار رہے ہیں، شور شرابہ، قہقہے، ناچ، مستی… لیکن کیا کوئی سوچ رہا ہے کہ یہ سب کہاں ہو رہا ہے؟ یہ کوئی میلہ نہیں، یہ گلگت بلتستان کی تنگ، پیچیدہ اور جان لیوا وادیاں ہیں، جہاں ایک لمحہ کی بے احتیاطی پورے قافلے کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ ڈرائیور جو سب کی جانوں کا ذمہ دار ہے، اس کے ساتھ مذاق، اس کی توجہ ہٹانا، اسے اپنی جگہ سے ہلانا — یہ تفریح نہیں، غفلت کا وہ کھیل ہے جس کی قیمت زندگی سے چکانی پڑ سکتی ہے۔ جب حادثہ ہو گا… جب لاشیں ہوں گی… جب وادیوں میں سائرن گونجیں گے اور کفن بچھیں گے… تب الزام دیا جائے گا حکومت کو، علاقے کے لوگوں کو، انتظامیہ کو۔ لیکن کیا کوئی یہ پوچھے گا کہ انجان زمین پر آئے مہمان نے اپنی ذمہ داری کو کہاں دفن کر دیا تھا؟ سیاحت خوشی کا ذریعہ ہے، لیکن جب یہ خوشی پاگل پن میں بدل جائے تو وہ صرف تباہی لاتی ہے۔ گلگت بلتستان آپ کو خوش آمدید کہتا ہے… لیکن زندگی کی قیمت پر نہیں۔ خدارا، ہوش سے، شعور سے، احساس کے ساتھ سفر کریںshow more

Gilgit Baltistan Tourism.
25,314 görüntüleme • 1 yıl önce
قوم کی بیٹی مظلوم ڈاکٹر عافیہ کیساتھ یہ فراڈ،منافقت... اور جھوٹ کا کاروبار بند کرو۔۔۔ کل فارم 47 کے وزیراعظم شہبازشریف کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی یقین دہانیاں۔ اگلے دن اسحاق ڈار امریکہ میں بیٹھ کر ڈاکٹر عافیہ کو ایک کینگرو کورٹ سے فراڈ کاروائی کے ذریعے سنائی جانے والی 86 سال قید کو درست قرار قراردینا، یہ افسوسناک ہے،یہ پاکستان کے ریاستی مؤقف کی سراسر نفی ہے ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جیل میں جو بدترین زیادتیاں ہوئی ہیں،ہورہی ہیں، اسحاق ڈارصاحب، اس کےبارے میں کیا خیال ہے؟show more

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان
44,865 görüntüleme • 1 yıl önce
پراپوگنڈہ اور جھوٹ مت پھیلائیں، بہت ہی تکلیف دہ... چیز کوئی بھی تھوڑا سا بھی دل رکھنے والا تکلیف محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا اللہ پاک اس بچے کے لواحقین کو صبر وجمیل عطا فرمائیں، آمین۔۔ بچے کے باپ کے پاس فتنہ خان نیازی کو ٹکٹ کی رشوت دینے کے لئے ایک کروڑ روپیہ تھا۔ لیکن شوکت خانم ہسپتال میں بچے کی پیدائشی بیماری کے علاج کے لیے ٹکا نہیں تھا؟ اب آتے ہیں آگے جو پروپوگنڈہ کیا جا رہا ہے عباد فارقق کو 9 مئی کے واقعات کا سہارا لے کر پولیس یا اداروں نے جان بوجھ کے اٹھایا ہوا ہے تو ایسا کہنا بلکل غط ہے میں 9 مئی کی 2 ویڈیو اسی پوسٹ پر اپلوڈ کی ہیں جس میں عباد فاروق تور پھوڑ جلاو گھراو کرتا صاف نظر ا رہا ہے اپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں، مطلب کے اسے اداروں نے یا پولیس نے جرم کرنے کے تناظر میں اریسٹ کر رکھا کے نا کے پریس کانفرنس کے لئے اس کی پریس کانفرنس کی کیا اہمیت یہ صرف ٹکٹ ہولڈر ہے نا کے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے۔۔ اب آگے آتے ہیں کے بچہ اتنا بیمار تھا والد کو یاد کرتا تھا تو ملنے نہیں دیا گیا پہلے نمبر پر تو یہ بات سرا سر جھوٹ ہے، عباد فاروق کی 2 بار اس کے بیٹے سے ہاسپٹل میں ملاقات کروائی گئی اس کا ثبوت ساتھ اٹیچ کر رہا ہوں پوسٹ پر تو بات کا مقصد یہ ہے کے خدارا لاشوں پر سیاست نہیں کریں گندے مقصد کے لئے مت استعمال کریں، پہلے ارشد شریف پر سیاست کی پھر ظلے شاہ کی لاش پر اور اب عباد فاروق کے بیٹے پر خدارا گریز کریں ان حرکتوں سے کیا ملے گا پراپوگنڈہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہونا ہاں لیکن مرنے والوں کے گھر والوں کو ضرور تکلیف ہوتی کیوں ان کی تکلیف کی وجہ بنتے ہو جھوٹ بول کر ؟show more

چوہدری شاہد محمود
115,400 görüntüleme • 2 yıl önce
آج کے دور میں اگر دیکھیں تو فرانس، جرمنی... اور ترکی میں بھی قانوناً شہریت مل جاتی ہے، لیکن ریگن جس دل کی بات کر رہے تھے وہ آج بھی سچ ہے۔ یورپ میں آپ کو پاسپورٹ تو مل جائے گا، لیکن سماج آپ کو مکمل طور پر اپنا تسلیم کرنے میں وقت لگاتا ہے۔ امریکہ میں دوسری نسل کا بچہ بھی فخر سے کہتا ہے "I am American" اور کوئی اس سے نہیں پوچھتا کہ تم اصل میں کہاں سے ہو یہی وجہ ہے کہ یہ الفاظ آج 40 سال بعد بھی اتنے ہی سنہری لگتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بڑی قومیں خون سے نہیں، اصولوں سے بنتی ہیں امریکہ زندہ باد 🇺🇸🇺🇸🇺🇸🇺🇸show more

Nida Ahmed
21,300 görüntüleme • 11 gün önce
پی پی 62 گوجرانوالہ سے ہمارے جیتے ہوئے امیدوار... کو پہلے فارم 47 میں ہرایا گیا پھر عدالت سے ضمانت کے باوجود عدالتی احاطے سے ججوں کی آنکھوں کے سامنے پکڑ کر لے گئے کیا عدالتوں کی پاکستان میں بس یہی اوقات رہ گئی ہے کہ ججوں کے آرڈرز کو ہوا میں اڑا کر پولیس اپنی من مرضی کرتے پھرے اور پوچھنے پر کہہ دے کہ نامعلوم افراد لے گئے ۔ وکالا کی ٹیم کے پوچھنے پہ ایس پی فرما دیا کہ ہم نہیں جانتے انکو کون لے گیا ہے ظلم اور جبر کے اس موسم میں ظالم کے سامنے حق کا پرچم اٹھائے یہ قوم ڈٹ کر کھڑی ہےshow more

Mian Aslam Iqbal
44,026 görüntüleme • 2 yıl önce
فرشتوں جیسا ریحان اس کا چھوٹا بھائی اور اس... کی ایک بہن ایک ایسی موزی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا شاید علاج ہی کوئی نہیں ۔۔۔لیکن اس سے بھی تکلیف دہ یہ ہے کے والد شدید شوگر کے مریض نہ اپنی دوائی لے سکتے ہیں نہ بچوں کی۔۔یہ بیماری تو ختم نہ ہو لیکن اگر ہم ان کی مدد کریں تو جتنی ان کی زندگی ہے کم از کم دوائیوں کے ذریعے ہی سہی کچھ تکلیف تو کم ہوگی ۔۔ریحان کے والد ایک درزی کے ساتھ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں جس دن بیماری کی وجہ سے نہیں جاتے اس دن دیہاڑی بھی نہیں لگتی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور تینوں بچے بیمار ۔۔۔اگر اپ میں سے کوئی بھی ان کی کچھ مدد کر سکیں جس سے کم از کم وہ اپنی ادویات خرید سکیں بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جا سکیں تو مجھ سے ان کی انفارمیشن لے لیںshow more

Shehr Bano Official
26,672 görüntüleme • 1 ay önce
آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے... کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeadersshow more

Sammi Deen Baloch
17,667 görüntüleme • 10 ay önce
شیر پنجشیر احمد شاہ مسعود کا بہادر خون یہ... احمد مسعود ، جس نے روس کو پنجشیر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا اور طالبان کے پہلے دور حکومت میں اس نے طالبان کو روکے رکھا تھا پنجشیر میں آنے سے، پھر طالبان نے القاعدہ کو استعمال کرتے ہوئے ٹی وی رپورٹر کے بھیس میں صحافی بھیجے جنہوں نے کیمرے کے اندر بم چھپایا ہوا تھا جس کے پھٹنے سے احمد شاہ مسعود شہید ہوئے اور اس سے اگلے روز طالبان نے القاعدہ کی مدد سے نائین الیون کردیا جس سے امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی ، یہ فارسی بول رہا ھے کتنی نرم اور پیاری زبان ھے ہماری اردو میں ستر فیصد الفاظ فارسی سے آئے ہیں ہماری برصغیر کی سرکاری زبان فارسی رہی ھے ہمیں ان فارسی بولنے والے مسلمان بھائیوں کے حق میں آواز اٹھانا چاہئے جو افغانستان میں اکثریت ہونے کے باوجود اقلیتی طالبان کے ظلم وستم کا شکار ہیں ایک دن یہ ظلم کا سورج غروب ہوگا اور یہ اپنے وطن میں آزادی کی زندگی جی سکیں گے انشااللہshow more

Aamir Hussain
12,333 görüntüleme • 8 ay önce
🔺پولیس زرائع کے مطابق اسلام آباد کے مضافات میں... ایک مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع میں خود کش دھماکہ ہوا۔ 🔺زرائع کے مطابق خارجی خودکش بمبار کو مسجد میں داخلے پر چیلنج کیا گیا جس پر اس نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔ 🔺اس دھماکے سے بارہ معصوم نمازیوں کی شہادت ہوئی جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعت ہیں۔ 🔺مساجد میں نمازیوں کو شکار بنانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ دراصل خوارج ہیں۔ 🔺خوارج کی یہ مذموم حرکات ہمارے مقاصد کو کمزور نہیں کر سکتے، انشاللہ آخری خوارج کے خاتمے تک ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔show more

Eagle Eye
19,712 görüntüleme • 6 ay önce
کولیٹرل ڈیمیجز پر سیاست چمکانے اور چند فالوورز بڑھانے... والے حضرات سے ایک سادہ سی گزارش ہے👇 کیا آپ نے کبھی ان درندوں کے خلاف آواز اٹھائی جو آپریشن کے وقت شہریوں کے گھروں اور مساجد کو ڈھال بنا لیتے ہیں؟ فوج کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس گھر میں کون چھپا ہے، کس کمرے میں کون بیٹھا ہے۔ لیکن جب کوئی خبیث مسجد یا گھر کو آڑ بنا لے تو پاک فوج کسی بھی کارروائی سے پہلے سو بار نہیں، سینکڑوں بار سوچتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایک بھی بے گناہ شہری کی جان خطرے میں آ جائے تو فوج جانتے بوجھتے ہوئے ان حیوانوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں: “طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟” اس کا جواب سیدھا ہے: جس دن یہ خوارج عوامی گھروں اور اجتماعات کو ڈھال بنانا چھوڑ دیں گے، اسی دن سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نہیں، سینکڑوں خوارج جہنم واصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں کے بیچوں بیچ چھپ کر آسانی سے فائر کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی آمنے سامنے کا وقت آتا ہے تو یہ دہشتگرد “شیر” سے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور زندگی کی بھیک مانگنے لگتے ہیں۔ 📍نیچے دیا گیا کلپ تیرا میدان (ضلع خیبر) کا ہے، جہاں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائی کے وقت یہی خوارج شہری گھروں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یہ ہے ان کی اصل حالت ؛ بزدل اور دھوکے باز۔show more

War Analyst
28,217 görüntüleme • 10 ay önce
اس سے زیادہ اور کیا نظام ننگا ہونا ہے... قاضی فراڈ کو پہلے نکال کر آگ لگانے چاہیے چونیاں میں پولیس کسٹڈی میں ہتھکڑیوں میں جکڑے تین افراد کو فائرنگ کر کے قتل کردیا جاتا ہے اور پولیس اہلکار ہاتھوں میں اسلحہ تھامے ہتھکڑیوں کومضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہیں مقتول اٹھ کر بھاگ ہی نہ جائے، اللہ پاک رحم فرمائے ہمارے حالات پر اس قوم کا کوئی والی وارث نہیں رہ گیا، پولیس کی کسی اور کام پر لگایا ہوا ہے،کیا یہ اسی بات کی تنخواہ لے رہے ہیں لعنت ہے ایسی حرام کی کمائی پرshow more

SSG of Pti
244,137 görüntüleme • 2 yıl önce
"یہ دماغ ہیں ' کپاس یا سوتر نہی "... ذہین دماغوں کو جب آپ "کپاس' پنک سالٹ اور سوتر" سمجھ کر باہر ایکسپورٹ کرنے میں فخر محسوس کریں گے تو پھر پیچھے ایسے بچے کچھے دماغ ہی دیکھنے کو ملیں گے جو باقی دماغوں پر حکومت کریں گے ' اس برین ڈرین کے گوبر کو بھی گجریلا ثابت کریں گے اور اس پر فخر محسوس کریں گے - ویسے تو ان کا لٹریچر اور ریسرچ سے کوئی لینا دینا نہی پر پھر بھی ریفرینس کیلئے میں "برین گین " کی آفیشل ڈیفینیشن یہاں تصویر میں لگا رہا ہوں -پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ذہین دماغوں کو " ایکسپورٹ " اور ان کے ملک سے جانے کی وجہ سے ہونے والے "برین ڈرین" کو "برین گین" کہا جاتا ہے - دنیا کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں ' آپ کو "برین ڈرین" کی یہ ڈیفینیشن اور کہی نہی ملے گی بلکہ ہر جگہ یہ لکھا ملے گا کہ "جس ملک سے لوگ جاتے ہیں وہاں "برین ڈرین " ہوتا ہے اور جس ملک کی طرف وہ جاتے ہیں وہاں " برین گین " ہوتا ہے - لیکن چونکہ آرمی چیف صاحب ملک کے اس برین ڈرین کو "برین گین " کہ چکے ہیں سو اب کتاب میں "بلغم " بھی لکھا ہو تو یہ ذہنی غلام اس کو "جیلی " اور مقیت شہد " ثابت کرتے رہیں گے - ملک سے ذہین دماغوں کی اس ایکسپورٹ میں پاکستان ویسے ہی بہت خود کفیل ہو چکا ہے کیوں یہ پچھلے تین سال میں ہماری سب سے بڑی تجارت ہے کیوں کہ ان سالوں میں اس ملک سے سالانہ آٹھ لاکھ لوگ باہر "ایکسپورٹ " ہویے ہیں جو پچھلے ستر سالوں کی شرح کے مقابلے میں آٹھ گنا ہے - یہ لمحۂ فکریہ نہی بلکہ لمحۂ جہالت ' لمحۂ ذلالت ہے -show more

Dr Waqas Nawaz
40,326 görüntüleme • 6 ay önce
سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن... نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پرshow more

Umar Cheema
13,548 görüntüleme • 4 ay önce